Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

علم ہی تو عمل پر اکساتا ہے

October 4, 2017 1 1 min read
Knowledge
Knowledge
Knowledge

تحریر : شیخ خالد زاہد
دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو نامعلوم افراد سے منسوب کیا جاتا ہے۔ درحقیقت دہشت گرد بھی ہماری ہی طرح کہ ہوتے ہیں اور اپنی کاروائی کر کے ہم میں ہی گھل مل جاتے ہیں شائد امدادی کاروائیوں میں بھی حصہ لیتے ہوں۔ کسی بھی ذی روح کی پیدائش سے لے کر ابتک ہونے والی آخری ایجاد تک ہر شے اپنے کسی خاص مقصد کیلئے دنیا کی زینت بنتی ہے یا بنائی جاتی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ ہر شے بشمول ابن آدم کے اس حقیقت کو نہیں پہچان پاتی کہ اسکے وجود کی کیا اہمیت ہے اور وہ کہاں اور کس طرح دنیا کے لئے باعث کارامد ہے ۔ دنیا میں موجود انسانوں کو ہی لے لیجئے کتنے لوگ جو قدرت کی گئی تخلیقات پر سے تحقیق کر کے پردہ اٹھا رہے ہیں جو ایجادات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ کائنات میں قدرت نے کوئی بھی شے پوشیدہ نہیں رکھی بلکہ ہماری عقل پر پردہ ڈال رکھا ہے جو صرف اور صرف علم کی بدولت ہی اٹھتا ہے۔ شائد یہی وجہ رہی ہوگی کہ جتنے بھی اللہ کے مقرب بندے گزرے ہیں بلا تفریقِ مذہب سب کے سب علم کی روشن دلیلیں تھے۔ یہ علم ہی تو ہے جو عمل کیلئے اکساتہ ہے ۔علم کسی کی جاگیر نہیں اور نا ہی کوئی اس سے باز رکھ سکتا ہے اور نا ہی علم کو قید کرسکتا ہے ۔ علم کا مطلب ہے جاننا اور جو جانے گا وہ طلب بھی کرے گا یعنی دنیا میں پیدا ہونے والے بچے کو فطری طور پر یہ سکھایا ہواہوتا ہے کہ روگے نہیں تو ماں تمھاری طرف دھیان نہیں دے اور دھیان نہیں دے گی تو غذا کا انتظام کیسے ہوگااور غذا نا ملی تو پھر کیا ہوگا۔

غذا نا ملی تو کیا ہوگا یہ بات ہم سب جانتے ہیں بندہ مرجائے گا۔ جی نہیں ! ایسا نہیں ہوگا کہ بندہ مر جائے گا بلکہ بندہ چھننے اور مارنے کیلئے نکل کھڑا ہوجائیگا اور اپنی بھوک مٹانے کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کو بھوکا کرنے کی ٹھان لے گا وہ یہ ٹھیکا اٹھا لے گا کہ ساری دنیا کو بھوک کا احساس دلا دے ،جس سے اسکی بھوک تو مر جائے گی مگر کتنے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جائینگی۔ پھر اس بھوکے کا علم صرف اور صرف اپنی بھوک مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہوجائیگا۔دنیا کے ترقی یافتہ ملک کے ایک علم سے آراستہ شخص نے ایٹم بم بنایا جوکہ دنیا کی ابتک کی ایجادات میں سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک چیز ہے۔ یہ کیسا علم تھا جس پر عمل کرنے سے اس بم کی ایجاد ہوئی اور اس کی بربادی اور ہولناکی کا مظاہرہ دیکھنے کے شوق میں اسکا استعمال بھی کرڈالاجس کے نتیجے میں انسانیت افسردہ ہوکر رہ گئی۔ کسی بھی تحریک یا تنظیم کے پیچھے کچھ نا کچھ محرکات ہوتے ہیں یا پھر زیادتیاں ہوتی ہیں جو انسانوں کے ایک گروہ کو ایسا کرنے پر اکساتی ہیں۔ اگر کوئی دہشت گردی کیلئے نکل رہا ہے تو کیا وہ یونہی منہ اٹھا کر نہیں نکل پڑتا ہے ؟ وہ ساری جانکاری جمع کرتا ہے وہ جگہ کا بارہا تجزیہ کرتا ہے ہجوم دیکھتا ہے حفاظتی انتظامات دیکھتا ہے ۔

کسی زمانے میں علم میں روح ہوتی تھی یعنی علم حاصل کرنے والا روحانیت سے بھی شناسائی کرلیتا تھا اور قدرت کی بنائی ہوئی کائنات پر قدرت کا مشکور ہوا جاتا تھا۔ وقت بدلتا چلا گیا انسان علم کی بدولت تقسیم ہوتا چلا گیا ۔ علم نے انسان کو طاقت عطاء کی انسان طاقتور ہوگیا اور اپنے سے کمزور پر حکومت کرنے کے خواب دیکھنے لگا اور پھر حکومت شروع کردی طاقتور نے کمزور پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے شروع کردئیے اور اسے علم سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوششوں میں مصروف ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آگیا اب وہ یہ بھی بھول چکا ہے کہ اسکا ظلم صرف علم سے دور رکھنا تھا مگر علم پر قید نہیں لگائی جاسکتی علم بھی ہوا اور پانی کیطرح پھیلتا ہے کسی بھی طرح اپنے چاہنے والے تک پہنچ جاتا ہے یا پھر چاہنے والا علم تک رسائی پاہی لیتا ہے۔ علم نے تہذیب یافتہ بنایا تو علم والوں نے ہی بد تہذیبی کی حدیں پار کرکے دیکھائیں۔

دنیا میں آج علم کے سمندر بہہ رہے ہیں دنیا علم کی معراج کو چھو رہی ہے اور جب سے دنیا ایک گلوبل ویلیج بنی ہے تو سماجی میڈیا پر تو علم والوں کے کیا کہنے ہر زبان ، ہر مذہب اور ہر خظے سے علم رکھنے والے ایک جگہ پر آگئے ہیں۔ مگر علم صرف ع ل م ہی رہے گیا ہے ۔ آج علم بے عمل ہوچکا ہے ہر چیز کی فقط مادی حیثیت ہے مگر روحانیت کا تصور آہستہ آہستہ کرہ عرض سے غائب ہونا شروع ہوچکا ہے جس کی وجہ سے علم کسی جسم کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اچھے کپڑے ، بڑے بڑے محل نما گھر اور بڑی بڑی گاڑیاں علم والوں کی نشانیاں بن گئیں ہیں۔ جبکہ علم والے تو خاک نشینی کو ترجیح دیا کرتے تھے وہ فرش سے زیادہ عرش پر دھیان دیا کرتے تھے۔

جن لوگوں کی باتیں آج صدیاں گزرجانے کے بعد بھی جوں کی توں زندہ ہیں اور ہمارے معمولات میں ایسے دہرائی جاتی ہیں جیسے کہ کوئی آج کی بات ہو۔ یہ باتیں ان لوگوں کی ہیں جنہوں نے علم کتابوں سے نہیں قدرت کی بچھائی کائنات سے سیکھا تھا انکے لئے کسی پھول کا کھلنا بھی علم تھا کسی پرندے کا چہجہانا بھی علم تھا غرض یہ کہ کسی فرد کا ناراض ہونا بھی علم تھا اور خوش ہونا بھی علم تھا انکے علم کا ہر راستہ انہیں قدرت سے ملتا تھا اور انہیں قدرت کے قریب تر لے جاتا تھا۔ ان لوگوں کی کہی ہوئی باتیں آج کی ہزار باتوں کا مجموعہ ہوا کرتی تھیں۔

لوگوں نے جہاں علم کو حاصل کرکے اس سے دولت کمانے کے نئے نئے ذرائع دریافت کئے بلکہ آج تو علم کو بھی بطور کاروبار پیش کیا جا رہا ہے۔ علم کو نظاموں میں تقسیم کردیا گیا ہے کیمبرج نظام ہے تو امریکی نظام ہے ، اسلامی نظام ہے اور معلوم نہیں کون کون سے نام رکھ کر بلکل کسی بیچنے والی شے کی طرح ۔ آج علم حیثیت کے مطابق بھی دستیاب ہے سرکاری اسکولوں میں وہ بچے علم حاصل کرنے جاتے ہیں جنہیں علم کے حصول کا کوئی خاص شوق نہیں ہے بس اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا کچھ وقت نکل جاتاہے مگر ایک وقت کے بعد یہ سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے جس کی بنیاد پر اساتذہ کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہاں یعنی سرکاری اسکولوں میں آنے والے بچوں میں کتنے واقعی علم حاصل کرنے کا شوق رکھتے ہیں اور کتنے وقت گزارنے یہاں آتے ہیں۔ ہمیں سنبھلنا ہوگا احتیاط سے قدم آگے بڑھانے ہونگے آج یہ ضروری نہیں ہے کہ ہمیں اس بے ہنگم دنیا کا حصہ بنے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ سب کچھ آگے بڑھ رہا ہے جو نہیں بڑھ رہا اسے گھسیٹ کر آگے بڑھایا جارہا ہے۔ پڑھے لکھے جاہلوں سے دنیا اٹی پڑی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ کتابیں بڑھ رہی ہیں اور ان کتابوں سے علم چھلک رہے مگر اب جب کے دنیا اپنے انجام کی جانب بہت تیزی سے دوڑ رہی ہے تو علم سے لبریز کتابوں سے الفاظ چھلک رہے ہیں اور بے توقیر ہوئے جا رہے ہیں۔ اب کچھ بھی کر لو لفظوں کو پڑھنا تو سیکھا اور سکھایا جاسکتا ہے مگر وہ علم جو عمل پر اکساتا تھا اب نہیں لایا جاسکتا کیونکہ وہ تو جس کی دین تھا اس نے اٹھا لیا ہے۔

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
knowledge Sh. Khalid Zahid terrorism World دنیا دہشت گردی علم عمل
Rotary Club Mubarak School
Previous Post دنیا سے پولیو کے خاتمہ میں اساتذہ، والدین اور خواتین کا کردار بڑا اہم ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم
Next Post بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں
Dr. Aafia Siddiqui

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close