
سو پور/ سرینگر (جیوڈیسک) مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبے سوپور میں شہید ہونے والے نوجوان کے چہارم کے موقع پر تیسرے روز بھی کرفیو نافذ رہا اس دوران بعض علاقوں میں بھارتی سکیورٹی فورسز اور کشمیری مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں جو کافی دیر جاری رہیں۔
دونوں اطراف سے پتھرائو بھی کیا گیا جب کہ کرفیو کی وجہ سے مارکیٹیں اور بازار بند رہے۔ بھارتی فورسز نے علی الصبح ہی سوپور کے داخلی راستوں کو سیل کر کے ہر قسم کی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ دریں اثناء شہید نوجوان ارشاد احمد کے گھر تعزیت کے لئے آنیوالے کا تانتا بندھا رہا۔
ادھر حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سوپور میں مسلسل کرفیو کے نفاذ نوجوانوں کو گرفتار کرنے اور آزادی پسند قائدین محمد اشرف صحرائی، ایاز اکبر اورالطاف احمد شاہ کی مسلسل نظربندی کو ریاستی ظلم وستم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فورسز ایک طرف معصوم نوجوانوں کو قتل کررہی ہیں اور دوسری طرف عمر عبداللہ حکومت لوگوں کو ماتم کرنے اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت پرسی کی بھی اجازت نہیں دے رہی ہے۔
نوجوان ارشاد احمد کی شہادت کی تحقیقات کے لئے قائم کمیشن محض لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی ایک ترکیب ہے کیونکہ آج تک ایسے ایک بھی واقعے میں قاتلوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور نہ انہیں کسی قسم کی سزا دی گئی ہی۔ گیلانی نے خبردار کیا کہ سرکاری دہشت گردی کے اس سلسلے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور طوائف الملوکی کو بڑھاوا ملے گا۔
دوسری طرف بھارتی وزیرا عظم نریندر مودی عہدہ سنبھالنے کے بعد ممکنہ طورپر 4 جولائی کو مقبوضہ کشمیر کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر آرہے ہیں۔ دورے کے دوران مودی این ایچ پی سی کی طرف سے بنائے جارہے 240 میگاواٹ اوڑی دوم پاور پروجیکٹ کا افتتا ح کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی پروگرام حتمی نہیں اور اس میں تبدیلی کا بھی امکان ہے۔ وزیر اعظم ادھمپورہ کٹرہ ریلوے لائن کا بھی افتتاح کرینگے۔
