
لاہور (جیوڈیسک) لاہور میں کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے اصل ملزمان اب تک گرفتار نہ ہوسکے۔ گنگا رام اورسروسز اسپتال کے ایم ایس اور فرانزک ڈیپارٹمنٹ کے اجلاس کے دوران ڈی این اے رپورٹ کا موازنہ کیا گیا۔
لاہور کے علاقے مغلوپورہ کی رہائشی کمسن بچی سے زیادتی کے ملزمان تک پولیس نہ پہنچ سکی۔ پولیس نے واقعے کے بعد مختلف علاقوں میں چھاپے مارے اور گرفتاریاں بھی کیں۔ پر اصل ملزمان پولیس کی گرفت میں نہ آسکے۔ اسپتال میں بچی کو چھوڑکر جانے والے شخص کا سی سی ٹی وی فوٹیج سے خاکہ بھی جاری کیا گیا پر پولیس کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
گنگا رام اورسروسز اسپتال کے ایم ایس اورفرانزک ڈیپارٹمنٹ نے اجلاس کے دوران ڈی این اے رپورٹ کا موازنہ کیا اور بچی کے علاج اور مختلف اوقات میں کیے جانے والے ٹیسٹ کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا۔ گزشتہ روز پولیس نے متاثرہ بچی کا بیان قلمبند کیا۔
متاثرہ بچی کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے قلفی اور پاپڑ کھلائے جس کے بعد تین افراد اسے ایک سفید گاڑی میں بٹھا کر خالی مکان میں لے گئے۔ بچی کے مطابق مکان میں جانے کے بعد وہ بے ہوش ہو گئی اوراسے نہیں معلوم کہ وہاں کیا ہوا۔
