
برسلز : کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری رہنمائووں اورکارکنوں کی مسلسل نظربندی اورحراست کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے برسلزسے جاری ہونے والے اپنے ایک میں کہاہے کہ بھارت گرفتاریوں اور کشمیریوں نوجوانوں اور طلباء کے خلاف دیگر کاروائیوں کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دباناچاہتاہے۔
افسوس کی بات ہے کہ کشمیری نوجوان اورطلبہ مقبوضہ کشمیرکے علاوہ بھارت کے دیگرشہروں میں بھی محفوظ نہیں۔ یہ واضح ہے کہ کشمیری عوام کے خلاف تادیبی کاروائیاں جاری ہیں اور مقبوضہ وادی کاہرروز کشمیری نوجوانوں اورعورتوں اور بچوں پر مظالم کا شاہد ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھارت کشمیریوں کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچنے سے روک نہیں سکتا۔ چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے بھارت کے اس غیرانسانی رویے کی بھی مذمت کی جس کے تحت بھارت کشمیریوں کے بھرپورمطالبے کے باوجودکشمیری سپوتوں افضل گرو اور مقبول بٹ کے اجساد خاکی جو بھارت کی تہاڑجیل میں مدفون ہیں، کشمیریوں کو واپس نہیں کررہا۔
انھوں نے حریت رہنمائووں میرواعظ عمرفاروق، سیدعلی گیلانی، محمد یاسین ملک، شبیراحمدشاہ اور دیگرکارکنوں کی مسلسل نظربندی کی مذمت کی اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ۔ انھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیرکی بگھڑتی ہوئی صورتحال پر توجہ دے اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے۔
علی رضاسید نے کہاکہ کشمیری گذشتہ چھ عشروںسے اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔بھارت نے ان کے اس حق کودبارکھا ہے اور آٹھ لاکھ بھارتی فوج وادی پر قابض ہے۔
بھارت نے مقبوضہ وادی میں کالے قوانین نافذ کررکھے ہیں اور آئے دن پرامن اورنہتے کشمیریوں عوام خاص طورپربچے اورنوجوان بھارتی بربریت کانشانہ بن رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیناچاہیے۔
