
لاہور (جیوڈیسک) پنجاب اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن نے قائم مقام سپیکر پر زمینوں پر ناجائز قبضے کا الزام لگا دیا۔ اپوزیشن ارکان کا بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایک مرتبہ پھر احتجاج، شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی۔ حکومت نے اپوزیشن کے شور شرابے میں تین بل منظور کروا لیے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس سوا گھنٹے کی تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار شیر گورچانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔
اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے قائم مقام سپیکر پر زمینوں پر ناجائز قبضوں کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر بات کرنا چاہی تو قائم مقام سپیکر سردار شیر گورچانی نے بولنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے ایک بار پھر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور کہا کہ اپوزیشن کو روز بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ نہ ہماری قرارداد لی جا رہی ہے نہ ہی تحریک التوائے کار پیش کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو، ترقیاتی فنڈز اور بہت سے دیگر ایشوز پر بات کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں بات نہیں کرنے دی جا رہی۔ حکومت نے اپوزیشن کے شور شرابے میں ایوان کی کاروائی جاری رکھی اور مسودہ لائیو اسٹاک قانون، سول سرونٹ ترمیمی بل کارکردگی نظم و ضبط و جوابدہی ملازمین پنجاب کا بل منظور کروا لیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران ہی کل صبح نو بجے کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
