ہر گھڑی کا حساب ہو جیسے
زندگی احتساب ہو جیسے
جتنے الزام دے دئیے تم نے
یہ بھی کارثواب ہو جیسے
اس طرح راستے میں چھوڑدیا
ساتھ چلنا عزاب ہو جیسے
دیکھ پائے نہ تم کو جی بھر کے
جاگتی آنکھوں کا خواب ہو جیسے
چاند نکلا ہے ڈھونڈنے اس کو
آج وہ بے حجاب ہو جیسے
ہر طرف ملگجااجالا ہے
چاند بھی زیر نقاب ہو جیسے

تحریر: مسز جمشید خاکوانی
