Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

روشن چہرا

February 26, 2014February 26, 2014 0 1 min read
Safder Hydri
Love
Love

زندگی سے کسے پیار نہیںہوتا ۔ جانوروں، پرندوں، حشرات حتیٰ کہ نباتا ت تک میں اپنی بقا کی جدوجہد اور اسکے دفاع کا جذبہ پوری طرح کارفرما بلکہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ زندگی سے نفرت بیمار ذہنوں کی عکاس تو ہو سکتی ہے بیدار ذہنوں کی ہرگز نہیں ۔سو یہ ثابت ہوا کہ یہ ایک مثبت جذبہ ہے جو لائقِ دادو تحسین ہی نہیں لائق ِ تقلید بھی ہے۔ ہاں مگر زندگی سے پیار جب موت سے انکار بن جائے تو انسان کے افکار ہی بدل کر رہ جاتے ہیں باالفاظِ دیگر یہ حسینی نہیں رہتے یزیدی ہو جاتے ہیں انسان کواگر مرنا نہ ہوتا تو جینا کبھی بھی اسے مرغوب نہ ہوتا۔

جبھی تو یہ کہا گیا ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔لیکن جب یہ ضد انکار کی زد میں آتی ہے تو ”اپنے اپنے مقام پر تم نہیںیا ہم نہیں ”کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔موت کا انکار ممکن لیکن اس سے فرار بالکل بھی نہیں۔آئے روز اپنے کندھو ں پراپنے پیاروںکی میتیں اٹھا کر بھی ہمارا یہ یقین کمزور نہیں پڑتا کہ ہمارے قدموں تلے بچھا زمین کا یہ تخت کبھی بھی ریت کی طرح سرکے گا نہ ہماری ٹانگیں ہمارے اپنے وزن کے بوجھ سے کبھی لڑکھڑائیں گی۔ہزاروں اعلانات سنے،ہزاروں چہرے موت کی گرد نے دھندلائے۔۔۔۔ پھر بھی یہ دل بضد ہی رہاوے بلہھے آساں مرناں ناہیں گور پیا کوئی ہور
میرے مولا کا یہ فرمان آب ِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے” وہ سب سے بڑی حقیقت جس کا سب سے بڑھ کر انکار کیا گیا،موت ہے۔

سردار پلو خان کربلائی کا خاندان خاندانی نجابت، لیاقت، شرافت، سیادت، سماجی و دینی خدمت، حمیت اور علاقائی قیادت کے حوالے سے کسی تعارف کا ہرگزمحتاج نہیں۔ علی پور کی تاریخ انکی خدمات کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ اور کیوں نہ ہوعلاقائی تاریخ کا دامن ان کے ذکرسے چھلکتا ہے۔ اورانکے کارنامے اس تاریخ کے سرنامے کی حیثیت رکھتے ہیں۔انکی خدمات کاسرکاری سطح پر اعتراف وہ ذیلداری بھی تھی جو نسل در نسلانکے خاندان میںمنتقل ہوتی رہی۔کسی نے کہا تھا”فخر ہوتا ہے گھرانے کا سدا ایک ہی شخص”۔مقام ِ حیرت و انبساط ہے کہ اس خاندان کے افق پر ایک سے بڑھ کر ایک ستارہ ابھرا اور یوں چمکا کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوا جاتا ہے کہ کس کو اس خاندان کا حقیقی نمائندہ و ترجمان کہا جائے۔

تحریک پاکستان کے عظیم رہنمااور قائدِ اعظم کے جانباز سپاہی و جانثارساتھی سردار کریم بخش انہی کے فرزند تھے ۔تحریکِ پاکستان میں انکی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں (انہی کے گھر میں اللہ تعالی ایک ایسا بیٹا بھیجا جس نے آگے چل کر اس خاندان کا وقار بھی بننا تھا اور سنگھار بھی )مگر افسوس نااہل و محسن کش قوم اور متعصب مورخوں نے ان ناقابل ِ فراموش شخصیات کو فراموش کر ڈالا ۔جو قوم اپنے ماضی کو بھلا دے انکا وہی حشر ہوتا ہے جو ہم اپنی قوم کا بچشمِ خود مشاہدہ کر رہے ہیں۔ افسوس سامراج کو ناکوں چنے چبوانے والے ”کعبے کے بتوں ”سے ہا ر گئے۔لیکن یہ ہار مجاہدوں کے گلے کا سنگھار ہے اور مفاد پرستوں کے گلے کی رسی۔میرے دادا زندہ ہوتے تو ان کے لب پر یہ شکوہ ہرگز نہ ہوتا کہ وہ حق پرست تھے مفاد پرست نہیں۔

انکی خدمات انکے ملی جذبے کے تحت تھی نہ کہ کسی دنیاوی مفاد کے سبب ۔آج انکا پوتا اگر شکوہ کناں ہے تو محض ریکارڈ کی درستگی کے لئے ۔کیسا غضب ہے اورکیا عجب کہ قومی تاریخ میں ان لوگوں کے نام تو درج ہوں جن کا اعزاز محض یہ ہے کہ ا نہوں نے (بقول خود انکے ) ایک با ر قائدِ اعظم کا خطاب سنا تھا یا ان چڑھتے سورج کے پجاریوں کے کہ جو ہوا کے رخ پر اپنا رخ پھیر لیا کرتے ہیں ،لیکن ان کا ذکر ڈھونڈے سے نہ ملے جنہوں نے ”دامے درمے سخنے قدمے ” اس مملکتِ خدادا کے قیام ،حفاظت اور مضبوطی کے لئے کام کیا ہو۔ اس اندھیر نگری پرمجھے اپناہی ایک شعر رہ رہ کر یاد آتا ہے جو راہی نہ تھے راہنما بن گئے ناخن کٹا کے شہیدِ وفا بن گئے۔

Movement Of Pakistan
Movement Of Pakistan

تحریک پاکستان کے اس عظیم مجاہد کاذکر بس یہیں تک کہ ان کے حوالے سے ایک تفصیلی آرٹیکل جلد ہی ”ا لمنتظر ” کے قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کروں گا، انشاء اللہ۔ سرِدست راقم کوحسبِ فرمان مولانا باقر صاحب ،اپنے بابا پر چند سطور لکھنی ہیں ۔اگر قبلہ صاحب مجھے نہ جھنجھوڑے تو یقیناً یہ مضمون اس ماہ کے شمارے کی زینت نہ پاتا۔ بابا کی جدائی کا غم اور غم ِروز گار مل کر اس کام کو دشوار تر کر چکے تھے ۔ایک لحاظ سے میں ہمت ہار چکا تھا۔کئی بار کوشش بھی کی لیکن قلم سے الفاظ نکلنے سے پہلے جذبا ت امڈ آتے اور میرے ہاتھ روک باندھ دیتے۔پہلی بار احساس ہوا لکھنا کوئی آسان کام ہرگز نہیں ۔اپنے قریبی لوگوں کے بارے میں تو کبھی بھی نہیں۔

یہ میری زندگی کا مشکل ترین مرحلہ ہے قلم ، ہاتھ ،ذہن ،الفاظ ۔۔۔۔کچھ بھی تو میرے اختیار میں نہیں رہے۔بابا کے بارے میں کیا لکھوں اور کیا نہیں یہ فیصلہ کرنا بھی میرے بس میں نہیں ۔یہ ضرور کہوں گا کہ جیسے میرے دادا بابائے قوم کے سپاہی تھے ایسے میرے بابا قائدِ محترم کے سپاہی ۔بھائی سجاد علی حیدری بتاتے ہیں کہ قائد محترم لاہور میں بابا کی عیادت کے لئے آئے تو خود سے بے سدھ میرے بابا یوں اٹھ کر بیٹھ گئے جیسے انہیں سرے سے کوئی تکلیف کبھی تھی ہی نہیں ۔یایوں محسوس ہوتا تھا جیسے اپنے قائد کو دیکھ کر میرے بابا کے سارے دلد ر د دور ہوگئے ہوں۔بابا کی شخصیتکا یہ پہلو حد درجہ نمایاں ہے کہ انہوں نے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔وفاداری، مولا عباس کے اس غلام کی سرشت میں تھی اور یقیناًیہ سرکار ِ وفا مولاغازی عباس علمدار سے انکی نسبت کا فیض تھا(انکے بارے میں تھا لکھتے ہوئے دل کو کچھ ہونے لگتا ہے۔

جب بدباطن و بد شرست لوگوں نے اپنے خبث ِ باطن کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ملتِ تشیع کی پیٹھ میں خنجر گھونپاتو کچھ دیر تک تویوں لگا جیسے یہ سیاہ کار اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو گئے ہوں ۔کتنے ہی زاہدوں کا باطنی روگ انکے چہرے غبار آلود کرگیا (اور آج تک ندامت سے ان میں سے بہت سوں کی پیشانیاں عرق آلود ہیں )تب بھی میرے بابا کے قدم ایک لمحے کو بھی نہ لڑکھڑائے نہ ایک پل کیلئے ہمیں یہ گمان ہوا کہ وہ اپنے قائد کوایسے مخدوش حالات میں کبھی تنہا چھوڑیں گے۔قیادت کے حوالے سے انکا یہ غیر متزلزل طرز فکر انکی شخصیت کے وقار کے لئے تنہا کافی ووافی ہے اور بھلائے نہیں بھولتا ۔وہ کچھ اور نہ بھی کرتے تو انکی روحانی بقا کے لئے بس یہی حوالہ بہت تھا۔یہ بات کس قدر لائقِ اتباع ہے کہ انتہائی نازک حالت بھی انہوں نے اپنے قائد سے آئندہ کا پروگرام پوچھ بیٹھے ۔جس پر قائدِ محترم بے ساختہ کہہ اٹھے ”سردار صاحب آپ کے لئے کوئی پروگرام نہیں” ۔اگر آپ لوگ اس لمحے کی تصویر مشاہدہ فرمائیں تو بابا کو پہچان نہ پائیں گے(یہ تصویر اس تحریر کے ہمراہ ہے۔

انکی مذہبی خدمات کا تذکرہ میں کیا کروں کہ ملت اس بارے میں کم از کم مجھ سے تو کہیں زیادہ آگاہ و واقف بھی ہے اور معترف بھی۔فرشِ عزا پر ہی میں نے کسی بزرگ کے یہ جملے سنے اور فوراًقائل بھی ہوا کہ میرے والد اپنے عظیم والد سے کہیں بڑی شخصیت کے مالک تھے کہ انہوں نے بہت پر آشوب دور پایا اور آخری دم تک ثابت قدم رہے ۔خود مجھے اپنے بابا کی عظمت اورمقام کا ٹھیک سے اندازہ تب ہوا جب وہ کسی انجانی دنیا کا قصد کر چکے تھے۔ انکے آخری ایام کی رودا اگلے کسی شمارے میںقارئین کو ہدیہ کروں گا کہ ان ایمان افرز واقعات کا قرطاس پر نکھرنا اور مثل خوشبو بکھرنا ایمان کی تازگی کا موجب ہوگا۔

مجھے رہ رہ کراپنی دادی اماں کا خیال آتا تھا کہ جن کا اکلوتا بیٹا انکی زندگی میں ہی اس دنیا سے منہ موڑ گیا ۔سچ کہتے ہیںکہ اس دنیا میں آنے کی ترتیب ہے جانے کی نہیں ۔اگر یہ اختیار کسی انسان کے پاس ہوتا تو والدین یہ کبھی نہ ہونے دیتے کہ ان کے جیتے جی انکی اولاد منوں مٹی تلے جا چھپے اور وہ زمین پر بیٹھے انکا سوگ مناتے رہیں ۔آج وہ ہاتھ خالی ہیں جنہوں نے بابا کو اٹھا یا تھا،انکے لاڈ سہے تھے۔وفات سے کچھ دن پہلے، لاہور سے واپسی پر بابا اپنی ماں کے کمرے میں لائے گئے تھے۔وہاں وہ کافی دیر موجو د رہے ،ماں کے پہلو میں لیٹے تو یوں لگا جیسے وہ پھر سے بچہ بن گئے ہوں ۔تھک ہار کر ماں کی گود میں سو جانا چاہتے ہوں ۔یوں لگا جیسے وہ آخری لمحات صرف ماں کے پاس رہ کر بتا دینا چاہتے ہوںاور یہ بتا دینا چاہتے ہوکہ انسان کسی بھی حالت میں ہو،اپنی ماں کو ہرگز بھلا نہیں سکتا ۔اسکا عملی اظہار اس و قت ہوا جب بڑے بھائی حیدر علی حیدری کے باربار اصرار پر بھی وہ وہا ں وہیں رہنے پر بضد رہے ۔اس وقت وہ مجھے کسی بچے کی ماند ضدی دکھائی دیئے۔بھائی کے اصرار پر انکے مختلف جملے ۔”کھڑ وے یار کھڑ”۔کھڑ میکوں سردی لگی پئی اے ”،میں کبھی بھلا نہیں سکتا ۔میں ہی کیا جوبھی وہاں موجود تھاکبھی فراموش نہیں کر پائے گا ۔انکے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپنی دادی اماں سے جب میں نے انکی تاریخِ پیدائش پوچھی تو انہوں نے روتے ہوئے بتایا ”تیرے بابا اسی سا ل پیدا ہوئے جس سال پاکستان بنا تھا ۔میں نے پاکستان اور تیر ے بابا کو ایک ساتھ پالا ہے بیٹا۔

یہ ہماری تاریخ کا بد ترین المیہ ہے کہ جن لوگوں کے دامن تحریک پاکستان کی پرزور مخالفت کے حوالے سے تار تار ہیں ،آج انہی کے سیاسی وارثین ہمیں اسلام کا سبق پڑھانے بلکہ سبق سکھانے کے درپے ہیں ۔بے ضمیری ملاحظہ ہو کہ شرمندہ ہونا تو رہا ایک طرف گاہے بگاہے یہ فرما کر اپنا خبث ِ باطن ایکسپوز فرماتے رہتے ہیں کہ ان کے آباء واجداد پاکستان بنانے کے جرم میں شریک نہیں ۔طالبانی کلچر کے تمام کار پرداز اور انکے حامی سیاسی و مدرسی علماء اسی سوچ کے ناصرف حامل ہیں بلکہ پرچارک بھی۔ سچ ہی تو کہا ہے شاعر نے کہ
نیرنگی سیاستِ دوراں تو دیکھئے منز ل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے

انہی بے ضمیر لوگوں نے ہر بار میرے بابا کا راستہ روکا اور انہیں سخت سے سخت آزار پہنچا نے سے کبھی بازنہیںآئے۔انہیں بارہا پابندِ سلاسل کرانے اور پسِ زنداں بھجوانے میں اس امن دشمن و انسانیت مخالف جتھے نے کوئی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ناجانے کتنی بار انہیں جیل جانا پڑا۔ تین باران پردفعہ تین سو دو کا نامز پرچہ ہوا ۔امام سجادعلیہ السلام کے اس سچے پیروکار نے خندہ پیشانی سے یہ سب سہا ۔نہ کبھی ہمت ہار ی نہ ہار مانی کہ طاغوت کو انکارانکی رگوں میں خون کر طرح رواں رواں تھا ۔اپنی عمر کا آخری ایام میں بھی وہ ایک قتل کے مقدمے میں نامزد تھے ۔کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ پنجاب حکومت کے لے پالک دہشت گرد کی علی پور آمد کے دن جو وقوعہ علی پور کی سرزمین پر پیش آیا،میرے بابا انتظامہ کے ساتھ ایک مسجد موجود تھے ۔اسی دوران وائرلیس پر انکی ڈی پی او سے اٹھارہ منٹ گفتگو بھی ہوئی۔اور پھر خبر آئی کہ باباکے خلاف قتل کا نامزد پرچہ ہوچکا ہے۔پچھلی گرمیوں میں کئی ماہ انہیں پسِ زنداں رہنا پڑا جس نے بابا کی صحت کا نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا یا۔وہ جو اے سی کے بغیر یہ گرم موسم گزار نہیں پاتے تھے،جیل کی تنگ و تاریک اور حبس زدہ کوٹھڑی میں ان پر کیا بیتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا انتہائی آسان اور اسے جھیلنا حد درجہ مشکل امر ہے ۔۔۔۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی ماہ میں وہ آدم زاد سے محض ایک یاد میں بدل کررہ گئے۔ایک زندہ و جاویدیاد ،ہر دم توانا یاد،ہر دم جواں بہت سوں کے لئے کہانی ختم ہوئی لیکن ہمارے لئے تو اس کا ابھی آغاز ہو ہے۔

انکی یا د ہمیں کب کب رلائے گی ۔ہم خود بھی اس لاعلم ہیں کہ ”محبت تو اپنے اختتام تک کھلتی ہی نہیں ”۔وہ سب لوگ بہت خوش نصیب نہیں جنہوں نے رویا اور اپنا غلط کر لیا ۔کہ غم تب کب کم ہوجا یا کرتا ہے جب دل خم ہو جائے ،آنکھ نم ہو جائے ۔لیکن ہمیں تو مولا کے اس زوار و عزادار کی یا دکو ہردم زندہ رکھنا ہے،یاد کو بھی اور اپنی آنکھوں کو بھی کہ ان کی شخصیت دوسروں کے بالعموم اور ہمارے خاندان کے لئے با لخصوص چراغِ راہ ہے بھی ہے چراغِ منزل بھی۔

جو قوم اپنے ماضی کی حفاظت نہ کر پائے اس کا حال بد حال ہوتا ہے اور مستقبل گمنام بلکہ۔۔۔معدوم ۔جس قوم کی تاریخ کا قافیہ بدل جائے اس کا جغرافیہ کب سلامت رہ سکتا ہے ؟ہمارابہت کچھ تو کب کا بگڑ چکا ہے اور جو باقی بچا ہے اسے ہمارے دشمن اور دوست نما دشمن(مذہبی و سیکولر انتہا پسندطبقات)بگاڑنے ہی نہیں مٹانے پر تلے ہیں۔ ہمارا ناطہ،واسطہ اور رابطہ اپنے ماضی و محسنانِ ملت سے نہ ٹوٹتا تو وقت ہم پر یوں قیامت بن کر کبھی نہ ٹوٹتا۔افسوس اتنا کچھ گنوانے کے بعد بھی تاحال جڑ نہیں سکا۔ کیا قیامت ہے کہ اس کا احساس تک ہم میں اب تک بیدارنہیں ہو ا۔ہمارا بے سمت میڈیا بھی اس سلسلے میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔اکثر یت کا کردار گھناؤنا ہی نہیں گمراہ کن بھی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محب وطن افراد کو آگے آنے دیا جائے ۔لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ولن کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی روش ترک کی جائے گی کہ اس طرزِ عمل نے درد مندانِ قوم کا بہت دل دکھایا اور سینہ جلایا ہے۔

میرے بابا کی وفات پر تعزیت کے لئے آنے والے ایک اجنبی شخص نے انکا ذکر خیر کیا اور ایک واقعہ سنایاجو بیان کئے بنا رہ نہیں پایا۔ بات کرتے کرتے انکی آواز بھراگئی تو میں نے بے اختیار انکے چہرے پر نظر کی ۔آواز کے ساتھ ساتھ ان صاحب کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں ۔فرمانے لگے ”یہ غالباً سن 86کا ذکر ہے ۔ضیا کا آمرانہ دور تھا ،شہید عارف الحسینی ملتا ن آئے ہوئے تھے ۔قلعہ کہنہ قاسم باغ میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام تھا ۔اسی دن یہ آمر بھی ملتا ن آیا ہوا تھا ،سو شہر بھر میں ہائی الرٹ تھا۔اسٹیج سیکریٹری آپ کے بابا تھے ۔انہوں نے اپنی خطابت کا وہ جادو جگایا کہ حاضرین قائدشہید کے ساتھ ساتھ انکا خطا ب بھی کبھی بھلا نہیں سکتے۔ ہم نے اپنے اپنے گھروں کا رخ کیا تو تب بھی انکی آواز کانوں میں گونجتی محسوس ہوتی تھی۔

قارئین باتمکین !یہ میرے چند ٹو ٹے پھوٹے الفاظ ہیں جو میں تبرکا تحریر کئے ۔ان میں آپکو ربط کی شدید کمی محسوس ہوئی ہو گی ۔جب ضبط کا یارا نہ ہو تو ربط میں ایسی کمی کچھ ایسی غیر فطر ی بات بھی نہیں ۔بابا مجھے لکھنے کی تحریک دلایا کرتے تھے۔اورمعاصر ”المنتظر” میں میری تحریر دیکھ کر بہت خوش ہوا کرتے تھے۔مجھے دینی موضوعات پر زیادہ سے لکھنے کی نصیحت بار بارکیا کرتے۔مقام شکر ہے کہ میںنے انکی زندگی میں ہی ان کی خواہش کسی حد تک پوری کی۔آئندہ بھی اپنے اس محبوب مجلے میں لکھتا رہوں گا ۔آپ نے اس کالم کی پیشانی پر میرا نام صفدرعلی حیدری کی بجائے ”تاثیر حیدری ”لکھا گیاہے ۔یہ دراصل بابا کا حکم تھا کہ میںروزنامہ ” خبریں ” میں اپنے اصل نام سے لکھوں اور اس رسالے میں اپنے قلمی نام سے ۔سو انکی خواہش کے احترام میں آج کے بعداس اسالے میں میرے آرٹیکل آپ اسی نام سے ملاحظہ فرمائیں گیا۔انشاء اللہ آخر میں آپ سے وہ جملہ عرض کرتاہوا اجازت چاہوں گا جو مجھے میرے چھوٹے بھائی عرفان علی حیدری نے اس وقت کہا تھا جب میں ابو سے ملنے علی پور کی سمت روانہ تھا ،جس کی گونج سے میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ،شاید آئندہ بھی بھیگ جاتی رہیں صفدر ! آ ونج یتیم تھی گیس یوں لگتا ہے کہ یہ دو شعر کسی نے شاید میرے بابا کے لئے کہے گئے دنوں کا تھکا مسافر تھکا کچھ ایسا کہ سو گیا ہے خودا پنی آنکھیں تو بند کر لیں ہر آنکھ لیکن بھگو گیا ہے

آسمانوں سے اتارے ہوئے روشن چہرے کھینچ لیتی ہے زمیں او ر یقیں ٹو ٹ ہے

Safder Hydri
Safder Hydri

تحریر: صفدر حیدری

Share this:
Tags:
counter leadership life quality تقلید زندگی ضد علاقائی قیادت کمزور کیفیت
Pakistan Navy
Previous Post پاک بحریہ کا سمندر میں مختلف میزائلوں کا کامیاب تجربہ
Next Post نائیجیریا: شدت پسندوں کا اسکول پر حملہ، انسٹھ طلباء ہلاک
Nigeria Strike

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close