Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری اپنی بلندیوں پر

February 2, 2018January 9, 2019 0 1 min read
Kashmir Solidarity Day
Kashmir Solidarity Day
Kashmir Solidarity Day

تحریر : میر افسر امان
پاکستان اور دنیا میں یوم یکجہتی جموں وکشمیر سال ١٩٩٢ء سے ہر سال تسلسل سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن امت مسلمہ اور کشمیری مسلمانوں کے پشتی بان مرحوم قاضی حسین احمد صاحب سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان کی اپیل پر پہلی دفعہ ١٩٩٢ء میں منایا گیا تھا ۔پھر اُس وقت پاکستان کی صوبائی اور مرکزی حکومتوں نے اِسے یاد گار دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا جس کاتسلسل بھارتی کے ناجائز قبضے سے آزادی کشمیر تک انشاء اللہ جاری رہے گا۔

کشمیر تاریخ کے آئینہ میں اور ہندوئوں کے عزائم:۔مورخوں کے نزدیک کشمیر دو ہزار قبل مسیح میں اس قابل بنا کہ یہاں انسان آباد ہو سکیں۔ اس سے پہلے کشمیر پانی کی جھیل تھی۔ کسی نے کہا کشمیر سے مراد کشید کی گئی، یعنی جس زمین سے پانی خارج کیا گیا ہو۔ کسی نے اسے بنی اسرائیل کے ساتھ جوڑا اور کہا کہ کشمیری بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑیں ہیں۔ جنت نظیر کشمیر جھیلوں، چشموں، دریائوں، کوہساروں، قدرتی عجائبوں اور باغوں کا دیس ہے۔ بقول شاعر:۔ اگر دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ کشمیر ہی ہے۔ اس کی تاریخ درد ناک اور عبرت انگیز ہے۔ یہ ریاست صدیوں سے مسلمانوں کے زیر حکمرانی رہی ہے۔ ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد کی آبادی کی یہ ریاست گذشتہ ڈیڑھ صدیوںسے استعمار کے جبر میں پس رہی ہے۔ ایشیاء کے قلب اور ہمالیہ کے دامن میں دنیا کی کوخوبصورت ترین وادی ہے۔ کئی جنگوں کی تباہ کاریوں دیکھ چکی ہے ۔ ہنسا کے پبجاری اس پر ظلم ،بربریت اوردہشت کا سماں بنائے ہوئے ہیں۔

کشمیریوں کوٹارچر سیل میں اذیتیں دی گئیں۔الٹا لٹکا کر کھالیں اُڈھیڑی گئیں۔ دانت توڑنے گئے۔بجلی کے جھٹکے دے دے کر نوجوانوں کو ہمیشہ کے لیے معذور کر دیا گیا۔ جیلوں میں قید نوجوانوں کو زہر دے کر ان کی زندگی کوعبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر ذہنی مریض بنا دیا گیا۔ہزاروں عزت مآب خواتین کی اجتما عی آبروریزی کی گئی۔ بے قصوروں کی اجتماعی قبریں بنائی گئیں۔ جو اب ٣٨ کی تعداد میں دنیا کے سامنے آئی ہیں۔لاتعداد نوجوانوں کو لاپتہ کر دیا گیا۔ سینکڑوں کو عقبوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ کہیں اگر وادی کہہ کر اور کہیں دہشت گرد کہہ کر جعلی مقابلوں کے ذریعے شہید کیا گیا۔ کشمیریوں کی مساجد اور مزارار تباہ کر دئیے گئے۔گن پاوڈر ڈال کے کھربوں کی پراپرٹیز جلا کر خاکستر کر دی گئیں۔باغات ،مکانات اور دوکانیں جلا کر راکھ کا ذھیر بنا دیں گئیں۔لا تعداد کشمیریوں کو پاکستان میں دکھیل دیا گیا۔ ہزاروں بیرون ملک ہجرت کر گئے ۔ ظلم ،سفاکیت اوردہشت ہے کہ ختم ہونے کا نام تک نہیں لے رہی۔تشدد ہے کہ آئے دن بڑھ رہا ہے۔

بھارت کے سامراجی عزائم کا دائرہ صرف کشمیر یا پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ تک پھیلا ہوا ہے۔ ہندوئوںکا دعویٰ یہ ہے کہ تا ریخ کے کسی دور میں بھارت کی برہمنی حکومت جزیرہ نمائے عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور خانہ کعبہ دراصل ہندوں کا مندر تھا جس میں رام اور کرشن کے بت رکھے ہوئے تھے۔ بعد میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر ہندوئوں کے اس مندر کو کعبہ میں بدل دیا۔ لہٰذا ہندوئوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اس مندر وکو دوبارہ حاصل کریں۔…اسی طرح یہودیوں کی پارلیمنٹ کے ماتھے پر کندہ ہے کہ ” اے اسرائیل تیری سرحدیں نیل سے دجلہ تلک ہیں” یہ ہیں یہود وہنود کی پلائنگ جس سے امت مسلمہ غافل ہے۔ اندرا گاندھی نے وصیت کی تھی کہ میر ی میت کی راکھ کشمیر کے پہاڑوں میں اُڑا دینا۔ اس کی موت کے بعد ایسا ہی کیا گیا۔چانکیہ ذہنیت کے مطابق، ہندوستان کے رائے شماری کے وعدے اور ان کاطرز عمل ان کی منافقت کی نشان دہی کرتا ہے۔کشمیر کی فروخت اورمہاراجہ کے مظالم:۔١٨٤٦ء میںرسوائے زمانہ”معاہدہ امرت سر” کے تحت انگریزوں نے جموں و کشمیر کو ٧٥ لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض جموں کے سکھ راجہ گلاب سنکھ کو فروخت کیا تھا۔جس پر گرفت کرتے ہوئے شاعر اسلام مفکر پاکستان علامہ شیخ محمد اقبال نے کہا تھا:۔

دہقان وکِشت وجود خیابان فروختند

قومی فروختندوچے ارزاں فروختتند۔

مہاراجہ کشمیرمسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتاتھا۔مہاراجہ کے دور میں مسلمانوں سے بیگار لی جاتی تھی۔ان کو مزدوری بھی صحیح نہیں دی جاتی تھی۔مہاراجہ مسلمانوں پلیج سمجھتا تھا۔ تعصب کی انتہا تھی کہ جس سڑک سے مہاراجہ کی سواری گزرتی تھی اگر اس راستے سے کسی مسلمان کاگزر ہو جاتا تو اس سڑک کو مہاراجہ دلواتا تھا۔مہاراجہ کی سفاکیت کی وجہ سے تقریباً٢٥٠ سال پہلے کثیر تعداد میں کشمیریوں نے موجودہ پاکستان کی طرف ہجرت کی تھی۔ اس ہجرت میں راقم کا مظلوم خاندان بھی شامل تھا۔ ڈوگرہ مہاراجہ کے دور میں جیل کی چاردیواری کے اندر آذان دیتے ہوئے٢١کشمیری، ایک وقت میں آذان مکمل کرتے ہوئے شہید کئے گئے۔ ڈوگروں نے زندہ کشمیریوں کی کھا لیں اُتاری تھیں۔اس کی یاد گار اب بھی آذادکشمیر کے ضلع باغ میں موجود ہے۔

تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت کشمیر پاکستان کا حصہ:۔جموں وکشمیر پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔ اسی لیے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔اس کے لیے کارگل کی جنگ ملا کر چار جنگہیں ہو چکی ہیں۔٧٠سال سے دنیا اور اقوام متحدہ کے ضمیرکو یہ مسئلہ دستک دے رہا ہے۔ کب دنیا کا ضمیر جاگتا ہے اور انصاف کرتا ہے۔ کشمیری ساری عمر اس کا انتظار کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ برصغیرہند وپاک میں قائد اعظم محمد علی جناح نے سیاسی جدوجہد سے مملکت پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا۔برصغیر کی تقسیم اس فارمولے کے تحت ہوئی کہ جن صوبوں میں ہندووں کی اکثریت ہے وہ علاقے بھارت میں شامل ہونگے ا ور جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ پاکستان میں شامل ہونگے۔اس فارمولے کے تحت کشمیر پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔مگر برطانیہ اور بین ا لاقوامی سازش کے تحت ایسا نہ ہو سکا۔ اس کا اظہار خود برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے دورہ پاکستان میں اپریل ٢٠١١ ء میں اس بات اعتراف کیا ہے کہ بھارت پاکستان کشمیر تنازہ برطانیہ کا پیدہ کردہ ہے اس کی نیوز رپورٹینگ ڈیلی ٹیلگراف نے ٧ اپریل ٢٠١١ ء میں کی ہے۔ ریڈ کلف ایوارڈ نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پٹھان کوٹ اورگرداس پور کو ہندوستان میں شامل کر دیا جبکہ کے اس کی کثیر آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔وہ اس لیے کیا گیا کہ ہندوستان کو کشمیر کا واحد زمینی راستہ مل جائے۔ یعنی درہ دنیال سے راستہ۔ یہ سازش ان لوگوں نے کی جو دنیا کو سچائی کا سبق سکھاتے ہیں یعنی برطانیہ بہادر۔ ریڈ کلف کے سابق سیکر ٹیری اور سول سروس کے ایک اعلیٰ افسر جو حقیقت آشنا اور چشم دیدگواہ تھے، نے اپنے یاداشتوں میں لارڈ مائنٹ بیٹن کی غیر منصفانہ پالیسیوں سے اختلاف رائے ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لارڈ ماونٹ بیٹن نے نہ صرف تقسیم کے وقت مروجہ قوانین کو توڑا بلکہ سرحدوں کے لیے انہوں نے ریڈ کلف پر باقاعدہ دباو بھی ڈالا۔لکھتے ہیں کہ مجھے چالاکی سے ایک ظہرانے میں شرکت سے روک دیا گیا جس میں ماونٹ بیٹن اور ریڈکلف نے ایک مسلم اکثریتی علاقے گرداسپور کو جو کشمیر کو بھارت سے ملانے والا واحد زمینی راستہ ہے ،پاکستان کے بجائے بھارت میں شامل کنے کا فیصلہ کیا۔

کشمیر اخلاقی،ثقافتی، تہذیبی،علاقائی طور پر پاکستان کا حصہ:۔ تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت کشمیر اخلاقی،ثقافتی،تہذبی اور علاقائی طور پر پاکستان کا حصہ ہے۔پاکستان اور کشمیر کی ثقافت اور تہذیب اور علاقہ آپس میں ملتے ہیں۔کشمیر کے سارے دریا پاکستان کی سمت بہتے ہیں۔ سارے زمینی راستے سوائے درہ دنیال کے کشمیر سے پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ واحد راستہ درہ دانیال سازش کے ذریعے ہندوستان کو دیا گیا تھا۔مذہبی طور پر بھی کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے کیونکہ ٩٠ فی صد مسلمان کشمیر میں رہتے ہیں۔

تہذیبی طور پر بھی ایک جیسے لوگ اس خطے میں رہتے ہیں ۔ان کا کلچر، ان کی زبا ن ایک، ان کے رہنے سہنے کے طر یقے ایک، شادی بیاہ کے طریقے ایک جیسے ہیں۔ کشمیر پر بھارتی قبضہ اور موجودہ آزادکشمیر:۔بھارت مہارجہ کشمیر ہری سنگھ سے ایک جعلی معاہدے کا سہارا لے کر کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔جبری الحاق کا ڈرامہ جو ٢٦اکتوبر٧ ١٩٤ء میں بھارتی حکمرانوں، ریاست کے ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ اور ریاست کشمیرمیں نیشنل ازم کے بانی اور علمبردار شیخ عبداللہ کے باہمی گٹھ جوڑ سے رچایا گیا تھا۔ اس کی نہ کوئی آئینی حیثیت ہے یہ ہی اخلاقی و قانونی حیثیت ہے۔ ممتاز برطانوی مورخ اور دانشور پروفیسر السٹر لیمب اپنی کتابkashmir.the disputed legacyمیں انتہائی مضبوط اور ناقابل انکار دلائل کے ساتھ جعلی ثابت کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ پاکستانی مجائدین جب سری نگر کے قریب پہنچنے گے تو مہاراجہ ہری سنگھ ٢٦ اکتوبر ١٩٤٧ء کوزمینی راستے سے جموں فرار ہوا۔وہ ١٢٦کتوبر ١٩٤٧ء رات ١٢ کے بعد تک جموں نہیں پہنچ سکا۔بھارتی نمائندہ وی پی مینن جو دستاویز الحاق پر دستخط لینے کے لیے جموں آئے ہواتھا انتظار ختم کر کے واپس دہلی چلا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جعلی معاہدے پر دستخط تک نہیں ہو سکے۔ تقسیم ہند کے بعد١٩٤٧ ء میں جب ہندوستان نے اپنی فوجیں ہوائی جہازوں کے ذریعے کشمیر کے دار لخلافہ سری نگر میں اُتارنی شروع کیں توقائد اعظم نے فوج پاکستانی فوج کے اُس وقت کے انگریز کمانڈ رجنرل گریسی کو بھارت کی جارحیت کے خلاف اور آزادی کشمیر کے لیے کشمیر پر حملے کا حکم دیا توسازشی انگریزکمانڈر نے قائد اعظم کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔

پاکستان کے عام مسلمانوں نے ہندوستان کی سازش کو سمجھا اورفوراً کشمیر کی طرف مارچ شروع کیا۔ صوبہ سرحد(موجودہ خیبرپختونخواہ)کے قبائل نے پاکستانی فوج کی مدد کی ۔پاک فوج اور قبائل نے موجودہ آزادکشمیر کا ٣٠٠ میل لمبا اور ٣٠ میل چوڑا حصہ پر قبضہ کر لیا۔ گلگت بلتستان کو مقامی کمانڈروں نے آزاد کروا لیااور ڈوگرہ انتظامیہ کو علاقہ بدر کر دیا۔پاک فوج اور قبائل سری نگر تک پہنچنے والے ہی تھے کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی درخواست پیش کر دی ۔اقوام متحدہ نے جنگ بندی کروائی اور فیصلہ کیا کہ حالات ٹھیک ہونے کے بعد کشمیریوں سے ان کی رائے معلوم کی جائے گی کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا ہندوستان کے ساتھ۔اقوام متحدہ نے اپنے مبصر جنگ بندی لین پر تعینات کیے جو ابھی تک موجودہیں ۔بعد میںجنگ بندی لین کو شملہ معاہدے کے تحت کنٹرول لین بنا دیا۔ اقوام متحدہ میں بھارتی وزیر اعظم کی جنگ بندی کی درخواست اور رائے شماری کا وعدہ:۔کشمیری مجائدین سری نگر پہنچنے والے تھے کہ مکار بنیا دبھاتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرومسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں خود لے کر گیا۔ درخواست کی جنگ بند کر دی جائے۔

امن بھال ہونے پر کشمیریوں کو اس بات کا حق دیا جائے گا کہ وہ بھارت کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اس وعدے پر پاکستان اور بھارت راضی ہوئے اور اقوام متحدہ نے رائے شماری کی بات منظور کرتے ہوئے جنگ بند کرا دی۔ پھرمسئلہ کشمیر کے لیے سلامتی کونسل نے ٥ جنوری ١٩٤٩ء کو کشمیریوں کے حق میں حقِ خود اداریت کی قراداد منظور کی تھی۔ جس کو کشمیری٦٨ سال سے اسی نام سے مناتے ہیں ۔ سلامتی کونسل کی آج تک جوں تک نہیں رینگی۔ اور مسئلہ کشمیر وہیں کا وہیں ہے۔جموں کشمیر پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔ بھارت نے ہماری شہ رگ پر قبضہ کیا ہوا۔جس وقت چاہے بارش کے موسم میں پانی چھوڑ دے اور پاکستان میں سیلاب آجائے۔ پانی روک کو پاکستان کو پنجر بنا دے۔ اس کے لیے کارگل کی جنگ ملا کر چار جنگہیں ہو چکی ہیں٧٠ سال سے دنیا کے ضمیرکو یہ مسئلہ دستک دے رہا ہے کب دنیا کا ضمیر جاگتا ہے اور انصاف کرتا ہے۔ کشمیری کہتے ہیں ہم ساری عمر اس کا انتظار کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔آخر برطانیہ کے آئر لینڈ والوں نے سو سال جدو جہد کے بعد آزادی حاصل کی۔

اقوام متحدہ مغرب کی لونڈی کا کشمیر اور مسلمانوں سے تعصب:۔آج٧٠سال ہوگئے ہیں مگر ہندوبھارت اوراقوام متحدہ مغرب کی لونڈی نے رائے شماری کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ دوسری طرف اسلامی ملک انڈونیشیا کے حصے بخرے کرتے ہوئے عیسائی آبادی والے جزیرے میں فوراً استصواب کروا کے عیسایوں کی حکومت قائم کروا دی۔ اسلامی ملک سوڈان کے وارفر علاقہ جس میں عیسایوں کی آبادی ہے۔ ریفرنڈم کے ذریعے ایک عیسائی ریاست قائم کر دی واہ رے اقوام متحدہ تیرہ انصاف! یہ کشمیری مسلمانوں اقوام متحدہ کا تعصب نہیں تو پھر کیا ہے؟

جدوجہد آزدی کشمیر کی موجودہ پوزیشن:۔کشمیریوں نے بھارت کے سیکولر نظام کے تحت ہونے والے کئی ڈھونگ انتخابات سے مایوس ہو کر بندوق اٹھائی۔ بھارتی سفاک قابض فوجیوں نے ١٩٤٧ء سے لے کر اب تک ایک لاکھ سے زاہد کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ اب جاری تازہ مہم میں نہتے کشمیر ی بھارتیوں کی بندوقوں کا پتھر سے مقابلہ کر رہے ہیںجب کشمیریوں کے بچے،نوجوان اور عورتیں ٹینکوں کے مقابلے میں پتھر اٹھا لیں تو سمجھ جائیں کہ اس قوم کی آزادی قریب آ گئی ہے۔بھارت پیلٹ گنز چلا کر سیکڑوں کشمیریوں کا اندھا کر چکا ہے۔ پرامن مظاہروں میںشریک نہتی بچیوں کی چوٹیاں کاٹ رہا ہے۔ کشمیریوں کا کہنا ہے بھارتی کتوں ! ہمارے و طن سے نکل جائو۔ ہم پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔اپنے وعدے پورے کرو۔ بذریعہ استصواب ہمیں آزادی دو۔ کئی کئی ہفتوں تک کرفیو لگا رہتا ہے۔ لوگوں کو جمعہ کی نمازتک نہیں پڑھنے دی جاتی۔ لوگ پریشان ہیں۔ لیکن ان کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ بیمار٨٠ سالہ سید علی گیلانی صاحب تحریک کی کمانڈ کر رہا ہے ۔اس کا عزم بہت بلند ہے۔ ظلم و ستم کی وجہ سے ہر سال پانچ فروری کا دن ہمیں مقبوضہ کشمیر کی یاد دلاتا رہتا ہے ۔ کشمیر میں ہرچھٹے کشمیری کے پیچھے ایک بھارتی فوجی لگا ہوا ہے ۔دنیا کی تاریخ میں آٹھ لاکھ فوج کبھی بھی کسی ایک محاذپر دشمن کی فوجوں کے آمنے سامنے نہیں آئی۔ مگر نہتے کشمیریوں کے خلاف یہ آٹھ لاکھ فوج صرف اور صرف ان کا بنیادی حق خودارادیت چھیننے کے لیے برسرِ پیکار ہے۔ کشمیری سالہ ہا سال سے پانچ فروری کو پاکستان کے جھنڈے لہراتے رہتے ہیں۔ آٹھ لاکھ بھارتی درندہ فوج ان پر گولیاں برساتی رہتی ہے۔ مگر وہ نعرہ مستانہ بلند کرتے رہتے ہیں ”ہم کیا چاہتے ہیں آ زادی”… ” آزادی کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” ہم پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں”اس طرح ہر سال کشمیری یوم تکمیلِ پاکستان مناتے رہتے ہیں۔ اور بھارتی فوج ان پر گولیاں برساتی رہتی ہے۔ اس طرح لاکھوں کشمیری شہادت کے رُتبے پر فائز ہو چکے ہیں۔

لاتعداد مسلمان خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی گئی۔ عربوں روپے کی املاک گن پاوڈر ڈال کر تباہ کر دی گئیں۔ہزاروں نو جوانوں کوآپاہج بنا دیا گیا۔ ہزاروں لوگوں کو غائب کر دیا گیا۔ مقدس مقامات کی بیحرمتی کی گئی۔،لاتعداد لوگوں کو ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ کشمیریوں کے باغات کو تباہ کیا گیا۔٣٨مقامات پر اجتما عی گمنام قبروں کی دریافت ہوئیں۔ بھارت کا مکروہ چہرہ اور بھارتی فوج کا بھیانک کردار سامنے آچکا ہے۔ شہیدوں کے قبرستان گواہی دے رہے ہیں کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔وہ ہر سال یوم اسلامی جمہوریہ پاکستان کادن مناتے ہیں نہ کہ یوم جمہوریہ ہندوستان.۔قائد اعظم محمد علی جناح بانیِ پاکستان کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اگر کشمیریوں کی جدو جہد سے کشمیر آزاد ہو کر پاکستان سے مل جاتا ہے اور پاکستان مکمل ہوتا ہے تو یہ امت مسلمہ کی پشت بانی کرے گا۔ اس لیے بھارت کشمیر پر خاصبانہ قبضہ بر قرار رکھنا چاہتا ہے اور یہودی اور انگریز اس کی مدد کرتے ہیں۔ بھارت کشمیر کے دریائوں پر بند بنانے کی خوفناک منصوبوں پر عمل کر رہا ہے تاکہ پاکستان کا پانی بند کر دیا جائے۔ وہ خشک سالی میں مبتلا ہو جائے۔ اور بارشوں کے زمانے میں اوپر سے پانی چھوڑ کر سیلاب کی کیفیت پیدا کر دی جائے ۔لہٰذا پاکستان کے دانشوروں اور سیاستدا نوں کو بھارت کی امن کی آشا کے نام سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ بھارت کی تاریخ ہے وہ کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے۔

بغل میںچھری اور منہ پر رام رام والا مسئلہ ہے۔وہ اپنے مفکر اور دانشور کوٹلیہ چانکیہ کے اس قول پر عمل کرتا ہے کہ ” جب تم اپنے دشمن کو مارنا چاہو تو اس سے دوستی پیدا کرو اور جب اسے مارنے لگو تو اسے گلے لگائو اور جب مار چکو تو اس کی لاش پر آنسو بہائو ۔یہ المیہ ہے کہ پاکستانی قوم یوم یکجہتی کشمیر پاکستانی قوم منا رہی ہے اور پاکستانی حکومتیں بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے اور آلو پیاز کی تجارت کی باتیں کرتیں ہیں۔یہ تحریک کشمیر کی پیٹھ میں چھرا گھوپنے کے برابر ہے۔ اس لیے تحریک آزادی کشمیر کے٨٠ سالہ قائد جناب سید علی گیلانی صاحب نے حکو مت پاکستان کے اس اقدام کو کشمیر دشمنی قرار دیا ہے۔ پاکستان یہ کام کرنے کے بجائے پہلے بھارت سے کشمیر کو متنازہ علاقہ تسلیم کروانا چاہیے۔اُدھر مولانا فضل الرحمان صاحب جیسے شخص کو کشمیر کمیٹی کا ہیڈ بنایا ہوا ہے جو کشمیر کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہا صرف فاہدے اُٹھا رہا ہے۔

آزادی جموں و کشمیر کے مسلمانوں کا مقدر:۔کشمیر پاکستان کانامکمل ا یجنڈا ہے۔کشمیر کی تحریک ،تحریکِ پاکستان کا تسلسل ہے۔ کشمیری پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔کشمیری اپنا آج، کل کے پاکستان کے لیے نچھاور کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں جو تقسیم برصغیر کے فارمولے اوربین الاقوامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ اس لیے کشمیر کے مسئلے کا ایک ہی حل ہے وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ…ہندوستان ایک ایک کر کے پاکستان دشمن اقدام کرتا جا رہا ہے وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ اس لیے حکومت اور پاکستانی قوم کمر کس لے اور کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ شروع کردے اور دل کھول کر کشمیری مجاہدین کی عملی مدد کرے ورنہ تاریخ پاکستانی حکمرانوں اورعوام کو معاف نہیں کرے گی.کشمیر کی پشتی بان جماعت اسلامی نے ہمیشہ کی طرح اس سال بھی پاکستان اور دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر٥ فروری کواپنی بلندیوںپر منانی کافیصلہ کیا ہے۔اللہ کشمیریوں کی مدد فرمائے آمین۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
History India Kashmir Solidarity Day Mir Afsar Aman pakistan World بھارت پاکستان تاریخ دنیا منایا یوم یکجہتی کشمیر
Libya Boat Drowned
Previous Post لیبیا میں کشتی ڈوب گئی، 90 تارکین وطن ہلاک، زیادہ تر پاکستانی
Next Post ملت اسلامیہ کے لئے اسوہ شبیریؐ کی اہمیت
Hazrat Imam Hussain

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close