Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

میں کیسے زندہ بچا؟

December 16, 2016 0 1 min read
Yasir
Yasir
Yasir

تحریر : سالار سلمان
چند ہفتوں قبل جب کراچی کے ایک معروف ہوٹل میں آگ لگی تو وہ ہر چینل کی بریکنگ نیوز تھی ۔ لاہور میں الیکٹرانک میڈیا کے صحافی کی زبان میں اس کو ”پھٹا” کہتے ہیں۔ اب جس وقت پھٹا چل رہا تھا تو میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے اس کو مکمل وقت نہیں دے سکا۔ بس اتنا ہی معلوم تھا کہ کراچی کے ایک ہوٹل میں کسی وجہ سے شدید آتشزدگی ہوئی ہے’جس میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ اگلے دن اخبار سے خبر اور اس کی نوعیت کا علم ہوا اور اسی روز مجھے معلوم ہو اکہ ہمارے ہی ادارے کا ایک نوجوان اسی ہوٹل میں موجود تھا اور وہ بھی وہاں سے زندہ بچنے والوں میں شامل تھا۔ اس کی ‘سروائونگ اسٹوری’ مختصراًاس کی زبانی سنئیے۔ میرانام یاسر نیازی ہے اور میں پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی پورٹل کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ میں اے ایم کی جاب کر رہا ہوں۔ میں دفتری امور کے سلسلے میں کراچی گیا تھا۔ دن بھر کام کرنے کے بعد حالت ایسی تھی کہ دل کر رہا تھا کوئی یہی چارپائی دے اور میں یہاں ہی سو جاؤ۔ تھکن سے چُور بدن کے ساتھ میں ریجنٹ ہوٹل پہنچا اور آٹھویں فلور پر اپنے کمرے ‘ کمرہ نمبر 828′ میں چلا گیا۔ میرے دوست نے اندر آ کر ٹی وی آن کر دیا اور میں نے کپڑے تبدیل کر کے اپنے آپ کو بستر پر گرا دیا۔ میں چند ہی سیکنڈ میں سو چکا تھا۔ رات کے کسی پہر میرے دوست نے مجھے روز سے جھنجھوڑا، ”ابے یاسر اُٹھ’ آ گ لگی ہے ‘ بھاگ۔۔۔” اُس کے یہ بے ربط الفاظ تھے جو میرے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح سے لگے۔ میں اُٹھا تو کمرے کی روشنی میں دیکھا کہ کمرے میں ہلکا ہلکا دھواں آ رہا ہے۔

یہ دھواں ایگزاسٹ اور ائیر کنڈیشننگ سے آ رہا تھا۔ میرا دوست دروازے تک پہنچ چکا تھا۔ میں نے جلدی سے سائڈ ٹیبل سے موبائل اُٹھایا اور باہر کی جانب دوڑ لگا دی۔ ہمیں نہیں پتا تھا کہ آ گ کہاں لگی ہے۔ میری حس اب جاگ رہی تھی اور میں نے سوچا کہ اب پریشانی سے کچھ نہیں ہوگا’ ہم آٹھویں فلور پر ہیں اور ہمیں سب سے پہلے جتنا جلدی ہو سکے نیچے آنا ہے۔ کمرے میں لیپ ٹاپ’ بیگ’ پیسے’ جوتے ‘ کمرے اور سب ہی کچھ تھا’جو وہی چھوڑا حتی کہ جوتے بھی نہیں پہنے اورہم باہر بھاگے۔ میں تھا’ میرا دوست تھا اور میرے ہاتھ میں دونوں موبائلز تھے۔ ہم لفٹ کی جانب دوڑے۔ اسی لمحے خیال آیا کہ لفٹ تو بند ہوگی۔ ہم نے وہی سے فائر ایگزٹ کی جانب دوڑ لگا دی۔ اسی اثنا میں مختلف کمروں سے لوگ باہر آ رہے تھے اور باقی کے کمروں پر ہم ٹھونک بجا کر چلا رہے تھے کہ بھاگو ‘ آ گ لگی ہے۔ فائر ایگزٹ کا دروازہ اندر بند تھا۔ ذہن میں ایک ہی دم مختلف خیالات دوڑ گئے ، بلدیہ فیکٹری کا سانحہ بھی یاد آیا۔ اس منزل پر تیزی سے دھواں پھیل رہا تھا ۔ ہم نے دروازے کو ٹھوکریں مارنا شروع کر دی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ دروازہ ٹوٹا تھا کہ کھلا تھا’ لیکن جیسے ہی دروازے ایک جھٹکے سے دیوار سے ٹکرایا تو کالے رنگ کا سیاہ گاڑھا دھواں ہمارے نتھنوں سے ٹکرایا۔ اس کی بدبو متلی کیلئے کافی تھی لیکن حواس کو قابو میں رکھنے کی وجہ سے ہم بس بھاگے۔

اُس فائر ایگز ٹ میں دھواں اس قدر شدید تھا کہ سانس لینا دشوار تھا’ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا اور ہم سیڑھیاں پھلانگ رہے تھے ۔ شدید دھویں میں محسوس ہو گیا کہ ہم زیادہ نیچے نہیں جا سکتے ہیں۔ موبائل کے ٹارچ کی روشنی میں ہم نے سیڑھیوں کے ایک دروازے کو زور سے دھکا دیا تو وہ کھل گیا۔ اب ہم پانچویں منزل پر تھے ۔ ہم اُس منزل کے آخری کنارے پر پہنچے اور ایک کمرے میں گھس گئے ۔ اس کمرے میں اور لوگ بھی تھے ۔ سامنے کی کھڑکیاں تھی جو کہ مضبوطی سے بند تھی ، ہم نے دروازہ بند کر دیا کیونکہ پانچویں فلور پر اس قدر شدید دھواں تھا کہ سانس لینا ناممکن تھا۔ ناک’ آنکھ اور منہ سے پانی بہہ رہا تھا۔ ہم نے سب سے پہلے کھڑکیاں توڑی۔کھڑکی کا بڑا سا شیشہ ایک زور دار چھناکے کے ساتھ ٹوٹا۔ا سی اثنا میں اوپر سے بھی شیشہ نیچے کی جانب گر رہا تھا۔ ہم نے لوگوں کو دیکھا۔ وہ نیچے کھڑے ہوکر اوپر کی جانب دیکھ رہے تھے ۔جیسے ہی ہم نے نیچے دیکھا تو آگ کا ایک بہت بڑا شعلہ نیچے ہی جانب سے اوپر کو اٹھتا ہو ا دکھا ئی دیا۔ اب معلوم ہوا کہ آگ نچلی منزل پر لگی تھی ۔ باہر ایمبولینسوں کی قطاریں تھی’ لوگ تھے’ پریشان صورتیں تھیںاور اگر کوئی نہیں تھا تو مدد نہیں تھی ۔ ہوٹل کی آٹھویں منزل پر مجھے کمرہ دیا گیا تھا اور اس کا سادہ سا مطلب تھا کہ ہوٹل مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جانیں بچا رہے تھے ۔ شیشے توڑ دینے کے بعد ہوا اندر کی جانب آ رہی تھی اور اب سانس لینا قدرے آسان تھا۔ کمرے میں کل چھ آ دمی تھے ۔ اب ہم نے یہاں سے نکلنے کا سوچا۔ اس کیلئے ہم نے ایک قدرتی رسی بنائی ۔ یہ بیڈ شیٹوں تو پھاڑ کر اور اُن کی گانٹھیں باندھ کر بنائی تھی ۔ ہم نے وہ رسی نیچے لٹکائی تو وہ تیسری منزل کے قریب پہنچ گئی تھی ۔ ہم نے اُس رسی کو بیڈ کے فریم سے مضبوطی سے باندھا’ اُس پر میٹرس رکھا’ پھر ایک اور میٹرس رکھا اور اس پرکمرے میں موجود بھاری سامان رکھ دیا۔

Lahore Hotel Fire
Lahore Hotel Fire

اب باری تھی کہ سب سے پہلے نیچے کون جائے گا۔ اگر ہم کسی طرح سے نیچے سیکنڈ فلور تک پہنچ جاتے تو اُس کے ٹیرس سے بچنے کا امکان تھا ۔ تھرڈ فلور اور سیکنڈ فلور سے کچھ لوگ وہیں سے نیچے کی جانب گئے تھے ۔ وہاں ایک سیمنٹ کے کالم سے ایک سلائڈ سی تھی جو کہ نیچے کی جانب جاتی تھی ۔لیکن پانچویں فلور سے دوسرے فلور تک کیسے جائیں؟ ہم سے کچھ ہی فٹ کے فاصلے پر سکیف فولڈنگ کی طرح کی موٹی سی رسی جھول رہی تھی۔ وہاں سے بچنا ممکن تھا لیکن اُس تک رسائی ممکن نہیں تھی ۔ بیڈ شیٹس کو کاٹ کر بنائی گئی رسی نیچے لٹک رہی تھی ۔ کمرے میں دھواں تیزی سے پھیل رہا تھا ‘ لوگوں میں پریشانی ‘ بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا تھا’ مدد تھی کہ آنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور فائر ایگزسٹ میں دھواں بھر جانے کی وجہ سے وہاں سے نیچے جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ اُس کمرے میں موجود چھ لوگوں نے یہی کہا کہ میں نیچے جاؤں کیونکہ سب سے کم وزن میرا ہی تھا۔ خیر تھوڑی سی بحث کے بعد میں جانے کیلئے تیار ہوگیا۔ میں نے اُسی کمرے سے کسی کے جوتے پہنے اورکھڑکی کے راستے ‘خود ساختہ رسی کو پکڑ کر باہر نکلا، ابھی میں نے اپنے آپ کو نیچے لٹکایا ہی تھا کہ میری نظر نیچے کی جانب گئی۔ مجھے ایک دم سے شدید قسم کا چکر آیا۔میری بیڈ شیٹ کی رسی پر گرفت کمزور ہو رہی تھی۔

میں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ مجھے فورا اوپر کھنچیں ۔ انہوں نے مجھے اوپر کھینچا۔میں جیسے ہی ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے راستے سے کمرے میں پہنچا تو اوپرسے بھاری تعداد میں شیشہ نیچے ہی جانب گرا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں بچ گیا ورنہ میرے سر پر گہری چوٹ لگ سکتی تھی ۔ اسی اثنا میںکسی کمرے سے ایک خاتون نے پریشانی کے عالم میں پانچویں فلورسے نیچے چھلانگ لگا دی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ خاتون نیچے گرتے ہی دم توڑ گئی۔اب موت تو ہمیں بھی سامنے دکھائی دے رہی تھی۔ اندر دھویں’ گرمی اور حبس کی وجہ سے بڑا حال ہو رہا تھا۔ ناک ‘ آنکھوں اور منہ سے پانی نکل رہا تھا۔ سانس لینا نا ممکن ہو رہا تھا ۔ کھڑکی سے بھی ہوا نہیں آ رہی تھی اور دم گھٹ رہاتھا۔ اتنے میں کسی نے تولیے اٹھائے اور اُن کو باتھ روم سے گیلا کر کے لے آیا۔ ہم نے بھی اُس کی پیروی کی۔ ہم اُس کو اپنی آنکھوںپر مل رہے تھے اور اُس کو چوس کر اپنے حواس بحال رکھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔وقتی طور کیلئے یہ کام ٹھیک تھا۔

واش روم سے واپسی پر باہر نکلتے ہوئے میرا پاؤں پھسلا اور میں بہت بڑی طرح سے نیچے گرا۔ میرے ہاتھ میں موجود ایک موبائل گر کر بند ہو گیا۔ میں کسی طرح سے دوبارہ اُٹھا اور جان بچانے کی ترکیب سوچنا شروع کر دی۔ ایک بات واضح تھی کہ اس کمرے میں موت صاف تھی اور اب کمرہ تبدیل کرنا ضروری تھا۔ میں اور میرا دوست باہر بھاگے اور ایک اور کمرے میں گھس گئے ‘ وہاں بھی پہلے سے لوگ موجو دتھے ۔ ہم نے سب سے پہلے اس کمرے میں گیلے تولیے سے خود کو تھوڑا گیلا گیا۔ دروازے کی درزوں میں بیڈ شیٹ پھنسائی اور کھڑکیوں کو توڑ کر ہوا کی ترسیل کیلئے جگہ بنائی ۔ اسی اثنا ء میں آرمی’ رینجرز اور فائر برئیگیڈ کا عملہ پہنچ رہا تھا۔ آرمی کو دیکھتے ہی ایک سکون سا ہوا کہ شاید اب زندگی بچ جائے ۔ نیچے سے کسی نے آواز لگائی کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب حالات انڈر کنٹرول ہیں۔ تاہم کمرے کے حالات آؤٹ آف کنٹرول ہو رہے تھے ۔ سب سے زیادہ معاملہ دھویں کی وجہ خراب تھا جو کہ ایگزاسٹ اور ائیرکنڈیشننگ کی جگہ سے آ رہا تھا۔ یہ سنٹرل سسٹم جس کو بند کرنا ممکن نہیں تھا اور مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس ہوٹل کا عملہ اس وقت کیا کر رہا ہے۔

Rescue 1122
Rescue 1122

فوجی جوان سیڑھیاں لگا کر لوگوں کو ریسکیو کرنا شروع ہو چکے تھے۔ ایمبولینسیں لاشیں اور زخمیوں کو اُٹھا رہی تھی ۔ بہت سے ایسے زخمی تھے جنہوں نے جان بچانے کیلئے پریشانی میں چھلانگ لگائی اور اُن کی ٹانگیں اور بازو ٹوٹ چکے تھے ۔ فوجیوں نے سیڑھی سے ساتھ سیڑھی باندھ کر اس کو مطلوبہ اونچائی تک پہنچایا تھا۔ مزید امداد ابھی آ رہی تھی ۔نیچے سے ایک جوان نے ہمیں کہا کہ صاحب آپ کو ساتھ والے کمرے میں آنا ہوگا’ ہم آ پ کو یہاں سے نہیں بچا سکیں گے۔ ہم نے کہا کہ بھائی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ راستہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا، آپ نے باہر کی جانب دوڑ لگانی ہے۔ جیسے ہی اُس نے بات ختم کی تو ساتھ ہی دروازہ روز سے بجا۔ ہم نے دروازہ کھولا تو باہرچند فوجی تھے۔ انہوں نے ہمیں ایک کمرے میں پہنچایا جہاں تک اُن کی سیڑھی کی رسائی تھی ۔ اب ہم باری باری نیچے اتر رہے تھے ۔ پانچویں فلور سے نیچے کی جانب دیکھیں تو دل دہل جاتا ہے(یہاں میرے دوست نے ‘مختلف ‘ الفاظ استعمال کئے تھے)۔ہمیں جوان نے کہا کہ صاحب آپ نے نیچے نہیں دیکھنا ہے۔ اِس رسی کو درمیان میں کر لیں ‘ ایک ہاتھ سے رسی پکڑیں اور دوسرے ہاتھ سے سیڑھی کو پکڑیںاور اپنا وزن سامنے کی جانب رکھیںاور آہستہ آہستہ نیچے کی جانب آئیں، کچھ نہیں ہوگا۔ معلوم نہیں کہ اُس کے لہجے میں ایسا کیا تھا کہ میں نے یقین کر لیا کہ مجھے کچھ نہیں ہوگا ۔ میں کھڑکی کے راستے نیچے پہنچ گیا۔

وہاں سے میڈیا لائیو رپورٹنگ کر رہا تھا ، میں بھیڑ سے ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔ مجھے ایک بندے نے کہا کہ جناب آپ کا سامان کہا ںہے ؟ میں نے کہا سامان کی کس کو ہوش تھی ، ابھی سب واپس مل جائے گا۔ اُس نے کہا کہ کچھ بھی واپس نہیں ملے گا۔ کوئی نہ کوئی اس کو غائب کر دے گا اور اگر واپس ملا تو وہ کپڑے ہونگے۔ میں ریجنٹ ہوٹل کے اندر دوبارہ سے داخل ہوا کیونکہ میرا لیپ ٹاپ ‘ پیسے اور سب کچھ زمین سے آٹھ منزلیں اوپر تھا اور جس جگہ سے میں جان بچا کر بھاگا تھا ‘ میں وہی جا رہا تھا۔ اندر سارا ہوٹل جل کر کالا ہو چکا تھا جلنے کی بو شدید ترین تھی اور حبس اور گرمی سے بڑا حال تھا ۔ برائے کرم مجھے پاگل مت سمجھئیے گا، ایسی صورتحال میں ایسا ہو سکتا ہے ۔اوپر جانے کیلئے اب میں نے فائر ایگزٹ کا راستہ چنا۔ یہ ایک عجیب فائر ایگزٹ تھی جو کہ بند تھی جبکہ باقی فائر ایگزٹ اس طرح سے بند نہیں ہوتی ہیں۔ اندر شدید حبس اور گرمی تھی اور ساتھ میں جلنے کی شدید ترین بدبو تھی۔ ہر منزل پر لگتا تھا کہ کسی نے ان دروازوں کو کھولنے کی کوشش کی ہے لیکن کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ میں آٹھویں فلور پر پہنچا تو میرا بڑا حا ل ہو چکا تھا ۔وہاں پر رینجرز یا فوج کے جوان تھے ۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر پوچھا کہ صاحب کون ہو؟ کہاں جانا ہے؟ واپس نیچے جاؤ۔

میں نے کہا کہ میرا سارا سامان اوپر ہے اور میں نے اس کو ہر حالت میں لینا ہے۔ اس منزل پر شدید ترین دھواں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ، جائیں ‘ لے آئیں۔ میں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ آئیں، میرے پاس تو ٹارچ بھی نہیں ہے ۔ وہ میرے ساتھ آئے ۔ میں نے کمرہ کھولنے کی کوشش کی تو وہ بند تھا’جبکہ میں اسی راستے سے تو باہر نکلا تھا۔ خیر’ انہوں نے کوئیک مارچ کے بوٹس کا استعمال کیا اور دروازے کو چند ہی سیکنڈ میں توڑ دیا۔ اب میں نے اپنا لیپ ٹاپ’ والٹ اٹھایا، بیگ میں کپڑے پھینکے اور باہر نکل کر نیچے آ گیا۔ فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں، میں نے گھر فون کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دی۔ میں وہاں سے اپنے دوست کے گھر گیا ایک وقت میں ایسا لگ رہا تھا کہ میں شاید زندہ نہیں بچوں گا’ لیکن میں اللہ کے رحم سے زندہ تھا۔ میرے سامنے لوگ چھلانگیں لگا کر گر رہے تھے’ زخمی ہو رہے تھے’ مر رہے تھے ‘ لیکن اللہ نے مجھے زندہ رکھا۔ میں نے ایک بات سیکھی ہے کہ ایسی صورت میں حواس کا بحال ہونا بہت ضروری ہے ورنہ آپ کی زندگی کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتاہے ۔ اس حادثے کی حتمی تحقیقات کیا کہتی ہیں ‘اُس پر بات بعد میں کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ فائر ایگزٹس کو اپ ڈیٹ کب کریں گے؟ اُ ن کے دروازے کب ٹھیک کریں گے؟ آگ بجھانے کے کافی انتظامات کب ہونگے؟ میڈیا کی رپورٹس سے میں متفق نہیں ہوں کہ 14لوگ مرے ہیں،شاید تعداد زیادہ ہی ہو تاہم میں بھی حتمی کچھ نہیں کہ سکتا لیکن اُن کا خون کس کے سر ہے؟۔

Salaar Sulaman
Salaar Sulaman

تحریر : سالار سلمان

Share this:
Tags:
fire hotel journalist karachi live Media save آگ بچا زندہ صحافی کراچی میڈیا ہوٹل
Black Friday
Previous Post بلیک فرائی ڈے یا جمعتہ المبارک
Next Post نوجوان اپنے ہدف کا تعین کریں، تنزیلہ اشرف
Karachi Seminar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close