Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قائد کے اسلامی نظریات

April 2, 2014 0 1 min read
Shabbir Khurshid
Quaid-e-Azam
Quaid-e-Azam

بعض نام نہاد دانشور غالب کے اس شعر کی اس کیفیت کے مالک ہیں” بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا ورنہ شہر میں غالب کی حقیقت کیا ہے؟” ایسے افراد جو گنتی کے تو چند ہی ہیں مگر بڑے چنٹ ہیں۔جومملکتِ اسلامیہ پاکستان کے بانی مبای حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے اسلامی ارشادات کی ڈھٹائی کے ساتھ مخالفت و نفی کرتے ہوے تمام سچائی کی حدوں کو عبورا کر جاتے ہیں۔ ایک صاحب نے تو اس ضمن میں جھوٹے حوالوں کے بھی انبار لگا دیئے ہیںجب کتابیں کھنگالی گئیں تو ایک آدھ ادھورے حوالے کے سوائے تمام حوالے غلط سلط تھے۔جنکی تفصل میں جانے کا وقت نہیں ہے۔یہ لوگ دانشور بھی کہلاتے ہیں ، لے دے کر ان کے پاس 11 اگست 1947ء کی قائد اعظم کی تقریر ہے جس پر ان کی جھوٹ کی عمارت تعمیر ہوتی اور منہدم ہو جاتی ہے۔ بعض دانشور اس تقریر کوصلح حدیبہ کا پر تو بھی گردانتے ہیں۔ اس تقریر کی وضاحت میں اپنے ایک آرٹیکل میں سید شریف الدین پیر زادہ کی فائونڈیشن آف پاکستان کے حوالے سے تفصیل کے ساتھ بحث کر چکا ہوں۔یہ لوگ قائد اعظم محمد علی جناح کی واضح دلائل سے تو کھل کر مخالفت کر نہیں پاتے ہیں کونے کھدروں میں گھس کر اپنے مصنوئی دلائل پیش کر نے کی کو شش کرتے ہیں وہ بھی غلط حوالوں سے!!!جن کو قائد پر نظر رکھنے والا کوئی بھی طالب تسلیم کرنے کو ہر گز تیار نہیں ہے۔ قائد اعظم پر سطحئی سا لٹریچر پڑھ کر یہ لوگ قائد اعظم اسٹیڈیز کے اپنے آپ کو ماہر ثابت کرنے کی کوشش میں جس قدر ہوسکتا ہے آدھے سچ سے کام لیتے ہیںاور اپنی غیر ما ہر انہ رائے کو ما ہر کی رائے ثابت کرتے ہیں!!!اللہ ڈاکٹر صفدر محمود کو زندگی دے وہ قائد پر ان کی ہر بکواس کا منہ توڑ مدلل جواب دے کر انہیں ایسا لاجواب کرتے ہیں کہ پھر ان کی سانسیں جواب دے جاتی ہیں۔

تحریکِ پاکستان کے سُرخیلوں نے یہ دعویٰ کب کیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح ایک مولوی تھے؟قائد کے محبوں کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا ہے کہ کوئی اپنے دفتر میں جناح کیپ اور شیروانی والی تصویر لگاتا ہے یا سوٹڈ بوٹڈ کلین شیو قائد کی تصویر آویزاں کرتا ہے۔ا ن لوگوں کو یہ ہی پتہ نہیں ہے کہ محمد علی جناح نے لندن کے لنکن اِن میں جب داخلہ لیا تھا تو میر ے آقا حضرت محمد ۖ کا نام دنیا کے بہترین قانوں دینے والوں میںسر فہرست عمارت کے گیٹ پر لکھا ہوا د یکھاتھا ۔یہ میرے قائد کی سرکار محمدۖسے نوجوانی کے ہیجانی دور میں بھی محبت اور عقیدت ہی توتھی۔ جس کو ننگے معاشرے کے حامی قیامت تک نہیں سمجھ سکیں گے۔ اول تو میرے قائدنے کسی تھیٹر میں کام کیا ہی نہیں یہ سب سیکولر ذہنیت کے مصنفین کی اخترا کے سوائے کچھ نہیں ہے ۔اگر کیا بھی تھا میرے سیکولر دوست کے منہ پر طمانچہ تو خود اسی کی تحریر میں لگ گیا جب ان کے بقول جناح نے والد کی ناراضگی پر تھیٹر کی ملازمت چھوڑ دی!!!جناح اگر سیکو لر اور اسلام سے برگشتہ ہوتے تو وہ ڈنشاء پٹٹ کی بیٹی جو پارسی تھی اور میرے قائد سے عشق کا اُس پربھوت سوار تھا۔ اُس کو مسلمان نہ کرتے ۔جس کے شاہد موجود ہیںکہ انہوں نے مولانا شاہ احمد نورانی کے تایا مولانا نذیر احمد صدیقی جو بمبئی کی جامع مسجد کے خطیب و امام تھے۔ جن کے روبرو ڈنشاء کی بیٹی نے اسلام قبول کیاتھا۔ رتی کے مسلمان ہوجانے کے بعد محمد علی جناح نے انہی عالمِ دین سے رتی کے ساتھ اپنا نکاح اسلامی طریقے پر پڑھوا کر اپنی ازدواجی زندگی کے سفر کادوسری مرتبہ آغاز کیا تھا۔

بقول ڈاکٹرصفدر محمود کے کہ جناح کی ” جب ذہنی بلوغت ارتقائی منازل سے گذری تو وہ مسلم قومیت کے موثر علمبرداربن کر ابھرے۔قائد اعظم سیاسی زندگی کے آغاز میں مسلمانوں کے لئے مخصوص کوٹے کے خلاف تھے پھر وہ مسلمانوں کو اقلیت کہتے تھے لیکن ذہنی وسیاسی ارتقاء کے نتیجے کے طور پر وہ اس منزل پر پہنچ کر قائد اعظم بن گئے۔جب وہ اس حقیقت کے قائل ہوے کہ مسلمان اقلیت نہیں بلکہ ایک قوم ہیں” یہ تو میرے قائدکا ہر قاری جانتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے عید میلاد النبی کے جلسے سے کراچی بار میں 25جنوری 1948 ء کو واضح کیا تھا کہ انہوں لنکن اِن میں داخلہ اس لئے لیا تھاکہ اس ادارے میں دنیا کے عظیم قانون فراہم کرنے والوں میں محمد ۖ کا نام بھی شاملی تھا۔.میرے سیکولر دوست کو اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ لند ن سے لاء کی ڈگری لے کر واپس آنے بعد بمبئی(موجودہ ممبئی)میں جس تقریب میںپہلی مرتبہ شرکت فرمائی تھی وہ عید میلاد النبی کا ایک جلسہ تھا۔یہ بات ہر پاکستانی کے ذہن میں رہنی چاہئے کہ میرا قائد نہ تو مولوی تھا نہ ہی صوفی اور نہ ہی مذہبی عالم ایمان و یقین کے حوالے سے وہ پکے سچے مسلمان تھے۔

سوٹ بوٹ کی طعنہ زنی کرنے والوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ ان کا یہ لباس غیر اسلامی ہر گز نہ تھا مگر اس حقیقت سے بھی کیا میرے سیکولر دوست انکار کریں گے کہ قیام پاکستان سے کئی سالوں پہلے انہوں انگریزی لباس بڑی حد تک ترک کر دیا تھا ۔مگر بعض سرکاری تقاریب میں وہ کبھی کبھی طوحاََانگریزی لباس بھی قیامِ پاکستان سے قبل پہن لیا کرتے تھے۔پاکستان بننے کے بعد کبھی بھی میرے قائد نے شیروانی کرتا شلوار اورجناح کیپ کے علاو ہ کوئی ایسا لباس زیب تن نہیں کیا جس کی سیکولر زہنیت والے توقع رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک انہوں اسلام کو پورے طور پر سمجھا نہیں تھا ۔تو وہ جیسا کہ سیکولر ذہن لکھتا ہے کہ ”فروری 1935 ء میں قانون ساز اسمبلی میں مذہب کو سیاست سے الگ رکھنے کی بات کی کی تھی” مگر انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ اس سال کے بعد محمد علی جناح نے پورا پورا اسلام میں داخل ہونے کا عہداُس وقت کر لیا تھا۔جب مولانا اشرف علی تھانوی کی جانب سے 1936ء میں ایک پیشن گوئی میں یہ واضح کر دیا تھاکہ یہ انگریزی لباس پہننے والا ہی ایک دن مسلمانوں کی کشتی کو پار لگائے گا۔اور پھر اپنے شاگردوں اور قرابت دارعلماء کو جناح کی اسلامی تربیت پر لگا دیا تھا۔ علمائے کرام سے ملاقات کے بعد انہوں نے کبھی خلافِ اسلام کے کوئی بات نہ کی۔ بلکہ 1935 ء کے بعد کی قائد کی پوری زندگی کھنگال کے سیکولر ٹولہ دیکھ لے انہوں نے بارہا اسلام کو مکمل ضابطہِ حیات قرار دیا اور مرتے دم تک اس اصول پر کا بند بھی رہے۔مگر میں نا مانوں کا تو” ذ ہنی” کے سوائے کوئی علاج ہے ہی نہیں۔

جسٹس منیر جیسا آمریت کا پروردہ جھوٹا شخص جب جناح پر سیکولر ہونے کا الزام لگاتا ہے تو عطا ترک کے حوالے سے قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش میںاپنا وقت برباد کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک انٹرویو میں جب قائد سے سوال کیا گیا کہ ترکی کی حکو مت تو ایک مادی ریاست اور حکومت ہے آپ کی کیا رائے ہے؟ تو جناح نے جوباََ کہا تھا کہ” ترک حکومت پر میری نظر میںسیکولر اسٹیٹ کی سیاسی اصطلاح اپنے پورے مفہوم میں لاگو نہیں ہوتی ہے۔اسلامی حکومت کے تصور کا بنیادی امتیاز یہ ہے کہ اطاعت اور وفاداری کا مرجع اللہ کی ذات ہے۔جس کی تعمیل کا مرکز قرآنِ حکیم کے احکامات اور اصول ہیں”۔ 10،جون 1938 کوبمبئی میں میمن چیمبر آف کامرس سے خطاب کے دوران قائد اعظم محمدعلی جناح کہتے ہیں کہ” مسلمانوں کے لئے پروگرام تلاش کرنیکی ضرورت نہیں ہے ان کے پاس تیرہ سو سال سے مکمل پروگرام موجود ہے (اور وہ یہ بات آزادی کے بعد تک کئی مرتبہ دہرا چکے تھے)کہ قرآنی تعلیمات ہی ہماری نجات کا ذریعہ ہیں جس کے ذریعے ہم ترقی کے تمام مدارج طے کر سکتے ہیں” ۔میرے ملک کے سرکای دانشور لکھتے ہیں کہ ”ہندوستان میںمذہبی علماء کی اکثریت مسلم لیگ اور پاکستان کے خلاف تھی” کوئی انہیں سنجھائے کہ ہم بتائیں؟اُن لوگوں میں آپ کے خاندان کے احراری بھی شامل تھے کیا یہ بات آپ کے محترم والڈ صاحب نے آپ کو نہیں بتائی تھی ؟آپ کو پتہ ہے قائد اعظم کے گرد جید علما و مشائخ ِ عظام کی ایک پوری ٹیم موجود تھی مسلمانوں کا سوادِ اعظم ان کی حمایت کرہا تھا۔

جس مسلم عوام کے علاوہ مولانا اشرف علی تھانوی اور ان کے خانوادے کے جید علمائ، شاگرد اور پیر صاحب جماعت علی شاہ علی پوری اور ان کے مریدین کی بہت بڑی تعداد نے مسلم لیگ کا ساتھ دیا ،پیر صاحب مانکی شریف امین الحسنات اور ان کے مریدین کا جمِ غفیر، پیر صاحب زکوڑی شریف جیسی مذہبی اور روحانی شخصیت اور ان کے مریدین کی کھلی حمایت میرے قائد کو حاصل تھی، اسی طرح خواجہ قمر الدین سیالوی اور ان کے شاگردوں نے بھی قائد اعظم اور مسلم لیگ کی زبردست حمایت کی تھی۔

Movement Pakistan
Movement Pakistan

اس میں شک نہیں کہ مولانا حسین احمد مدنی نے تحریکِ پا کستان کے دورا ن قائد اعظم اور مسلم لیگ کی کھل کر مخالفت کی تھی مگر قیام پاکستان کے بعد اُن کا یہ رویہ یکسر تبدیل ہو گیا تھا۔بقول ڈاکٹر صفدر محمود کے( قیامِ پاکستان کے بعد)جب ان سے سوال کیا گیا کہ حضرت پاکستان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو جواب میں مولانا فرماتے ہیں کہ” مسجد جب تک نہ بنے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔لیکن جب بن گئی تو مسجدہے”(بحوالہ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی واقعات و کراما ت، مراد آباد، صفحہ 136 )گویا پاکستان اپنے قیام کے بعد اُن کے نزدیک مسجد کی طرح معتبر ٹہرا تھا۔ ان سیکولر اسلام مخالف لوگوں کو یہ بھی کوئی بتا دے کہ قائد اعظم مذہبی لوگوں پر کتنا بھروسہ کرتے تھے۔پاکستان کے پہلے یومِ آزادی پر پاکستان کے دالحکومت کراچی میںپرچم کشائی کا وقت آیا تویہ کام خود کرنے کے بجائے یہ خدمت کسی سیکولر سے نہیں لی گئی اور نہ خود کیا بلکہ مولانا شبیر احمد عثمانی سے یہ خدمت لی گھی لی گئی اور مشرقی پاکستان کے دالحکومت ڈھاکہ میں یہ خدمت مولانا ظفر احمد عثمانی کے حصے میں آئی تھی۔ یہ تھا میرے قائدکا احترام علماء اور اسلام کے رکھولوں کے لئے!!!

قائد اعظم اسوہِ رسو ل ۖ پر عمل پیرا رہتے ہوے عقلیتوں سے نفرت نہیں کرتے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ 17 اگست کو انہوں نے کراچی کے چرچ کا دورہ کیا تھا تاکہ عیسائی اقلیت کو احساسِ کمتری کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔اور پھر اگلے دن 18 اگت کو نماز عید مسلمانوں کے بڑے اجتماع کے ساتھ کراچی کے( بند روڈ) موجودہ ایم اے جناح روڈپر واقع عید گاہ کے مقام پر ادا کی۔ اس اجتماع کی نماز عید مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی۔ صفدر محمود لکھتے ہیں کہ ”قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم ایک سال زندہ رہے جن میں سے تین چار ماہ علالت لے گئی ،اس کے باوجود قائد اعظم نے 14 ،بارکہا کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی” 25 ،جنوری 1948 ء میں کراچی بار ایسوسیایشن سے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ”یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں شریعت نافذ نہیں ہوگی یہ شرارتی عناصر کا پروپیگنڈہ ہے…ناصرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کو بھی خوفذدہ ہونے کی ضرورت نہیں” میر ے قائد کا سلام پر فخرکا اندازہ فروری 1948ء میں امریکی عوام کے نام اپنی نشریاتی تقریر سے لگایا جا سکتا ہے۔جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ دنیا کے نقشے پر” پاکستان پہلی اسلامی ریاست ہوگی ” اسی طرح جولائی 1948میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوے فرمایا تھا کہ ”مغرب کے معاشی نظام کے بجائے پاکستان میں اسلامی اصولوں کی بنیاد پر معاشی نظام وضع کیا جائے گا”۔ قائد اعظم کا تصورِ پاکستان متعصب مذہبی مملکت کا نہ تھا بلکہ وہ پاکستان کو ایک اسلامی ،جمہوری فلاحی ریاست دیکھنا چاہتے تھے جہاں ملائی طبقاتی کشمکش نہ ہوبلکہ اسلام کا عادلانہ نظام قائم ہو۔(کیوں نہ ہو اقبال اس حوالے سے پہلے ہی کہہ چکے ہیںکہ ”دین ِ ملا فساد فی سبی الاللہ” )بلکہ اسلام کے سچے اصولوں پر چل کر مملکتی امور نمٹائے جائیںگے”(….. قائد اعظم محمد علی جناح نے7 فروری 1948 ء کوسینٹرل لیجسلیٹیو اسمبلی میں ااپنے خطاب میں فر مایا تھا کہ”مذہب کو سیاست میں شامل نہیں کرنا چاہئے ،مذہب کا معاملہ اللہ اور انسان کے مابین ہے” )…… حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور قائد اعظم کے ما بین خط و کتابت کا سلسلہ 1936ء سے1943ء تک مسلسل جاری رہا اسی سال مولانا صاحب کو دہلی اجلاس میں خطاب کی دعوت بھی دی گئی مگر وہ اپنی علالت کے باعث شریک نہ ہوے ۔

اسی سال ان کے انتقال پر باقاعدہ قائد اعظم نے مسلم لیگ کا ایک تعزیتی اجلاس بلا کر مولانا اشرف علی تھانوی کی خدمات کو نا صرف خراجِ تحسین پیش کیا بلکہ ان کے انتقال پرتعزیت کا بھی اظہار کیا گیا۔ستمبر 1944 گاندھی سے اپنی خط و کتابت کے دوران انہوں قرآن، پاک کے حوالوں سے گاندھی کو بتایا تھا کہ”قرآنِ مجید مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے ۔اس میں مذہبی، مجلسی، دیوانی، فوجداری، فوجی، تعزیری، معاشی سیاسی غرض یہ کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے لئے احکامات موجود ہیں۔مارچ 1946ء میں شیلانگ کے مقام پر خواتین سے خطاب کے دوران قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ”آئیے اپنی کتابِ مقدس قرآنِ حکیم اور حدیثِ نبوی اور عظیم اسلامی رویات کی طرف رجوع کریںجس میں ہماری رہنمائی کے لئے ہر چیز موجود ہے۔ہم خلوص نیت سے اس کی پیروی کریں اور اپنی عظیم کتاب قرآنِ پاک کا ا تبا ع کریں… ہر مسلمان کے پاس قرآنِ کریم کا ایک نسخہ ہونا چاہئیے تاکہ وہ اپنی رہنمائی خود کر سکے۔ کیونکہ قرآنِ پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے پیغام ِ عید8 ستمبر 1945 ”(خورشید یوسفی،قائد اعظم کی تقاریر جلد سوم صفحہ 2053 ) 13نومبر 1939 ء کو آل انڈیا ریڈیو پر مسلمانانِ ہند سے خطاب میں میرے قائد نے فرمایا کہ”قرآن کے مطابق انسان (زمین پر) اللہ کا خلیفہ ہے۔قرآن نے ہم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ قرآن کریم کی پیروی کریں اور لوگوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں جیسا اللہ اپنے بندوں کے ساتھ کرتا ہے ۔

شریف الدین پیرزادہ جو کئی سال قائد اعظم کے سیکریٹری رہے انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ”قائد اعظم کے پاس قرآنِ حکیم کے چند نُسخے موجود تھے … بہترین نسخہ احتراماََ جزدان میں ان کے بیڈ روم میں اُنچی جگہ پر رکھا رہتا تھا۔میں نے انہیں محمد مار ماڈیوک پکتھال کے قرآنِ حکیم کا انگریزی ترجمہ پڑھتے دیکھا ” (محمد حنیف” قائد اعظم اور قرآن فہمی،،صفحہ 72 )جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قائد اعظم کو جب بھی موقع ملتا تھا وہ مطالعہِ قرآن فرماتے ۔تاکہ جس دین کے نظام کو وہ پاکستان میں نافذ کرانا چاہتے تھے اُس دین کی آگاہی میں کہیں کسر باقی نہ رہ جائے۔کیا ہم تصور کرسکتے ہیں کہ وہ شخص جو انگلستان کا تعلیم بافتہ بیرسٹر ہو اسلام کے بنیادی اصولوں پر ااتنی گہری نگاہ رکھنے کوکشش کرتا تھا۔ کہ سیکولر ذہنیت تو جناح کے اس کردار سے شل ہو کر رہ جاتی ہے۔قائد اعظم کو جب بھی موقع ملتا وہ باقاعدہ قرآن پاک سے رہنمائی اور فہم و فراست کے موتی چننے میں مصروف رہتے تھے ۔ جس کی وجہ سے قرآنِ پاک کا ایک ایک موضوع انہیں ذہن نشین ہوچکا تھا اس حوالے سے ڈاکٹر صفدر محمود نے قائد اعظم کی قرآن فہمی پر اپنے مضمون بعنواں”قائد اعظم کی قرآن فہمی” میںایک پر مغز اور سیر حاصل بحث کر کے ایسے لوگوں کی ہمیشہ کے لئے زبانوں پر تالے ڈالدیئے ہیں ۔ مگرڈھیٹ پھر بھی اُلٹا سیدھا ضرور بولیں گے۔جو قائد اعظم کو اسلام سے برگشتہ ظاہر کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دیکھے جا سکتےہیں!!!.

مولوی محمد علی جناح کا رائٹر لکھتا ہے کہ ”قائد اعظم میرے آئیڈیل ہیں”؟کیا اس سے بڑا کو ئی اور جھوٹ تمہارے پاس نہیں تھا؟؟؟وہ لکھتے ہیں کہ کالم نگار کو اس بات سے دکھ پہنچا ہے کہ انہوں نے قالین کے نیچے دبے واقعات سامنے کر دیئے ہیں؟کونسے واقعات وہ جو قائد اعظم پر اتہام طرازی کے سوائے کچھ نہیں ہیں؟موصوف مزید ” نئی بات رقمطراز ہیں”کہ میں ایک نفسیاتی بیماری کا شکار ہوں۔ َتو میرے محترم اس میں جھوٹ بھی کیا ہے؟ آپ کا اعترف سر آنکھوں پر ۔ایک مقام پروہ لکھتے ہیں کہ مجھے مشورہ دیا گیا ہے کے اختلافی کالموں کا جواب دینے کے بجائے معذرت کرلوں آگے خود ہی لکھتے ہیں کہ ”میں ٹہرا جاہل” ہمیں معلوم نہیں اگر موصوف کہتے ہیں تو صحیح کہتے ہونگے !!!لے دے کر لوگوں کے پاس جماعتِ اسلامی کا ہی حوا لہ رہ گیا ہے۔موصوف لکھتے ہیں کہ ”جماعت اسلامی میں مولانا مودودی نے اختلاف کیا ”تو میرے محترم بتائیں گے اُن کے ساتھ اُس وقت کتنا بڑا جمِ غفیر تھا؟مذہبی لوگوں میںجمیعت علمائِ ہندصرف مولانا حسین احمد مدنی کا ہی نام نہ تھا۔جمیعت ِ ہندکے جید علماء کا ایک بہت بڑا حصہ جمعت علماء اسلام کے نام سے کام کر رہا تھا، وہ تمام کے تمام علماء کرام قائد اعظم کی پشت پر کھڑے تھے۔ کیا اس بات سے کوئی انکار کر سکتا ہے؟موصوف مزید رقمطراز ہیں کہ ان علماء کے”بغل بچے آج ہمارے درمیان موجود ہیں …ہمارے ساتھ ضیافتیں بھی اڑاتے ہیں”تو کیا اُ بغل بچوں میں آپ شامل نہیں ہیں؟ آپ مفتہ کھانے سے کیون معذرت نہیں کر لیتے ؟جبکہ میر اطلاع کے مطابق جمیعتِ احرارِ ہند میں آپ کے خانودے کے لوگ بھی شامل تھے ؟کہ آپ کی نظر میں یہ تمام اینٹی پاکستان لوبی کے لوگ ہیں…اپنے بارے میں بھی وضاحت کیجئے۔آپ تو اس بات کو بھی جھٹلانے کی کوشش کرتے دکھائی دیئے کہ ” قائد نے اپنی بیٹی سے ساری عمر بات نہ کی تھی کیونکہ اس نے پارسی سے شادی کر لی تھی موصوف کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں وہ خود ہی سوچیں کہ وہ کیا قائد کا قد بڑھا رہے ہیں؟ ” یہ بات مسٹر آپ کے بھی سوچنے کی ہے!!!

قائداعظم محمد علی جناح ایک سچے مسلمان تھے وہ اپنی مرتد بیٹی سے کیونکر تعلقات استورا رکھ سکتے تھے؟آپ کا فرمانا ہے کہ” رتی جناح نے ساری عمر خود کو رتی جناح لکھا… وہ اپنا نام مریم نہیں لکھتی تھیں”تو یہ کونسی انوکھی بات ہے وہ تو ماں کے طلاق لے لینے کے بعد سے ہی پارسی رہی تھی اور ایک پارسی سے جب اس کی ماںقائد اعظم کے مشورے کے بغیر شادی کردی اور وہ خود بھی قائد سے علیحیدگی کے بعد پاری مذہب ہی اختیار کر چکی تھی تو وہ کیسے اپنا مریم نام لکھتی؟وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”یہ درست ہے کہ قائد اپنی بیٹی دینا سے ناراض رہے…قائدنے اپنی جائداد سے انہیں عاق نہیں کیا بلکہ ان کے حصے میں دو لاکھ روپے آئے ” انہیں شائد پیرزادہ ہونے کے باوجود یہ علم ہی نہیں ہے کہ اسلام کی رو سے ترکے میںاولادکا حق ہوتا ہے اگر میرے قائد نے دو لاکھ روپے دینا کو وصیعت کئے تو وہ عین اسلام کی روح کے مطابق تھا۔و ہ مزید رقم طراز ہیں کہ ”ان کا اڑھنا بچھونا سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ ماڈرن لبرل مسلمان تھے”ماڈران کا لفظ تو چلو ہم مان لیتے ہیں جناح ہونگے مگر آزاد خیال ہر گز نہ تھے۔ اگر آزاد خیال یاسیکولر ہوتے تو وہ کانگرس کو کبھی نہ چھوڑتے۔کیونکہ کانگرس تو لبرلزم کی ہی حامی جماعت تھی۔ان کا یہ بھی لکھنا ہے کہ ”بانیِ پاکستان جنھوں نے ساری عمر ہی ایسے گذاری (لوگ)انہیں مذہبی رہنما بنانے پر تلے ہیں”یہ کس نے کہا کہ قائد اعظم مذہبی رہنما تھے مسٹر اپنی غلط فہمی دور کرلیں وہ مذہب سے تو بے پناہ عقیدت رکھتے تھے مگر مذہبی رہنما ہر گز نہ تھے۔

موصوف کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ تحقیق میں اصل حوالے دیئے جاتے ہیں مکھی پر مکھی نہیں بٹھائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے تقریباَاسی فیصد سے زیادہ حولے غلطیوں پر مبنی ہیں َ ۔ انہوں اصل ماخذ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے بس دوسروں کے دیئے گئے بے بنیاد حوالوں پر اکتفا کرتے ہوے پوری عمارت کھڑی کر دی اور سمجھ بیٹھے کہ انہوں نے امبر پر تھیکڑی لگا دی ہے۔

Shabbir Khurshid
Shabbir Khurshid

تحریر:پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
shabbir4khurshid@gmail.com

Share this:
Tags:
Islamic leader not opponents password اسلامی پاس قائد مخالفین نظریات نہیں
America
Previous Post ہتھیاروں سے متعلق پاکستانی درخواست مسترد نہیں کی: امریکہ
Next Post وزیراعظم سے برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات
Prime Minister

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close