Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

زندگی …قتل گاہ

April 9, 2015 0 1 min read
Darkness
Darkness
Darkness

تحریر : مریم جہانگیر
رات کا عمیق اندھیرا روشنیوں کو نگلنے کہ در پے تھا مگر فطری قمقموں یعنی چاند ‘ ستاروں اور برقی قمقموں نے شہر کے بیچوں بیچ بنے اس پارک کو روشنی کے ہالے میں مقید کر رکھا تھا۔ تقریباً رات کے دس بجے ایک ٹیکسی پارک کے آہنی دروازے کے سامنے آ کر رکی۔ ٹیکسی ڈرائیور کی پیشانی پر دن بھر کی تھکاوٹ مانند افشاں بکھری ہوئی تھی مگر طمانیت آنکھوں کے سرخ ڈوروں میں ہلکورے لے رہی تھی شاید اس کا سبب یہ تھا کہ وہ پیسے کیلئے پیٹ بھرنے کیلئے کوئی سواری لے کر پارک میں نہیں آیا تھا بلکہ اپنی جوان ہوتی دو بیٹیوں اورنصفِ بہتر کے ساتھ دن بھر کی تھکن اتارنے آیا تھا۔ رات کے اس پہر یہاں آنے کا مقصد شاید یہ بھی تھا کہ اس وقت داخلی دروازے پر چوکیدار صرف چوکیداری کرتا تھا اور آنے والوں کو ٹکٹ نہیں بیچتا تھا۔ لا اْبالی مگر حساس ماہین نے دھیرے دھیرے چلتے ہوئے داخلی سیڑھیاں عبور کیں اور نرم نرم گھاس پر اپنے پیر رکھ دئیے اس کے عقب میں بڑی بہن شاہین اور اسکی روز بروز کمزور پڑتی ماں دھیرے دھیرے باتیں کرتے چلے آ رہے تھے۔ عبدالرشید نے گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی اور ان کے پاس آ گیا۔ پندرہ سالہ ماہین کے پیچھے چلتے چلتے وہ پارک کے نسبتاً سنسان گوشے میں آ گئے جہاں جھولے لگے ہوئے تھے۔ گھاس پر بیٹھ کر عبدالرشید انہیں دن بھر کی سواریوں کے قصے سناتا رہا۔ کسی برقعے والی کا قصہ جو عبدالرشید کو ڈر کے مارے گھوری جا رہی تھی۔

اس کی گھبراہٹ اس کے پہلی دفعہ تنہا ٹیکسی میں بیٹھنے کی چغلی کھا رہی تھی۔ ان بڑے میاں کا قصہ جنہیں بات سننے کیلئے کان کے آلے کی اشد ضرورت تھی مگر وہ اسے جیب میں رکھنا زیادہ مناسب سمجھتے تھے اور نتیجتاً دو جمع دو کا جواب آٹھ دیتے تھے۔ ابا وہ سامنے سے پانچ روپے والی آئسکریم تو لادو۔شاہین نے باپ سے خواہش کا اظہار کیا۔ آہ۔۔۔۔غریب بچوں کی غریب سی خواہش۔۔۔حساس بیٹیوں کے نازک جذبات اور ہاں احساس کرنے والے درد مند دل۔۔۔ عبدالرشید مسکرایا اور اْٹھ کر چل دیا۔ پارک سے باہر جہاں اونچی اونچی دوکانوں کے ساتھ کون آئس کریم والے کا کھوکھا نما ڈربہ ٹائپ ٹھکانہ تھا۔ عبدالرشید کے جاتے ہی ایک گیارہ بارہ سالہ بچہ ان کے پاس آ گیا۔ اس سردی کے موسم میں جب تن ڈھکنا اور ڈھانپنا کپڑوں کا مقصد نہیں ہوتا بلکہ جسم کو ٹھٹھرنے سے باز رکھنا اور گرم رکھنا اصل مقصد ہوتاہے۔ اسی سردی کے موسم میں وہ معصوم ننگے پیر تھا اس کے پاؤں میں جوتی نہیں تھی۔ کالے ‘ کھردرے پاؤں۔۔۔اسکی شفاف آنکھوں سے ذرا میل نہیں کھاتے تھے۔ شلوار قمیض میں ملبوس اس بچے کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا اور ہاتھوں میں چند باسی نمکو کے پیکٹس چھوٹے چھوٹے ان لفافوں کو موم سے بنایا گیا تھا۔

اور پھر شعلوں سے بند کیا گیا تھا۔ یعنی جدید حفظانِ صحت کے اصولوں سے واضح انحراف۔۔۔۔قمیض پر بھی پیوند لگے ہوئے تھے۔ خاکستر ی رنگ کی قمیض اب قریب قریب کالی ہو چکی تھی۔ گردن پر میل کے نشان تھے ایسا گہرا میل جو شاید مانجھنے سے بھی نہ اترے۔ ہاتھوں پر پڑی کھردری لکیریں دور سے اس قدر واضح تھی کہ دیکھنے سے بھی وحشت ہوتی تھی۔ پپڑی جمے ہونٹ اسی لمحے ہلے تھے جب ماہین اسکا تفصیلی جائزہ لے رہی تھی۔ ”باجی جی لے لو پانچ روپے کا ایک پیکٹ ہے باجی لے لو”۔گڑ گڑاہٹ اور التجا سے ماہین کا دل پسیجا تھا مگر ماں کا تنبیہہ کرتا لہجہ گونج اٹھا ”ہمیں نہیں چاہئے۔”5روپے میں دو لے لو باجی’تم دو لے لو دیکھو آج صبح سے ایک بھی پیکٹ نہیں بیچ سکا۔میرے پیروں کو دیکھو سردی سے یخ ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ تمہارے پانچ روپے سے کوئی سستا سا جرابوں کا جوڑا لے لوں گا۔ جوتی تو پانچ روپے میں آ نہیں سکتی ”اس نے شاید اپنا ہی تمسخراْڑایا تھا۔۔۔”سنو تمہارا نام کیا ہے ؟”شاہین نے پوچھا ”نام ؟باجی نام کیا ہوتا ہے ؟باجی تم ہی لے لو ایک پیکٹ لے لو”۔ وہ شاید آگہی کی پست ترین سطح سے بھی نچلی زندگی بسر کر رہا تھا تبھی شناخت سے ناواقف تھا۔ ”تمہیں گھر والے کیا کہہ کر پکارتے ہیں ؟”اب کے ماہین نے سوال کیا ”باجی گْلو ”وہ شرمندہ سا ہو گیا شاید اپنی کم فہمی کا ادراک ہو گیا تھا اسے۔”چلو بھاگو یہاں سے ‘ ہمیں معاف کرو کہہ جو دیا نہیں چاہئے سمجھ نہیں آتا۔ کونسی زبان سمجھتے ہو۔گدھے کہیں کے الو کے پٹھے نہ ہو تو”۔اپنی بیٹیوں کی بڑھتی ہمدردی دیکھ کر کفایت شعار ماں کو اسے بھگانا ہی پڑا۔ عبدالرشید تب تک کون آئسکریمز لا چکا تھا۔ بیٹیوں کے منہ سوجے ہوئے تھے۔ باپ کے آتے ہی سارا قصہ حرف با حرف سنا دیا۔ عبدالرشید باہر نکلنے والا انسان تھا اور اسکی بیٹیاں صرف اپنے تین مرلے کے مکان سے مانوس تھی۔

Darkness
Darkness

تجربہ اور عمر انسان کو وہ کچھ سکھا ‘ پڑھا اور سمجھا دیتا ہے جو درس گاہیں لاکھ کوشش کے باوجود دماغ میں نہیں انڈیل سکتی۔ عبدالرشید وہاں سے اٹھا پارک میں تا حال موجود اس بچے کو تھاما اور بیٹیوں کے پاس لے آیا۔بیٹیاں خوش ہو گئی کہ شاید ننھے لڑکے کے پاؤں میں سردی لگنا کم ہو جائے گی اور انکی ماں تھوڑی سی خفا کہ یہ تو صرف پیسوں کا ضیاع ہے۔ ”ہاں بھئی تمہارے پاس جوتے نہیں ہیں ؟”عبدالرشید نے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا۔ نہیں جی اس نگوڑی سردی کا تو کوئی علاج نہیں ہے میرے پاس نہ ایندھن نہ کپڑا نہ رضائی نہ کمبل نہ جوتے نہ سویٹر’اب کے بچے کی آواز میں سرسراہٹ تھی کپکپاہٹ تھی۔ وہ اس بازو کو کسمسار رہا تھا جس میں وہ کالا سا بیگ تھاما رکھا تھا۔عبدالرشید نے آناً فاناً اس سے وہ بیگ جھپٹ لیا اور زپ کھول دی۔۔۔۔وہاں پر بیٹھے تین نفوس کی آنکھوں میں حیرانی اور ملامت تھی جبکہ جھوٹ کا احساس آنسو بن کر بچے کے گالوں پر بہہ رہا تھا اور عبدالرشید کی آنکھوں میں اطمینان تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔جوتوں کے 5,4جوڑے ان سب کا منہ چڑا رہے تھے دو بدرنگ جرابوں کے جوڑے بھی اپنی حالت زار پر شرمسار تھے جبکہ نمکو بکھری ہوئی پڑی تھی ان جوتیوں کے جوڑوں کے نیچے۔۔۔۔ماہین اور شاہین حیران تھیں کوئی اتنا جھوٹا بھی ہو سکتا ہے ؟وہ جو یہاں اس معصوم آنکھوں والے بچے کے پیچھے اپنی ماں سے ناراض ہوئے بیٹھی تھی اس بچے کا چہرہ کتنا مکروہ تھا۔ جھوٹ اور منافقت کی دلدل۔۔ دنیا۔۔۔۔وہ دنیا کا حصہ تھا۔منجھا ہوا کھلاڑی تھا۔ شناخت بتانے کی آگہی نہ تھی مگر مکروفریب کے کتنے گہرے جالے بْن لیتا تھا۔۔۔۔صرف پیسے کمانے کیلئے اس نے اپنے پاؤں کو سردی میں اکڑنے دیا ؟وہ اس کی سن ہوتی پیروں کی نمایاں رگیں جنہیں دیکھ کر رحم بجلی کے کوندے کی مانند ٹپک پڑتا ہے وہ رگیں مصنوعی تھی۔ وہ چاند نہیں تھا اندھیرا تھا۔گلو سے ان معصوم انسانوں کو گلہ ہو چکا تھا۔ گْلو بھی چہرہ پڑھنے کی صلاحیت رکھتا تھا وہ بے چارا ریت کی طرح پھسل گیا مصنوعی قلعے کی مانند ڈھے گیا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

پپڑی جمے ہونٹوں کو آنسو تر کر چکے تھے مگر تشنگی تا حال تشنہ تھی۔ اس نے لب کھولے انسان تو انساں لگتا تھا کہ ماحول پر بھی سوگواریت چھا گئی ہے۔گل شیر نام تھا میرا ماں شیر کہہ کر پکارتی تھی۔ مائیں کہاں جانتی ہیں کہ جن کے نام وہ شیر عظمت بلند رکھتی ہیں انہیں دنیا کتنی پستی میں گرا دیتی ہے۔ بلوچستان کے بہت بڑے وڈیرے کے گاؤں میں رہتا تھا اپنے بڑے بھائی کے ساتھ۔ماں باپ کہنے کو تو ساتھ تھے مگر وڈیرے کے غلام اور وڈیرے کے چاکر نوکر کتنی دیر آزاد رہ سکتے تھے۔۔۔۔کتنی دیر اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ میرے باپ نے ایک دن ایک بہت بڑی غلطی کر دی وڈیرے کے پالتو کتے کو باسی ہڈیاں ڈال دیں گناہ عظیم کر دیا (تمسخرانہ ہنسی) نتیجہ جانتے ہو کیا ہوا۔ اسی روز چند لمحوں بعد میرا بڑا بھائی اس کتے کا نوالہ بنا دیا گیا۔ ماں بن چادر کے روتی تڑپتی رہی۔ نو ماہ اسکی کوکھ میں پلنے والا بچہ ایک جنگلی کنے کا لقمہ بنا دیا گیا تھا۔ حادثہ ایسا تھا کہ ماں ہوش و حواس سے بیگانی ہو گئی۔ کتے کو دلار کرنے لگی کہ یہ میرا بچہ ہے اس کے جسم میں میرے بچے کا خون ہے (سسکیاں )باپ کے ضعیف ہاتھوں میں دوڑتی نسیں اسی لمحے بند ہو گئی۔ ایک دن باپ کی قبر پر سر پھوڑتی ماں بھی چل بسی۔ مجھے عزیزوں نے اٹھایا اور حادثوں کا شکار بنا دیا۔ ماں کے ممیرے یا چچیرے رشتہ دار تھے مگر میرے لئے سوتیلوں سے بھی بدتر ثابت ہوئے۔ مجھے فروخت درفروخت کیا گیا۔ سانحہ در سانحہ میرے بدن نے برتا۔ نجانے وہ میرا تیسرا مالک تھا یا دوسرا جس نے یہ حال کیا (وہ اپنے پیٹ سے قمیض ہٹا چکا تھا )اس کے پیٹ پر پڑے سگریٹ سے چلنے کے نشان انسانیت کا ماتم کر رہے تھے۔ ہاں ا یک وہ بھی تھا جو دن اور صبح کا کھانا دیتا تھا مگر اس لئے کہ رات کو میں خود اسکی خوراک بنتا تھا۔ کسی نے ہاتھ پاؤں توڑ کر مروڑ کر قمیض میں ایسے گھسا دئیے جیسے میں معذور ہوں اور سڑک پر بھیک مانگنے کیلئے کھڑا کر دیا۔ کسی نے دنوں فاقوں میں رکھا۔ یہ جومیری گردن پر میل کے نشان ہیںآنکھوں والا لڑکا اب عالم نظر آ رہا تھا )یہ میری بد نصیبی کی کہانی نہیں ہے یہ شروعات ہے اختتام تک پہنچوں تو شاید لفظ لہو رنگ ہو جائیں۔میرا مالک (تمسخرانہ ہنسی)ویسے تو اللہ ہے مگر اب کی بار جو مالک بناہے وہ فجر سے لے کر سورج طلوع ہونے تک دوڑ لگواتا ہے تا کہ میں تھکا ہوا لگوں پھر صبح ہوتے ہی مجھے سفید پاؤڈر چٹا کر اپنے ساتھ ہاتھ تھام کر لے جاتا ہے بھیک مانگنے۔ وہ اندھا بنتا ہے اور میں ہاتھ پھیلاتا ہوں۔ کسی کو میری آنکھوں کے سرخ ڈوروں پر رحم آ جاتا ہے

کوئی پسینہ پسینہ ہوئی پیشانی پر نگاہِ کرم ڈالتاہے۔ دوچار سکے لے کر اس کے پاس واپس آتا ہو تو وہ اپنی چھڑی میری ان آنکھوں پہ مارتا ہے کیل لگی چھڑی (اس نے درد سے آنکھیں سج لیں )میں نیچے گر جاتا ہوں منہ کے سامنے دو نہیں تو کم از کم ایک سکہ مزید گر جاتا ہے۔دوپہر تک یہ ڈرامہ چلتاہے پھر کسی شادی ہال کے باہر جا کر کھانے مانگنے والوں کی قطار میں لگنا پڑتا ہے۔ روٹی کتوں کی طرح گھسیٹ کر میں لاتا ہوں کھاتا وہ ہے ہاں کبھی دو چار نوالے مل جاتے ہیں۔ شام کو بوجھ ڈھوتا ہوں۔ کارخانوں کا فرنیچر اتنی بڑی ریڑھیوں پر لادا ہوتا ہے اور میں گدھا (تمسخرانہ ہنسی) اسے گھسیٹ رہا ہوتا ہوں۔ کبھی کیا کبھی کیا ‘ کام یا بیگار۔۔۔مشقت یا مصیبت۔۔۔۔آفت یا محنت۔۔۔جو بھی نام دیں میں وہی کر رہا ہوتا ہوں آپ کے نزدیک مشقت اور میرے لئے قیامت رات بھر یہ ڈیوٹی دینی ہوتی ہے اس نمکو کو بیچنے کی۔ اپنے ننگے پاؤں کا رونا رونے کی۔۔۔کچھ تو ایسے خدا ترس ملتے ہیں جو اپنے جوتے اتار کر دے دیتے ہیں یہ انہی محسنوں کی دیں ہے (اس نے بیگ کی طرف اشارہ کیا )اور کچھ ایسے بھی ملتے ہیں جو جوتا اتار کر منہ پر مارتے ہیں اور پھر دوبارہ اپنے پیر میں ڈال لیتے ہیں۔ اب آپ خود بتائیں میں کیا کروں میں کہاں جاؤں۔ مجھے دنیا سے جو مل رہا ہے میں دنیا کو وہی تو دے رہا ہوں میں اور کیا کر سکتا ہوں۔ ایسا نہ کرو تو زندگی چھین لے گا وہ ظالم۔۔۔۔۔(وہ رو دیا ‘ وہ سسک گیا وہ تڑپ ہی تو گیا )۔عبدالرشید اٹھا جیب سے دس دس کے تین نوٹ نکالے اور اٹھ کے چل دیا نوٹ پھینک کر۔ پیچھے پیچھے باقی تین ساکت نفوس بھی روتی بھیگی آنکھوں کے ہمراہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ گل شیر ماں کا شیر دنیا کا گلو روتا رہا۔۔۔۔نجانے کب تک آئینہ دیکھتا رہا اور لہولہان ہوتا رہا۔۔۔پارک کی نسبتاً پرسکون جگہ پر ایک معصوم انسان نجانے کب تک انسان ہو کر بھی انسانیت کا ماتم کرتا رہا۔۔۔۔وہ روتا رہا

Mariyam Jahangir
Mariyam Jahangir

تحریر : مریم جہانگیر

Share this:
Tags:
driver life park stairs young اندھیرا پارک پیشانی جوان ڈرائیور زندگی
Load Shedding
Previous Post شہری علاقوں میں سات اور دیہی علاقوں میں نو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری
Next Post وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی ملاقات

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close