Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

لاہور دل میں، تو قصور آنکھوں میں بسا ہے

December 12, 2017 0 1 min read
Lahore
Lahore
Lahore

تحریر : حسیب اعجاز عاشر
بات علم و فنون کی ہو یا مذہب و روحانیت کی یا چاہے سیاست و معاشرت، ادب و صحافت، تہذیب و ثقافت،فن و سیاست، صنعت و معیشت کی،یا کسی بھی شعبہ ہائے زندگی کی بات ہی کیوں نہ ہوہر میدان میں قصور کی زرخیز مٹی نے شہرہ آفاق ناموں کو جنم دیا ۔مگرجب میںنے اپنے بزرگوں کے ہمراہ اِس شہرمیں آنا شروع کیا تو اتنا چھوٹا تھا کہ بابا بلھے شاہ ،بابا کامل شاہ،پیر جہانیاں جیسی برگزیدہ ہستیوں سے بھی نا واقف تھا،اور محمد علی ظہوری قصوری،عبداللہ عبدالقادر خویشگی’ اقبال قیصر’ اقبال بخاری’ مقصود حسنی ، میڈم نورجہاں ،بھولو پہلوان، گاما پہلوان، یوسف خان،ضیاء محی الدین، مصور آزر روبی،قوال مہر علی اور شیر علی قوال،راجہ ٹوڈرمل سمیت ڈاکٹر معین قریشی’ خورشید محمود قصوری جیسی قصور کی نامور شخصیات بھی میرے علم میں نہ تھی۔اور نہ ہی میں یہاں کے فالودے، اندردسوں، بھلے پکوڑیوں، دہی قلچوں، مسالے دار مچھلی جیسے لذیز ترین روایتی کھانوں اور اِس شہر کے تاریخی پس منظر سے مکمل واقف تھا ،قصور کے لئے میرا پہلا اور آخری حوالہ صرف بابا نواز ش علی(مرحوم)تھے ،اِن روحانی ہستی سے ہمارے خاندان کا اپنائیت اور خلوص کا گہرا رشتہ تھا۔یہاں پاکستان کے طول و عرض سے آئے عقیدت مندوں کو اِن کے علم و عمل سے فیض یاب ہوتے دیکھتا رہتا،اِنکا دست ِ شفقت ومحبت میری ابتدائی علمی اور عملی زندگی میں قدم قدم میرے سر پرشجر سایہ دار بن کر رہے۔

بابا جی جہان فانی سے رخصت کیا ہوئے ہم جیسوں کیلئے یہ شہرویران کر گئے۔مگر ایک موڑ پر اِسی شہر میں رشتہ ازدواج میں بندھا اور یہاں سے تعلق مزید گہرا ہوتاچلا گیا۔ازدواجی زندگی کے محدود دو ڈھائی سال کے عرصہ میں قصور شہر کے دامن میں سمٹے بڑے شہروں کی سی چمک دمک،رونقوں، رنگا رنگی، اور چھوٹے شہروں والی بناوٹ کے بغیر سادگی،الفت کو قریب سے پرکھنے کا حقیقی موقع ملا۔ اللہ کے امر کہیے کہ کو تاہیوں نے اِس نازک رشتے کوآگے بڑھنے نہ دیا۔ مگرقصور کی مٹی میں وہ ملنساری وہ مٹھاس وہ چاہت، وہ محبت کچھ ایسی رچی بسی ہیں کہ ایک بار اس پر قدم رکھنے والے کو اِس سے جدا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ،اور یوں اِنہیں گلیوں بازاروں میں پروان چڑھتے اپنے آٹھ سالہ لخت جگر محمد بن عاشرکے بہانے آج میں بابا بلھے شاہ کی نگری سے پہلے سے بھی زیادہ ایسا مضبوط جڑ چکا ہوں کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ لاہور میرے دل میں رچا ہے تو قصور آنکھوں میں بسا۔۔

مصروفیات و مجبوریوں اور مصلحتوں کی زنجیروں سے بچ بچا کر قصور جانے کا خوشگوار ماحول استوار ہو جائے تو اِس کے سوا مجھے اور کیا چاہے۔تو کیسے ممکن تھا کہ ایک تو پاکستان رائیٹرزونگ کے زیراہتمام اور دوسرا یہ قصور میں منعقدہ تقریب کا دعوت نامہ میرے لئے باعثِ مسرت نہ ہوتا ۔ مذہبی، ثقافتی اور روحانی روایات کا امین شہرقصور کی لازوال ادبی تاریخ بھی ہے جس میں یہاں کی ادبی تنظیموں کا ادبی شخصیات کی آبیاری اور تربیت میں ناقابل فراموش کردار رہا ۔مگر یہ پہلی مثال ہے کہ ایک دوسرے شہر کی ادبی تنظیم قصور کی سرزمین پرپاکستان بھر سے اہل علم و دانش کو ایک پلیٹ فورم پراکٹھا کر کے ادب کا ایک نئا چراغ روشن اورایک نئی تاریخ رقم کر رہی تھی۔ونگ کے چیئرمین مرزا یسیٰن بیگ بھائی تقریب کی تیاریوں کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ رابطے میں رہے،مختلف پہلوئوں میں مشورے بھی لئے،اُنہیں اہمیت دے کر عزت سے بھی نوازا۔خیر ۔۔وقت کی برق رفتاری اُس دن کو لے آئی جسکا کئی ہفتوں سے انتظار تھا ،دوست ندیم نے مغلپورہ سٹاپ پر ڈراپ کیا اور بذریعہ رکشہ دوستوں سے طے شدہ وقت 8:30 بجے، طے شدہ مقام مسلم ٹائون سٹاپ پر آن پہنچا,الطاف احمد چند لمحہ پہلے ہی پہنچے جبکہ زاہد حسن صاحب 8:00سے ہمارے منتظر تھے،اسحاق جیلانی پچھلے بیس پچیس منٹس سے مسلسل سات منٹ میں پہنچے کا کہہ کرمنظر سے غائب تھے۔ہمیں قصور پہنچانے والے افتخار صاحب سے سب ایک گھنٹے سے رابطہ کرنے کی کوشش میں تھے مگر ماجال ہے کہ موصوف کا فون آٹو میسج پہ یہی کہہ دیتا ”اپنا بندوبست کر لو میں سو رہا ہو”، زاہد حسن صاحب کا انتظار کرنا ہمارے لئے ناقابل قبول تھا تو ہم تینوں نے لوکل ٹرانسپورٹ پر ہی سفر جاری رکھنے میں غنیمت و عزت جانا۔جنرل ہسپتال تک ہی پہنچے تھے کہ اسحاق جیلانی کے سات منٹ پورے ہوئے اور پُرشکوہ فون آیا کہ بھائی صاحب کہاں ہو؟ حسن اتفاق خان اور جیلانی صاحبان ایک ساتھ ہی مقررہ جگہ پر پہنچے ،تھوڑی سی ہلکی پھلکی ادبی تکرار کے بعد ہم غیر ادبی حرکت کرتے ہوئے بس سے اُتر گئے ،جہاں چند منٹوں میں دوست پہنچ گئے،گلے شکوے مکاتے گپ شپ کرتے سفر منزل کی جانب گامزن ہوا، دورانِ سفر میرے بیٹے کا بھی ذکر ہوا،دوست جانتے تھے کہ میں ملاقات کیلئے بے تاب، پُرامید اور پُرجوش ہوں ،وہ بھی دیدار کا اشتیاق رکھتے تھے ۔مصافحت طے ہوئی اور ہم ڈسٹرکٹ کونسل ہال قصور پہنچ گئے جہاںمہمانان کی آمد کا سلسلہ جوبن پر تھا۔ برائون چیک دار ٹو پیس،سفید شرٹ اور لال ٹائی میں ملبوس میں سامنے کھڑے مرزامحمد یسین بیگ بھائی کا ہستا مسکراتا چہرہ یہ واضح پیغام دے رہاتھا کہ عوامی دلچسپی عروج پر ہے اوروہ سازشیں دم توڑ گئیںہیں جو چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک منظم انداز میں برسرِپیکار تھیں کہ عوام عدمِ دلچسپی کا مظاہر ہ کر کے اس تقریب کو ناکام بنائے ،افسوس کہ اِس میں اپنے قلم قبیلہ کے کچھ معتبر نام بھی شامل تھے۔ تقریب اپنے وقت سے چند منٹ پہلے شروع ہو گئی ،ہال کی کوئی نشست خالی نہ تھی نئے آنے والوں نے ایک طرف کھڑے رہ کر پروگرام کا حصہ بننے کو واپس جانے پر فوقیت دی۔ وہ دلجمعی سے اختتام تک ہال میں موجود رہے۔

محفل کا آغاز ہوا جاتا تھا،فرحان اللہ کوکب نے تلاوت قرآنِ پاک کی سعادت حاصل کی اور خوش بخت سامعین کے روح و قلب کو سکون بخشا، میاں جمیل احمد نے اپنی دل سوزآواز میں آپۖ کے حضور نعت کا نذرانہ عقیدت بہ اوصافِ وشان ِ کمالی پیش کر کے فضا کو پُرنور کر دیا۔مرزا یسین بیگ نے اپنی جداگانہ انداوبیان کی آمیزش لئے پُرکشش نظامت سے شخصیات کو اُنکے مقام کے مطابق عزت و تکریم سے نواز اور سبھی کو اپنا مداح کر لیا۔سٹیج پر مجیب الرحمن شامی، حافظ شفیق الرحمن،رائے محمد خان ناصر، سجاد جہانیہ اوراقبال خاں منج بحثیت مہمانان خصوصی جلوہ افروز تھے۔ جبکہ وائس چیئرمین ضلع کونسل ملک اعجاز احمد خان بھی سٹیج کی رونق میں خوب اضافہ کر رہے تھے۔

مقررین جن میں بالترتیب زاہد حسن ادیب و شاعر،اقبال خاں منج،سنیئر کالم نگار(نئی بات)،اسسٹنٹ پروفیسر رضیہ رحمان،سجاد جہانیہ، سینئر کالم نگار،ڈائریکٹر ملتان آرٹ کونسل،ڈاکٹر اختر عظمیٰ ادیب،حافظ شفیق الرحمن، نامور صحافی ،کالم نگار (نئی بات) اور مجیب الرحمن شامی، سینئرتجزیہ نگار،چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان شامل تھے ،نے اپنے اظہار خیال میں ادب و صحافت کے حوالے سے لکھاریوں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور کامیاب تقریب کے انعقاد پر مرزا یسیٰن بیگ، قاری عبداللہ اور ملک شہباز کی کاوشوں کو سراہا اور اُس امید کا بھی اظہار کیا ایسی تقاریب کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

قلمی خدمات کے اعتراف میں منتخب لکھاریوں کو شیلڈز پیش کی گئیں۔راقم الحروف کو حافظ شفیق الرٰحمن صاحب کے بدست مبارک ”حافظ شفیق الرحمن ایوارڈ برائے فروغ صحافت” مرزا یسیٰن بیگ بھائی کے اِن انمول الفاظ ”محبتوں کے سفیر”سے نواز گیاجو میرے لئے اعزازت سے بڑھ کر اعزاز تھا ۔ تقریب میں ملک محمد شہباز،انور زاہد، الطاف احمد،قاری عبداللہ،مجید احمد جائی، ،عبدالعزیز،مہرسلطان محمود،ڈاکٹر تنویر، ظفر اقبال ظفر،ولی محمد عاظمی،ندیم نظر،بشارت احمد، ڈاکٹر تنویر،الطاف چیمہ،شہزاد اسلم راجہ،ظفر اقبال ظفر، ایم ایم علی،حافظ محمد زاہد،عقیل احمد خان، خان فہد خان، عبدالصمد مظفر سمیت سبھی اپنے خوش مزاج بے غرض دوست موجود تھے جن سے ملاقات میرے لئے ہمیشہ ہی مسرت کا ساماں ہوتی ہے۔

تقریب اختتام پذیر ہوچکی ،شرکاء خوشگوار لمحات کی حسین یادوں کو اپنے دامن میں سمیٹے گھروں کا رُخ کرنے لگے۔،مگر ہمارا لاہور سے قصور تک سفر ابھی جاری تھا بیٹے سے ملاقات کی تڑپ اور خلش بھی باقی تھی دورانِ تقریب بیٹے کے ذمہ داران کا موصول نہ کئے گئے میرے فون کے جواب کا میں تاحال منتظر تھا۔اسحاق جیلانی اپنے منظور نظر دوست ندیم نظر کے ہمراہ بلھے شاہ کے مزار کو ہو لئے،راقم الحروف، افتخار خان،زاہد حسن صاحب اورالطاف احمد کیساتھ علیحدہ سے بابا بلھے شاہ کی دربار پر حاضری کیلئے پہنچا،ہم نے ظہرین دربار سے کے احاطے میں موجود مسجد میں ادا کی،اسحاق جیلانی یہاں بھی اپنا دامن بجاتے ندیم نظر کے ہمراہ کسی کام کا کہہ کر رفو چکر ہوگئے۔عثمان کوٹ نئا بازار میں شیخ آصف فولادہ کی دُکان سے فالودہ کا مزہ لیا گیا،افتخار کے رابطہ پرلکھاری دوست شیخ عثمان یوسف قصوری بھی یہی تشریف لے آئے،جن کی میزبانی کی پُرخلوص پُرزور پیشکش الطاف احمد کی فراغی دلی کے سامنے ناکام رہی۔جیلانی دوست کا پُرشکوہ فون ”ارے بھائی کہاں ہو؟ کیا کررہے ہو؟”،وہی جو آپ ہمیں چھوڑ کر کرنے چلے گئے۔۔

اِس برجستہ جواب پرسبھی ایسا مسکرائے کہ محفل کشت زعفران بن گئی۔اُنہیں تھوڑی دیر میں پہنچنے کا دلاسہ دیا اور عثمان کے ہمراہ شہر کے مقبول عثمان کوٹ میں واقع نفیس فولادہ شاپ میں آ پہنچے۔۔”واہ دُکان ہے کہ شیش محل”الطاف کا پہلی بارقصور آنا تھا اور وہ ہر منظر ہرلمحے سے بہت محظوظ ہورہا تھا۔افتخار نے اپنی فیملی کیلئے ایک گڑوی پارسل لی اور پھر زاہد حسن صاحب کی گھر کیلئے اندرسے لینے کی خواہش نے عثمان نے لمبے قدم اُٹھائے، وہ موصوف آگے آگے اور ہم پیچھے پیچھے،شام قصور کی دہلیز پر دستک دے رہی تھی،ہم کبھی گھڑی کو دیکھیں او ر کبھی تنگ گلیوں میں دائیں بائیں ہوتے عثمان اور زاہد حسن صاحب کی رفتار کو۔آخر کارنویاں گلیاں کے معروف شیخ غلام محی الدین طاہر سویٹ سے اندرسے لینے پہنچ گئے ۔جیلانی دوست کے پُرشکوہ فون کا سلسلہ جاری تھا”ارے بھائی کدھر رہ گئے”ہمار نئا پلان سُن کر چونک گئے”تو مجھے کیوں اپنے سے الگ کر دیا؟”میرے اِس جواب کہ آپ نے ہمیں چھوڑا ہم نے نہیں،وہ ماننے کو تیار نہیں تھے بہرحال اُنکے پاس مزید انتظار کے سوا کوئی چارا نہ تھا۔اِن راستوں سے گزرتے ہوئے میں نے کئی بار سوچا کہ ایک بارپھر ملاقات کیلئے فون کر لیا جائے ،پھر ناجانے کیوں رُک سا گیا؟۔ہم گنجان ترین گلیوں میں لمحہ بھر کیلئے تھوڑا سا کیا ہٹے کہ راستہ بھٹک گئے۔پھر فون پر گاڑی تک پہنچنا طے پایا مگر چند گز کی دوری پر ہی الحافظ میموریز سویٹس کے دُکان پر اپنے قافلے کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جو عثمان کے قریبی عزیز شیخ طارق وحید صاحب کی پُرتکلف مہمان نوازی کے نرغے میں تھے۔ہم بھی لذیز ترین گرما گرم گاجر حلوہ سے لطف اندوز ہوئے ،سب معاملات سے فارغ ہو کر سبھی کو جیلانی دوست کی یاد ستانے لگی ، جنہیں کیری ڈبے کے دروازے کھڑکیاں کھول کر تھکا ہوا چہرہ لیا آدھے لیٹے آدھے بیٹھے آدھے سوئے آدھے جاگے کی سی کیفیت میں پایا گیا ۔شکوہ پھر وہی کہ ”مجھے کیوں نکالا’؟’۔اُن کو سمجھانے کی تمام کاوشیں بے سود تھیں کہ بھیا آپ بتائیے کہ ”ہمیں کیوں چھوڑا؟”،طنزو مزاح کے ایک دوسرے پر خوب نشتر کسے گئے ،سڑک کنارے دوستوں کے ساتھ ایک یادرگار سیلفی بنائی،مہمان نوازی پر عثمان قصوری سے اظہار تشکر کیساتھ واپسی کا فیصلہ کیا۔اِس خوشی کیساتھ کہ قصور سے اپنے دوستوں عثمان قصوری، ملک شہباز، مہر سلطان محمود،بلال ساجد،عبدالمتین، محمد اکمل تصور،عبدالولی ،عقیل خان اورملک سلمان سمیت کئی دیگر کی دوستی نے رشتہ اور مضبوط رکردیا ہے یہ افسوس بھی تھا کہ یہ سفر میرے لئے ادھورا ہی رہ گیا۔ ،شام گئے ابھی فون کرنا بھی نامعقول تھا،بہت دیر ہوچکی تھی،ایسے ہی جیسے دوستوں سے رابطہ رکھنے میں،فون کا جواب دینے میں ، پیغامات پڑھنے میں،تحریر لکھنے لکھانے میں،کوئی فیصلے کرنے میں، پھر اُس پر عمل کرنے میں،میں اکثر دیر کردیتا ہوں ۔ منیر نیاز ی نے یہ کلام شاید مجھ جیسوں کیلئے ہی ہے۔

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

Haseeb Ejaz Aashir
Haseeb Ejaz Aashir

تحریر : حسیب اعجاز عاشر

Share this:
Tags:
Haseeb Ejaz Aashir health Heart journalism knowledge lahore politics دل سیاست صحافت علم لاہور معاشرت معیشت
Jerusalem
Previous Post مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس
Next Post بیت المقدس کا تاریخی پس منظر اورحمیت
Donald Trump

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close