Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کشمیری قوم کی لازوال و بے مثال جدوجہد آزادی

February 3, 2015February 3, 2015 1 1 min read
Kashmir Protest
Kashmir Protest
Kashmir Protest

تحریر : علی عمران شاہین
آزادی کا خواب لئے کشمیری رہنما میر واعظ محمد یوسف شاہ کی قیادت میں الجزائر گئے تاکہ یہ دیکھیں کہ انہیں فرانسیسی استعمار سے آزادی کیسے ملی تھی؟ کیونکہ کشمیریوں نے سن رکھا تھا کہ جب الجزائر میں فرانسیسی قبضے کے خلاف جنگ آزادی لڑی جا رہی تھی تو اصل کردار وہاں کے عوام نے ادا کیا تھا۔تحریک آزادی کے ایک مظاہرے پر فرانسیسی فورسز نے فائرنگ کر کے ایک بچہ بھی شہید کر دیا تھا جس کے جواب میں الجزائری حریت پسندوں نے کارروائی کرتے ہوئے دو درجن سے زائد فرانسیسی پکڑ کر قیمہ کر کے قصابوں کی دکانوں پر لٹکا دیئے تھے۔ اس خوفناک واقعہ کے صرف تین روز بعد الجزائر آزاد ہو گیا تھا۔ کشمیری رہنما جب الجزائر پہنچے تو آزادی کے ہیرو اور پہلے صدر احمد بن بیلا نے ان کا خیرمقدم کیا اور پھر جب آزادی کے موضوع پر بات ہوئی تو بن بیلا نے اپنے دفتر کی کھڑکی کھولی اور کشمیری قیادت کو باہر کا نظارہ کرواتے ہوئے کہا کہ آپ کے سامنے یہ تاحد نگاہ پھیلی قبریں ان لوگوں کی ہیں جنہوں نے آزادی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آپ کو بھی آزادی چاہئے تو پھر ایسی بستیاں آباد کرنا پڑیں گی… کشمیری رہنمائوں نے یہ بات سنی تو وہ خاموش ہو گئے لیکن انہوں نے دل ہی دل میں یہ ایک ارادہ باندھ لیا تھا کہ وہ یہ بھی کر گزریں گے۔
احمد بن بیلا 12جنوری 2012ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے ضرور دیکھا ہو گا کہ کشمیریوں نے الجزائریوں سے بڑھ کر ایسے 700سے زائد قبرستان آباد کر دیئے ہیں۔ آج کشمیر میں10ہزار سے زائد قبریں ایسی ہیں کہ جن کے اندر دفن ہونے والوں کا بھی پتہ نہیں کہ وہ کون کون تھے…؟ شاید یہ وہی لوگ ہیں جن کے پیارے آج بھی سرینگر سمیت سارے مقبوضہ کشمیر کے شہروں میں ٹکریں مارتے نظر آتے ہیں کہ انہیں بھارتی فوج اٹھا کر لے گئی اور پھر ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں…؟ کبھی وہ دوبارہ اپنے پیاروں سے ملیں گے بھی کہ نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں ایسی خواتین ہیں کہ جنہیں ”آدھی بیوائیں” کا نام دیا گیا ہے کیونکہ ان کے سروں کے تاج جب اٹھا لئے گئے تو آج تک پھر پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں ہیں…؟ اب یہ خواتین کہیں انتظار کی سولی پر لٹکی ہیں تو کہیں موت سے ہمکنار ہو رہی ہیں۔ دنیا کو سمجھ نہیں آ رہی کہ انہیں اب اپنے مستقبل کے حوالے سے کیا رائے دی جائے…؟

کشمیریوں نے قربانیوں کی انتہا کر دی… بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تاریخ ہی پلٹ دی تو بے جا نہ ہو گا۔ آج وہ جس کھلے پنجرے میں قید ہیں، وہ تو واقعی دنیا کی ایک انوکھی ترین تاریخ ہے کہ اتنے محدود علاقے میں اتنی بڑی فوجی تعیناتی اور اتنا طویل عرصہ… وہم و گمان سے باہر ہے… کشمیری تو آزادی کے میرٹ پر پورا اتر رہے ہیں بلکہ پورا اتر چکے ہیں۔ بس معاملہ یہاں آ کر اٹکا ہوا ہے کہ ان کا جو وکیل بنا تھا، وہ اول روز سے یہ طے نہیں کر سکا کہ اس نے اپنے مؤکل کے حوالے سے عدالت میں مؤقف کیا پیش کرنا ہے…؟ جب عدالت میں وکیل ہی بار بار مؤقف بدل رہا ہو تو وہ عدالت جو پہلے ہی بے ایمان و غدار ہو تو انصاف کی توقع کیا رہ جاتی ہے۔ویسے تو کشمیر کے اول معرکے میں بانی پاکستان نے اپنے مؤقف کا فیصلہ اس وقت سنا دیا تھا کہ جب انہوں نے اپنی مسلح افواج کے سربراہ جنرل گریسی کو بھارت کے مقابلے میں کشمیر میں فوج داخل کرنے کا حکم جاری کیا تھا جسے جنرل گریسی نے تو ماننے سے انکار کر دیا تھا لیکن بانی پاکستان محمد علی جناح کی دلی و ذاتی رائے تو کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف کیا ہے۔ اس کے بعد نہرو پاکستان کے رضاکار مجاہدین اور قبائلی لشکروں کی فتوحات کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جا پہنچا تھا کہ پاکستان کو کشمیر پر قبضے سے روکا جائے۔ اقوام متحدہ پہنچ کر یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح کا بن چکا تھا۔ 1949ء میں باقاعدہ جنگ بندی ہوئی اور پھر اس علاقے میں پاکستان و بھارت کے مابین سیز فائر لائن تشکیل پائی۔ 1949ء سے 1956ء تک سلامتی کونسل اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے طریقہ کار تلاش کرتی رہی۔ اس مقصد کیلئے اقوام متحدہ کے وفود کشمیر کے دونوں حصوں کا دورہ بھی کرتے رہے۔ اس عرصے میں سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر 133مرتبہ زیر بحث آیا۔ قراردادیں پاس، مسودوں میں ترامیم و اضافہ ہوتا ، کمیشن بنتے اور ٹوٹتے رہے۔ پاکستان ہر تجویز اور رپورٹ تسلیم کرتا رہا لیکن بھارت ہر اس تجویز کو رد کرتا رہا، جس سے جنگ بندی سے پیدا ہونے والی خاموشی ٹوٹنے اور کوئی اگلا قدم اٹھنے کا خطرہ پیدا ہوتا۔ برطانیہ نے تو تقسیم ہند کے وقت سارا خزانہ، ساری صنعت و حرفت، سارا اسلحہ اور ایمونیشن بھارت کو دے دیا تھا اور ان کا گمان یہی تھا کہ پاکستان کو جس طرح بھارت کے ساتھ تنازعات اور مسائلستان کی دلدل میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ان حالات میں وہ چند سال نہیں نکال سکے گا اور ایک بار پھر متحدہ ہندوستان خود بخود تشکیل پا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا اور مجبور و مقہور پاکستان ایسا تناور درخت بن رہا تھا کہ جو سب کیلئے حیران و پریشان کن تھا۔ 1965ء میں پاکستان نے ناکام آپریشن جبرالٹر شروع کیا۔ یہ آپریشن شروع کرانے میں ذوالفقار علی بھٹو کا بنیادی کردار تھا کیونکہ بھٹو ایوب کو اقتدار سے الگ کر کے خود حکومت سنبھالنے کے خواہش مند تھے۔ اس کا اظہار انہوں نے لندن میں ایک نامور سوشلسٹ پاکستانی شخصیت طارق علی کے اس سوال کہ ”آپ نے ایوب خان کو 1965ء کی جنگ میں کیوں دھکیلا تھا؟” کے جواب میں یوں کہا تھا کہ ”مجھے بتائو، اس بڈھے سے جان چھڑانے کا اور کیا طریقہ تھا…؟” بھٹو کا مقصد تو یہ تھا کہ اب پاکستانی فوج جیت کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ چین سے جنگ کے بعد ساری دنیا نے بھارتی فوج کو اس قدر مضبوط کیا کہ اب مقابلہ نہیں ہو گا بلکہ پاکستانی فوج کومار پڑے گی اور فوجی حکومت سے جان چھوٹے گی اور اقتدار میرے قبضے میں ہو گا۔ بہرحال جنگ ہوئی اور پھر معاہدہ تاشقند… جس میں ضامن روس بنا اور یوں مسئلہ کشمیر عالمی فورم سے اتر کر دو ملکوں کا باہمی مسئلہ قرار پایا اور روس اس کا ضامن… لیکن کمال دیکھئے کہ 1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو 1974ء کے شملہ معاہدہ میں کشمیر کی سیزفائر لائن کو کنٹرول لائن سے بدل کر اسے بین الاقوامی سرحد سے محض ایک قدم کے فاصلے پر کر دیا گیا اور شملہ معاہدہ میں روس بھی نکل گیا۔ یوں یہ مسئلہ محض دو ملکوں کا باہمی سرحدی تنازعہ قرار پایا۔ عینی گواہ کہتے ہیں کہ بھٹو نے شملہ معاہدہ کے وقت اندرا گاندھی سے کہا تھا کہ کنٹرول لائن اصل میں بین الاقوامی سرحد ہی ہے لیکن یہ لکھ کر نہیں دے سکتا کیونکہ اس طرح تو میری عوام میرا ”جنازہ” نکال دے گی۔ اس کا عملی اظہار انہوں نے 1974ء کے دورئہ مظفر آباد میں اپنے خطاب میں یوں کیا تھا کہ ”کشمیریو! کب تک دو پہاڑیوں کے درمیان لٹکے رہوں گے، مجھے یہاں گورنر ہائوس کی جگہ دو” یوں بھٹو نے آزاد کشمیر کو پانچواں صوبہ بنانے کی بھرپور کوشش کی جو بالآخر ناکام ہوئی۔

روس شکست کے بعد جنرل ضیاء الحق نے تحریک آزادی شروع کروائی، معاملہ آگے چلا لیکن ہمیشہ کی طرح بعد کی کوئی حکومت یہ طے نہ کر سکی کہ اب کشمیر پر بھارت کے یک نکاتی مؤقف کہ ”کشمیر پر ہر صورت قابض رہنا ہے” کے مقابلے میں ان کا مؤقف کیا ہو گا؟ 1998ء میں ایٹمی دھماکے ہوئے اور پھر اٹل بہاری واجپائی کی پاکستان آمد اور معاہدہ لاہور… معاہدہ لاہور میں بھی سب سے زیادہ زور ”شملہ معاہدہ پر اس کی روح کے مطابق عمل” پر دیا گیا لیکن اتنا ہوا کہ بھارت نے کشمیر کو متنازعہ اور حل طلب مسئلہ تسلیم کر لیا لیکن جب معرکہ کارگل پیش آیا اور پھر نوازشریف پرویز مشرف کا شکار بنے تو پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال کر کشمیر پر رہی سہی کسر نکالتے ہوئے مؤقف بدل بدل کر نت نئے فارمولے پیش کرنا شروع کر دیئے بلکہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے باہر نکل کر باہم حل کرنے کی بھی پیشکش کر ڈالی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر اپنے فورم سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جسے دوبارہ بڑی مشکل سے اقوام متحدہ کے کباڑ خانے میں داخل کرایا گیا۔ کمال دیکھئے کہ آج پاکستان سکیورٹی کونسل کا رکن ہے اور اس کا صدر بھی لیکن وہ مسئلہ کشمیر تو پیش نہیں کرتا البتہ امریکہ کے ڈرون حملوں کو قانونی حیثیت دینے کی عالمی قرارداد کی منظوری پاکستانی صدر مسعود خان کے دستخط سے ہوتی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ محدود منظوری ہے لیکن بنیاد تو رکھ دی گئی ہے اور وہ بھی پاکستان کے ہاتھوں سے… یعنی یہ ہے کشمیریوں کے وکیل کا حال اور تاریخ… بھارت کی تہاڑ جیل میں پھانسی چڑھ کر مقبول بٹ نے جس کشمیری قوم کو آزادی کے راستے پر چلایا تھا اس نے بھارت سے ٹکر میں قربانیوں کی حدیں عبور کر کے رکھ دیں۔ کشمیریو ںنے بہادری و اولولعزمی کی وہ داستانیں رقم کیں کہ دنیا عش عش کر اٹھی… گوریلا جنگ کے وہ دائو پیچ کھیلے کہ ایک عالم میں مثال بن گئے۔ ہزارہا کشمیری بیٹے 14ہزار سے 16ہزار فٹ بلند برفانی چوٹیوں اور خونخوار جانوروں سے بھرے جنگلات میں سالہا سال جڑی بوٹیاں کھا کر ویرانوں میں اپنے لاشے پھنکوا کر ایک مشعل روشن کر گئے۔ اس مزاحمت کاری میں عورتیں، بچے اور بوڑھے بھی پیچھے نہ رہے… لیکن لکیر کے دوسری طرف کیا حالات رہے…؟ آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

Protest
Protest

5فروری آیا تو مجھے کئی روز سے 11اگست 2008ء کا وہ دن یاد آ رہا ہے کہ جب مسلسل بھارتی محاصرے سے ستائے لاکھوں کشمیری اپنی ہزاروں گاڑیوں پر پھل اور سبزیاں لادے ”تیری منڈی میری منڈی… راولپنڈی، راولپنڈی” کے نعرے لگاتے آزاد کشمیر کی طرف بڑھ رہے تھے تو ان پر بھارتی فورسز نے بے پناہ فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں موقع پر60کشمیری شہید، سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ شہداء میں ممتاز رہنما شیخ عبدالعزیز بھی شامل تھے لیکن لکیر کے دوسری جانب سوائے جماعة الدعوة و جماعت اسلامی کے چند سو کارکنان اور تھوڑے کشمیری لوگوں کے اور کوئی ان کے درد پر مرہم رکھنے کے لئے کھڑا نہ تھا…راولپنڈی بھی خاموش تھا اور اسلام آباد بھی… بلکہ سارا پاکستان بھی… آخر کیوں؟یہ سوال آج بھی جواب چاہتا ہے۔ آزادی کا خواب لئے کشمیری رہنما میر واعظ محمد یوسف شاہ کی قیادت میں الجزائر گئے تاکہ یہ دیکھیں کہ انہیں فرانسیسی استعمار سے آزادی کیسے ملی تھی؟ کیونکہ کشمیریوں نے سن رکھا تھا کہ جب الجزائر میں فرانسیسی قبضے کے خلاف جنگ آزادی لڑی جا رہی تھی تو اصل کردار وہاں کے عوام نے ادا کیا تھا۔تحریک آزادی کے ایک مظاہرے پر فرانسیسی فورسز نے فائرنگ کر کے ایک بچہ بھی شہید کر دیا تھا جس کے جواب میں الجزائری حریت پسندوں نے کارروائی کرتے ہوئے دو درجن سے زائد فرانسیسی پکڑ کر قیمہ کر کے قصابوں کی دکانوں پر لٹکا دیئے تھے۔ اس خوفناک واقعہ کے صرف تین روز بعد الجزائر آزاد ہو گیا تھا۔ کشمیری رہنما جب الجزائر پہنچے تو آزادی کے ہیرو اور پہلے صدر احمد بن بیلا نے ان کا خیرمقدم کیا اور پھر جب آزادی کے موضوع پر بات ہوئی تو بن بیلا نے اپنے دفتر کی کھڑکی کھولی اور کشمیری قیادت کو باہر کا نظارہ کرواتے ہوئے کہا کہ آپ کے سامنے یہ تاحد نگاہ پھیلی قبریں ان لوگوں کی ہیں جنہوں نے آزادی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آپ کو بھی آزادی چاہئے تو پھر ایسی بستیاں آباد کرنا پڑیں گی… کشمیری رہنمائوں نے یہ بات سنی تو وہ خاموش ہو گئے لیکن انہوں نے دل ہی دل میں یہ ایک ارادہ باندھ لیا تھا کہ وہ یہ بھی کر گزریں گے۔

احمد بن بیلا 12جنوری 2012ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے ضرور دیکھا ہو گا کہ کشمیریوں نے الجزائریوں سے بڑھ کر ایسے 700سے زائد قبرستان آباد کر دیئے ہیں۔ آج کشمیر میں10ہزار سے زائد قبریں ایسی ہیں کہ جن کے اندر دفن ہونے والوں کا بھی پتہ نہیں کہ وہ کون کون تھے…؟ شاید یہ وہی لوگ ہیں جن کے پیارے آج بھی سرینگر سمیت سارے مقبوضہ کشمیر کے شہروں میں ٹکریں مارتے نظر آتے ہیں کہ انہیں بھارتی فوج اٹھا کر لے گئی اور پھر ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں…؟ کبھی وہ دوبارہ اپنے پیاروں سے ملیں گے بھی کہ نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں ایسی خواتین ہیں کہ جنہیں ”آدھی بیوائیں” کا نام دیا گیا ہے کیونکہ ان کے سروں کے تاج جب اٹھا لئے گئے تو آج تک پھر پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں ہیں…؟ اب یہ خواتین کہیں انتظار کی سولی پر لٹکی ہیں تو کہیں موت سے ہمکنار ہو رہی ہیں۔ دنیا کو سمجھ نہیں آ رہی کہ انہیں اب اپنے مستقبل کے حوالے سے کیا رائے دی جائے…؟ کشمیریوں نے قربانیوں کی انتہا کر دی… بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تاریخ ہی پلٹ دی تو بے جا نہ ہو گا۔ آج وہ جس کھلے پنجرے میں قید ہیں، وہ تو واقعی دنیا کی ایک انوکھی ترین تاریخ ہے کہ اتنے محدود علاقے میں اتنی بڑی فوجی تعیناتی اور اتنا طویل عرصہ… وہم و گمان سے باہر ہے… کشمیری تو آزادی کے میرٹ پر پورا اتر رہے ہیں بلکہ پورا اتر چکے ہیں۔ بس معاملہ یہاں آ کر اٹکا ہوا ہے کہ ان کا جو وکیل بنا تھا، وہ اول روز سے یہ طے نہیں کر سکا کہ اس نے اپنے مؤکل کے حوالے سے عدالت میں مؤقف کیا پیش کرنا ہے…؟ جب عدالت میں وکیل ہی بار بار مؤقف بدل رہا ہو تو وہ عدالت جو پہلے ہی بے ایمان و غدار ہو تو انصاف کی توقع کیا رہ جاتی ہے۔ویسے تو کشمیر کے اول معرکے میں بانی پاکستان نے اپنے مؤقف کا فیصلہ اس وقت سنا دیا تھا کہ جب انہوں نے اپنی مسلح افواج کے سربراہ جنرل گریسی کو بھارت کے مقابلے میں کشمیر میں فوج داخل کرنے کا حکم جاری کیا تھا جسے جنرل گریسی نے تو ماننے سے انکار کر دیا تھا لیکن بانی پاکستان محمد علی جناح کی دلی و ذاتی رائے تو کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف کیا ہے۔ اس کے بعد نہرو پاکستان کے رضاکار مجاہدین اور قبائلی لشکروں کی فتوحات کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جا پہنچا تھا کہ پاکستان کو کشمیر پر قبضے سے روکا جائے۔ اقوام متحدہ پہنچ کر یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح کا بن چکا تھا۔ 1949ء میں باقاعدہ جنگ بندی ہوئی اور پھر اس علاقے میں پاکستان و بھارت کے مابین سیز فائر لائن تشکیل پائی۔ 1949ء سے 1956ء تک سلامتی کونسل اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے طریقہ کار تلاش کرتی رہی۔ اس مقصد کیلئے اقوام متحدہ کے وفود کشمیر کے دونوں حصوں کا دورہ بھی کرتے رہے۔ اس عرصے میں سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر 133مرتبہ زیر بحث آیا۔ قراردادیں پاس، مسودوں میں ترامیم و اضافہ ہوتا ، کمیشن بنتے اور ٹوٹتے رہے۔ پاکستان ہر تجویز اور رپورٹ تسلیم کرتا رہا لیکن بھارت ہر اس تجویز کو رد کرتا رہا، جس سے جنگ بندی سے پیدا ہونے والی خاموشی ٹوٹنے اور کوئی اگلا قدم اٹھنے کا خطرہ پیدا ہوتا۔ برطانیہ نے تو تقسیم ہند کے وقت سارا خزانہ، ساری صنعت و حرفت، سارا اسلحہ اور ایمونیشن بھارت کو دے دیا تھا اور ان کا گمان یہی تھا کہ پاکستان کو جس طرح بھارت کے ساتھ تنازعات اور مسائلستان کی دلدل میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ان حالات میں وہ چند سال نہیں نکال سکے گا اور ایک بار پھر متحدہ ہندوستان خود بخود تشکیل پا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا اور مجبور و مقہور پاکستان ایسا تناور درخت بن رہا تھا کہ جو سب کیلئے حیران و پریشان کن تھا۔ 1965ء میں پاکستان نے ناکام آپریشن جبرالٹر شروع کیا۔ یہ آپریشن شروع کرانے میں ذوالفقار علی بھٹو کا بنیادی کردار تھا کیونکہ بھٹو ایوب کو اقتدار سے الگ کر کے خود حکومت سنبھالنے کے خواہش مند تھے۔ اس کا اظہار انہوں نے لندن میں ایک نامور سوشلسٹ پاکستانی شخصیت طارق علی کے اس سوال کہ ”آپ نے ایوب خان کو 1965ء کی جنگ میں کیوں دھکیلا تھا؟” کے جواب میں یوں کہا تھا کہ ”مجھے بتائو، اس بڈھے سے جان چھڑانے کا اور کیا طریقہ تھا…؟” بھٹو کا مقصد تو یہ تھا کہ اب پاکستانی فوج جیت کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ چین سے جنگ کے بعد ساری دنیا نے بھارتی فوج کو اس قدر مضبوط کیا کہ اب مقابلہ نہیں ہو گا بلکہ پاکستانی فوج کومار پڑے گی اور فوجی حکومت سے جان چھوٹے گی اور اقتدار میرے قبضے میں ہو گا۔ بہرحال جنگ ہوئی اور پھر معاہدہ تاشقند… جس میں ضامن روس بنا اور یوں مسئلہ کشمیر عالمی فورم سے اتر کر دو ملکوں کا باہمی مسئلہ قرار پایا اور روس اس کا ضامن… لیکن کمال دیکھئے کہ 1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو 1974ء کے شملہ معاہدہ میں کشمیر کی سیزفائر لائن کو کنٹرول لائن سے بدل کر اسے بین الاقوامی سرحد سے محض ایک قدم کے فاصلے پر کر دیا گیا اور شملہ معاہدہ میں روس بھی نکل گیا۔ یوں یہ مسئلہ محض دو ملکوں کا باہمی سرحدی تنازعہ قرار پایا۔ عینی گواہ کہتے ہیں کہ بھٹو نے شملہ معاہدہ کے وقت اندرا گاندھی سے کہا تھا کہ کنٹرول لائن اصل میں بین الاقوامی سرحد ہی ہے لیکن یہ لکھ کر نہیں دے سکتا کیونکہ اس طرح تو میری عوام میرا ”جنازہ” نکال دے گی۔ اس کا عملی اظہار انہوں نے 1974ء کے دورئہ مظفر آباد میں اپنے خطاب میں یوں کیا تھا کہ ”کشمیریو! کب تک دو پہاڑیوں کے درمیان لٹکے رہوں گے، مجھے یہاں گورنر ہائوس کی جگہ دو” یوں بھٹو نے آزاد کشمیر کو پانچواں صوبہ بنانے کی بھرپور کوشش کی جو بالآخر ناکام ہوئی۔

روس شکست کے بعد جنرل ضیاء الحق نے تحریک آزادی شروع کروائی، معاملہ آگے چلا لیکن ہمیشہ کی طرح بعد کی کوئی حکومت یہ طے نہ کر سکی کہ اب کشمیر پر بھارت کے یک نکاتی مؤقف کہ ”کشمیر پر ہر صورت قابض رہنا ہے” کے مقابلے میں ان کا مؤقف کیا ہو گا؟ 1998ء میں ایٹمی دھماکے ہوئے اور پھر اٹل بہاری واجپائی کی پاکستان آمد اور معاہدہ لاہور… معاہدہ لاہور میں بھی سب سے زیادہ زور ”شملہ معاہدہ پر اس کی روح کے مطابق عمل” پر دیا گیا لیکن اتنا ہوا کہ بھارت نے کشمیر کو متنازعہ اور حل طلب مسئلہ تسلیم کر لیا لیکن جب معرکہ کارگل پیش آیا اور پھر نوازشریف پرویز مشرف کا شکار بنے تو پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال کر کشمیر پر رہی سہی کسر نکالتے ہوئے مؤقف بدل بدل کر نت نئے فارمولے پیش کرنا شروع کر دیئے بلکہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے باہر نکل کر باہم حل کرنے کی بھی پیشکش کر ڈالی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر اپنے فورم سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جسے دوبارہ بڑی مشکل سے اقوام متحدہ کے کباڑ خانے میں داخل کرایا گیا۔ کمال دیکھئے کہ آج پاکستان سکیورٹی کونسل کا رکن ہے اور اس کا صدر بھی لیکن وہ مسئلہ کشمیر تو پیش نہیں کرتا البتہ امریکہ کے ڈرون حملوں کو قانونی حیثیت دینے کی عالمی قرارداد کی منظوری پاکستانی صدر مسعود خان کے دستخط سے ہوتی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ محدود منظوری ہے لیکن بنیاد تو رکھ دی گئی ہے اور وہ بھی پاکستان کے ہاتھوں سے… یعنی یہ ہے کشمیریوں کے وکیل کا حال اور تاریخ… بھارت کی تہاڑ جیل میں پھانسی چڑھ کر مقبول بٹ نے جس کشمیری قوم کو آزادی کے راستے پر چلایا تھا اس نے بھارت سے ٹکر میں قربانیوں کی حدیں عبور کر کے رکھ دیں۔ کشمیریو ںنے بہادری و اولولعزمی کی وہ داستانیں رقم کیں کہ دنیا عش عش کر اٹھی… گوریلا جنگ کے وہ دائو پیچ کھیلے کہ ایک عالم میں مثال بن گئے۔ ہزارہا کشمیری بیٹے 14ہزار سے 16ہزار فٹ بلند برفانی چوٹیوں اور خونخوار جانوروں سے بھرے جنگلات میں سالہا سال جڑی بوٹیاں کھا کر ویرانوں میں اپنے لاشے پھنکوا کر ایک مشعل روشن کر گئے۔ اس مزاحمت کاری میں عورتیں، بچے اور بوڑھے بھی پیچھے نہ رہے… لیکن لکیر کے دوسری طرف کیا حالات رہے…؟ آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ 5فروری آیا تو مجھے کئی روز سے 11اگست 2008ء کا وہ دن یاد آ رہا ہے کہ جب مسلسل بھارتی محاصرے سے ستائے لاکھوں کشمیری اپنی ہزاروں گاڑیوں پر پھل اور سبزیاں لادے ”تیری منڈی میری منڈی… راولپنڈی، راولپنڈی” کے نعرے لگاتے آزاد کشمیر کی طرف بڑھ رہے تھے تو ان پر بھارتی فورسز نے بے پناہ فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں موقع پر60کشمیری شہید، سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ شہداء میں ممتاز رہنما شیخ عبدالعزیز بھی شامل تھے لیکن لکیر کے دوسری جانب سوائے جماعة الدعوة و جماعت اسلامی کے چند سو کارکنان اور تھوڑے کشمیری لوگوں کے اور کوئی ان کے درد پر مرہم رکھنے کے لئے کھڑا نہ تھا…راولپنڈی بھی خاموش تھا اور اسلام آباد بھی… بلکہ سارا پاکستان بھی…
آخر کیوں؟یہ سوال آج بھی جواب چاہتا ہے۔

Ali Imran Shaheen
Ali Imran Shaheen

تحریر : علی عمران شاہین

Share this:
Tags:
firing forces Freedom Kashmiri people struggle timeless آزادی جدوجہد فائرنگ فورسز قوم کشمیری لازوال
Kashmir Protest
Previous Post پاکستان کی بقا۔۔ آزادی کشمیر میں
Next Post کوہاٹ اسپورٹس شاہ فیصل ٹائون کے عہدیداروں کا چنائو
Football Tournament

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close