
تحریر : منظور احمد فریدی
اللہ جل شانہ کریم کی بے پناہ حمد و ثناء اور ذات کبریا وجہ تخلیق کون و مکان جناب محمد رسول اللہ پر کروڑ ہا بار درود و سلام کے نذرانے پیش کرنے کے بعد راقم نے آج پیپلز پارٹی کے شریک چئیرپرسن جناب زرداری صاحب کا بیان پڑھا جس میں کہا گیا کہ وہ جمہوریت کی سلامتی کے لیے حکومت کے خلاف کسی قسم کی کوئی احتجاجی تحریک شروع نہ کرینگے میرے قارئین کرام کو شائد یاد ہو کچھ عر صہ قبل بندہ نے میثاق جمہوریت کو مک مکا کا انوکھا معائدہ لکھ کر ایک کالم ترتیب دیا تھا وطن عزیز مملکت خداداد پاکستان جو صرف کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کا نعرہ مستانہ جب بلند ہوا تو برصغیر کے مسلمانوں نے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردیا اور اس ریاست کے حصول کے لیے مسلم لیگ کے شانہ بشانہ کاوشوں میں مگن ہوگئے اسی کلمہ کی بنیاد پر حاصل ہونے والی ریاست کی یہ بد بختی ہی رہی کہ اسے پہلے دن سے ہی اسلام سے نابلد جاگیر دار طبقہ نے اپنی گرفت میں لے لیا اور 1947 سے 2017 تک اسلامی قدروں کے مطابق زندگی بسر کرنے والے افراد اور اسلامی شعائر اپنانے والے باشندوں کو تذلیل کا ہی سامنا کرنا پڑا۔
تاریخ ایک ایسا مضمون ہے جو کسی کی طرف داری یا حق تلفی نہیں کرتا حصول ملک کی تحریک میں ایسے سینکڑوں واقعات ہیں جو ا س بات کا واضح ثبوت ہیں سب سے بڑی مثال اوکاڑہ کے مولانا شبیر احمد عثمانی ہیں جنہوں نے اس تحریک میں اپنا سارا مال و زر لگایا اور عالم دین ہونے کی حیثیت سے قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ رہے جلسوں میں قرآن مبین کی آیات سے لوگوں کو ہجرت پر آمادہ کیا اور جب یہ ملک بن گیا پہلی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا صاحب بڑے ناز سے شریک ہونے گئے تو انکی وہ تذلیل کی گئی کہ مولانا صاحب کراچی کو ہی چھوڑ آئے اور اوکاڑہ آکر مسجد عثمانیہ (گول مسجد )کی بنیاد رکھ کر اسکی تعمیر و ترقی میں مگن ہوگئے۔
اسکے بعد علماء کو اقتدار سے ایسے الگ رکھا گیا جیسے کسی ملک میں اقلیتوں کو رکھا جاتا ہے مرد مومن جناب ضیاء الحق کے دور میں جب علماء کرام نے شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے زور دیا تو شرعی حدود کی چند شقیں نافذ کرکے اونٹ کے منہ میں زیرہ دیا گیا اور بہت سے علماء کرام کو خریدنے کی کوشش کی گئی جن میں سے چند ایک نے گنگا میں ہاتھ دھو لیے اور آج تک ہر حکومت سے اپنا فدیہ لے رہے ہیں یہ ابن الوقت لوگ تھے جنہوں نے قیام پاکستان کی تو مخالفت کی تھی مگر اسکے ثمرات سے بہرہ مند ہونا اپنا وراثتی حصہ سمجھتے ہیں بات ہورہی تھی۔
زرداری صاحب کے آنے اور حکومت مخالف تحریک چلانے کی تو یہ بات میثاق جمہوریت میں طے ہے کہ دونوں بڑی پارٹیاں مسلم لیگ اور پی پی پی ایک دوسرے کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرینگی ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری ایان علی کا معاملہ اور دیگر کچھ ایسے ہی مسائل کھڑے ہوئے تو بلاول نے چلانا شروع کردیا جسے چوہدری نثار صاحب نے بچہ قرار دے دیا اور پھر آمد ہوئی اس صدر مملکت کی جسے ٹین پرسینٹ اور جانے کیا کیا کہا گیا مگر وہ اپنے سارے ناموں کو جاننے کے باوجود اپنے ارادوں کا پکا نکلا ائیر پورٹ کے لائونج میں جلسہ کرکے کہا کہ میں میاں برادران کو سبق سکھانے آیا ہوں اس جملہ سے دوسری اپوزیشن جماعتیں شائد خوش ہوئی ہوں مگر چارٹر آف ڈیمو کریسی کو جاننے والے احباب کو یہ پہلے ہی علم تھا کہ وپ چھوٹا میاں جو اپنی وزارت اعلیٰ جانے پر لوگوں کے ساتھ دیوانہ وار اے جی آفس چوک میں کھڑا حبیب جالب کی نظم باغی پڑھتا ہے اور سرعام کہاجاتا ہے کہ زرداری میں تجھے سڑکوں پر گھسیٹونگا۔ پھر اسی زرداری کی ضیافت میں اپنے ہاتھوں سے طرح طرح کے کھانے پیش کرتا ہے تو بڑے میاں صاحب کتنا ادب لحاظ کرتے ہونگے۔
بس ملکی معاملات اورعمران کے دھرنوں کی وجہ سے دونوں بھائیوں کو سبق بھول گیا جو مسٹر کو خود آنا پڑا اور یہ کہا کہ میں سبق پڑھانے آیا ہوں دراصل الفاظ کا ہی ہیر پھیر تھا ورنہ وہ کہتے کہ میں سبق یاد کروانے آیا ہوں تو بھی ٹھیک تھا اور رات جب میاں صاحبان کے کار خاص فضل الرحمن کو یہ ٹارگٹ دیا گیا تو پلک جھپکتے ہی یہ معاملات طے پاگئے۔
آخر میں ہمارے دیہاتی علاقہ کے چار بھائیوں کا چھوٹا سا قصہ ایک ہی فیملی کے چار بھائی چور تھے چوریاں کرت کرتے جب وہ بدنام ہوگئے تو عمر میں دو بڑوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ دو چھوٹے چوری جاری رکھیں گے اور بڑے مسجد میں باقاعدہ نماز پڑھنے جایا کرینگے مگر ایک شرط ہے کہ لوگوں کہ سامنے وہ ایک دوسرے کو حاجی صاحب کہہ کر مخاطب کرینگے والسلام۔
تحریر : منظور احمد فریدی
