
لاہور (جیوڈیسک) اردو کے نامور فکاہیہ شاعر ضیا الحق قاسمی کو مداحوں سے بچھڑے سات برس بیت گئے، مگر ان کی سدابہار شاعری آج بھی لبوں پہ مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔
اردو کی مزاحیہ شاعری ضیا الحق قاسمی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ تلخ سے تلخ خیال کو جب ضیا الحق قاسمی نے شعر میں ڈھالا تو سننے والا مسکرائے بغیر نہ رہ پایا۔ روزمرہ مسائل کا ذکر منہ کا ذائقہ کڑوا کیے بغیر بیان کرنا ان کا خاصا رہا۔ ضیا الحق قاسمی نے چہروں پہ مسکراہٹیں بکھیرنے کا سفر شعری مجموعے “رگ ظرافت” سے شروع کیا اور پھر “ضیا پاشیاں، چھیڑخانیاں، گل فشانیاں اور ہرے بھرے زخم” تک یہ سفر جاری رہا۔
مزاحیہ شاعرکی شہرت پانے والے ضیا الحق قاسمی نے سنجیدہ شعر بھی کہے۔ ضیا الحق قاسمی مشاعرے سجانے میں بھی کمال رکھتے تھے، ان کی نظامت مشاعروں اور ادبی پروگراموں میں نئی جان ڈال دیتی تھی۔ سات برس گزرجانے کے باوجود بے شمار مداح ان کی یادوں اور شاعری کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔
