Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اقبال، علامہ اسد، موددی، قائد اعظم اور چوہدری نیاز علی

August 26, 2019August 26, 2019 0 1 min read
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal

تحریر : میر افسر امان

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان اسلام آباد اور انسٹیٹویٹ آف پالیسیز اسٹڈیز اسلام آباد کے اشتراق سے ٢٣ مارچ اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے حال میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ نومسلم علامہ محمد اسد صاحب کے اعزاز میں یہ پروگرام بعنوان ” پاکستان کی تعمیرو تشکیل اور علامہ محمد اسد١٩٠٠۔١٩٩٢” رکھا گیا تھا۔ان پروگرام میں حضرات نے اپنی تقریرویں میں علامہ محمد اسد کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال، موددی اور قائد اعظم ، دارلسلام جمال پور پٹھان کوٹ اور چوہدری نیاز علیکا نام نامی بھی استعمال کیا۔اس لیے راقم نے اس پروگرام کی رپورٹینگ کرتے ہوئے ،اپنے کالم کا نام”اقبال ،علامہ اسد،موددی ، قائد اعظم ” چوہدری نیاز علی رکھا۔ اس پروگرام کے مہمان خصوصی مسلم لیگ نون کے رہنما ،سینیٹر جناب راجہ ظفر الحق صاحب تھے۔

صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے کی۔اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان اور انسٹیٹیوٹ آف پالیسیز اسٹڈیز کے اشتراق سے اس قسم کا یہ دوسرا پروگرام ہے۔ حال کے باہر لان میں سبزہ زار پر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان، انسٹیٹیوٹ آف پالیسیز اسٹڈیز اسلام آباد اور دیگر پبلیشرزنے اپنی اپنی کتابوں کے اسٹال بھی لگائے ،جن سے لوگوں نے اپنی اپنی پسند کی کتابیں خریدیں۔راقم کو اس بات پر خوشی ہوئی کہ مقریرین نے اس میں پاکستان کا خواب دیکھنے والے شاعرِ اسلام ،علامہ شیخ محمد اقبال، پاکستان کی تعمیر اور تشکیل میں حصہ لینے والے نو مسلم علامہ محمد اسد، پاکستان کے دوقومی نظریہ کو تحریک پاکستان کے دوران اپنے مضامین کے ذریعے آل انڈیا مسلم لیگ کو تقویت پہنچانے والے سید ابو اعلیٰ موددی اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کا اکٹھا نام اور پاکستان کی تشکیل میں کنٹریبیوشن پر مقریرین نے جاندار تذکرہ کیا۔

اس پروگرام میں اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین جناب قبلہ ایاز صاحب ، ایگز یکیٹیو پریزیڈنٹ، انسٹیٹیویٹ آف پالیسیز اسٹڈیز اسلام آباد کے خالد رحمان صاحب، نون لیگ کے رہنما اور سینیٹر جناب،راجہ ظفرلحق صاحب ،پروفیسر ڈاکٹر ایس این زمان صاحب، سابق چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد،، ڈاکٹر پروفیسر محمد خالد مسعود صاحب، سابق چیئرمین، اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان اسلام آباد، ڈاکٹر اکرام الحق صاحب سیکرٹیری اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد، پروفیسر ڈاکٹر محمد ارشد صاحب چیئرمین شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور شریک ہوئے۔

کیونکہ مفکر پاکستان علامہ اقبال کو اس بات کا یقین حاصل ہو گیا تھا کہ ان شاء اللہ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیزاور کرشماتی لیڈر شپ میں پاکستان بن جائے گا۔ لہٰذا علامہ اقبال کی خواہش تھی کہ کوئی ئی ایسا فرد مہیا ہو جائے جو اسلام کے فقہ کے خزانے کی تدوینِ جدید کرے۔ان ہی دنوں میں حیدر آباد دکن سے سید موددی نے ایک رسالہ ترجمان القرآن جاری کیا ہوا تھا۔ اس رسالے میں١٩٣٢ء سے سید موددی برصغیر کے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کو ایک ایسی حکومت الہیٰہ کی طرف بلا رہے تھے۔ جس میں انسان ہونے کے ناطے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے حقوق برابر تھے۔وہ حکومت مدینہ کی اسلامی ریاست تھی۔ جسے اللہ کے رسولۖ نے خود اللہ کے احکامات کے تحت مدینہ میںقائم کیا تھا۔ اس حکومت کوخلفاء راشدین نے اس دنیا میں کامیابی سے چلایا تھا۔ جس کا نمونہ اب بھی اسلامی تاریخ میں موجود ہے۔علامہ ا قبال، سید موددی کے ترجمان قرآن ر سالے کے مستقل قاری تھے۔

علامہ اقبال کی نظر سید موددی پر پڑی کہ یہ شخص فقہ کی تدوین جدید کر سکتا ہے۔ حس اتفاق کہ ا سلام سے محبت کرنے والی پنجاب جمال پورپٹھان کوٹ کے زمیندار جناب چوہدری نیاز علی صاحب نے علامہ اقبال کو اپنا خطہ زمین اس کام کے کرنے کے لیے پیش کیا۔علامہ اقبالنے سیدموددی کو حیدر آباد دکن سے لاہور بلاکر اس کام پر لگایا۔ یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ سال کے چھ ماہ جمال پورپٹھان کوٹ میں گزارہ کریں گے۔چوہدری نیاز علی کوانتظام کے لئے سید موددی سے رابطہ کرنے کا کہا۔ چوہدری نیاز علی اور سید موددی نے خط وکتاب کی ۔ بلا آخر سید موددی نے حیدر آباد دکن سے پنجاب کے علاقہ جمال پور پٹھان کوٹ جس کا نیا نام دارلسلام تجویز کیا گیا تھا اللہ کے لیے ہجرت کی ۔

علامہ محمد اسد تو پہلے سے ہی علامہ اقبال کی خواہش سے واقف تھے۔ لہٰذا علامہ محمد اسد اس کام کو کرنے کے لیے چوہدری نیاز علی کے گھر ہی میں مقیم ہو گئے۔ علامہ محمد اسد اور سید موددی نے علامہ اقبال کی خواہش کے مطابق جمال پور پٹھان کوٹ چوہدری نیاز علی کے کمپلکس میں کام شروع کر دیا۔اس کے بعد فوراً بعد ہندوستان کی تقسیم ہو گئی۔دارلسلام میں جمع سارے لوگوں کو لاہور پاکستان منتقل ہونا پڑا۔ علامہ محمد اسد نے پنجاب حکومت سے کہہ کر بسوں کا انتظام کیا اور دارلسلام کے اسٹاف کو پاکستان لاہور منتقل کیا۔بلوائیوں نے علامہ محمد اسد کی لائیبریری کے ایک حصہ کو بھی تلف کر دیاجس پر انہیں بہت افسوس ہوا تھا۔اس کے پاکستان میں دارلسلام کے نام سے پنجاب کے علاقہ خوشاب جوہر آباد میںیہ ادارہ

٢
قائم ہوا جو اب بھی کام کر رہا ہے۔ اس پروگرام میں دارلسلام جوہر آباد خوشاب کے ڈاریکٹر جناب چوہدری عطا اللہ صاحب بھی شریک تھے۔ انہوں نے چوہدری نیاز علی علامہ محمد اسد کے حوالے سے اس ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں کی موجودہ پوزیشن کو حاضرین کے سامنے بیان کیا۔

جب پاکستان بنا تو اسی تسلسل میں حضرت قائد اعظم نے ایک ادارہ، ” ڈیپا ٹمنٹ آف اسلامک ڈیکرلیشن” قائم کیا۔ اس کے سربراہ علامہ محمد اسد کو بنایا۔ علامہ محمد اسد نے اس ادارے کے تحت بنیادی طور پر کافی کام کیا۔ حکومت میں موجود قادیانی بیروکریٹ نے علامہ محمد اسد کے ادارے ” ڈیپا ٹمنٹ آف اسلامک ڈیکرلیشن کے سارے کام کی فائلوں کو آگ لگا کر جلا دیا۔ صرف ایک خط جو قائد اعظم نے پاکستان کی منسٹری آف فائنس کو اپنے ہاتھ سے لکھا تھا وہ بچ گیا۔یہ خط قائد اعظم نے خود منسٹری آف فائنس پاکستان کو لکھا تھاکہ ” ڈیپا ٹمنٹ آف اسلامک ڈیکرلیشن” ادارے کے لیے ضروری فنڈ کا انتظام کیا جائے۔ یہ خط پرانے ریکارڈ میں سے اوریا مقبول جان صاحب مشہور دانشورکو مل گیا۔ جسے اب بھی ان کے پاس دیکھا جا سکتا ہے۔ اسلام دشمن بیروکریٹس نے علامہ محمد اسد کو بعد میں بیرون ملک سفیر بنا کر بھیج دیا۔ اس حالات کی وجہ سے علامہ محمد اسد پاکستان دشمنوں سے بیزار ہو گئے تھے۔

جرمنی کے شہر برلن میں ان کی قبر موجود ہے۔ جس کے کتبہ پر لکھا ہے اے نفس مطمئہ ۔۔۔ اس کتبہ کو سلائیڈ کی شکل میں حاضرین کو دیکھایا گیا ۔ اس کے علاوہ علامہ محمد اسد کی کتابوں کے ٹائیٹل کی سلائیڈ بھی حاضرین کو دکھائی گئی ۔ اس میں قرآن شریف کا ترجمہ the quranاور this law of ours. شامل ہے۔ اس میں شروع کے مسلمانوں کے حالات لکھے۔علامہ محمد اسد نے یہ بھی لکھا کہ پہلے مقامی قوموں کو ترقی دینا ہے۔ اس کے بعد ان ترقی یافتہ قوموں سے اسلامی ملت بننی ہے۔لکھا کہ دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے سے ساری کی ساری قومیںبمشول مسلمان پریشان ہیں۔لیکن مسلمان اپنے شاندار ماضی کو یاد اور سامنے رکھ کر اپنے مستقبل کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ شہریت اللہ کی طرف سے ہے اور فقہ اس کی تشریع ہے۔ہم نے اسلام سے ہدایات لے کر اپنے معاشرے کو مضبوط کرنا ہے ۔ سارے قوانین اسلامی دانشوروں نے بنانے ہیں۔آخر میں سارے اسلامی قوانین کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے قانون کی شکل دینا ضروری ہے۔قرآن اور حدیث سے ہدایت لینی ہے ہمیں لیفٹ یا رائٹ کی ضرورت نہیں۔علامہ محمداسد کے بیٹے طلال اسد صاحب سے علامہ محمد اسد کے متعلق مذید معلومات لی جا سکتی ہیں۔ یہ بھی کہاگیا کہ اقبال اسد اور موددی کی وجہ سے دارلسلام قائم ہوا تھا۔ ”لاء آف اورز” کتاب کے مضمون ان کے رسالہ عرفات سے لیے گئے ہیں۔

اس پروگرام میں پروفیسر ڈاکٹر انیس صاحب ، وائس چا نسلر، رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد کا علامہ محمد اسد پر لکھا ہوا مقالہ انسٹیٹیوٹ آف پالیسیز اسٹڈیز کے جنا ب شیراز اقبال شام صاحب نے پڑھ کر سنایا۔ اس میںڈاکٹر انیس صاحب علامہ محمد اسد کے ساتھ پاکستان کی تشکیل میںنے سیدموددی کا بھی ذکر کیا۔ سید موددی نے تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم کے دو قومی نظریہ پر زور دار مضمون لکھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے ان مضامین کو پورے برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان میں پھیلا کر دو قومی نظریہ کو مضبوط کیا۔ یہ مضامین اب بھی کتابی شکل میں موجود ہیں۔قائد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد سید موددی کو ریڈیو پاکستان پر اسلام کا نفاذ کیسے ممکن ہے پر تقریرں کرنے کا کہا۔ یہ تقاریر بھی ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں اب بھی موجود ہیں۔ کہیں پاکستان دشمن ان کو بھی ضائع نہ کردیں۔ مقریرین کے مطابق علامہ محمد اسد نے بھی اسلام کے عملی نفاذ کے لیے ریڈیو پاکستان سے تقاریر کی تھیں۔ اسلام سے محبت کرنے والوں کو ان دونوں صاحبان کی تقریر کی نقل کروا کر عوام میں پھیلانا اور محفوظ کرنا ضروری ہے۔مقریرین نے علامہ محمد اسد کی تقریروں کے حوالے دے کر ثابت کیا کہ پاکستان میں اسلام کی عملی نفاذ کے لیے بے چین رہتے تھے۔مگر اسلام دشمن بیروکریٹ نے انہیں مایوس کیا جس سے وہ دل برداشتہ ہوئے۔

پروفیسرڈاکٹر محمدخالد مسعود سابق چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان اسلام آباد صاحب نے کہا کہ علامہ محمد اسد کو پاکستان کے لوگ بھول گئے ہیں ۔ ان کی پاکستان کے لیے خدمات کویاد رکھنا ضروری ہے۔ان کی انگریزی کی کتاب سے اسلام کی خدمت میں ایک مثال کا اردو ترجمہ کی سلائیڈ پر دیکھایا۔ جس میں انہوں نے کہ بازار میں پرانے آف ڈیٹڈ کپڑے پڑے ہوئے ہیں اور لوگ یہ دیکھتے ہوئے بھی اس زمانے میں یہ کپڑے کام نہیں آسکتے، مگر دھڑا دھڑا پرانے کپڑے خرید رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ علامہ محمد اسد پرجناب اکرام الحق صاحب کی لکھی ہوئی کتاب میں سے مفید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

مہمان خصوصی راجہ ظفر الحق صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ سیکولر حضرات ہمیشہ قائد اعظم پر الزام تراشی کرتے ہیں کہ پاکستان معاشی ترقی کے لیے بنا تھا۔ کہتے ہیں کہ میں مصر میں پاکستان کا سفیر تھا تو مصر کے لوگوں ،جن میں مشہور اخبار کے ا یڈیٹر بھی شامل ہیں ان کے ذہن بھی ایسے ہی خیالات تھے۔ میں نے ان کو ایک کتاب سے پڑھ کر سنایا کہ بھائی پاکستان کا مطلب کیا ”لا الہ الاللہ” کے نام سے بنا ہے ۔اس میں معاشی ترقی کہاں سے آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ پھریہ کتاب میں نے ان کو تحفے کے طور پر پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ میں ١٩٥٨ء لاء کالج کا طالب علم تھا ۔اس وقت میری علامہ محمد اسد سے ملاقات ہوئی تھی۔میں نے دیکھا کہ علامہ محمد اسد اور فلطین کے مفتی اعظم حیسنیپر اس وقت کسی کو اعتراض نہیں تھا۔راجہ ظرالحق نے کہا کہ لیاقت علی خان نے کہا تھا کہ ہمیں امریکا یاروس کی طرف دیکھنے سے بہترہے کہ ہم اپنے پیغمبرۖ کی تعلیمات طرف دیکھیں۔ راجہ صاحب

٣
نے کہا کہ تیسری دنیا پر قبضہ کے لیے استعمار نے پہلی دوسری جنگ کی تھی۔ ہمارے ملک میں سودی بنکاری چل رہی ہے جبکہ دنیا میں٨٠ غیر سودی نظام پر کامیابی سے چل رہے ہیں۔ اب دینا کا رجوع اسلام کی طرف ہو رہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے اختتامی تقریر میں شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ان شاء اللہ آئندہ میں بھی انسٹیٹویٹ آف پالیسیزاسٹڈی اسلام آباد کے اشتراق سے ہم پاکستان کے اسلامی تشخص اور تحریک پاکستان میں مد دکرنے والے معروف لوگوں کے متعلق پروگرام کرتے رہیں گے۔ دوسری باتوں کے علاوہ انہوں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ کتنا اچھاکہ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں علامہ محمد اسد کے نام کی چیئر رکھی جائے۔ بہر حال میں اپنے طور پر اسلام نظریاتی کونسل کی لائیبریری کو علامہ محمد اسد کے نام کرنے کااعلان کرتاہوں۔لائیبریری کی علامہ محمد اسد کے نام سے وابستگی اور شناخت کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ اس اعلان کو حاضرین نے بہت پسند کیا اور تالیں بجا کر اس کی بھر پور تائید کی۔ آج کا پروگرام اختتام کو پہنچا ۔ آخر میںمہمانوں کے لیے ایک پر تکلف ریفریش منٹ کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
Chairman guest leader Mir Afsar Aman pakistan program پاکستان پروگرام چیئرمین رہنما مہمان
Judiciary
Previous Post اختیارات سے تجاوز
Next Post تناپ ملک بھر میں نفاذ اردو کمیٹیوں کی تشکیل کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ حافظ عتیق الرحمن
Atiq ur Rehman

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close