Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

خوشبوئے بدایوں! سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء

April 29, 2013 0 1 min read
Khawaja Nizamuddin Aulia
Khawaja Nizamuddin Aulia
Khawaja Nizamuddin Aulia

سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے والد ماجد کا نامِ گرامی حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمة ہے۔ ان کا آبائی وطن بخارا تھا۔سید احمد بخاری علیہ الرحمة اپنے والد حضرت سید علی بخاری کے ہمراہ ٦٠٧ہجری میں بعد عہدِ شمس الدین التمش بدایوں تشریف لائے۔ اپنے والد کے مرید و خلیفہ بھی تھے۔ بدایوں میں محلہ پتنگی ٹیلہ (قاضی ٹولہ) میں سکونت اختیار کیا۔ آپ بدایوں میں جامع مسجد شمسی کے پہلے امام مقرر ہوئے۔ سلطان التمش نے بدایوں کے منصب قضا پر فائز کیا۔شب و روز یادِ الٰہی میں مشغولیت ان کا شیوہ تھا۔

آپ کی شاد ی خانہ آبادی بی بی زلیخا بنت سید عرب بخاری سے انجام پائی۔ جن کے بطن سے اپنے وقت کے امام الاولیاء محبوبِ الٰہی سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء تولد ہوئے۔ والدین نے آپ کا نام محمدرکھا تھا۔ ابھی آپ کمسن طالب علم ہی تھے، ایک روز آپ نے دروازے پر مولانا نظام الدین کی صدا سنی۔ آپ نے باہر آکر دیکھا تو باہر ایک شخص کھڑا تھا اس نے آپ کو سلام عرض کیا۔ السلام علیکم! مولانا نظام الدین ، اُسی دن سے آپ کی مشہوری نظام الدین کے نام سے ہوئی۔آپ پانچ سال کے ہوئے تو والد ماجدکا وصال ہوگیا۔

سیدہ بی بی زلیخا جو خدا شناس و پارسا خاتون تھیں ۔وہ اپنی بیوگی اور لختِ جگر کی یتیمی سے بے حد پریشان ودل گرفتہ نہ ہوئیں بلکہ انہوں نے نامساعدحالات سے مردانہ وار مقابلہ کیا اور فرزند دل بند کی تعلیم و تربیت کے لیے کمر بستہ رہیں اور ان کی پرورش اور دینی و اخلاقی تربیت مادرانہ شفقت اور پدرانہ حوصلہ مندی کے ساتھ کرنے لگیں۔آپ کی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ زلیخا رحمة اللہ علیہما نے انتہائی افلاس اور تنگ دستی کے باوجود سوت کاٹ کاٹ کر اپنے ہونہار فرزند کی تعلیم و تربیت پر مکمل توجہ مرکوز رکھی۔ حضرت اس قدر ذہین تھے کہ سولہ سال کی عمرِ شریف میں بدایوں شریف کے اکابر علماء و مشائخ سے دستار فضیلت حاصل کر لی ۔

سولہ سال ہی کی عمر تک سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء بدایوں میں رہے آپ نے چھ پارے کلام اللہ کے اور تین کتابیں (ایک کو پڑھا اور دو سنیں) اور چھ باب عوارف کے شیخ الشیوخ عالم حضرت گنج شکر بابا فرید الدین ) سے پڑھے۔تمہید ابو شکور سالمی بھی ساری کی ساری شیخ الشیوخ سے پڑھی۔ چنانچہ تمہید ابو شکور سالمی کے درس دینے کا اجازت نامہ پایا۔ آپ کی دینی، فقہی اور دنیاوی علوم میں قبولیت اور لیاقت کا یہ عالم تھا کہ اس دورکے بڑے بڑے علماء اور اہلِ شریعت و طریقت آپ کے معترف تھے۔ ثقہ راویوں سے منقول ہے کہ جن دنوں سلطان المشائخ اجودھن میں شیخ الشیوخ فرید الدین گنج شکر کے پاس رہتے تھے۔

Syed Mohammad bin Mubarak
Syed Mohammad bin Mubarak

آپ کے کپڑے بڑے میلے کچیلے رہتے تھے ، وجہ یہ تھی کہ صابن نہ تھا کہ انہیں دھویا جائے ایک دن سید محمد بن مبارک کرمانی کی دادی محترمہ نے سلطان المشائخ سے کہا،بھائی تمہارے کپڑے بہت میلے کچیلے ہیں، پھٹ بھی گئے ہیں اگر مجھے دے دو تو میں انہیں دھو دوں اور ان میں پیوند بھی لگا دوں۔سلطان المشائخ نے بڑی نرمی سے معذرت چاہی، دادی محترمہ نے معذرت قبول نہ کی اور اپنی چادر پیش کی کہ اسے پہن لو جب تک میں کپڑے دھو لوں۔سلطان المشائخ نے ایسے ہی کیا۔ دادی محترمہ نے کپڑے دھو کر اور پیوند لگا کر شیخ المشائخ کو کپڑے واپس دیئے۔

شیخ المشائخ نے بڑی معذرت کرتے ہوئے، احسان مندی کا اظہار کرتے ہوئے وہ کپڑے پہنے۔سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ بچپن میں مولانا علائو الدین سے بدایوں میں ”اصول ” پڑھ رہا تھا ۔ ایک دن مسجد میں خلوت و تنہائی تھی وہ سبق پڑھ رہا تھا اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ سنہری سانپ پھنکار تے ہوئے جا رہے ہیں۔ میں تجربتاً دیکھنے لگا ان سب میں سے آخری سانپ چھوٹا سا تھا، وہ جا رہا تھا میں نے کہا کہ ذرا دیکھوں تو سہی کہ یہ کیا ہے میں نے اس چھوٹے سانپ پر اپنی پگڑی ڈال دی۔میں نے دیکھا کہ پگڑی کے نیچے سنہری تنکوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، میں نے پگڑی اٹھائی اور ان سنہری تنکوں کو وہیں چھوڑ دیا۔

بدایوں شریف سے والدہ محترمہ اور ہمشیرہ صاحبہ کے ساتھ دہلی تشریف لائے اوریہاں سلطان التمش کے اتالیق مولانا شمس الملک سے علومِ ظاہری کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بہت جلد آپ کا شمار دہلی کے ممتاز علماء و فضلاء میں ہونے لگا۔شروع دن سے ہی آپ کے قلب مبارک میں عشق الٰہی کی شمع روشن تھی تمام تر دینی و دنیوی علوم میں اوج و کمال کے باوجود علم حقیقت و معرفت کی تشنگی ان کے دل کو بیقرار رکھتی تھی۔انہیں روحانی و باطنی رہنمائی کے لیے ایک مرشد کامل کی شدید آرزو تھی۔

ایک بارجب آپ قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمة اللہ علیہ کے آستانۂ عالیہ کی زیارت کے لیے وہاں حاضر ہوئے تو ایک مجذوب بزرگ سے ملاقات ہوئی آپ نے ان سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں دہلی شہرکے قاضی کے عہدہ پر فائزکر دے۔ان بزرگ نے فرمایا: نظام الدین تم قاضی بنناچاہتے ہو،میں تو تمہیں دینِ حق کے بادشاہ کے عہدہ پر فائز دیکھ رہا ہوں، تم وہ بلند مرتبہ حاصل کروگے کہ ساری دنیا تم سے فیض پائے گی۔حضرت کے دوست مرّبی اور اپنے وقت کے بہت بڑے ولیٔ کامل حضرت خواجہ نجیب الدین متوکل رحمة اللہ علیہ نے بھی حضرت محبوبِ الٰہی سے فرمایا تھا تم قاضی نہیں ایسی چیز بنوگے جسے میں جانتا ہوں۔

Khawaja Farid-Ud-Din
Khawaja Farid-Ud-Din

پھر ایک دن ابو بکر نامی ایک قوال ملتان سے دہلی پہنچا اس کی زبانی حضرت خواجہ فرید الدین چشتی گنج شکر رحمة اللہ علیہ کے حالات و کمالات سنے آپ کے دل میں بابا صاحب سے محبت کا ایسا شدید غائبانہ جذبہ بیدار ہواکہ آپ ان کی زیارت کے لیے بیقرارہوگئے اور اجودھن پہنچ کرحضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ علیہ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔حضرت صاحب علیہ الرحمہ کو بہ تائید ربانی حضرت نظام الدین کی روحانی خصوصیات کا علم تھا۔یقیناً حضرت بابا فرید رحمة اللہ علیہ اس امر سے آگاہ تھے کہ نظام الدین کو اللہ پاک نے کس عظیم خدمت کے لیے تیارکیاہے۔حضرت نظام الدین بابا صاحب کے مریدبنے اور چند ماہ اپنے مرشد برحق کی خدمت میں رہ کر ان کی خصوصی توجہ اور محبت حاصل کی۔

خرقۂ خلافت کی نعمت سے سرفراز ہوکر دہلی واپس تشریف لائے اور مرشد کے فرمان کے مطابق مجاہدہ اور عبادات میں مشغول ہوکرمادی دنیاکی تمام خواہشات اور آرزئوں سے الگ ہوگئے۔آپ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے عبادات اور سخت ریاضت کے ساتھ ساتھ آپ درس و ہدایت اور اصلاح معاشرہ کے فرائض بھی انجام دیتے ۔دلی شہر میں آپ کی عظمت و بزرگی کا زبردست شہرہ ہوا اور ہر وقت ارادتمندوں کا ہجوم آپ کے ارد گرد رہنے لگا اس سے آپ کی عبادات میں خلل پڑنے لگا، آبادی سے گھبرا کر آپ ایک دن موضع حوض رانی کے قریب ایک باغ میں جاکر یادِ الٰہی میں مشغول ہوئے۔وہاں آپ نے دعا مانگی اے اللہ! میں اپنے اختیار سے کہیں رہنا نہیں چاہتاجہاں تیری رضا ہو مجھے وہاں رکھ۔

غیب سے آواز آئی غیاث پور تیری جگہ ہے (واللہ علم) یہ وہی جگہ ہے جہاں آج بستی حضرت نظام الدین اولیاء کا شاندارعلاقہ ہے۔اس وقت غیاث پور ایک چھوٹا ساگائوں تھا اللہ کے حکم سے آپ نے اس متبرک مقام پر قیام فرمایا۔یہ سلطان غیاث الدین بلبن کا دورِ حکومت تھا۔سلطان آپ کا بے حد معتقد تھااس نے آپ سے شہر میں قیام فرمانے کی درخواست کی لیکن آپ نے منع فرما دیاآپ کی برکتوں سے وہ ویران مقام بہت جلد زیارت گاہ خلق بنا۔دور دور سے ہزاروں لوگ آپ کی دعائوں سے اپنی زندگی سنوارنے کے لیے حاضر ہونے لگے یہاں تک کہ آپ کی محبوبیت اور آپ کی ہر دلعزیزی کی شہرت ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں تک پھیلتی گئی۔

Hazrat Mehboob Elahi
Hazrat Mehboob Elahi

حضرت محبوبِ الٰہی کی بارگاہ میں غریبوں اور عام انسانوں کو ہروقت حاضرہونے کی عام اجازت تھی لیکن بڑے بڑے بادشاہوں کی یہ جرأت نہیں تھی کہ آپ کے حضور حاضر ہو سکیں۔ آپ بادشاہوں کے قرب کو پسند نہیں فرماتے تھے، سلطان بلبن جو ایک دیندار حکمراں اور آپ کا معتقد تھا اسے بھی بالمشافہ ملاقات و زیارت کا شرف کبھی حاصل نہیں ہوا۔ بادشاہ معز الدین کیقباد نے تو صرف اس وجہ سے حضرت کی خانقاہ کے قریب اپنا محل تعمیر کروایا تھا کہ اسی طرح حضرت کا قرب حاصل ہوتا رہے۔ سلطان کی بنوائی ہوئی جامع مسجد میں آپ نماز کے لیے تشریف لیجاتے تھے لیکن سلطان سے ملاقات کے لیے آپ اس کے محل میں کبھی نہیں گئے۔

سلطان جلال الدین خلجی بھی آپ کا بے حد عقیدت مند تھا لیکن اسے بھی کبھی ملاقات کا موقع آپ نے عطا نہیں فرمایا۔ اپنے زمانہ کے طاقتور شہنشاہ ٔ ہند علاء الدین خلجی نے آپ کی زیارت کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔ جب علاء الدین کا تیسرا بیٹا مبارک شاہ اپنے ولی عہد بھائی خضر خان کو قتل کرکے بادشاہ بن گیا تو حضرت کو بے حد صدمہ پہنچا کیونکہ شہزادہ حضرت کا جان و دل سے معتقد اور مرید تھا ۔مبارک شاہ کو حضرت سے اس لیے بھی عداوت تھی۔چونکہ آپ کی خانقاہ میں محافل سماع کا اہتمام ہوتارہتا تھا اس لیے آپ کی بزرگی اور مقوبلیت سے حسد کرنے لگا۔ علماء دربار سماع کے جواز و عدم جواز کی بحث کیاکرتے تھے اور حضرت سے اختلاف کے بہانے بادشاہ کے کان بھرتے رہتے تھے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دنیا پرست اور دربار دار علماء کی حضرت محبوبِ الٰہی جیسی علمی و روحانی شخصیت کے سامنے عوام میں کوئی قدروقیمت نہ رہ گئی تھی۔مبارک شاہ حضرت سے عداوت پر اتر آیا اس نے حکم جاری کیاکہ فلاں تاریخ کو نظام الدین شاہی دربار میں حاضر ہوکر ان پر عائد علماء کے الزمات کا جواب دیں۔محبوبِ الٰہی کی روحانی طاقت کا کرشمہ ایسا ہواکہ اسی تاریخ کو مبارک شاہ کو اس کے معتمد غلام خسرو خان نے قتل کر دیا اور جب غیاث الدین تغلق ہندوستان کا بادشاہ بنا تو اس نے سماع کے جواز اور عدم جواز پر ایک مذہبی مجلس منعقد کی تاکہ اس میں حضرت کے مخالف درباری علماء کے ذریعے حضرت کو نیچا دکھایا جا سکے۔

حضرت محبوبِ الٰہی اس مجلس میں تشریف لے گئے اور مباحثے میں علماء کے الزامات کا ایسا مدلل جواب دیاکہ وہ جید علماء جو اپنے علم و فضل پر نازاں تھے لاجواب ہو کر رہ گئے۔بادشاہ غیاث الدین تغلق کو بے حد شرمندگی ہوئی چونکہ اسی دن اسے ایک مہم میں بنگال روانہ ہونا تھا اس لیے اس نے جاتے جاتے حکم جاری کیا۔حضرت اس کے دہلی واپس آنے سے پہلے شہر چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں آپ کے عقیدتمندوں کو اس شاہی حکم نے رنجیدہ و فکر مند کر دیالیکن آپ نے اس کو کوئی اہمیت نہ دی اور بدستور اپنے معمولات میں مشغول رہے لیکن اس وقت آپ کے مریدوں اور حلقہ بگوشوں کی پریشانی حد سے بڑھ گئی جب بادشاہ دہلی کے قریب پہنچ کر ایک عارضی محل میں مقیم ہواکیونکہ اگلے دن اس کے فاتحانہ استقبال کے لیے شہر میں زبردست تیاریاں کی جا رہی تھیں۔

Ghias-Ud-Din Tughluq
Ghias-Ud-Din Tughluq

عقیدت مندوں کے فکر و تشویش ظاہر کرنے پر آپ نے فرمایا” ہنوز دلی دور است” اسی رات کو وہ عارضی محل گر پڑا اور بادشاہ ملبے میں دب کر مر گیا۔ آپ کا تاریخی جملہ ہنوز دلی دور است ضرب المثل بن گیا۔حضرت کا دستر خوان اتنا وسیع تھاکہ خانقاہ کے لنگر میں روزانہ ہزاروں لوگوں کا کھانا تیار ہوتا تھا۔آپ کے دستر خوان سے لاتعداد مہمان و مسافر طرح طرح کی نعمتوں سے سیر ہوتے تھے لیکن خود محبوبِ الٰہی ہمیشہ روزے سے رہتے تھے اور تھوڑی سی جو کی روٹی اور اُبلی ہوئی سبزی کے علاوہ کبھی کسی عمدہ غذا کو ہاتھ نہیں لگایا، فرماتے تھے دنیا میں ہزاروں غریبوں کو کھانا میسر نہیں ایسے میں انہیں کیسے بھول سکتا ہوں۔

آپ کے دربار سے غریبوں محتاجوں اور ضرورتمندوں کی دل کھول کر امداد کی جاتی تھی لنگر خانہ کا خرچ شاہانہ تھا لوگ حیران تھے کہ یہ سب کیسے چلتا ہے آپ کی عظمت و محبوبیت حاسدین کے لیے بہت تکلیف دہ تھی وہ لوگ حیران رہتے کہ محبوبِ الٰہی کو آخر اتنی دولت ملتی کہاں سے ہے۔مریدوں اور عقیدتمندوں کے نذرانوں سے تو اتنا بڑا نظا م چلنے سے رہا۔ حضرت نے خانقاہ میں پانی کے مناسب انتظام کے لیے باولی تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ تعمیر کا کام تیزی سے شروع ہوگیا، پانی نکل چکا تھا اب تعمیر کا کام چل رہا تھا ہزاروں مزدور کاریگر کام کر رہے تھے دن کو ہی نہیں رات کے وقت بھی بڑے بڑے چراغوں کی روشنی میں کام چلتارہتا تھا ایک دن بادشاہ نے شہر میں تیل کے تاجروں کو حکم دیاکہ خانقاہ میں تیل کی فراہمی نہ کی جائے ورنہ سخت سزا دی جائے گی۔

بازار سے تیل ملنا بند ہوا تو رات کو روشنی کا انتظام نہ ہونے کے باعث کام روکنے کی نوبت آگئی آپ کے علم میں یہ بات لائی گئی تو آپ نے باولی کا پانی چراغوں میں بھر کر روشنی کر دی۔پانی آپ کی کرامت سے تیل بن گیا۔ حضرت شیخ نصیر الدین روشن چراغ سے روایت ہے کہ اپنے وقت کے بڑے عالم دین اور بزرگ حضرت قاضی کاشانی ایک دن اس قدر بیمار ہوگئے کہ ان کے بچنے کی کوئی امید باقی نہی رہی حضرت محبوبِ الٰہی کو جب ان کی بیماری کا علم ہوا توعیادت کے لیے تشریف لے گئے اس وقت قاضی صاحب بیہوش تھے۔

لیکن حضرت کے قریب آتے ہی ہوش میں آگئے اور اس طرح صحت مند نظر آنے لگے کہ جیسے کبھی بیمارہی نہ ہوئے ہوں، حالانکہ تھوڑی دیر پہلے تک ان کی ایسی حالت تھی کہ لوگ ان کی زندگی سے مایوس ہو چکے تھے۔ حضرت محبوبِ الٰہی کے ایک مرید نے آپ کی دعوت کی اس موقع پر محفلِ سماع کے لیے مرید نے کچھ قوالوں کو بلوایا جب محفلِ سماع شروع ہوگئی تو بہت سے لوگ وہاں جمع ہوگئے، کھانے کا وقت ہوا تو میزبان کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ کھانا تو صرف چند مہمانوں کے لیے ہی تیار کرایا تھا جب کہ وہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے ان میں زیادہ تر اصحاب حضرت محبوبِ الٰہی کے ارادتمند اور خود میزبان کے شناسا تھے۔

Hazrat Mehboob Elahi
Hazrat Mehboob Elahi

حضرت نے میزبان کی پریشانی محسوس کر لی اور فرمایا سب کے ہاتھ دھلوائو اور دستر خوان پر کھانے کے لیے بیٹھائو۔ پھر اپنے دستِ مبارک سے آپ نے روٹیوں کے چار چار ٹکرے کرکے دستر خوان پر رکھے اور فرمایا ”بسم اللّٰہ !”اس کے بعد پورے مجمع نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا پھر بھی بہت سا بچ گیا۔قصبہ سرساوا میں ایک رئیس اور عالم و فاضل شخص کے مکان میں ایک دن اچانک آگ گئی جس میں ان کی جاگیر کے کاغذات اور شاہی فرمان بھی جل گئے۔ اس حادثہ سے پریشان ہوکر وہ صاحب بھاگے بھاگے دہلی آئے تاکہ جاگیر کی دوسری سند اور شاہی فرمان حاصل کر سکے۔ بڑی کوششوں سے انہیں مطلوبہ فرمان اور کاغذات مل گئے۔

وہ خوشی خوشی دربار سے واپس آئے لیکن راستے میں دہلی کی بھیڑ بھاڑ میں ان کے کاغذات کہیں گر گئے ،بہت تلاش کیا لیکن کوئی پتہ نہیں چلا۔بیحد رنجیدہ ہوئے کہ کسی نے انہیں حضرت محبوبِ الٰہی کی خدمت میں حاضر ہونے کا مشورہ دیا۔رنج و غم میں ڈوبے ہوئے وہ صاحب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مدد کی درخواست کی۔حضرت نے ان کی روداد سن کر خوشدلی سے فرمایا: مولانا کچھ نذر کرو تو تمہارا کام کروں، مولانا نے عرض کیا جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ قبول فرمائیں، حضرت نے فرمایا اس کی ضرورت نہیں البتہ بازار جاکر تھوڑا حلوہ خرید لائو ۔ مولانا دوڑے ہوئے خانقاہ کے قریب ایک حلوائی کی دکان پر پہنچے اور کچھ درہم اسے دے کر کہا۔

Allah
Allah

اس رقم کا جتنا حلوہ آتا ہو دے دو۔ حلوائی نے حلوہ تولا اور پاس پڑے ردی کاغذوں سے
ایک کاغذ اٹھایا اور چاہاکہ اسے پھاڑ کر حلوہ باندھ دے کہ انہوں نے دیکھاکہ وہ انہیں کاکاغذ تھاجسے وہ کھو چکے تھے۔فوراً وہ کاغذ اور حلوہ لے کر حضرت رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جوشِ عقیدت سے قدم بوس ہوگئے۔آپ کی زبان مبارک سے جو بات نکل جاتی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے پوری ہو جاتی تھی۔سیر الاولیاء میں مذکور ہے کہ آپ کے یہاں حاضری دینے والے اکثر مٹھائیاں وغیرہ خرید کر تحفتاً آپ کی نذر کیا کرتے تھے ۔ایک بار اس ارادے سے کچھ لوگ آپ کے پاس آ رہے تھے، ان میں ایک مولانا صاحب بھی تھے، انہوں نے سوچا کہ سب کے تحفے ایک ساتھ پیش ہوں گے، شیخ صاحب کا خادم سب کو اٹھا کر لے جائے گا، ایسے میں کسی کو کیا پتہ چلے گاکہ کس نے کیا دیا۔

انہوں نے ایک پڑیا میں بہت سی خاک بھر کر ہاتھ میں لے لی۔جب یہ لوگ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سب نے اپنے اپنے تحفے ایک جگہ رکھ دیے۔خادم یہ سب اٹھاکر لے جانے لگا تو آپ نے مولانا صاحب کی پڑیا کی طرف اشارہ کرکے فرمایا۔اسے چھوڑ کر سب لے جائو، اس میں میری آنکھوں کا سرمہ ہے۔مولانا صاحب نے توبہ کی اور مریدوں کے حلقے میں شامل ہوگئے۔ حضرت محبوبِ الٰہی کے روحانی دربار میں ہندو مسلم کے درمیان کوئی تفریق نہیں تھی، آپ کا فیضانِ رحمت سب کے لیے تھا۔

آپ ساری عمر تجر و بسر کی، اس کی وجہ یہ تھی کہ آج دنیا داری سے لے کر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور لوگوں کو صراطِ مستقیم دکھانے اور ان کے دکھ درد دور کرنے میں مشغول رہے، البتہ آپنے اپنی ہمشیرہ کی اولاد کو اولاد کی طرح پالا اور تعلیم و تربیت سے آراستہ فرمایا۔آپ نے اپنی زندگی میں ہی حضرت خواجہ نصیر الدین روشن چراغ کو اپنا خلیفہ نامزد فرما دیا تھا۔انہیں خرقۂ خلافت اور تبرکات تفویض فرماتے ہوئے فرمایا تھاکہ تمہیں ان ہی لوگوں میں رہنا اور لوگوں کے ظلم و ستم کو برداشت کرنا ہے۔آپ نے ١٨ ربیع الثانی ٧٢٥ ہجری بمطابق ١٣٢٤ عیسویں کو اس دارِ فانی سے پردہ فرمایا۔
تحریر : محمد جاوید اقبال صدیقی

Share this:
Election Comping
Previous Post ایم کیو ایم ملک سے استحصال ،بھوک و افلاس اور بدامنی کا خاتمہ کرکے عوامی کو بااختیار اور خوشحال معاشرہ فراہم کرے گی نشاط ضیاء قادری
Next Post موضع پل ہوڑی میں چوہدری رحمن نصیر مرالہ اور چوہدری نعیم رضا کوٹلہ کے حق میں ایک عظیم الشان اکٹھ کیا گیا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close