
سری نگر (جیوڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں حریت قائدین کی نظر بندیوں اور عام شہریوں پر تشدد کیخلاف ہڑتال، نظام زندگی مفلوج، سوپور اور بانڈی پورہ میں پتھرائو کے واقعات، متعدد اہلکار زخمی ہوگئے، دھرنے بھی دیئے گئے۔
تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقوں بارہمولہ، سوپوراور بانڈی پورہ میں گرفتاریوں اور مکانوں کی توڑ پھوڑ کرنے کیخلاف گزشتہ روز مکمل ہڑتال رہی۔ اس دوران سوپور اور بانڈی پورہ میںپتھرائو کے کئی واقعات پیش آئے جبکہ بارہمولہ کے مین چوک میں گرفتاریوں کیخلاف پرامن دھرنا دینے اور ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ سٹیڈیم کالونی بارہمولہ میں پولیس نے 55سالہ غلام الدین میر کے گھرپر چھاپہ مارا اور مکان کی توڑ پھوڑ کی گئی۔
افراد خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے غلام الدین اور اس کے بیٹے منیر احمد کو گرفتار کیا اور 15لاکھ کے زیورات اور 3لاکھ نقدی بھی اڑا لی۔ دوسری جانب بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی کل سرینگر آمد کے خلاف حریت کانفرنس کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر بھر میں احتجاجی ہڑتال ہوگی۔
مختلف مقامات پر جلسے جلوس اور مظاہرے کیے جائیں گے۔ حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے مکمل ہڑتال کال کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں مودی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں البتہ وہ اس ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے یہاں کا دورہ کر رہے ہیں، جس نے کشمیریوں کو جبراً غلام بنایا ہوا ہے اور جس کی فوج ایک منصوبہ بند طریقے پر ہمارے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔
انہوں نے نریندر مودی کو کشمیری پنڈتوں کے لئے اسرائیلی طرز پر 3الگ شہر بسا کر کشمیر کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے، پاکستانی پناہ گزینوں کو سٹیٹ سبجیکٹ فراہم کرانے اور دفعہ 370کو ختم کرنے کے منصوبے ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ ایک خطرناک گیم پلان ہے، جس سے جموں کشمیر کا امن درہم برہم ہوجائے گا۔
بھارت پن بجلی کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر کے تمام قدرتی وسائل کو ہم سے زبردستی لوٹ رہا ہے۔لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ بھارت کے آئینی و قانونی سربراہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ہمارے حق آزادی کو سلب کرنے کیلئے علامتی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لہذا اسی حقیقت کے پیش نظر جموں کشمیر میں بھارتی وزیر اعظم کی آمد پر ہمیشہ احتجاج کی روایت رہی ہے۔ادھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کشمیر کے پیش نظر وادی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اورحساس مقامات پر فورسز کا گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
