Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سرزمینِ بے آئین گلگت بلتستان کے عوام کی بدترین حالت عالمی برادری کہاں ہے؟

April 10, 2016April 10, 2016 0 1 min read
Gilgit Baltistan Poeple
Gilgit Baltistan Poeple
Gilgit Baltistan Poeple

تحریر: ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر
آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مجبور، مقہور، مظلوم اور معتوب لوگ کس علاقے میں رہتے ہیں تو میں بلا تردد اور بلا تامل یہ کہوں گی کہ یہ بدقسمت علاقہ گلگت بلتستان کا ہے۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں، وسیع گلیشئیرز، خوبصورت وادیوں، پرسکون جھیلوں ، گنگناتی آبشاروں اور بل کھاتے دریاؤں کی بدولت اس علاقے کو قدرت نے جو حسن و رعنائی اور یکتا و جداگانہ قدرتی مناظر عطا کیئے ہیں وہ اس کرہ ارض پر اپنی مثال آپ ہیں۔

مگر قارئین کرام شاید اس بات کو جان کر حیران ہوں گے کہ آج اکیسویں صدی میں بھی قدرتی وسائلُ سے مالا مال دنیا کے اس نایاب ارضی نگینے کے باشندے شہری سہولیات، سیاسی آزادیوں، آئینی اختیارات اور بنیادی انسانی حقوق کے اعتبار سے دنیا بھر میں پست ترین سطح پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

جب 1947 میں برطانیہ نے اپنے عالمی سیاسی عزائم اور قومی اقتصادی مقاصد کے پیشِ نظر برصغیر کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ علاقے ریاست جموں، کشمیر و تبتہا کا آئینی حصہ تھے اور غیر جانبدار تاریخ دان اس امر پر متفق ہیں کہ ان علاقوں کے عوام کو پاکستان اور بھارت کے ساتھ الحاق کی نسبت مہاراجہ ہری سنگھ کا ایک آزاد و خودمختار ملک کا منصوبہ زیادہ پسند تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان بن جانے کے بعد بھی ان علاقوں میں مہاراجہ حکومت کے خلاف کوئی تحریک موجود نہ تھی ۔ پھر جب 22 اکتوبر 1947 کو پاکستان نے اپنے فوجی افسر میجر خورشید انور کی قیادت میں ریاست پر قبائلی جتھوں کے ذریعے حملہ کیا تو بھی ان علاقوں میں کسی قسم کی شورش پیدا نہ ہوئی ۔ تاہم جب 26 اکتوبر 1947 کو پاکستان کے ہاتھوں لاکھوں نہتے ریاستی شہریوں کے قتل کے تناظر میں مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست کو بچانے کی خاطر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تو گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت بغیر کسی بیرونی مدد کے ان علاقوں کو آزاد و خودمختار رکھنے کی غرض سے ریاستی حکومت کے الحاقِ بھارت کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کا تختہ الٹ کر یکم نومبر 1947 کو اپنی آزادی اور خودمختاری کا اعلان کر دیا۔

Gilgit Baltistan
Gilgit Baltistan

مگر برطانوی حکومت پہلے سے برصغیر کے حوالے سے ترجیحات کا تعین کر چکی تھی، چنانچہ برطانوی فوج کے گلگت میں موجود فوجی افسر میجر براون نے پاکستان کے ساتھ ساز باز کر کے 16 نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کی آزاد و خودمختار حیثیت ختم کر کے اس پر پاکستانی قبضہ کرا دیا۔ شروع میں بظاہر ان علاقوں کو آزادکشمیر کے ساتھ ملایا گیا مگر ڈیڑھ سال کے بعد پاکستان نے ان علاقوں کی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کی بے پناہ دولت کے باعث ان کا انتظام و انصرام اپنی براہ راست تحویل میں لے لیا ۔ اور اس مقصد کی خاطر 28 اپریل 1949 کو نام نہاد آزادکشمیر کے صدر سردار ابراہیم خان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا جس کے تحت حکومتِ آزادکشمیر نے بغیر کسی شرط کے انتظامی مشکلات کی آڑ میں ان علاقوں کو پاکستان کے حوالے کر دیا۔

پاکستان نے ان علاقوں پر اپنا قبضہ قائم کر کے یہاں کے باشندوں کو بدترین انتظامی، سیاسی اور آئینی نظام کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا۔ گزشتہ انہتر سال سے پاکستان نے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا ہے اور ظلمت و اندھیرنگری کا یہ راج ابھی جاری ہے۔ اگر چہ معاشی خوشحالی اور اقتصادی ترقی کے اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے غریب ترین اور انتہائی پسماندہ ممالک میں ہوتا ہے مگر ایٹمی صلاحیت، فوجی طاقت اور سامراجی فکر کے باعث آج کے پاکستان کا سیاسی کردار ایک توسیع پسند جارح ملک کا ہے اور بلاشبہ پاکستان خطے میں سامراج کا سب سے بڑا گماشتہ ہے۔

داخلی طور پر شہری زندگی میں اگر چہ پاکستان کے عوام کو ہسپتالوں میں دوائیاں دستیاب نہیں، لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، نوجوان بے روزگاری اور نیم بیروزگاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر بیرونی دنیا میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں اور امن و امان اور انصاف ناپید ہے مگر خارجہ پالیسی اور فوجی مداخلت کے باعث اس وقت پاکستان دنیا میں دہشت گردی برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔ بھارت، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور افریقی ممالک پاکستان کی اس سامراجیت اور فوجی دھونس کا خاص نشانہ ہیں۔

گلگت بلتستان کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ یہ خطہ آئینی اعتبار سے پاکستان کا حصہ نہیں ہے چنانچہ یہاں کے عوام پاکستان کے دہرے استحصال اور ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو عوام کو شہری اور سماجی زندگیوں میں جدید دنیا کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے اور عوام صحت و علاج معالجے، تعلیم و تدریس، مواصلات و ذرائع رسل و رسائل اور بنیادی سماجی اور اقتصادی ڈھانچے سے محروم ہیں تو دوسری جانب پاکستان کی فوجی اور سول نوکرشاہی عوام کا سماجی سکون اور معاشرتی تحفظ و استحکام اپنی سامراجیت نوازی کی بھینٹ چڑہا دیتی ہے ۔ یوں گلگت بلتستان کے عوام ریاستی جبرو استبداد، سیاسی استحصال اور سماجی ظلم کے پاٹوں میں پِس کر ایک سرزمینِ بے آئین میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

Law
Law

اس صورتحال کے باعث نہ صرف یہ کہ ریاستی ادارے آئے روز عوام پر جبر و استحصال کے پہاڑ توڑتے رہتے ہیں بلکہ اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف کوئی قانون ظلمت کا شکار عوام کو انصاف دینے کے کیلیئے بھی موجود نہیں ہے۔ انسانی تہذیب کے عروج اور انسانی حقوق کی شناخت و تحفظ کی اس اکیسویں صدی میں بھی گلگت بلتستان کے بے بس عوام ریاستی ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لیئے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ چلاس کے علاقے تھکداس کے نہتے عوام کی ملکیتی زمینوں کو جبری طور پر فوج کے سپرد کرنے کے گھاو ابھی بھرے نہیں ہیں کہ اب فوج اور پولیس بلڈوزر لے کر مکپونداس ہیراموش میں لوگوں کی ملکیتی زمینوں پر جبری قبضے کی خاطر چڑھ دوڑے ہیں۔

گلگت بلتستان کی آزادی کے معمار کرنل مرزا حسن خان کے ساتھ پاکستانی فوج اور ریاستی مشینری نے جو سلوک کیا تھا وہ گلگت بلتستان کے عوام قیامت تک نہیں بھول پائیں گے ۔ آج بھی کرنل مرزا حسن خان کے بیٹے کرنل وجاہت اور کرنل نادر ریاستی دہشت گردی کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں ۔ کامریڈ بابا جان اور لاتعداد سیاسی رہنما محض عوام کے سیاسی حقوق کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

الغرض گلگت بلتستان میں جو بھی سیاسی کارکن عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق کی جدوجہد کو منظم کرتا ہے اسے غداری اور دہشت گردی کے مقدمات میں پھنسا دیا جاتا ہے ۔ اس مقصد کی خاطر پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں قائم کر رکھی ہیں جن کے ذریعے عوام میں سیاسی بیداری پیدا کرنے اور انہیں اپنے بنیادی انسانی حقوق کا شعور دینے والے ہر سیاسی کارکن کو قید و بند کی سزائیں سنائی جاتی ہیں ۔ گلگت بلتستان پر اس ریاستی جبر کی داستان کا تازہ ترین باب عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے چئیرمین ڈاکٹر زمان اور ان کے سیاسی ساتھیوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے دہشت گردی، چوری اور ڈکیتی کے مقدمات کی کاروائی ہے ۔ اس کیس کی خاص بات ایک سات سالہ بچے زوہیب اللّہ کی مقدمے میں شمولیت ہے۔

یہ محض پاکستان کی سیاسی مخالفت میں گھڑی جانے والی کوئی داستان نہیں ہے ۔ یہ ایک زندہ حقیقت اور آج کے پاکستان کا ریاستی سچ ہے۔ سات سال کی عمر میں تو بچوں پر نماز بھی فرض نہیں ہوتی، سات سال کی عمر دنیا بھر کے تمام قوانین اور سارے مذاہب کی شریعت میں اپنی معصومیت اور طفولیت کے باعث ہر قسم کی سزا جزا سے مستثنیٰ ہے۔ مگر پاکستان کا گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ سلوک دیکھیئے کہ چوتھی جماعت کا طالبعلم سات سالہ بچہ زوہیب اللّہ بھی آج دہشت گردی، چوری اور ڈکیتی کے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیئے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔

Gilgit Baltistan Assembly
Gilgit Baltistan Assembly

یہ بچہ دراصل ان پانچ زخمی افراد میں شامل تھا جو گلگت بلتستان اسمبلی کے گزشتہ انتخابات کے دن عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے چئیرمین ڈاکٹر زمان (جو چلاس کے حلقے داریل سے اسمبلی انتخابات میں امیدوار تھے) کے آبائی پولنگ اسٹیشن سے حکومتی جماعت نون لیگ کے امیدوار کی طرف سے بیلٹ باکس اٹھا لیئے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹر زمان کے حامی افراد کے جلوس پر پولیس فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے ۔ پاکستان کا گلگت بلتستان کے ساتھ سلوک اس حقیقت سے آشکار ہوتا ہے کہ ڈاکٹر زمان کے سیاسی نظریات پر سیخ پا اسلام آباد حکومت نے ریاستی مشینری کو احکامات جاری کیئے کہ ڈاکٹر زمان اور انکے ساتھیوں کی آزاد خیالی کا سدِباب کیا جائے۔

چنانچہ ریاستی مشینری نے ڈاکٹر زمان کے اہم سیاسی کارکنان پر دہشت گردی، چوری اور ڈکیتی کے مقدمات درج کر کے انہیں مفرور قرار دے دیا اور مقدمات انسدادِدہشت گردی کی خصوصی عدالت میں منتقل کر دیئے ۔ مقدمات کا اندراج کرنے والے یہ سمجھتے تھے کہ جو افراد احتجاجی جلوس میں شریک تھے اور جو پولیس فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے ظاہر ہے وہ ڈاکٹر زمان کے سب سے زیادہ سرگرم سیاسی کارکنان ہیں ۔ اسی عام فہمی کی بنیاد پر ڈاکٹر زمان کے ساتھ ان کے اہم سیاسی کارکنان اور جلوس میں پولیس فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کے خلاف دہشت گردی کے جھوٹےمقدمات قائم کر دیئے گئے ۔ چونکہ مقدمات قائم کرنے والے واقعات رونما ہونے والے مقام سے سینکڑوں میل دور تھے اس لیئے جب تمام زخمی افراد پر مقدمات قائم کیئے گئے تو سات سالہ زخمی بچہ زوہیب اللّہ بھی ان مقدمات میں شامل کر لیا گیا ۔ مقدمات بنانے والے آقا اس حقیقت سے ناواقف تھے کہ زوہیب اللّہ کی عمر کیا ہے۔

چور کبھی نہ کبھی پکڑا ہی جاتا ہے ۔ قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے اور اللّہ تعالیٰ ظالموں اور سرکشوں کے خلاف دیانتدار اور مخلص لوگوں کی غیبی مدد کرتا ہے۔ ریاست کا منصوبہ یہ تھا کہ ڈاکٹر زمان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کر کے انہیں مفرور قرار دیا جائے تا کہ بعد ازاں ڈاکٹر زمان کو پولیس مقابلے کے ذریعے منظرِ عام سے ہٹایا جا سکے۔ یہ وہی فارمولا ہے جس کا حال ہی میں بلوچستان میں کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔ پاکستانی فوج نے بلوچستان کے قوم پرست سیاسی رہنما ڈاکٹر اللّہ نذر کو اسی ریاستی فارمولے کے تحت شہید کیا تھا۔ ابھی چند ہفتے قبل 12 جنوری کو بلوچستان میں قوم پرست رہنما ڈاکٹر منان کو بھی فوج نے انکی رہائش گاہ پر فائرنگ کر کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا تھا ۔ ڈاکٹر زمان کی طرح ڈاکٹر منان بھی پاک چین اقتصادی راہداری کے بہت بڑے مخالف تھے۔

Politics
Politics

سیاست پر نظر رکھنے والے افراد بخوبی سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر زمان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے کا واحد مقصد انہیں بلوچ قوم پرست رہنما ڈاکٹر منان کی طرح راستے سے ہٹانا ہے۔ مگر ڈاکٹر زمان کے مقدمے میں زوہیب اللّہ کی شمولیت نے اس سازش کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ میں بجا طور پر امید کرتی ہوں کہ دنیا بھر میں موجود عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے کارکنان ڈاکٹر زمان کے خلاف پاکستان کی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ مگر میں ساتھ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بالخصوص اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے اپیل کروں گی کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستان کی بدترین ریاستی دہشتگردی اور ظلم و جبر سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

میں حیران ہوں کہ کس طرح آج اکیسویں صدی میں بھی دنیا کے نقشے پر گلگت بلتستان جیسا خطہ موجود ہے جہاں قابض ملک عوام کے ساتھ قرونِ اولیٰ کے دور جیسے مظالم ڈھا رھا ہے اور مواصلاتی سیاروں اور سوشل میڈیا کے اس زمانے میں بھی عالمی برادری اپنی آنکھیں بند کیئے ظلم و جبر کے اس نظام پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ دنیا کا رویہ گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ خواہ کچھ بھی ہو یہ بات طے ہے کہ عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے قیام کے باعث اب گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ روس رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پاکستانی اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام پہلے کی طرح خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کریں گے اور گزشتہ انہتر برس میں شاید گلگت بلتستان کے عوام کو ملنے والی واحد حقیقی خوشی ہے۔

Samina Raja
Samina Raja

تحریر: ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر

Share this:
Tags:
Constitution gilgit baltistan International community Land people سرزمین عالمی برادری عوام گلگت بلتستان
Ghazi Mian Mohammad Shaheed
Previous Post خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
Next Post بھارتی فوج کی نیزہ پیر سیکٹر میں ایل او سی کی خلاف ورزی

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close