
کراچی (جیوڈیسک) پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں گرفتار ایم کیو ایم کے سابق ایم پی اے رہا، ندیم ہاشمی کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں ملے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹمشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سابق ایم پی اے ندیم ہاشمی کیخلاف ٹھوس ثبوت نہیں ملے جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔
واضع رہے کہ سابق رکن سندھ اسمبلی ندیم ہاشمی کو تھانہ پیر آباد پولیس نے نارتھ ناظم آباد بلاک ایچ سے ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ ندیم ہاشمی کے خلاف 2 پولیس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سرکار کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ 302، انسداد دہشتگردی کی دفعہ 7 اور سرکاری اسلحہ چھیننے کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔
گزشتہ منگل کے روز کراچی کے علاقے پاپوش نگر پولیس سٹیشن کی حدود میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ندیم ہاشمی سمیت ایم کیو ایم کے دیگر ذمہ داروں کی بلا جواز گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔
ایم کیو ایم نے ندیم ہاشمی کی گرفتاری کے بعد صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لئے اسمبلی سیکرٹریٹ میں ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فیصل سبز واری کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ کے سابق رکنِ اسمبلی کو من گھڑت مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔
