Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اب بتاؤ قیدیوں سی زندگی کیسی لگی ؟؟

May 5, 2020May 5, 2020 0 1 min read
Lockdown
Lockdown
Lockdown

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

جب سے ہماری ”ماسی مصیبتے” کی چھٹی ہوئی ہے، الیکٹرانک میڈیا روکھا سوکھا اور پھیکا پھیکا سا لگنے لگا ہے۔ وہ الیکٹرانک میڈیا پر چھائی رہتی تھیں اور جب بھی ٹی وی آن کرو سٹارپلس کے ڈراموں کی طرح اُن کا نیا ”ایپی سوڈ” جاری ہوتا۔ ہم اُن کی ”طرح دار” باتوں کے خوب چسکے لیتے۔ ہمارے لیے وہ کسی نعمت سے کم نہ تھیں کیونکہ اپنے کالموں کا پیٹ بھرنے کے لیے ہمیں اِدھر اُدھر جھانکنا نہیں پڑتا تھا۔ یوں تو تحریکِ انصاف میں ” رَہنماؤں” کاآنا جانا لگا ہی رہتا ہے لیکن جس طرح ماسی مصیبتے کو نکالا گیا، وہ ہمیں بالکل پسند نہیں آیا، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔ بہتر یہی تھا کہ اُنہیں استعفیٰ دینے کے لیے کہا جاتا تاکہ اُن کا کچھ توبھرم رہ جاتا لیکن اُنہیں تو یوں نکال دیا گیا جیسے مکھن سے بال۔ ہم اِس اہانت آمیز رویے پر بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اب اگر ماسی مصیبتے گلی گلی شور مچاتی پھریں کہ ”مجھے کیوں نکالا” تو وہ حق بجانب ہوں گی۔ ویسے خانِ اعظم کو جلد احساس ہو جائے گا کہ ماسی مصیبتے میڈیا اور اپوزیشن کے لیے ”کورونا وائرس” سے کم خطرناک نہ تھیں۔ اِسی لیے تو اُن کی باتوں کا جواب دینے کی کسی میں ہمت نہیں تھی کیونکہ ”اپنی عزت اپنے ہَتھ”۔

ماسی مصیبتے کی اہمیت تو یوں بھی اجاگر ہوتی ہے کہ اب خانِ اعظم کو ایک خاتون کی جگہ 2 مردوں کا سہارا لینا پڑا۔ کہے دیتے ہیں کہ اب وزارتِ اطلاعات کا قلمدان جن 2 اصحاب کے سپرد کیا گیا ہے، اُن میں ماسی مصیبتے کا سا ”کھڑاک” مفقود۔ گنڈاسا لے کر کشتوں کے پُشتے لگانے والی ماسی مصیبتے کی گدی سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے حصّے آئی اور ”وَڈی” وزارت پر سینیٹر شبلی فراز براجمان ہوئے۔ شبلی فراز عظیم شاعر احمد فراز کے فرزند ہیں، وہی احمد فراز جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک عہد وزارتِ اطلاعات میں”اَفسری” کرتے گزارا۔ اِس لیے شبلی فراز کو وزارتِ اطلاعات سمجھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اِس وزارت کے اسرار ورموز تواُن کی گھٹی میں پڑے ہیں۔ مشیرِ اطلاعات عاصم سلیم باجوہ 4 سال تک آئی ایس پی آر کے ڈی جی رہے۔

اُنہیں بھی کسی کی گائیڈ لائین کی ضرورت نہیں کہ تجربہ اُن کا بھی مستند۔ دونوں ہی مرنجاں مرنج، دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے اور افہام وتفہیم کی فضاؤں میں زندہ رہنے والے لیکن یہ صلاحیتیں خانِ اعظم کو قطعاََ پسند نہیں۔ اُنہیں تو ”کھڑاک” کرنے والے لوگ ہی پسند ہیں جیسے شیخ رشید، فواد چودھری،فیصل واوڈا، مراد سعید، فیاض چوہان اور اُن جیسے دوسرے لوگ۔ خانِ اعظم کے اِس یوٹرن پر ہم بھی انگشت بدنداں کہ کہاں ہر کھڑاک کرنے والا اُن کا مطلوب ومقصود اور محبوب اور کہاں دھیمے سُروں میں بات کرنے والے شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ۔ جس کی محبوبہ ”سونامی” ہو وہ گنگناتی ندیوں سے بھلا کیسے نباہ کر سکتا ہے۔ اِس لیے ہمیں یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔ شبلی فراز کی تو خیر کوئی بات نہیں لیکن عاصم سلیم باجوہ کی چھٹی کروانا شاید خانِ اعظم کے بَس کا روگ نہ ہو کہ اقتدار کے ”اصلی تے وَڈے ایوان” کبھی یہ پسند نہیں کریں گے۔ ویسے بھی آجکل کورونا کے وار جاری ہیں اِس لیے فی الحال تو حکمرانوں کو اپنا ہوش نہیں کہ کورونا نے سبھی کے ہوش اُڑا رکھے ہیں۔ ایک ننھے مُنے جرثومے نے اشرف المخلوقات کو اُس کی اوقات یاد دلا دی۔ مسجدیں بند، چرچ بند، بُت خانے بند۔ مذہبی، سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی سرگرمیاں بند۔ فضائی رابطے مفقود اور نقل وحرکت پر پابندی۔ ایٹم بم بنانے، اسلحے کے انبار لگانے اور ستاروں پہ کمندیں ڈالنے والے اِس جرثومے سے چھٹکارا پانے کی خاطر سر جوڑ کر بیٹھے مگر بے سود۔ اشرافیہ یوں اپنے گھروں میں گھُسی بیٹھی ہے جیسے آزاد پنچھیوں کو کسی نے پنجروں میں قید کر دیا ہو۔ وہ پھڑپھڑاتے ضرور ہیں لیکن رہائی نہیں پا سکتے۔اشرافیہ کی بے بسی دیکھ کر جانے کیوں یاد آیا

آج دِل کو چھو گئی اِک دم پرندے کی یہ بات
اب بتاؤ قیدیوں سی زندگی کیسی لگی

کورونا کے وار جاری مگر ”منچلوں” پر ”کَکھ” اثر نہیں۔ ستمبر 1965ء کی جنگ میں لاہور کی فضاؤں میں بھارتی طیاروں کو مُنہ توڑ جواب دینے کے لیے شاہیں اُڑے تو لاہوریے اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر ”بو کاٹا، بوکاٹا” کے نعرے لگانے لگے۔ بالآخر پاک فضائیہ کو کہنا پڑا کہ لاہوریے گھروں کے اندر رہیں کیونکہ اُن کی چھتوں پر موجودگی سے دشمن کا مقابلہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ یہی لاہوریے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈنڈے لے کر سرحدوں پر پہنچ گئے جنہیں پاک فوج کے جوانوں نے بڑی مشکل سے واپس بھیجا۔ یہ بہادری نہیں، حماقت تھی اور یہی حماقت آج بھی اَن دیکھے دشمن (کورونا وائرس) کے حوالے سے جاری۔ حکمران ڈھیلا ڈھالا لاک ڈاؤن کیے بیٹھے ہیں لیکن منچلے اُسی طرح سے سڑکوں پر نکلتے، پکنک مناتے، چھتوں پر باربی کیو اور پتنگ بازی کرتے نظر آتے ہیں۔ کسی کو ہوش ہی نہیں کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں جس میں سماجی فاصلہ ضروری۔ یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہے جس میں قومیں قوموں کے خلاف اور ملک ملکوں کے خلاف صف آرا نہیں بلکہ سبھی ایک اَن دیکھے دشمن کے خلاف نبرد آزما۔ اِس جنگ کی افواج بھی مختلف یعنی میڈیکل اور پیرامیڈیکل فورسز جو قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کررہی ہیں۔ سماجی فاصلہ رکھنے کی بار بار تاکید کی جاتی ہے لیکن ہمارے یہ ”جری” تو مسیحائی ہی اُن لوگوں کی کر رہے ہیں جو اِس جرثومے کے ہاتھوں گھائل۔ اِس لیے اُن کے لیے سماجی فاصلہ رکھنا ناممکن۔ یہی مسیحا ہاتھ جوڑ جوڑ کر اپیلیں کر رہے ہیں کہ گھروں میں بیٹھ رہیں لیکن بے سود۔ لیڈی ڈاکٹرز ایک پریس کانفرنس میں یہی اپیل کرتے کرتے اشک بار ہو گئیں لیکن مجال ہے جو منچلوں پر کچھ اثر ہوا ہو۔ ہونا تو یہی چاہیے کہ میڈیکل اور پیرامیڈیکل سٹاف اِن منچلوں کو اِن کے حال پر چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ رہے لیکن ایسا ہوگا نہیں کہ یہ مسیحا اپنی جانوں کی قربانی دے کر بھی اپنا فرض نبھاتے رہیں گے۔

اُدھر حکمرانوں کا یہ حال کہ منزل کا نشاں نہیں، سمت کا تعین نہیں۔ خانِ اعظم پہلے دن سے ہی لاک ڈاؤن کے خلاف ۔ اُنہوں نے فرمایا ”حکمران اشرافیہ نے سوچے سمجھے بغیر فیصلہ کیا کہ ملک میں لاک ڈاؤن کرنا ہے۔ لاک ڈاؤن کا فیصلہ امیروں نے کیا، غریب اور مزدور آدمی کا سوچا ہی نہیں۔ اگر کورونا وبا صرف غریب شکار ہوتے تو کبھی لاک ڈاؤن کرنے میں اتنی تیزی نہ دکھائی جاتی”۔ اگر ہماری یادداشت کمزور نہیں تو غالباََ ملک کے وزیرِاعظم خانِ اعظم ہی ہیں اور ”حکمران اشرافیہ” بھی وہی۔ کیا وہ اتنے بے بس اور لاچار ہیں کہ اُمراء مَن مانی کرتے اور وہ مُنہ دیکھتے رہ جاتے ہیں؟۔ چلیں مان لیا کہ صوبہ سندھ کی حکومت مَن مانی کرتی ہے لیکن پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تو اُن کی اپنی حکومت ہے اور صوبہ بلوچستان اُن کے زیرِاثر۔ کیا یہ صوبے بھی من مانی کرتے ہیں؟۔ چلیں صوبوں کو چھوڑیں، کیا وفاق بھی اُن کے زیرِاثر نہیں؟۔ اسلام آباد میں بھی ویسا ہی لاک ڈاؤن ہے جیسا باقی صوبوں میں۔ پھر خانِ اعظم کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟۔ خانِ اعظم نے یہ بھی فرمایا ”نریندر مودی اتنا ڈرپوک نکلا کہ کورونا کی وجہ سے پورا ملک بند کر دیا”۔ دست بستہ عرض ہے کہ بہادری اور بیوقوفی میں فرق ہوتا ہے ۔

وحشی درندہ نریندر مودی بیوقوف نہیں، اِسی لیے اُس نے کہا کہ پہلے قوم کو بچا لیں، معیشت کی باری بعد میں آئے گی، اگر قوم نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ مکرر عرض ہے کہ کیا پوری دنیا ڈرپوک ہے جو مکمل لاک ڈاؤن کیے بیٹھی ہے؟۔ یورپ اور امریکہ کی مثال سب کے سامنے جن کے حکمرانوں نے ابتداء میں کورونا وائرس کو بَس ”ایویں ای” سمجھا اور جب اِس کی تباہ کاریوں نے سب کچھ اُتھل پُتھل کر دیا تو سر پکڑ کر بیٹھ رہے۔ چین عقلمند نکلاجس نے ابتداء ہی میں لاک ڈاؤن کیا، حفاظتی اقدامات میں تیزی دکھائی اور اِس وائرس کو نکال باہر کیا۔ یہ بجا کہ فی الحال پاکستان میں کورونا کی تباہ کاریاں کم ہیں لیکن ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ اِس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کورونا وائرس ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بہت کم ہے
اگر ہم بھی یورپ اور امریکہ کی طرح ایک لاکھ ٹیسٹ روزانہ کرنا شروع کر دیں تو صورتِ حال یکسر مختلف ہو جائے گی۔ اِس لیے مکمل لاک ڈاؤن میں ہی عافیت ہے کہ ”جان ہے تو جہان ہے”۔ ویسے بھی اِس قوم میں اور کوئی خوبی ہو نہ ہو، یہ مخیر بہت ،ہمیں یقین کہ پاکستان میں کوئی بھوک سے نہیں مرے گا۔

آخر میںمولانا طارق جمیل کی خدمت میں عقیدت مندانہ عرض کہ اُن کی وجاہتِ علمی کے ہم بھی اسیر۔ فنِ تقریر میں بھی وہ فی زمانہ یکتا۔ سوال مگر یہ کہ اُنہوں نے ایسی باتیں ہی کیوں کیں جن پر اُنہیں بعد میں غیرمشروط معافی مانگنی پڑی۔ کورونا وائرس کے سلسلے میں فنڈریزنگ میراتھون میں دعائیہ کلمات کہتے ہوئے اُنہوں نے نہ صرف یہ کہا کہ میڈیا پر جھوٹ بِکتاہے بلکہ یہ کہہ کر سیاسی گٹر میں بھی پتھر پھینک دیا کہ عمران خاں واحد دیانتدار آدمی ہے جسے اُجڑا ہوا چمن ملا۔ گٹر کے چھینٹے اُن کے اپنے دامن کو ہی داغدار کر گئے۔ تاریخِ اسلام کے صفحات گواہ کہ علمائے حق نے ہمیشہ سرکار، دربار سے فاصلہ رکھنے کو ہی بہتر جانا کہ اُن کی اپنی ایک دنیا جس کے وہ شاہ، بادشاہ، شہنشاہ۔ جو سیاسی گٹر میں اُترا، اپنا دامن نہ بچا سکا۔ مولانا طاہرالقادری کی مثال سب کے سامنے۔ فنِ تقریر کے وہ بھی اُستاد۔ گھنٹوں بلکہ پہروں سنتے جائیے سَر دھنتے جائیے۔ حلقۂ احباب وسیع، مریدین لا تعداد۔ جب سیاسی گٹر میں اُترے تو آلودہ دامانی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ چاروں طرف سے طنزوتعریض کے تیروں کی ایسی برسات کہ اللہ کی پناہ۔ بالآخر اُنہوں نے سیاست سے علیحدگی میں ہی عافیت جانی۔ اگر مولانا طارق جمیل کورونا وائرس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے صرف دعاؤں تک ہی محدود رہتے تو بہتر تھا۔

Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

Share this:
Tags:
Corona virus leaders life political prisoners رہنماؤں زندگی سیاسی قیدیوں کورونا وائرس
PML N Sindh
Previous Post تنخواہ دار طبقہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے، رہنما ن لیگ سندھ
Next Post شعیب اختر ’’بھارت نوازی‘‘ میں بہت آگے نکل گئے
Shoaib Akhtar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close