Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ذکرایک ادب اطفال کانفرنس کا

June 13, 2016June 13, 2016 0 1 min read
Literature
Literature
Literature

تحریر : محمد مزمل صدیقی
مزمل صدیقی جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں اُردو میں بی ایس آنرز کر رہے ہیں ،اور میقات دوم کے طالبعلم ہیں ،نہم میں تھے تو حافظ حمزہ شہزاد کے ہمراہ بچوں کا رسالہ ‘بچوں کا گلستان ‘جاری کیا۔وہ بند ہوا تو ادبی پرچے ‘تعمیر ادب ‘ سے وابستہ ہوگئے ، حال ہی میں بچوں کے ادب پر اُن کی تازہ کتاب ‘مٹی کا قرض ‘ منظرِ عام پر آئی ہے ،مزمل صدیقی گو کم عمر لکھنے والے ہیں ،لیکن پڑھنے والوں کے لئے اُن کا نام نیا نہیں ،بچوں کے لئے انہوں نے پیغام ڈائجسٹ ،شاہین ڈائجسٹ،تعلیم و تربیت ،کرن کرن روشنی ،انوکھی کہانیاں ،نٹ کھٹ ،پھول ،اور دیگر روزناموں میں چھپنے والے بچوں کے صفحات جن میں جنگ ،خبریں ،روزنامہ پاکستان شامل ہیں،میں لکھا۔

عصرِ حاضر میں قلمکاروں کو جس ضروری تقاضے نے بیدار کیا ہے ،وہ ہے ادبِ ا طفال کی تخلیق ،گزشتہ تین سال سے اس بیداری نے ادب اطفال کی تخلیق میں نیا اضافہ کیا ہے ،اردو میں بچوں کے ادب کا ایک وسیع سرمایہ موجود ہے ،جو کہانی ،شاعری اور دیگر اصنافِ نثر پر مشتمل ہے ،یہ کہنا ازبس ضروری ہے کہ بچوں کے لئے دورِ جدید میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے ،معدودے چند گنتی کے قلمکاروں کے علاوہ دیگر سے طمانیت کا احساس کم ہی جاگتا ہے ،بیشتر تحریریں بچوں کی فہم سے بالا ہیں ،ایسے میں ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ قلمکاروں کے لئے تربیتی ورکشاپ اور کانفرنس کا انعقاد ہو،وہ کہانی تخلیق کرنے کا ایسا ملکہ رکھتے ہوں کہ بچہ اُسے پڑھتے ہوئے زرا بھی اکتاہٹ کا مظاہرہ نہ کرے ،تفریح بھی حاصل کرجائے اور سبق بھی،سرکاری اداروں کی جھلک پہلے دور کہیں نظر آتی تھی ،گویا وہ بھی جیسے منظر سے ہٹ کر قصہ پارینہ ہوچکی ہے ،ایسے میں اپنی مدد آپ کے تحت ادبِ اطفال کی آگاہی کی تحاریک جن میں کاروانِ ادبِ اطفال اور اب اکادمی ادبیاتِ اطفال قابل ذکر ہیں ،کی موجودگی باعثِ اطمینان ہے ،ایسی ہی ایک تربیتی و آگاہی پر مبنی کانفرنس مَیں ہمیں بھی مدعو کیا گیا۔
افتتاحی سیشن کی صدارت معروف مترجم ،محقق جناب ابصار عبدالعلی نے کی،مہمان خصوصی قطعہ نگار جناب ظفر علی راجا،طارق جاوید ہاشمی کانفرنس کے دو سرگرم کارکن محمد شعیب مرزا اور معروف مزاح نگار حافظ مظفر محسن سٹیج کی زینت بنے ۔کانفرنس کی مبداقاری احمد ہاشمی صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوئی،نعتِ رسولِ مقبول پیش کرنے کی سعادت جناب سرور حسین نقشبندی کو ہوئی ،مولانا طارق جاوید ہاشمی صاحب نے :۔”ن۔والقلم وما یسطرون۔” آیتِ قرآن پر مفصل گفتگو کی ،وائس چیئرمین اکادمی ادبیاتِ اطفال جناب حافظ مظفر محسن نے کہا کہ مجھے امید ہے یہ کانفرنس شرکاء کے لئے مفید ثابت ہوگی اور وہ یہاں سے بہت کچھ سیکھ کر جائیں گے ،صدر پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی محمد شعیب مرزا نے کہا کہ بچوں کے ادب اور ادیبوں کو سرکاری سرپرستی ملنی چاہئے ،بچوں کا ووٹ نہیں ہوتا ،اس لئے شایدوہ حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتے،انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا خواب اِک خوابِ دیرینہ تھا ،یہ کانفرنس اس خواب کی تعبیر ہے ،انہوں نے کہا کہ بچوں کا ادب نئی نسل کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

Conference
Conference

نشست کے مہمانِ خصوصی جناب ظفر علی راجہ نے کہا کہ اس کانفرنس کا حصہ بننا میرے لئے باعثِ افتخار ہے ،انہوں نے کارٹونوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دِکھائے جانے والے کارٹون ہماری اسلامی اقدار کے منافی ہیں ،بچوں کو میڈیا کی بجائے کتب بینی کی طرف کھینچنے کے لئے بچوں کے ادب میں’ تخلیق’ کی اہمیت بڑھ گئی ہے ۔
انہوں نے اطفالِ ادب پر اپنا فی البدیہہ شعر کہا
شجر ماں ،باپ ہیں ،سایہ ہیں بچے
بڑا انمول سرمایہ ہیں بچے
معروف ادیب و ڈرامہ نگار جناب امجد اسلام امجد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ادب کے زریعے بچوں کے اذہان کی تشکیل کرنی ہے ،تاکہ وہ سوچنا شروع کریں ،جب تک وہ سوچنا شروع نہیں کریں گے ،ان کے تصورات واضح نہیں ہو سکیں گے۔”

پیرانہ سالی میں معروف دانش ور جناب ابصار عبدالعلی صاحب نے طویل گفتگو فرمائی انہوں نے کہا کہ کارٹون بچوں کی تربیت کے ابلاغ کا اثر انگیز زریعہ ہیں ،ہم بچوں کو مذہبی اور اخلاقی تصورات اس صورت دکھا کر اُن کے اذہان متاثر کر سکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بچوں کے ادب پر نمایاں خدمات کے حوالے ادیبوں کو صدارتی ایوارڈ سے نوازا جائے۔”ننھی مقررہ مہرال قمر نے اپنی تقریر میں بچوں کے ادب کی خوب نمائندگی کی ۔ ‘دوسرے سیشن کی صدارت معروف ادیب و شاعر جنابِ ڈاکٹر فرحت عباس صاحب نے کی ،تلاوت کی سعادت میرے دوست جناب قاری محمد عبداللہ کے حصے میں آئی۔جناب خالد محمود عطا صاحب نے ریڈیو کے لئے ڈرامے لکھنے والوں کے لئے کہا کہ بچے ہمارے معاشرے کا اہم جزو ہیں ،انہیں اپنا عنوان بنائیں ،انہیں سنوارنے پر وقت صَرف کریں گے تو معاشرہ خود بخود سنور جائے گا۔

اس نشست میں سیر حاصل خطاب نامور ٹی وی پروڈیوسر جناب حفیظ طاہر صاحب کا تھا ،جنہوں نے آج سے بیس برس پیشتر اے حمید سے مشہورِ زمانہ ‘عینک والا جن ‘ لکھوا کربچوںاور بڑوں کے اذہان میں ایسا بٹھا دیا کہ اُس کے مناظر و مکالمے آج تک زبان ِزد عام ہیں ،یہاں تک کہ بیس برس گزرنے کے باجود اُس ڈرامے کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ انہوں نے اپنے مقالے میںبچوں کے لئے ڈراما لکھنے کے حوالے سے کہا کہ بچوں کی نفسیات و مزاج سے مطابقت کھاتا ڈرامہ جلد پہچان بنا لیتا ہے ،بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں ۔انہوں نے بچوں کو ایک ایسے سافٹ وئیر سے تشبیہ دی جس کی درست پروگرامنگ کی ضرورت ہے۔

Amjad Islam Amjad
Amjad Islam Amjad

معروف ڈراما نگار امجد اسلام امجد صاحب نے ٹی وی ڈراما لکھنے کے اصول پر گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ اچھی کہانی لکھنے والے کے لئے اچھا ڈراما لکھنا مشکل نہیں ،حاضرین کو نہ ہی بے وقوف سمجھیں نہ بنائیں ،آئندہ عملی ورکشاپ کا انعقاد بھی یقینی ہونا چاہئے تاکہ ایسی کانفرنس کی اہمیت سیکھنے والے کے لئے افادیت کی حامل ہو۔انہوں نے اکادمی کے اس اقدام کو سراہا کہ انتظامیہ نے چھوٹے شہروں کے ادیبوں کو بڑے شہر میں بلا کر نمائندگی دی اور اس شکوے کا بائیکاٹ کیا کہ بڑے شہر میں رہنے والوں کو ہی ایسی کانفرنس میں نمائندگی ملتی ہے۔صدرِ نشست ڈاکٹر فرحت عباس صاحب نے کہا کہ بچوں میں پاکستانیت ،حب الوطنی اور اَدب و احترام کے جذبات پیدا کریں ،الیکٹرونک میڈیا پر بچوں کے لئے کچھ لکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اختتام پر ڈاکٹر فرحت عباس صاحب نے فی البدیہہ شعر کہا:۔
پھلا پھولا رہے یا رب، چمن میری اُمیدوں کا
جگر کا خون دے کریہ بوٹے مَیں نے پالے ہیں

اس نشست کا منتج کھانے کے توقف پرہوا،اس توقف میں پروڈیوسر عینک والا جن جناب حفیظ طاہر صاحب سے اورجناب ِ ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب سے بھی شرفِ تکلم حاصل ہوا ،میری تازہ کتاب کی بابت بات چلی تو بولے :۔”ارے یار ،ویسے نام اور رکھ لیتے ،یہ ‘مٹی کا قرض’ تو حمایت علی شاعر صاحب کا شعری مجموعہ ہے ۔”معروف ناول نگار آپا بشریٰ رحمن بھی تشریف فرما تھیں ،مَیں نے اُن سے آٹو گراف لیا،انھوں نے میری آٹو بک پر لکھا :۔”مزمل صدیقی کے لئے بہترین دعائیں !اِس نے ایک خوبصورت کتاب’ مٹی کا قرض ‘کے نام سے لکھی ہے…میری دعا ہے باری تعالیٰ اِس کے قلم میں قوت عطا فرمائے ،افکار میں جدت عطا فرمائے ،کردار میں اخوت عطا فرمائے اور یہ اپنی مٹی کی خوشبو ،مٹی ہنراور مٹی سے کیا ہوا وعدہ ہمیشہ نبھاتے رہیں،سلامت رہو اور ہمیشہ ملک و ملت کا نام روشن کرو…آمین ثم آمین ۔”اس توقف میں، میرے مکالمے معروف ادیب و شاعر پروفیسر ناصر بشیر صاحب سے ،لدھیانہ بھارت سے آئے معروف ادیب ڈاکٹر کیول دھیر صاحب سے ،معروف سرائیکی مصنفہ ڈاکٹر مسرت کلانچوی صاحبہ سے اور پروفیسر ضیاء الحسن ضیاء صاحب سے بھی رہے۔

تیسری نشست کا موضوع ‘اصنافِ اَدب پر مہارت ‘ تھا ۔آغاز کالم نگار جناب حافظ محمد زاہدکا تلاوتِ کلام ِ الہی سے ہوا،صدارت سابق رُکن صوبائی اسمبلی اورمعروف ناول نگار آپا بشریٰ رحمن صاحبہ نے کی ،محترم ابصار عبدالعلی نے بچوں کے ادب میں نظموں کے ارتقاء کا جائزہ لیا ،اُن کا کہنا تھا کہ نظم میں ایسا ابلاغ ہوتا ہے جو پڑھنے والے کے ذہن پر نثر کی نسبت جلد اثر انداز ہوتا ہے ،انہوں نے بچوں کے لئے نظمیں لکھنے کی صنف پر مزید کام کرنے کو کہا ،انہوں نے مزید کہا کہ آج سے کچھ عرصہ قبل جب یہ سوشل میڈیا اتنا نہیں پھیلا تھا ،نظموں کے زیرِ اثر بچوں کو سُلایا جاتا تھا۔ہماری سرائیکی دھرتی کی ہونہار بیٹی ڈاکٹر مسرت کلانچوی نے بچوں کے لئے کہانی لکھنے کے اَصول پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لئے کہانی لکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ تخلیق کار اپنے ماضی ،اپنے بچپن میں کھو جائے ،خود کو بچہ محسوس کرے ،کہانی لکھنے کے بعد اُسے بھول جائے اور پھر وقت پر بحیثیت ناقد اُٹھائے۔

Writing
Writing

ڈائریکٹر مجلس ترقی ادب جناب ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب نے بچوں کے ادب کے تراجم پر سیر حاصل گفتگو کی ،انہوں نے کہا کہ مترجم کو اپنی ذات کی قربانی دینی چاہئے ،ترجمان کو زبان پر مہارتِ تامہ ہونی چاہئے ،ایک وہ جو پڑھ رہا ہے ،دوسری وہ جس پروہ تراجم کا خواہ ہے ۔ ناول کیسے لکھا جائے کے موضوع پر ناول نگار آپا بشریٰ رحمن نے کہا کہ قلم خدا کی امانت ہے ،بچوں کا ناول لکھنے کے لئے’ روزمرہ’ بچوں کا ہونا چاہئے ،بچوں کے لئے ناول لکھنے کے لئے مسلسل مشاہدے و مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے ،ناول ایک زمانے کی کہانی ہوتی ہے ،اندازِ تحریر نقل نہیں کرنا چاہئے ،کسی دوسرے قلمکار کا روپ دھار کر اُس کے ضمیر میں کبھی بات نہیں کرنی چاہئے ،ایسے انسان لکھ تو لیتا ہے ،لیکن کبھی اپنی پہچان نہیں کروا پاتا۔”

انہوں نے ناول لکھنے کے اصول پر بات شروع کرنے سے پہلے کہا کہ بچوں کے لئے صرف ڈرامے ہی نہیں فلمیں بھی بننی چاہئے ، مطالعہ گہرا ہونا چاہئے مشاہدہ،کردار نگاری ،زمان و مکاں کا احساس ،مکالمے ،تجسس،زبان و بیان،اسلوب ناول کا اہم ستون ہیں،اپنے معاشرے کی اخلاقیات ،سماجیات ،روایات،روحانیت،کردار سازی ،گھریلونظام،تزکیہ نفس اور تربیت سازی کے خلاف نہیںلکھنا چاہئے ۔
معروف ادیب وناقد جناب ڈاکٹر ضیاء الحسن ضیاء نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ خود اپنے بچوں کو ‘بچوں کی کہانیاں’ پڑھنے نہیں دیتے ،جب بھی کوئی ایسا منظر نظر آتا ہے ،ہم اس سے کہانی کی کتاب چھین لیتے ہیں ،اور اسے فزکس کی کتاب پڑھو ،کیمسٹری کی کتاب پڑھو،اور کمپیوٹر سیکھنے اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف توجہ کرنے کا کہتے ہیں ، مادیت پرستانہ سوچ رکھ کرہم نے شروع ہی میں بچوں کو اُن کے بچپن سے دور کر دیا ہے۔

تیسری نشست کے آغاز سے قبل ہم زرا آواراہ مزاج واقع ہوئے یہ کھانے کا توقف تھا ، یہاں مختلف طبقہ ء ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے اشخاص سے ربط ضبط بڑھانے کا موقع ملا ،ادبی مکالمے بازی بھی جاری رہی ،ہر کس و ناکس تصویر سازی سے برسرِ پیکار دکھائی دیا،یہ اخوت ،محبت ،پیار ،اخلاص سبھی سے صاف جھانکتی ہوئی نظر آتی تھی تیسری نشست کی صدارت جنابِ ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب نے کی ،بھارت سے آئے مہمان ادیب ڈاکٹر کیول دھیر صاحب نے سٹیج پر اس شاندار کانفرنس کے انعقاد پر انتظامیہ کو مبارکباد دی ،انہوں نے ہندوستان سے چھپنے والے بچوں کے جریدے ‘کھلونا’ کی یادیں تازہ کی اور ہندوستانیوں کی طرف سے پاکستانیوں کو آداب کہا۔

Dream
Dream

بانی اخوت ٹرسٹ جناب ڈاکٹر امجد ثاقب نے ‘کامیابی ؟مگر کیسے ۔’کے موضوع پر مفصل خطاب کیا چیدہ اور موثر واقعات سنائے ۔ کامیابی کے لئے خواب دیکھنا پڑتا ہے ،خواب کے بغیر کوئی چیز نہیں ہوتی ،خواب ایک وژن کا نام ہے ،جو ہمارے پاس نہیں ہوتا لیکن ہم اس تک پہنچنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں ،ہم ایک ایسی دُنیا بنانا چاہتے ہیں جس میں ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہو ،ہر شخص کی کامیابی کے حصول کا جو نقطہ ء آغاز ہے وہ خواب ہے ،جو لوگ خواب نہیں دیکھتے وہ تعبیر تک نہیں پہنچ پاتے ،خواب وہ نہیں ہوتے جو سوتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں ،اصل خواب وہ ہوتے ہیں جو انسان کو اضطراب میں مبتلا کئے رکھتے ہیں۔

پروفیسر حمیدہ شاہین نے ‘بچوں کے ادب’ کے معاشرے پر اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ بچہ جو پڑھتا ہے اُسی کے سحر میں مبتلا ہوکر آرزو کرتا ہے ،کہانی مختلف بچوں پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے ،کسی کو ہیرو پسند آتا ہے ،کسی کو وِلن،کہانی کار ایک کردارطاقتور کے حوالے سے ڈالتا ہے ،ایک بچہ اس کہانی کو پڑھ کر اُس جیسا بننے کی کوشش کرتا ہے اور دوسرا بچہ خوف زدہ ہوجاتا ہے ،بچہ کہانی کے اثرات نتائج سے نہیں اُس کے بیانئے سے لیتا ہے ،ماں کا بچے کو فلموں ،کارٹوں کے سپرد کرکے سوجانے سے اٹھنے تک یہ سوچ لینا چاہئے کہ اس ثانئے میں بچے کی دُنیا تبدیل ہوسکتی ہے ،اس سلسلے میں پہلا ہاتھ قلمکار کا ہوتا ہے

جس نے لفظ جوڑ کر کہانی بنائی ،ماحول تشکیل دیا ،جس میں داخل ہوتا بچہ کامیاب ہوکر نکلتا ہے اور کوئی اس زندان میں قید ہوکر زندگی بھر کے لئے وہیں رہ جاتا ہے ،جب بھی بچوں کے لئے قلم اٹھائیں تو کوشش کریں کہ پنجرے نہ بنائیں ، بلکہ خوبصورتی سے گھراایسا گھر ہو جس میں کھڑکیاں بھی ہوں اور دروازے بھی کھول آنکھ ،زمیں دیکھ ،فلک دیکھ،فضا دیکھ کے موضوع پر پروفیسر ہمایوں احسان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لکھنے والے کچھ لکھتے ہوئے تحمل سے کام لیا کریں ،یہ نہیں ہوسکتا کہ سائنس کی ترقی کو روک دیا جائے ، ہم اپنی تحریروں میں اس لئے ناکام ہیں کہ ہمارے الفاظ اور ہیں اور ہمارا ردِعمل اَور ،انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ثقافت کانمائندہ ہو، وہ تب کامیاب ہوتا ہے ،جب وہ محنت کرتا ہے ،اور اسی محنت کادرس ہمیں بچوں کو دینا ہے۔

Urdu
Urdu

کانفرنس میں بچوں کے ادب سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ‘اکادمی ادبیات ِ اطفال ‘کی جانب سے اسناد دی گئیں،بچوں کے عہد ساز ادیب جناب نذیر انبالوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس میں آنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ پچیس سال بعد اُستادِ محترم اور صدرِ نشست ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کی جماعت میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا ،یونی ورسٹی میں ٩٢۔١٩٩٠ میںاِن سے پڑھا،اُن کے ہزاروں شاگردوں میں سے ایک شاگرد یہ ناچیز ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سات آٹھ گھنٹوں سے جاری اس کانفرنس کا حاصل کچھ سفارشات ہیں ،یہ مطالبات نہیں ،ایک تو یہ کہ( ایم ۔اے اردو )کے نصاب میں بچوں کا کلاسیکل ادب اور عصرِ حاضر میں لکھے جانے والے ادب میں سے حصے شامل کئے جائیں ،دوم یہ کہ بچوں کے ادب میں نمایاں خدمات پر تمغہ حسن نمایاں کارگردگی دیا جائے۔ سوم یہ کہ اکادمی ادبیاتِ اطفال کی طرف سے بچوں کے ادیبوں کے لئے ایوارڈز کا اجراء ،چہارم یہ کہ بچوں کے رسائل کے اشتہار کے لئے سرکاری و نجی اداروں سے اشتہارات حصول کی کوشش کرنا ،پنجم یہ کہ بچوں کے رسائل کے مدیران اوردیگر عملے کے لئے تکنیکی ورکشاپس کا انعقاد،ششم یہ کہ بچوں کے ادیبوں کو انشورنس و سرکاری مراعات کا حصول ،ہفتم یہ کہ بچوں کے ادب کے حوالے سے کتب میلوں کا اہتمام ،ہشتم یہ کہ مستحق اور بیمار ادیبوں کے لئے ماہانہ وظیفے کا اجراء ،نہم یہ کہ ہر لائبریری میں بچوں کے ادب کا شعبہ قائم کیا جائے جو بچوں کے رسائل بھی خریدنے کا پابند ہو ،دہم یہ کہ بچوں کے ادب پر کم قیمت والے کاغذ کی فراہمی۔

گیارہواں یہ کہ بچوں کے ادیبوں ،رسائل کی ڈائریکٹری کی اشاعت ،بارہواں یہ کہ ہر سال بچوں کے ادیبوں کی قومی یا عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔جناب نذیر انبالوی ابھی یہ سفارشات حاضرینِ محفل کے سامنے رکھ کر چھوٹنے نہ پائے تھے کہ بانی اخوت ٹرسٹ جناب ڈاکٹر امجد ثاقب نشست سے اٹھے اور جناب نذیر انبالوی کی سفارشات کے جواب میں بچوں کے ادیبوں کے لئے یہ سہولت پیدا کرتے ہوئے کہا کہ اگر اکادمی ذمہ داری لے تو اخوت ٹرسٹ بچوں کے ادیبوں کو ایک لاکھ روپے تک قرض ِ حسنہ دینے کو تیار ہے ۔اس اعلان کا حاضرین نے خیر مقدم کیا اور اِس اقدام کو سراہا۔کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب خطبہ صدارت کے لئے سٹیج پر تشریف لائے، انہوں نے کہا کہ اب کوئی خطبہ صدارت نہیں ہے ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،آپ صبح سے بیٹھے ہیں ،بس صرف مسرت کا اظہار کرنا ہے کہ بہت ہی اچھی کانفرنس ہوئی،نہایت اخلاص اور دیانت داری سے یہ فرض ادا ہوا ،یہ لاہور ہے، آئے دن ملکی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر کانفرنسز کا انعقاد ہوتا رہتا ہے ،یہ تو اہم ضروری شق تھی کہ بچوں کے ادب پر سیمی نار کیا جائے جسے ہم نے نظر انداز کیا ہوا تھا۔”

Mohammad Shoaib Mirza
Mohammad Shoaib Mirza

انہوں نے وائس چیئرمین اکادمی ادبیاتِ اطفال جناب حافط مظفر محسن اور صدر پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی جناب محمد شعیب مرزا کے اس مستحسن اقدام کو سراہا اور کہا کہ بڑے شہروں جیسا کہ لاہور ،کراچی اور اسلام آباد میں بھی ایسی کانفرنسز کے انعقاد ہونے چاہئیے،حقیقت یہ ہے کہ یہی بچے ہمارے مستقبل کے وارث ہیں ،جنہیں ہم نے سب سے زیادہ نظر انداز کیا ہوا ہے ،اس کانفرنس کا انعقاد بڑا مبارک ہے ،انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا ،ان شاء اللہ۔آخر میں تمام مقررین کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا ،گو یہ سلسلہ ہر نشست کے اختتام پر بھی رہا ،معروف ٹی وی کارٹونسٹ عمران سہیل بوبی کا بچوں کے ادب کی موجودہ صورتِ حال پر بنایا گیا پورٹریٹ شرکاء کی نظر کھینچتا رہا ،اس طرح ایک عہد ساز علمی ،ادبی ،معلوماتی،اور اکیڈمی کا درجہ رکھتی ایک روزہ کانفرنس کا اختتام ہوا۔اور بدھو بہت کچھ سیکھ کر گھر کو لَوٹا۔

تحریر : محمد مزمل صدیقی

Share this:
Tags:
Literature pakistan post students university ادب پاکستان پیغام طالبعلم کانفرنس یونیورسٹی
Badin LHV
Previous Post لیڈی ہیلتھ ورکر کو بلیک میلنگ کا مرکزی ملزم الانو میگھواڑ بدین پولیس کے ہاتھوں گرفتار
Next Post سانحہ گلشن پارک لاہور
Blast Gulshan-e-Iqbal Park Lahore

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close