Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یومِ شہدائے جموں؛ محرکات اور حقائق

November 5, 2016 0 1 min read
Migration 1947
Migration
Migration

تحریر ۔ ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر۔
جموں شہر سے سیالکوٹ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمان مہاجرین کے قافلے پر 6 نومبر 1947 کو مسلح ہندو اور سکھ بلوائیوں نے ڈیگیانہ اور سامبہ کے درمیانی علاقے میں حملہ کیا جس کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، زندہ بچ جانے والی بہت سی عورتوں کو اغواء کر لیا گیا ۔قتل و غارتگری، لوٹ مار ، دہشت گردی اور اغواء کا یہ سانحہ جموں میں مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی ان مسلح کاروائیوں کا یہ نقطہ عروج تھا جو ستمبر سے جموں میں اکا دُکا طور پر جاری تھیں ۔ ہندو مسلح جتھوں اور بلوائیوں کے ہجرت کرنے والے مسلمان قافلوں پر حملوں کے نتیجے میں مارے جانے والے مسلمانوں کی یاد میں پاکستان اور آزادکشمیر میں 6 نومبر کو یومِ شہدائے جموں منایا جاتا ہے جس کے ذریعے جموں کے مسلم کُش فسادات کی مذمت کی جاتی ہے ۔ دہشتگردی، لوٹ مار اور قتل کے ان واقعات میں ہزاروں مسلمان مارے گئے اور بہت سی عورتوں کو اغواء کر لیا گیا۔ دراصل یہ قتل و غارتگری صرف مہاجر قافلوں کے خلاف ہی نہیں کی گئی بلکہ جموں کے بہت سے گاوں اور قصبے بھی دہشت گردی کے ان واقعات کی زد میں آئے اور ضلع کٹھوعہ کی لگ بھگ آدھی مسلمان آبادی اس سے متاثر ہوئی۔

ستمبر کے مہینے میں موھالہ رام نگر میں سینکڑوں گوجروں کا قتلِ عام اور جموں کنٹونمنٹ میں رائے پور گاؤں کی آتشزنی کا سانحہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ جموں کے یہ واقعات بلاشبہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کا بہت بڑا مجرمانہ اقدام تھا اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ جموں کے اس قتلِ عام کی بالواسطہ ذمہ داری ریاست جموں و کشمیر کی انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے جو 6 نومبر کے مسلمان مہاجرین کے قافلوں کو کوئی تحفظ فراہم نہ کر سکی ۔ اس امر کا تعین کیا جانا ضروری ہے کہ 6 نومبر کو مسلمان مہاجرین کےقافلوں کی قتل و غارتگری کے یہ واقعات کیوں اور کیسے رونما ہوئے ۔ جب یہ واقعات رونما ہوئے تو ریاست جموں و کشمیر کے انتظامی سربراہ شیخ محمد عبداللّہ تھے اور وہ اس قتلِ عام کے دھبے سے اپنا دامن نہیں بچا سکتے۔ کیونکہ 9 نومبر کو بھی مسلمان مہاجرین کے قافلے پر اسی طرح کے حملے کیئے گئے تھے، مگر قافلوں کی حفاظت کرنے والی فوج کی جوابی کاروائی سے 150 حملہ آور مارے گئے تھے اور پھر اس کے بعد کبھی بھی کسی قافلے پر کوئی حملہ نہیں ہوا ۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اگر 9 نومبر جیسے حفاظتی انتظامات 6 نومبر کو بھی کر لیئے جاتے تو مسلمان مہاجرین کا یہ قتلِ عام روکا جا سکتا تھا۔

لیکن ہماری قومی تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ اس قسم کے واقعات پر مؤرخین نے پرلے درجے کی جانبداری کے ساتھ لکھا ہے اور واقعات کی حقیقی نوعیت اور انکے اسباب و محرکات پر غیر جانبدارانہ اور شفاف تجزیہ کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی ۔اس ستم ظریفی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ برِصغیر کی تقسیم ایک انتہائی نامناسب اور غیر معقول انداز میں اٹھایا گیا قدم تھا اور اس کا مقصد برِصغیر کے لوگوں کو آپس میں لڑانا، انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنانا اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ برطانوی استعمار اور عالمی سامراج کے شکنجے میں جکڑ کر رکھنا تھا ۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ برِصغیر کے وہ لوگ جو کئی صدیوں سے مذہبی اختلافات کے باوجود باہم شِیر و شکر ہو کر رہتے چلے آئے تھے وہ اچانک 1947 میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں بن گئے تھے؟ دراصل یہ برطانوی حکومت کی ایک انتہائی شاطرانہ سازش تھی جس کے تحت عوام کے اندر غلط فہمیوں، افواہوں اور مخاصمت کی وہ فضاء پیدا کر دی گئی تھی جو فطری طور پر 1947 کے بلوؤں، لوٹ مار اور قتل و غارتگری پر منتج ہوئی ۔ جموں کا 6 نومبر کا قتلِ عام بھی اسی بڑے منظر نامے کا ایک حصہ ہے۔

Jammu and Kashmir
Jammu and Kashmir

انگریزوں نے جب برِصغیر کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تو ریاست جموں و کشمیر کے ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی ریاست کے حوالے سے ایسے کسی منصوبے کو رد کر دیا اور برِصغیر کی تقسیم کے تناظر میں ایک آزاد اور مکمل طور پر خودمختار مملکتِ جموں و کشمیر کا تصور پیش کیا ۔ انگریزوں کو مہاراجہ کے اس منصوبے سے اس بنیاد پر اختلاف تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ایک آزاد و خودمختار مملکتِ جموں و کشمیر ان کے وسیع پلان کی ناکامی کا سبب بنے گی ۔ چنانچہ انگریزوں نے نہایت چالاکی اور مکاری کے ساتھ مہاراجہ ہری سنگھ کے خودمختار ریاست کے تصور کے خلاف سازشیں شروع کر دیں ۔ ریاست جموں و کشمیر پر 22 اکتوبر 1947 کا قبائلی حملہ اور 6 نومبر 1947 کا جموں کا قتلِ عام انگریزوں کی انہی سازشوں کا شاخسانہ تھا ۔ انگریز تمام کام ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق کر رہے تھے اور تمام معاملات و واقعات میں حد درجہ جانبدار تھے ۔ اس لیئے انگریزوں کے تمام اخبارات اور انگریز مؤرخین اپنے منصوبے کے مطابق 1947 کے واقعات کے بیان میں انتہائی جانبداری کے ساتھ حد درجہ غلط بیانی اور زہر افشانی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔برطانوی روزنامے لنڈن ٹائمز نے 6 نومبر کے جموں کے سانحے کو اسی انگریز سازش کے تحت توڑمروڑ کر پیش کیا۔

اسی طرح سٹیٹس مین کے ایڈیٹر ایان اسٹیفن نے اپنی کتاب ھارنڈ مون میں بھی واقعات کا جانبدارانہ تجزیہ کیا ہے ۔ ہاریس الیگزینڈر نے 16 جنوری 1948 کے سپیکٹیٹر اخبار میں بھی واقعات کا جانبدارانہ تجزیہ کیا ہے ۔ ہاریس الیگزینڈر اور ایان اسٹیفن دونوں نے 1947 کے دوران جموں کے قتلِ عام میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 200,000 بیان کی ہے ۔ لنڈن ٹائمز نے یہ تعداد 237,000 بتائی ہے ۔ جبکہ اکثر مسلمان اور پاکستان نواز مؤرخین سانحہ جموں کی اموات کا شمار 500,000 سے بھی زیادہ میں کرتے ہیں ۔ یہ ایک علمی بددیانتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تقسیمِ برِصغیر کے تناظر میں تمام فریقین اپنے اپنے مؤقف کو تقویت دینے کے لیئے زور لگاتے رہے ہیں اور اس ضمن میں واقعات اور حالات کے حقیقی پہلوؤں کو جان بوجھ کر مسخ کیا جاتا رہا ہے۔

جبکہ 6 نومبر کو جموں کے مہاجرین قافلے میں سے زندہ بحچ کر سیالکوٹ پہنچنے والے تعلیم یافتہ عینی شاہدین کے مطابق 6 نومبر کا قافلہ تیس بسوں پر مشتمل تھا ۔ اب قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قافلے میں کل کتنے افراد شریک ہوئے ہوں گے؟ مسلمان اور پاکستان نواز مؤرخین جموں کے نومبر کے ان واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے یہ درس دیتے نظر آتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر میں ہندو اور مسلمان کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے اور یہ کہ برِصغیر کی تقسیم اور پاکستان کا قیام مسلمانوں کے بقاء اور ترقی و خوشحالی کے لیئے ضروری تھا ۔ اور اگر یہی فارمولا اب ریاست جموں و کشمیر میں بھی نافذ نہ کیا گیا تو ہندو ریاستی مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ۔ دراصل یہ ایک بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا ہے اور اس کا واحد مقصد ریاست جموں و کشمیر کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور اس کے مسلم اکثریتی علاقوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے سوا اور کچھ نہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ نومبر میں جموں میں ہونے والے مسلمانوں کے قتلِ عام کے واقعات کا بنیادی سبب ریاست جموں و کشمیر کی انتظامی مشینری کی نااہلی تھا، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو 9 نومبر کے مسلمان مہاجرین کے قافلے کا بھی قتلِ عام ہوتا اور ایسے واقعات بعد میں بھی جاری رہتے۔

Migration 1947
Migration 1947

نومبر 1947 کا جموں کا سانحہ دراصل تقسیمِ برِصغیر کے تناظر میں مغربی پنجاب، پخوتونخواہ اور پھر خود جموں و کشمیر میں رونما ہونے والے ان ظالمانہ اور سفاکانہ واقعات کا ردِعمل تھا جو ان علاقوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں غیرمسلموں کے خلاف روا رکھے گئے تھے ۔اپریل 1947 سے ہی جموں میں ہندوؤں کے ان لُٹے پِٹے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا جو مارچ 1947 میں راولپنڈی، اٹک، مری، بنوں اور ہزارہ کے ہندوکُش فسادات کے بعد بھاگ کر جموں پہنچے تھے ۔ پاکستان بنتے ہی پاکستان کے مغربی اضلاع سے 160,000 ہندو جموں کی طرف نقل مکانی کر گئے ۔ صرف سیالکوٹ کے شمال مشرقی علاقوں سے ایک لاکھ سے زائد ڈوگرہ ہندو جموں اور گورداسپور کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ۔ ستمبر 1947 کے وسط تک صرف جموں شہر میں 65,000 ہندو مہاجرین داخل ہوئے ۔ یہ مہاجرین اپنے ساتھ پیش آنے والی مسلمانوں کی زیادتیوں کے قصے سناتے تھے اور ان قصوں اور کہانیوں کو اخبارات اور سرکاری میڈیا نے انگریزوں کے منصوبے کے مطابق بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ۔ اس صورتحال نے مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے میں نہایت کلیدی کردار ادا کیا۔

صورتحال میں بگاڑ کا ایک اور بڑا سبب سیالکوٹ اور مغربی پنجاب سے انڈین آرمی کی سکھ یونٹ کا بھاگ کر جموں جانا تھا ۔ یہ سکھ فوجی اپنے ساتھ اسلحہ بھی لے گئے تھے اور جموں پہنچتے ہی اپنے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیئے انہوں نے مسلمانوں کی جائیدادوں اور زمینوں پر قبضے کرنے شروع کر دیئے ۔ جموں میں آباد مسلمانوں کی اکثریت پنجابی بولنے والوں پر مشتمل تھی جن کے مغربی پنجاب کے شہروں اور قصبوں کے ساتھ جغرافیائی، لسانی، معاشی، ثقافتی اور تاریخی رشتے تھے ۔ یہ مسلمان پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کو ترجیح دیتے تھے جسے جموں کے جنگجو ہندو ڈوگرہ راجپوت پسند نہیں کرتے تھے ۔ اور 1941 کی مردم شماری کے مطابق صرف صوبہ جموں کے مشرقی علاقوں میں 305,000 ہندو ڈوگرہ راجپوت اور برہمن اور 10,000 سکھ رہائش پزیر تھے۔ ان لوگوں کے کانوں تک جب مغربی پنجاب میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہندوؤں آور سکھوں پر ہونے والی مظالم کی تفصیلات پہنچیں تو ان کی جموں کی پنجابی بولنے والی مسلمان آبادی کے خلاف نفرت اور بڑھ گئی ۔اس پس منظر میں ہندوؤں اور سکھوں نے جموں کے مسلمانوں پر حملے کرنے شروع کر دئیے ۔ ان حملوں میں بہت سی اموات بھی ہوئیں ۔ ستمبر کے مہینے میں جموں کے محلہ رام نگر میں سینکڑوں مسلمان گوجروں کو قتل کیا گیاجبکہ جموں کنٹونمنٹ کے مسلم اکثریتی گاؤں رائے پور کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔

جموں سے مسلمانوں نے مغربی پنجاب کی طرف ہجرت شروع کر دی اور ستمبر کے اواخر تک جموں کی مسلمان آبادی تقریباً آدھی رہ گئی ۔ ان حالات میں 22 اکتوبر 1947 کو پاکستان کے قبائلی جتھوں نے مظفرآباد سے ریاست میں داخل ہو کر لوٹ مار اور قتلُوغارتگری شروع کر دی ۔ قبائلی تمام شہریوں کو بلا امتیاز لوٹتے تھے مگر انہوں نے عمومی طور پر ریاست کی ہندو آبادی کو نشانہ بنا کر ان کا قتلِ عام شروع کر دیا جبکہ نوجوان عورتوں کو اغواء کرلیا گیا ۔ ان واقعات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور جموں کے ہندوؤں اور سکھوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اپنی انتہا کو پہنچ گئی ۔ جب جموں سیالکوٹ ریلوے سروس معطل ہو گئی تو جموں کے مختلف علاقوں سے مسلمان پولیس لائنز جموں کے کیمپ میں جمع ہونا شروع ہو گئے ان لوگوں نے پاکستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں پاکستان ہجرت کرنے کے لیئے ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے۔

Sialkot
Sialkot

نومبر کے پہلے ہفتے میں حکومت پاکستان نے جموں سے مہاجرین کو سیالکوٹ لانے کے لیئے بہت سی گاڑیاں ارسال کیں ۔ یہ گاڑیاں جب جموں سے مسلمان مہاجرین کو لے کر سیالکوٹ کے لیئے روانہ ہوئیں تو انہیں جموں سیالکوٹ روڈ پر ہندو اور سکھ مسلح بلوائیوں نے روک لیا اور قافلے کے زیادہ تر مردوں کو قتل کر دیا اور انکی عورتوں کو اغواء کر لیا گیا ۔ جو لوگ جان بچانے میں کامیاب ہوئے وہ لُٹے پِٹے سیالکوٹ پہنچ گئے ۔ ان لوگوں نے بتایا کہ جموں سے تیس لاریوں کا قافلہ مہاجرین کو لے کر سیالکوٹ کے لیئے روانہ ہوا تھا، اس قافلے کو ڈیگانہ اور سامبہ کے درمیان جموں سیالکوٹ روڈ پر ستواری کے مقام پر روک کر قتل کیا گیا۔

اسی قتلِ عام کی یاد میں ہر سال 6 نومبر کو یومِ شہدائے جموں منایا جاتا ہے ۔ممکن ہے اس قافلے سے پہلے بھی کسی قافلے پر حملہ کیا گیا ہو مگ ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا گیا اور غالب امکان یہ ہے کہ 6 نومبر کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ تھا کیونکہ جموں سے مہاجرین کو لے جانے کے لیئے بسیں پاکستان سے بھیجی گئی تھیں اور ان تمام بسوں کا ایک ساتھ سفر کرنا ہی قرینِ قیاس ہے ۔ اور 6 نومبر کے بعد تو قافلوں کو فوجی دستوں کے حفاظت کے بغیر ویسے بھی نہیں بھیجا گیا تھا ۔درحقیقت 6 نومبر 1947 کا جموں کے مسلمانوں کا یہ قتلِ عام اپریل سے ہندوؤں کے خلاف جاری تشدد اور قتل و غارتگری کے واقعات کا ردِ عمل اور شیخ عبداللّہ کی حکومت کی نااہلی کے باعث رونما ہوا ۔ اس واقعے کو بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے روکا جا سکتا تھا مگر لگتا یہ ہے کہ اقتدار میں موجود لوگوں کی ترجیحات کچھ اور تھیں اور وہ ہندو مسلم فسادات کو ہوا دینے کی پالیسی پر گامزن تھے ۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ نومبر میں جموں اور اس کے گرد و نواح میں مسلمانوں کا وہی حشر ہوا جو 22 اکتوبر سے مظفرآباد سے بارامولا تک قبائلی حملہ آور ہندو اور سکھوں کا کرتے آ رہے تھے اور جیسا پنجاب اور پختونخواہ میں اپریل سے ہو رہا تھا ۔ان تمام واقعات میں انتہا پسند مذہبی گروہ شریک تھے مگر یہ واقعات ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق حکامِ بالا کی سرپرستی میں ترتیب دئیے گئے تھے اور ان کا مقصد برِصغیر کی مسلم اور غیرمسلم آبادی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے تقسیم کرنا تھا۔

Samina Raja
Samina Raja

تحریر ۔ ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر۔

Share this:
Tags:
Death Image Immigration kashmir murder Religion تصویر رخ قتل قتل عام کشمیر ہجرت
Speech
Previous Post جھنگ کی خبریں 5/11/2016
Next Post پیرمحل کی خبریں 5/11/2016
Banezir Park

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close