
تحریر : نگہت سہیل
کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک خبر آئی کہ پی آئی اے کی ایک فضائی میزبان بیرونِ ملک لا پتہ ہو چکی ہیں٬ اس خبر سے ہمیں ایک عجیب سا احساس ہوا کہ ایسا کیسے ممکن ہے٬ اسکے بعد ایک اور خبر جاری کی گئی کہ ایک اور ائیر ہوسٹس منشیات کی اسمگلنگ میں پکڑی گئی ہے یہ پہلی نہیں ہے بد نصیبی سے درجنوں کی تعداد میں یورپ کی مختلف جیلیں ہیں جہاں کئی خواتین قید وبند کی صعوبتیں جھیل رہی ہیں پھر پتہ چلا کہ کہ یہ پہلی خاتون نہیں ہیں۔
بلکہ لاپتہ ہونے والی خواتین میں ان کا نمبر سولہواں ہے٬ ابھی ہم اس خبر سے سنبھلنے نہ پائے تھے٬ کہ اگلی خبر آ گئی وہ تو ہمارے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی اس خبر کے مطابق دورانِ پرواز ہی جہاز کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی اور انجن میں خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے اسے فورا ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی کیا جہاز اڑانے سے پہلے اس کی تکنیکی خوبیوں اور خامیوں کوچیک نہیں کیا جاتا ہمیں عجیب وسوسوں نے گھیر رکھا تھا٬ کہ جن کے پیارے اس فلائٹ میں موجود ہوں گےاُن پرکیا گزر رہی ہوگی٬ اس مجرمان غفلت کے باعث ہونے والے خطرناک حادثات کا ذمہ دارکون ہے سیکڑوں معصوم بے گناہ لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دینا کہاں کا انصاف ہے۔
ہم ابھی اسی ادھیڑ بُن میں تھے کہ اگلی خبر نے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا ٬کہ جدہ میں حجاج کرام کو واپس وطن لے کر آنے والی پروازوں کے کپتانوں نے ہڑتال کر دی٬ اب یہ کیا تماشہ تھا پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا کوئی موقعہ ہم ہاتھ سے نہیں جانے دیتے وہ ریلوے ہو کرپشن ہو٬ اغوا برائے تاوان بھتہ یا آبرو ریزی کہیں بھی ہم چوکتے نہیں اب مسئلہ یہ ہے کہ حج کرنے کے لیے اکثر بزرگ اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد ہی زیادہ ہوتی ہے اُن پر جدہ ائیر پورٹ پر کیا گزر رہی ہو گی٬ جب وہ فریضہ حج کی تکمیل کے بعد خوش خوش اپنے گھروں کو لوٹ جانے کے لیے بے چین ہوں گے کہ اچانک انہیں مطلع کیا جاتا ہے کہ جہاز تو اڑے گا نہیں٬ خیر اسکو بھی چھوڑیں خُدا خُدا کر کے 18 گھنٹے کی تاخیر سے جب جہاز لاہور پہنچا٬ تو وہاں اور بریکنگ نیوز ان کی منتظر تھی کہ ان کا سامان تو جدہ ائیر پورٹ پر ہی رہ گیا٬ ہم خیالوں ہی خیالوں میں اُن تھکے ہارے مسافروں کے چہروں کے احساسات کا اندازہ لگا رہے تھے کہ ہمیں ان لوگوں کا عظیم مقصد بھی یاد آیا اور ان کے حج اکبر کی خوشی بھی اور اس کے ساتھ ساتھ پی آئی کے سفر کر کے جہاز کے بھی غازی بنے ہیں۔
اس طرح دوہری خوشیاں ان کا مقدر بنی ہیں کہ وہ بلآخر زندہ سلامت غازی بن کر اپنے وطن لوٹے ایسے میں ہمیں وہ دن یاد آگئے جب ہم شادی کے بعد پہلی بار پیا دیس سدھارنے کی غرض سے اپنی ماں کی گود اور باپ کے شفقت آمیز لمس کو یاد کرتے ہوئے آہوں اور سسکیوں میں پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے ہی سفر پے روانہ ہوئے تھے٬ اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچنے پر پتہ چلا کہ فلائٹ تو 4 گھنٹے لیٹ ہے ٬ ہمارے دل میں پہلے ہی اپنوں سے بچھڑنے کادکھ موجود تھا اس لیۓ یہ دکھ زیادہ بڑا نہیں لگا۔ چار گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد جب جہاز نے پرواز شروع کی تو کچھ ہی دیر بعد کراچی اترنا پڑا معلوم ہواکہ ایندھن اختتام پزیر ہو چکا ہے٬ خیر یہ صدمہ بھی بادلِ نا خواستہ گواراہ کرنا پڑا انتظامیہ کے مطابق بس ایک یا دو گھنٹے کی بات تھی مگر دس گھنٹے کا طویل دورانیہ گزرنے کے باوجود کہیں سے کوئی خیر کی خبر نہیں آ رہی تھی آخر مسافروں نے جب واویلا کیا٬ تو کہیں سے ایک آواز آئی کہ جہاز کے انجن میں خرابی ہے اس لئے جہاز کل روانہ ہو گا٬ اب ہم ہونق بنے تمام مسافروں کی شکلیں دیکھ رہے تھے جس کے منہ مین جو آرہا تھا وہ انتظامیہ کی شان میں قصیدے پڑھ رہا تھا٬ آخر کار ہمیں ایک ہوٹل میں ٹھہرایا گیا جہاں ہمیں رات بسر کرنی تھی ہم تنِ تنہا سفر کر رہے تھے اس لیے زیادہ فکر تھی کیونکہ نہ تو ہم اسلام آباد مین موجود تھے اور نہ ہی پیرس میں اور درمیان کا کسی کو علم نہیں تھا کہ ہم کہاں ہیں آخر ہم نے ہمت کر کے ہوٹل اسقبالیہ سے اسلام آباد فون کیا اور والدہ کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد ہمیں عجیب اور خوفناک قسم کی سوچوں نے گھیر لیا ہمیں وہ رات کبھی نہیں بھولے گی کہ اتنے سچے دل سے ہم نے کبھی خدا کو یاد نہیں کیا تھا٬ جتنا اس رات کیا تھا ٬اپنے ربّ کی رحمتوں کا خیال آ رہا تھا اور عذابِ الہیٰ کے خوف سے ہم نے اپنے کردہ اور ناکردہ گناہ کی معافی مانگی اور اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے تمام افراد کو معاف کیا اور دل ہی دل میں ان سے بھی معافی مانگی اور پھر اللہ کو یاد کرنے لگے بقول مومن شب جو مسجد میں جا پھنسے مومن رات کاٹی خدا خدا کر کے کچھ یہی حال ہمارا تھ اسی ادھیڑ بُن میں ہماری آنکھ لگ گئی جانے کونسا پہر تھا کہ ہم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے کیونکہ دروازے کے باہر بہت شور تھا٬ دروازہ کھول کر باہر دیکھا تو سب دوڑ رہے تھے غور کرنے پر پتہ چلا کہ یہ تو جہاز کے مسافر ہیں آنکھیں ملتے ہوئے چپل پہنے اور آؤ دیکھا نہ تاؤ دوڑ لگا دی ہوٹل استقبالیہ پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ پرواز تیار ہے اور خصوصی بس مسافروں کے لیۓ باہر موجود ہے۔
ہم نے اپنے ساتھی مسافروں کی تقلید کرتے ہوے بس میں چھلانگ لگا دی٬ اب اس طیارے نے براہ راست کراچی سے پیرس جانا تھا٬ مگر کچھ گھنٹوں کے بعد اٹلی کے شہر روم کے ہوائی اڈے پر اتر گیا ور اپنے وعدے سے مُکر گئی ہمارے ذہن میں اپنے پیا کا سادہ لوح چہرہ گھوم رہا تھا٬ کہ بیچاروں نے تمام رات ائیر پورٹ پر ہمارے انتظار میں گزاری ہوگی اور تمام صدقے اور خیرات کا بندوبست ہمارے زندہ پہنچنے پر پہلے سے ہی کر دیا گیا ہو گا٬ اتنی صعوبت برداشت کرنے کے بعد جب پیرس پہنچے تو سامان ندارد اب تو ہماری برداشت تو جواب دے چکی تھی ہم شکایت لے کر جب کاؤنٹر پر پہنچے تو پیرس ائیر پورٹ انتظامیہ نے مسکراتے ہوئے ویلکم کہا اور ہمارے سامان کے آنے کی تصدیق کر دی اس طرح ہمارا پہلا سفر پی آئی اے سے تمام ہوا اور آئیندہ کے لئے پی آئی اے پے سفر کرنے سے معذرت کر لی٬ لیکن آج تک یہ واقعہ پی آئی اے کا یہ واقعہ ان کی تمام مجرمانہ غفلتیں ہمیں بھولنے نہیں دیتیں گو یا ایک ناسور بن کر چپک گئی ہیں۔
بقول شاعر ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اتر جائے گا۔
بچپن میں مجھے یاد ہے کہ والد کو جب الوداع کہنے جاتے تھے تو ایک جملہ ہر طرف لکھا نظر آتا تھا تب ہمیں سمجھ نہیں تھی اب ہمیں سمجھ آتا ہے کہ واقعی وہ لوگ بہت عظیم ہیں جو پی آئی اے سے سفر کرتے ہیں۔
تحریر : نگہت سہیل
