Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

”بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

January 1, 2015 0 1 min read
Jamia Masjid Delhi
Jamia Masjid Delhi
Jamia Masjid Delhi

تحریر : پروفیسر محسن عثمانی ندوی
ہندوستان کی ملت اسلامیہ نرگس بیمار کی مانند اپنی بے نوری پر روتی رہتی تھی، بڑی مشکل سے اس کے چمن میں ایک دیدہ ور پیدا ہوا تھاجس کا نام سید حامد تھا، ان کے آباء و اجداد کا تعلق پٹنہ اور اس کے گرد و نواح” نیورہ” سے تھا ، انیسویں صدی کے وسط میں ان کے دادا یا پردادا مرادآباد منتقل ہوگئے تھے ، سید حامد صاحب کی پیدائش ١٩٢٠ء کی ہے ، سید حامد صاحب نے مسلسل شجر ملت کو نہال اور بار آور بنانے کی کوشش کی ، ان کے پاس وہ دل تھا جو ملت کے حال زار پر روتا تھا، ان کے پاس وہ دماغ بھی تھا جو عقدۂ لا ینحل کا حل ڈھونڈ کر لاتا تھا، ان کے پاس وہ چشم بصیرت تھی جو زوال و اضمحلال کے اسباب کو دیکھ لیتی تھی، وہ ملت کے ایسے طبیب حاذق تھے جو مرض کی تشخیص بھی کرتے تھے اور نسخۂ شفا بھی پیش کرتے تھے۔ سید حامد کبھی صور اسرافیل بن کر قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے رہے او رکبھی بانگ درا بن کر قوم کو جادۂ پیما کرنے میں مشغول نظر آئے ، وہ ملت اسلامیہ کے لئے سراپا وقف تھے ، وہ ملت کی تعمیر کے حدی خواں تھے اور ترقی اور نہضت کے میرِ کارواں تھے ، وہ ہمدرد یونیورسٹی کے چانسلر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے، وہ سائنس ، مینجمنٹ اور ٹکنالوجی یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے کوشاں رہے ، وہ مفکر بھی تھے اور سراپا عمل بھی، وہ ملت کے سپاہی بھی تھے اور سپہ سالار بھی تھے ، اور تنہا لشکر جرار بھی تھے ۔وہ شاعر بھی تھے اور ادیب بھی تھے، معلم بھی تھے اور منتظم بھی تھے ، ان کی شخصیت فکر ارجمند اور زبان ہوش مند کی ترجمان تھی۔

سید حامد صاحب کی شخصیت پرسوز ، درد مند اور نہایت متوازن شخصیت تھی، وہ عصری تعلیم کے آدمی تھے اور مسلمانوں میں عصری تعلیم کو عام کرنے کے سب سے بڑے علمبردار تھے ، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اسلامی اور اخلاقی تربیت کے سب سے بڑے ترجمان تھے ، خود وہ اقبال کے مرد مؤمن کے پیکر تھے ، اور نہایت خوش اوقات اور اوراد و نوافل کے پابند تھے ۔سر سید کے علی گڑھ کی نمائندہ شخصیتوں کی ایک مختصر فہرست بنائی جائے گی تو اس میں سید حامد کے نام اور کام کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگا ، ان کی بے شمار ایسی تحریریں ہیں جس میں انہوں نے عصری تعلیم کے ساتھ نئی نسلوں میں اسلامی ذہن و فکر کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے ، مسلمانوں کی کامرانی و فلاح کے لئے جس جامع قیادت کی ضرورت ہے وہ سید حامد کی شخصیت میں پائی جاتی تھی ، ان کے نزدیک صرف اقتصادی اورسائنسی ترقی کا حصول کافی نہیں، وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ اسلام سے اور اسلامی تہذیب سے مسلمانوں میں والہانہ تعلق ہو ۔ سید حامد صاحب کے مضامین کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ” کرب آگہی ” اور ” نگار خانۂ رقصاں ” اور ” شیرازہ ” میں ان کے خیالات اور افکار پورے طور پر نمایاں ہیں اور ان کی تحریروں اور نگارشات سے ان کی فکر و آگہی اور دانشوری ، دور اندیشی اورادبی بصیرت کا بھی اندازہ ہوتا ہے ، وہ محسن ملت اور معمار قوم کہلانے کے پورے طور پر مستحق تھے۔

وہ اپنے مادر علمی مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور اسی زمانے میں انہوں نے تہذیب الأخلاق کو دوبارہ نکالااور اپنے خون دل میں ڈبوکر انہوں نے مؤثر و مفید مضامین لکھے ، جب وہ آئی ایس آفیسر کی حیثیت سے ١٩٨٠ء تک فرائض منصبی انجام دیتے رہے تو ان کی انتظامی قابلیت اور ان کی پرخلوص شخصیت سے حکومت کے ذمہ دار بہت متأثر رہے ، انہوں نے حکیم عبد الحمید صاحب کے یونیورسٹی بنانے کے خواب کو عملی شکل دی، جس میں ان کی غیر معمولی بصیرت دانشمندی حکومت کے ذمہ داروں سے بہتر تعلقات اور مراسم کا بڑا دخل تھا ۔وہ ہمدردر ایجوکیشنل سوسائٹی کے سکریٹری رہے انہوں نے تعلیم آبادکو آباد کیا ۔انہوں نے ہمدرد پبلک اسکول قائم کیا ۔انہیں اس بات کی فکر تھی کی مسلمان تعلیمی اعتبار سے پس ماندہ ہیں اور حکومت کے اعلی عہدوں تک نہیں پہنچ پاتے ہیں اس کے لئے انہوں نے ہمدرد اسٹڈی سنٹر قائم کیا جہاں انہوں نے ملت کے نوجوانوں کو مسابقتی امتحانات کے لئے تیار کیا اور اس ادارہ کے طفیل ملت کے بہت سے نونہال حکومت کے اعلی عہدوں تک پہنچے ، انہوں نے پورے ملک میں تعلیمی کارواں کی قیادت کی اور مسلمانوں میں تعلیمی اخلاقی بیداری لانے کی کوشش کی ۔ انہوں نے نیشن اینڈ دی ولڈ کے نام سے انگریزی ماہنامہ جاری کیا۔

Study
Study

سید حامد صاحب کی ہمہ گیر شخصیت کا اعتراف پورے ملک میں کیا گیا ہے، انہوں نے نازک حالات اور مشکل وقت میں ملت کی مخلصانہ رہنمائی کی ہے ، اور ہمت باندھی ہے ، ان کا احترام عصری دانش گاہوں میں بھی کیا جاتا ہے اور دینی اداروں میں بھی ، وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے تھے اور ہمیشہ صبر و ضبط اور حوصلہ کی تلقین کرتے تھے ، ملت کو رہنمائی اور تعلیمی قیادت کے لئے ایسی ہی شخصیت کی ضرورت ہے جو دل دردمند اور فکر ارجمند رکھتی ہو اور اسی کے ساتھ ساتھ تفہیم اور ترسیل کے لئے زبان ہوش مند بھی رکھتی ہو جو اردو کی طرح انگریزی پر بھی پوری قدرت رکھتی ہو ، جو جدید تقاضوں سے پورے طور پر واقف ہو اور پوری ملت کو ترقی اور استحکام کے بلند مقام تک پہنچاسکتی ہو۔ سید حامد کی وفات ملت کا بہت بڑا نقصان ہے ۔ سر سید، شبلی، اقبال، ابو الحسن علی ندوی ، ابو الأعلی مودودی ، محمد علی جوہر ، ڈاکٹر ذاکر حسین ، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا عبد الماجد دریا بادی بہادر یار جنگ جیسی شخصیتیں جس طرح سے آسانی سے منصہ شہود پر نہیں آتی ہیں اور چشم فلک کو اس کے لئے مدتوں انتظار کرنا پڑتا ہے ، اسی طرح سے بلا تشبیہ سید حامد صاحب کی شخصیت بھی اس دیدہ ور کے مانند ہے جو چمن میں مشکل سے پیدا ہوتا ہے ،اور جب پیدا ہوتا ہے تو ہر گوشہ چمن کو منور اور معطر کردیتا ہے ۔ ان کی بصیرت مندی اور دانش مندی کی وجہ سے انہیں سچر کمیٹی کا رکن بھی نامزد کیا گیا تھا ،سید حامد کی شخصیت ایک عظیم شخصیت تھی اور عظیم شخصیت کی پہچھان یہ ہوتی ہے کہ اس کا دل بہت وسیع ہوتا ہے وہ کبھی مسلکی اور گروہی سیاست میں ملوث نہیں ہوتا ہے وہ ہر جماعت کی خوبیوں کا قدرداں ہوتا ہے۔ مختلف النوع انسانوں سے محبت کرنے اور ان سے ہمدردی رکھنے کی اس میں صلاحیت ہوتی ہے اسی لئے وہ منصف مزاج ہوتا ہے تعصب کا شکار نہیں ہوتا ہے ایسی ہی شخصیت ہوتی ہے جسے بالشتیوں کی دنیا کا” گلیور” کہا جاسکا ہے ۔یہ خصوصیات جب پیدا ہوتی ہیں تب ہی اس سے کسب نور کیا جاسکتا ہے اور اس سے فیضان حاصل کیا جاسکتا ہے یہ ایک کسوٹی ہے جس پر انسان خود کو بھی پرکھ سکتا ہے اور دوسروں کابھی احتساب کرسکتا ہے ۔ تصوف سے عملی تعلق نے ان کی شخصیت میں ایک گداز پیدا کردیا تھا وہ اذکارواوراد کے بہت پابند تھے۔

سید حامد عالم دین اور علوم اسلامیہ کے ماہر نہیں تھے لیکن امت کو ترقی اور عزت اور عظمت کے بام بلند تک پہنچانے کے جو راستے ہیں او راس کے جو تقاضے ہیں ان کے ماہر ضرور تھے ،جب کہ بہت سے علماء دین زمانہ سے بے خبری کی وجہ سے واقف نہیں ہوتے ہیں۔سید حامد کو تاریخ کا اور روح مذہب کا گہرا شعور حاصل تھا اخلاقی قدریں ان کی شخصیت میں پیوست تھیں ۔انہوں نے مسلمانوں کی ترقی کا نظریہ نہیں پیش کیا بلکہ عملی اقدامات بھی کئے اور ملت اسلامیہ کو بیدار کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا انہوں نے رابطہ کمیٹی قائم کی اور پورے ملک کے دورے کئے اور ا س کے لئے انہوں نے وقت کے تِلوں سے پورا تیل نچوڑ لیا،اور وقت کے کسی حصہ کوضائع نہیں کیا۔ ان کا ہر کام ان کے خلوص ان کی بصیرت او ران کی درد مندی کا آئینہ دار ہے ۔اور اس لائق ہے کہ اس کو نمونہ بنایاجائے۔

Muslims
Muslims

اس وقت ملک کا جو نیا منظر نامہ ہے ، جو نیا دشت غم ہے اور جو نیا پیچ و خم ہے ، مذہب و تہذیب کے لٹ جانے کا جوخطرہ قدم قدم ہے اور صورت حال یہ ہے کہ کوئی راستہ بتانے والا نہیں اور کسی کے ہاتھ میںقندیل رہبانی نہیں ۔اور ” بے یدِ بیضا ہے پیران حرم کی آستیں” ۔ ایسے تاریک اور پر خطر صحراء میں ہمیں سید حامد جیسے رہنما کی شدید ضرورت تھی ، اس وقت حالات بہت مہیب اور دشوار گذار ہیں ، غنیمت ہے کہ ایک ماہنامہ ”زندگی” نے اور دوسرے ماہنامہ ” الفرقان” نے موجودہ حالات میں رہنمائی کے تعلق سے خاص نمبر شائع کردیا ہے ، ہدی پبلشرز حیدرآباد نے ٢٠١٤ء کے الکشن اور مسلمانوں کی آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق ایک کتابچہ چھاپ دیا ہے۔ سید حامد زمانے سے بیمار اور فریش تھے ورنہ ان کی کوئی فکر انگیز تحریر ضرور منظر عام پرآتی اور مسلمانوں کو وہ رہنمائی ملتی جس کی شدید ضرورت تھی اکیسویں صدی کا سورج طلوع ہورہا تھا اس وقت عراق و افغانستان میں خاص طور پر مسلمانوں کی عزت و اقبال کا سورج غروب ہورہا تھا ، پورے عالم اسلام میں غم انگیز اور مایوس کن حالات تھے ، راقم سطور کے قلم سے ایک کتاب ” حالات بدل سکتے ہیں ” شائع ہوئی تھی، اس کتاب پر مقدمہ لکھنے کے لئے نظر انتخاب سید حامد صاحب پر پڑی تھی کہ وہ مفکر بھی تھے مدبر بھی تھے دانشور بھی تھے ۔ انہوں نے جو مقدمہ لکھا تھا وہ کتاب میں اہم اضافہ کی حیثیت رکھتا تھا ، لیکن حالات ابھی تک نہیں بدلے ہیں اور بحر غم کا کوئی ساحل ابھی تک نظر نہیں آیاہے اور نہ ملت کی کشتی کا کوئی ناخدا
اللہ رے سناٹا آواز نہیں آتی

تحریر : پروفیسر محسن عثمانی ندوی

Share this:
Tags:
birth chaman difficult India Large Produce بڑی بیمار پیدا پیدائش تعلق چمن مشکل ہندوستان
Traffic Police
Previous Post ٹریفک پولیس نے 2014 میں 22 لاکھ شہریوں کے چالان کئے
Next Post سانحہ پشاور میں زندہ بچنے والے بچوں کا پنجاب یونیورسٹی کا دورہ
Punjab University

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close