Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

میرے چارہ گر کو نوید ہو

June 17, 2021 0 1 min read
Politics Power
Politics Power
Politics Power

تحریر : طارق حسین بٹ شان

زندگی کے شب و روز جو ہمارے ہست و فنا اور بقا و دوام کے گواہ ہوتے ہیں،جو ہمیں ہمارے ہونے کا احساس دلاتے ہیں اور جن کے ساتھ ہماری سانسوں کی ڈوری بندھی ہوتی ہے کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہتے۔اسی لئے اقبال نے کہا تھا ( ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں)۔ لمحے ہمیشہ مختلف رنگوں کے عکاس ہوتے ہیں اور اپنے دامن میں قوس و قزاع کی دلکشی سمیٹے ہوتے ہیں۔یہ چندا کی چاندنی ، اس کی دل آویزی ، اس کی دلپذیری اور اس کی دلکشی کا عنوان ہو تے ہیں ۔ ان کے بے شمار پہلو ہوتے ہیںجن میں کچھ پوشیدہ اور کچھ ظاہر ہوتے ہیں اور کچھ ہنوز ظاہریت کا لبادہ اڑھنے کیلئے بے تاب ہو تے ہیں۔ ان کی غیر یقینی کیفیت دل ِ ناتواں کو حوصلہ دیتی ہے ،جستجو کا بھرم قائم رکھتی ہے اور جذبوں کو تقویت عطا کرتی ہے ۔یہ بکھرے موتیوں کی مانند ہوتی ہے۔ اسی لئے دنیائے دل کی طلاطم انگیزیوں اور ولولوں کو دوام بخشنے کیلئے شاعر کو کہنا پڑا (یار کو ہم نے جا بجا دیکھا ۔،۔کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا)لمحوں کا اپنا انداز اور اپنی ڈگر ہوتی ہے اور یہ کسی کی منشاء اور مرضی کے تابع نہیں ہوتے ۔ ان میں اونچ نیچ ، بدلائو اور مدو جزر فطری ہوتا ہے جو کسی کی دسترس میں نہیں ہوتا۔ کبھی اچھے دنوں کی نوید ملتی ہے تو کبھی غم سے واسطہ پڑتا ہے۔

بقولِ اقبال (اسے واسطہ کیا کم و بیش سے۔،۔ نشیب و فرازو پس و پیش سے)۔لمحے زمانے کے دریا میں بہتے رہتے ہیں اور اس کی موجوں سے کھیلتے رہتے ہیں ۔انسان بڑا وہی ہے جو خوشی اور غمی میں برداشت،صبر اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور رضائے الہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔انسانی زندگی میں گرم سرد ہوائوں نے تو چلتے رہنا ہے لیکن ہر بات پر شکووں شکائیتوں کی بارش ہوگی تو سفرِ زندگی کیسے کٹے گا ؟ شکائیتوں سے تو ثمرات مقدر نہیں بنتے بلکہ ثمرات کیلئے میدانِ عمل میں نکلنا پڑتا ہے اور اپنے حصہ کی شمع جلانی پرتی ہے۔رعنائیوں کی حواہش تو کبھی ماند نہیں پڑتی لیکن کبھی کبھی مقصد کے حصول کی خاطر شبِ تاریک کو بھی جھیلنا پڑ جائے،درد کو سہنا پڑ جائے اور غم کو سینے سے لگانا پڑ جائے تو سینہ کشادہ رہنا چائیے ۔اندھیری رات میں جگنوئوں کا چمکنا امید کا استعارہ ہوتا ہے۔زندگی کی سانسیں غم و اندوہ ،رجائیت اور یاسیت کا کا مکمل زائچہ ہیں جس کا خاتمہ زند گی کی سانسیں ٹوٹنے سے ہی ٹوٹ سکتا ہے ۔نبضِ ہستی کا رواں دواں ہونا مسرت و کامرانی اور جبرو ستم کی علامت ہوتی ہے جس سے فرار نا ممکن ہے ۔اسی لئے تو غالب نے کہا تھا۔ ( غمِ ہستی کا اسد جز مرگ کیا ہو علاج ۔، شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک)۔،۔

انسان ہمیشہ اپنی حواہشوں،تمنائوں اور آرزوئوں کا اسیر ہو تا ہے اور ان کی تکمیل کی برومندی کی خاطر ہر جائز و ناجائز راہ اپنانے کیلئے تیار رہتا ہے اس چیز سے بے خبر کہ اس سے اس کی ذات اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟انسان کوصرف اپنی خواہشات کی تکمیل سے دلچسپی ہوتی ہے جس کی خاطر وہ سارے قوانین،ضابطے اور اصول اپنے پائوں تلے روندھتا چلا جاتا ہے۔قوانین کی پامالی تو اب ایک روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔جس کے پاس طاقت ہے،اقتدار ہے،دولت ہے اور اثرو رسوخ ہے وہ روزانہ قوانین سے کھلواڑ کرتا ہے اور کوئی اس کی جانب آنکھ اٹھا کردیکھنے کی جرات نہیں کرتا۔مادیت پرستی کے اس دور میں ایسے حربوں سے انسان جیت کا تمغہ تو اپنے سینتے پر سجا لیتا ہے لیکن اس طرح کی غیر اخلاقی اور غیر قانونی فتح سے اس کے ضمیر کی خلش اسے بے چین کرتی رہتی ہے جس کے اثرات انسان کی پیرانہ سالی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب وہ بستر ِ مرگ سے لگ جاتا ہے اور آزادانہ حرکت سے معذور ہو جاتا ہے تو تب اسے یاد آتاہے کہ اس نے کتنے پاپ، کتنے گھپلے،کتنے ظلم ستم اور کتنی نا انصافیاں کی تھیں ۔وہ پچھتاوے کی آگ میں جلتا رہتا ہے اور کوئی اس کی مدد کو نہیں آتا اور نہ ہی کوئی اس کی دلجوئی کرتا ہے کیونکہ اب اس کی مدد کوئی معنی نہیں رکھتی۔مردوں کی مدد ممکن نہیں ہوتی۔اب اسے ایک فضول ، بیکار اور بے ثمر شاخِ شجر گردانا جاتا ہے جس کامقدر سوکھ کر بکھر جا نا ہو تا ہے ۔ تنہائی، یاسیت اور اداسی اس کا مقدر بنتی ہے اور وہ اسی ان دیکھی آگ میں بھسم ہو کر رہ جاتا ہے۔پچھتاوے، رنج،بے اعتنائی،بے رخی ،بے بسی اور غم کی اس کیفیت کو اقبال نے انتہائی دلنشیں انداز میں بیان کیاہے۔یہ خوشی اور غمی کا ایک ایساحسین امتزاج جس سے زندگی تکمیل پذیر ہو تی ہے ۔،۔

(گو سراپا کیفِ عشرت ہے شرابِ زندگی ۔،۔ اشک بھی دامن میں رکھتا ہے سحابِ زندگی )۔،۔(موجِ غم پہ رقص کرتا ہے حبابِ زندگی ۔،۔ ہے الم کا سورہ بھی جزوِ کتابِ زندگی)

زندگی کے ہاسے تو سدا ساتھ نہیں دیتے کوئی نہ کوئی حادثہ انسان کی ساری حیاتی پر اثر انداز ہو جاتا ہے۔ انسان کو اس کی خبر کب ہوتی ہے کہ کوئی حادثہ اس کی پوری حیاتی کو بدل دیگا ؟ انسان تو ہزراوں سال کی زندگی گزارنے کا متمنی ہوتا ہے لیکن اس کی یہ حواہش حقیقت کا جامہ پہننے سے عاری ہوتی ہے کیونکہ جس نے یہ کائنات بنائی ہے وہ اسے اپنے بنائے گے پیمانوں سے چلانا چا ہتا ہے۔ عمرِ خضر کے بعد بھی انسا ن یہی کہتے سنا گیا ہے کہ مجھے مزید مہلت مرحمت فرمائی جائے تا کہ میں کوئی تاریخی کارنامہ سر انجام دے سکوں لیکن وہ جو مالکِ کائنات ہے انسانی زندگی کی سانسوں کی ڈور کوکاٹ دیتا ہے اور انسان کو ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیتا ہے جس میںاسے کچھ سنائی نہیں دیتا۔فیصلہ مالکِ ارض و سماء نے کرنا ہے کہ کسے کتنی سانسیں عطا کرنی ہیں۔ایک خاموش اور بے حس و حرکت جسم ،جس کا ٹھکانہ دو گز مٹی کا گھر ہو تاہے اب ایک لاش میں تبدیل ہو چکا ہو تا ہے۔اس کے سارے رشتے ناطے چھوٹ جاتے ہیںاور وہ تنہائی کی دنیا کاباسی بن جاتاہے ۔ ساری حواہشیں ، ساری تمنائیں،ساری آرزویں ،سارے اعزازات،سارے تمغے،سارے ستارے اورسارے القابات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ذاتی اثرو رسوخ، خاندانی وجاہت،دولت مندی کا نشہ اور اقتدار کا رعب و دبدبہ عنقا ہو جاتا ہے۔ کوئی اس کی مدد نہیں کر سکتا کیونکہ یہ مقام سب کی پہنچ سے باہر ہو تا ہے۔یہ بات طے ہے کہ اب ایسے انسان کیلئے عمل کی مہلت ختم ہو چکی ہو تی ہے لہذا اسے صرف اسی عمل کی جزا ملے گی جو اس نے انسانیت کے احترام اور اس کی فلاح و بہبود کی خاطر کیا ہو گا ۔ شرک و بت پرستی کی سزا تو بہر حال دوزخ کے بھڑکتے ہوئے شعلے ہوں گے لیکن انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کی تذلیل کی سزا اس کے علاوہ ہو گی۔یہی ہے وہ اصلی جوہر جس کیلئے انسان کی تخلیق کی گئی تھی اور جس نے اس پیکرِ خاکی کو اشرف المخلوقات بنایا تھا۔اسی لئے غالب کو فریاد کرنی پڑی تھی ۔

(حد چائیے سزا میں عقوبت کے واسطے ۔،۔ آخر گناہ گار ہو ں کافر نہیں ہو ں میں)۔،۔

ایک ایسا انسان جو قہقوں،ہاسوں ،مسرتوں اور خوشیوں کا خو گرہوتاہے،انسانی تکریم کا علمبردار ہو تا ہے،وسروں کی خدمت جس کا شعارِ زندگی ہو تا ہے، جوانسانی عظمت کا داعی ہوتا ہے، معاشرے کی نا انصا فیوں کے خلاف سینہ سپر ہوتا ہے،بے انصافی کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں نکلتاہے ، مساوات کا پرچم تھامتا ہے لیکن اپنوں کی بے رخی اور زمانے کے حادثات اسے بالآخر سخت دل بنا دیتے ہیں۔انسانوں کے دوغلے پن ،مکرو فریب،جھوٹ ،دغا بازی اور ملمع سازی اسے ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیتی ہے جہاں اسے خونی رشتوں کی صداقت بھی جھوٹ لگتی ہے۔ اسے جن سے محبت کی توقع ہو تی ہے وہی اس کی جان کے درپہ ہو جاتے ہیں اور اسے ناکردہ گناہوں کی پاداش میں سولی پر چڑھا دیتے ہیں ۔ جب دولت سکہِ رائج الوقت بن جائے تو عشق کی شمع کا شعلہ بھی مدھم پڑ جاتا ہے۔اسی لئے تو فیض کو دہا ئی دینی پڑی تھی کہ ۔۔

(میرے چارہ گر کو نوید ہو صفِ دشمناں کو خبر کرو ۔،۔ وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب ہم نے چکا دیا)

Tariq Hussain Butt
Tariq Hussain Butt

تحریر : طارق حسین بٹ شان
(چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال۔۔

Share this:
Tags:
humanity life passions Politics Power power World اقتدار انسانیت حواہش دنیا زندگی
Tahir Ashrafi
Previous Post کسی شخص کے انفرادی فعل کو ادارے سے جوڑنا مناسب نہیں: طاہر اشرفی
Next Post توبہ کی فضیلت
Repentance

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close