Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یوم اظہار محبت

February 14, 2014 0 1 min read
Love
Valentine's Day
Valentine’s Day

14 فروری یعنی ویلنٹائن ڈے کوہر سال محبت کرنے والے یومِ اظہارِ محبت کی حیثیت سے مناتے ہیں۔ بالخصوص مغربی ممالک میں یہ دن بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ لیکن اسلامی ممالک میں اِس کا کوئی رواج نہیں ہے۔ سب ممالک میں یہ دن مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے اور بعض ممالک بالخصوص ایشیائی اور مسلم ممالک میں اِس دن کو برا سمجھا جاتا ہے! یہاں تک کہ ہندوستان میں جہاں ویلنٹائن ڈے نوجوانوں میں مشہور ہوتا جارہا ہے، ہر سال دائیں بازو کے سخت گیر ہندو کارکن محبت کے اِیسے جوڑوں کے خلاف دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ویلنٹائن ڈے کا تہوار تیزی سے مقبول ہواہے۔ چند عشرے پہلے تک جنوبی ایشیاء میں یہ نام بھی شاید کم ہی لوگ جانتے تھے، مگر اب ویلنٹائن کے موقع پر پاکستان تک کے اکثر شہروں میں پھول ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔
برطانیہ میں یومِ ویلنٹائن کو مقبولیت سترہویں صدی عیسوی میں ملی۔ اٹھارویں صدی کے وسط تک دوستوں اور محبت کرنے والوں کے درمیان اْس دن ہر پیغامات کا تبادلہ عام ہو گیا۔ اِس صدی کے اختتام تک ویلنٹائن ڈے کے طباعت شدہ کارڈز سامنے آگئے جو جذبات کے اظہار کا آسان ذریعہ بنے۔یہ برطانیہ کا وہ دور تھا جب عورتوں مردوں کا گھلنا ملنا زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ امریکیوں میں بھی ویلنٹائن ڈے کے پیغامات کا تبادلہ اٹھارویں صدی میں شروع ہوا۔ ویلنٹائن ڈے پر مختلف طرز کے تحفے دینے کا رواج ہے۔ان تحائف میں پہلی بار جو تحفہ سامنے آیاوہ نقش ونگار والی پیپرلیس تھی جس کو امریکہ میں تیار کیا گیا تھا اِس کے بعد بر طانیہ میں ویلنٹائن ڈے کارڈ کا رواج عام ہوا۔ امریکن گریٹنگ کارڈ ایسوسی ایشن نے اندازہ لگایا ہے کی دنیا بھر میں اِ س دن تقریباََ ایک ارب کارڈ بھیجے جاتے ہیں اور اِسی لحاظ سے یہ دوسرا بڑا دن ہے جس دن اتنے کارڈ بھیجے جاتے ہیں۔

دنیا میں سب سے ذیادہ کارڈ کرسمس پر لوگ ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے ایک اور اندازہ لگایا ہے کہ 85 فیصد عورتیں ویلنٹائن کی چیزیں خریدتی ہیں۔ اْنیس ویں صدی میں ہاتھوں سے لکھے گئے خطوط اِس دن بھیجنے کا رواج تھا جس نے بعد میں گریٹنگ کارڈ کی شکل اختیار کر لی۔ یوم ویلنٹائن اب ایک جشن ہی نہیں بلکہ بہت بڑے کاروبار کا دن بھی ہے۔ رواں سال کینیا، بھارت اور دیگر ممالک سے لاکھوں ڈالر کے سرخ گلاب برطانیہ پہنچے ہیں۔ بیس ویں صدی میں امریکہ میں کارڈز کے ساتھ ساتھ مختلف تحائف بھی بھیجے جانے لگے جو کہ عموماََ مرد عورتوں کو بھیجتے تھے۔ اِن تحائف میں سرخ گلاب کے پھول اور چاکلیٹ جن کو دل کی شکل کے ڈبوں میں رکھ کر سرخ رنگ کے ربن کے ساتھ سجایا جاتا ہے شامل ہیں۔ ویلنٹائن ڈے والے دن ہیر ے کے جواہرا ت بھی تحفے میں دیئے جاتے ہیں۔ امریکہ کے بعض ایلیمنٹری اسکو لوں میں طلبہ سے اپنی جماعتوں کو سجانے کیلئے اور اپنی جماعت میں موجود تمام ساتھیوں کو ویلنٹائن کارڈ یا تحفہ دینے کیلئے کہا جاتا ہے۔ برطانیہ سے رواج پانے والے اِس دن کو بعد میں امریکہ اور جرمنی میں بھی منا یا جانے لگا۔ تاہم جرمنی میں دوسری جنگِ عظیم تک یہ دن منانے کی روایت نہیں تھی۔

دوسرے ممالک میں یہ دن مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔ برطانیہ میں ویلنٹائن ڈے کو علاقائی روایات مانا جاتا ہے۔ نور فولک میں جیک نامی ایک کریکڑ گھروں کے پچھلے دروازوں پر دستک دتیا ہے اور بچوں کیلئے دورازے پر ٹا فیاں اور تحالف چھوڑ جاتا ہے۔ ویلز میں بہت لوگ اِس دن کی جگہہ 25جنوری کو سینٹ ڈائینونز ڈے مناتے ہیں۔ فرانس روایتی طور ہر ایک کیتھولک ملک ہے، یہاں ویلنٹائن ڈے کو سینٹ ویلنٹین” کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہاں یہ دن مغربی ممالک کی طر ح ہی منا یا جاتا ہے اور سپین میں بھی یہ دن دوسرے مغربی ممالک کی طرح منایا جاتا ہے۔ ڈنمارک اور ناروے میں یہ دن بڑے پیمانے پر نہیں منایا جایتا مگرکئی لوگ اِس دن اپنے ساتھی کے ساتھ رومانوی ڈنر پرجا تے ہیں اور ایک دوسرے کو کارڈز اور تحائف دیتے ہیں۔ سویڈن میں اِس دن کو ” آل ہارٹس ڈے” کہا جاتا ہے یہاں یہ دن پہلی بار 1960 میں منایا گیا جس کی بنیاد فلاور انڈسٹر ی نے رکھی تھی۔ فن لینڈ میں اِس دن کو”فرینڈ ڈے”کہا جاتا ہے اور اِس دن کو خاص دوستوں کیلئے اور اْن کی یاد میںمنایا جاتا ہے۔ سلوانیا اور رومانیا میں یہ دن عام مغربی ممالک کی طرح منایا جاتا ہے۔ اور اِس دن روایتی طور پر چھٹی ہوتی ہے۔ برازیل میں اکیس جون کو” بوائے فرینڈ ڈے” منایا جاتا ہے اور اِس دن جوڑے آپس میں چاکلیٹ، تحائف، کارڈز اور پھولوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ جاپان، چین، کوریا اور دوسرے ایشیائی ممالک میں بھی یہ دن منایا جاتا ہے اور اِس دن تحائف، کارڈز اور خاص طور پر ایک دوسرے کو سر خ گلاب تحفے اور محبت کی نشانی کے طور پر دئیے جاتے ہیں۔ بھارت میں بھی اِس دن کو بہت جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔ کئی بھارتی تنظیمیں اِس دن کو منانے کے خلاف ہیں۔

Gifts
Gifts

کئی ممالک میں اِس دن کو منانے پر پابندی ہے جن میں ایران، سعودی عرب اور دوسرے کئی ممالک شامل ہیں۔ سعودی عرب میں ویلنٹائن ڈے پر تحائف کے طور پر دی جانے والی چیزوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔پاکستان میں بھی یہ دن منانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ٹی وی چینلز پر اِس دن کی خصوصی نشریات دکھائی جاتی ہیں۔ ایک دوسرے کو تحائف دینا، تفر یحی مقامات پر جانا اور کھانے کی دعوت دینا اِس دن کی مناسبت سے عام ہے۔ پہلے محبت قربانی کا جذبہ مانگتی تھی، اب خرچہ مانگتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اِسے بھر پور اندازا میں منانے والے اِس بات سے لاعلم ہیں کہ اِسے کیوں منایا جاتا ہے۔ اِس دن شہر کی سڑکوں پر عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پھولوں کی دکانوں سے پھول اچانک غائب ہو جاتے ہیں، بس اسٹاپ پر منچلے لڑکے لڑکیوں سے چھیڑ خانی کرتے اور پھول پھینکتے ہوئے دکھا ئی دیتے ہیں جب کہ تماِم پارکوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور اِس دن کے لحاظ سے لڑکیوں نے سرخ لباس زیبِ تن کئے ہوتے ہیں تاکہ اِس دن بھر پور انداز میں لطف اندوز ہوا جا سکے۔ اِب یہ ایک فیشن بن گیا ہے اور پاکستان میں ہرکوئی اِس فیشن کو اپنانے کے لئے سرگرداں ہے۔ ویلنٹائن ڈے کیا ہے یہاں اِس کا ذکر انتہائی ضروری ہے۔ بہت سے لوگ اِسے ایک مغربی رسم قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جبکہ بہت سوں کا خیال ہے کہ جب ہم جنگیں لڑنے کے دن منا سکتے ہیں تو سال میں ایک دن باہمی محبت کے نام کیو ں نہیں کرسکتے؟۔ ہمیں مغربی انداز پسند نہیں تو اِپنی مذہبی و معاشرتی اقدار میں رہتے ہوئے بھی ہم یومِ محبت منا سکتے ہیں۔

لیکن ایک سوچ یہ بھی ہے کہ ہم جتنے پیسے اِس قسم کی سر گرمیوں پر خرچ کرتے ہیں اگر وہی رقم کسی ضرورت مند کو دے دیں تو کیا زیادہ مناسب نہیں ہو گا؟ ویلنٹائن ڈے کا مطلب ہے اپنے محبوب کو تحفہ دینا اور محبت نبھانے کا عہد کرنا۔ ویلنٹائن ڈے پر تحقیق کرنے سے پتہ چلا کہ یہ صدیوں پرانی روایت ہے مگر وقت گزرنے کے سا تھ ساتھ اِب یہ جدید شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ جب سے کمیونیکیشن نے فاصلے کم کرنے شروع کیئے ہیں ایک علاقے کے رسم و رواج دوسرے علاقوں میں تیزی سے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ٹی وی، ڈش، کیبل اور انٹرنیٹ نے اِب گھر کا کوئی فرد ایسا نہیں چھوڑا جو دوسرے خطوں کے رسم ورواج سے متاثر نہ ہواہو۔ انڈیا کی ثقافت کی پاکستان پر یلغار سب کے سامنے ہے۔ ویلنٹائن ڈے بھی عاشقوں کیلئے ایک نعمت بن کر واردہوا ہے۔ اِب آپ جس سے محبت کرتے ہیں مگر اِب تک اظہار کرنے کی جرات نہیں کر پائے اْسے صرف پھول یا پھر ایک سستا سا کارڈ بھیج کر اپنے دل کی آواز اْس تک پہنچا سکتے ہیں۔ آگے آپ کے محبوب کی مرضی ہے کہ وہ بہت ساری آفروں میں سے کس کی آفر قبول کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہم نے ویلنٹائن ، بسنت اور ہندوانہ طرز کی شادی کی رسومات کو تو بہت آسانی سے اپنا لیا مگر یورپ اور ہندوستان کے اچھے اْصولوں کو نہیں اپنایا۔

ویلنٹائن ڈے کو عاشقوں یا محبت کرنے والوں کا دن کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے قدیم ترین تہواروں میں سے ایک ہے۔ کہتے ہیں کہ پہلا ویلنٹائن 498 عیسوی میں روم میں منایا گیا تھا یعنی 15 سو سال سے بھی زیادہ پہلے مگر محبت کی تاریخ اس سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اتنی ہی پرانی جتنا کہ آدم وحوا اگر محبت نہ ہوتی تو دنیامیں اولاد آدم بھی نہ ہوتی۔ مگر محبت ہے کیا؟ شاعر اور ادیب اسے سب سے لطیف اور پاکیزہ جذبہ قرار دیتے ہیں۔ دنیا بھر کے اوب و فن میں جتنا کچھ اس پر تخلیق کیا گیا ہے، اس کا عشر عشیر بھی کسی اور موضوع کے حصے میں نہیں آیا۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ محبت کا جذبہ کرہ ارض کے ہر ذی روح مخلوق میں موجود ہے۔

طبی ماہرین کا کہناہے کہ محبت دماغ کے ایک مخصوص حصے میں رونما ہونے والی کیمیائی تبدیلی ہے۔ یہ اس تبدیلی کے متشابہ ہے جو کوئی نشہ آور چیز کھانے سے دماغ میں پیدا ہوتی ہے۔
طب یونانی میں اسے دیوانگی قراردیتے ہوئے اس کا علاج تجویز کیا گیا ہے۔ نفسیاتی ماہرین محبت کو عورت اور مرد کے درمیان ایک دوسرے کے لیے موجود فطری کشش کا نام دیتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ ماؤں کواپنے بیٹوں سے، بہنوں کو اپنے بھائیوں سے اور بیٹیوں کو اپنے والد سے زیادہ پیار ہوتا ہے۔سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ صنف مخالف سے محبت کے سوا تمام محبتیں معاشرے اور ماحول کے تقاضوں، ضرورتوں اور ان کے اثرات کے تابع ہوتی ہیں۔

انسان کب محبت میں گرفتار ہوتا ہے؟ سماجی ماہرین کے خیال میں یہ ایک طویل عمل ہے جو بتدریج آگے بڑھتا ہے مگر شاعری میں اسے ایک ایسا تیر قرار دیا گیا ہے جو آناً فاناً جگر کے پار ہو جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس اس نظرئیے کی تصدیق کرتی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ عشق کا تعلق دل سے نہیں بلکہ دماغ سے ہے۔ ایک حالیہ سائنسی مطالعہ سے ظاہر ہواتھا کہ عشق پہلی ہی نظر میں ہو جاتا ہے اور جیسے ہی کوئی چہرہ نظروں کو بھاتا ہے دماغ کے ایک مخصوص حصے میں برقی لہریں پیدا ہوتی ہیں ، جنہیں ایم آر آئی (MIRI)کے ذریعے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ طبی ماہرین عشق کے مطابق تین درجے ہیں۔ ہر درجے میں دماغ میں مختلف قسم کے ہارمون پیدا ہوتے ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کو پہلی نظر میں محبت کے نظریئے سے قدرے اختلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عشق میں گرفتار ہونے میں ڈیڑھ سے چار منٹ کا وقت لگتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عشق کی پہلی منزل لاشعوری طور پر جنسی کشش کے تابع ہوتی ہے۔ دوسری منزل پر عاشق اپنے محبوب کے ہر انداز اور ہر پہلو کو بخوبی سمجھنے لگتا ہے اور آخر میں وہ رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی کی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔

Wedding
Wedding

نفسیاتی ماہرین عشق اور شادی کودو الگ چیزیں قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اکثر صورتوں میں محبت کی شادی ناکام ہوجاتی ہے کیونکہ محبت میں دونوں کی توقعات بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں، جن کا پورا ہونا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا، جس سے دل کو ٹھیس لگتی ہے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں ایک دوسرے کی خوبیاں بھی خامیاں دکھائی دینے لگتی ہیں اور ناکامی کاسفر شروع ہو جاتا ہے۔نفسیاتی ماہرین کا کہنا کہ شادی ٹھنڈے دل و دماغ سے خوب سوچ سمجھ کر کرنی چاہئے۔ دیرپا محبت وہ ہوتی ہے جو لمبے عرصے کے میل ملاپ اور ایک دوسرے کی خوبیاں اور خامیاں قبول کرنے سے پروان چڑھتی ہے۔

ویلنٹائن کے آغاز کے بارے میں بہت سی روایات مشہور ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ وہ دن ہے جب ”سینٹ ویلنٹائن” نے روزہ رکھا تو اور لوگوں نے اْسے محبت کا دیوتا مان کر یہ دن اْسی کے نام کر دیا۔ کئی لوگ اْسے کیوپڈ (محبت کے دیوتا اور ”وینس”(حسن کی دیوی) سے موسوم کرتے ہیں جو کیوپڈ کی ماں تھی۔ سینٹ ویلنٹائن، جن کی یاد میں ویلنٹائن ڈے منایا جاتاہے، نوجوان جوڑوں کی شادیاں کراتے تھے۔ 270ء کے لگ بھگ روم کے بادشاہ کلاؤڈس دوئم نے نوجوان فوجیوں کی شادی پر پابندی لگادی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اس سے ان کی کارکردگی بہتر ہوگی۔ سینٹ ویلنٹائن چوری چھپے ان کی شادیاں کرانے لگے اور بالآخر قید کردئیے گئے۔ زیادہ تر روایات کے مطابق انہیں 14 فروری 270ء میں سزائے موت دے دی گئی۔

بعض تاریخ دانوں کا کہناہے کہ جیل میں ایک لڑکی ان سے ملنے آتی تھی۔ وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گئے جس کا اظہار انہوں نے سزائے موت سے قبل لڑکی کے نام آخری خط میں کیا تھا۔ خط کے آخری الفاظ تھے تمہارا ویلٹنائن آج بھی ویلنٹائن ڈے پر بھیجے جانے والے کارڈوں پر کسی کے دستخط نہیں ہوتے۔ یہی صرف دو الفاظ ہوتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق گذشتہ سال ایک ارب ویلنٹائن کارڈ بھیجے گئے تھے۔ اس سال یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

محبت انسان کا ایک بنیادی اور فطری جذبہ ہے۔ انسانی وجود، رشتوں اور تعلقات میں یہ جذبہ بڑے جمال اور حسن کے ساتھ اپنا ظہور کرتا ہے۔ خدا اور بندے، اولاد اور والدین، دوست اور اقربا کے رشتوں کی ساری خوبصورتی نہ صرف اس جذبہ کی عطا کردہ ہے بلکہ ان رشتوں کو زندگی کے ہر امتحان میں اگر کوئی سرخرو کرتا ہے تو بلا شبہ یہی محبت کا جذبہ ہے۔ محبت کے رشتہ کی ایک اور لطیف شکل وہ ہے جو آغاز شباب میں دل کے صحرا پر پہلی پھوار کی طرح برستی ہے۔ بحر زندگی ایک نئے تلاطم سے آشنا ہوتا ہے۔ قدم بے اختیار کسی سمت اٹھتے ہیں۔ نظر بے سبب کسی کو ڈھونڈتی ہے۔ دل کی دھڑکن بلاوجہ تیز ہو جاتی ہے۔ نگاہ پر بجلی سی کوندتی ہے۔ قلب جتنا بے چین ہوتا ہے دماغ اتنا ہی آسودہ رہتا ہے۔ دل کو بارہا بے وجہ قرار ملتا ہے اور بے وجہ قرار ملنے سے دل بہت بے قرارسا رہتا ہے۔

محبت کے اس جذبہ کا ودیعت کرنے والا وہ خالق دو جہاں ہے جو خدائے قدوس ہے۔ ہر تعریف کا مستحق، ہرخوبی کا سرچشمہ، ہر جمال کا خالق اور ہر جذبہ کا مالک۔ وہ جس طرح اپنی عطا میں لازوال ہے اسی طرح اپنی حکمت میں بھی باکمال ہے۔ وہ قدسیوں کا ممدوح ہی نہیں عارفوں کا محبوب بھی ہے۔ اس کی یہ حمد اور اس کی یہ محبت بے سبب نہیں۔ زندگی کی کہانی کا ہر ورق اسی نے لکھا ہے اور ہر سطر اسی کے زور قلم کا نتیجہ ہے۔ اس کہانی کا آغاز وہ محبت کی اسی نرم و نازک کونپل سے کرتا ہے، جسے نکاح کے تحفظ کے بعد وہ ایک شجر سایہ دار کی طرح دیکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے وہ نوجوان محبت کے بیج کو دلوں کی زمین پر اگاتا ہے اور مضبوطی کے لیے جنس و شہوت کی کھاد ڈال دیتا ہے۔

مگر اس حیات بخش کھاد کوگناہ کی دلدل بنادینے والا ابلیس لعین ہے۔ وہ شیطان مردود جو اپنی سرکشی کی وجہ سے بارگاہ ربوبیت سے دھتکار دیا گیا تھا۔ اور جس ہستی کے حسد میں دھتکارا گیا تھا وہ یہی انسان تھا، جس کا دل محبت کے دریا میں بہرحال ڈوبتا ہی ہے۔ شیطان ملعون نے خدائے ذوالجلال کی عزت کی قسم کھا کر انسان کی بربادی کا عزم کیا تھا۔ وہ اس دریا کا رخ نکاح کے بحر زیست کے بجائے بدکاری کے گندے نالے کی طرف موڑنے کا خواہش مند رہتا ہے۔ وہ عفت کی پاکیزگی کے بجائے شہوت کی گندگی کو مقصود زیست ٹھہراتا ہے۔ وہ نکاح کے تقدس کے بجائے زنا کی غلاظت کو لذیذ تر بناکر پیش کرتا ہے۔ وہ حیا کی بلندی کے بجائے آوارگی کی پستیوں کو مقصود حیات بنادیتا ہے۔

اور آخری زمانے کی یہ مغربی تہذیب کہ جس نے ہزار برس سے قید شیطان کو رہا کرایا ہے، بحر و بر کو مسخر کرنے کے بعد دو عالم میں غالب ہے۔ یہ تہذیب میڈیا کی راہ سے شیطان کا ہتھکنڈہ بن کر دنیا اور اس کی اقدار پر حملہ آور ہوئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا حملہ یہ ہے کہ اس نے محبت کے پاکیزہ تعلق کو شہوت کی غلاظت سے لتھڑ دیا ہے۔ اس نے(Love Affair) کو (Lust Affair) بنادیا ہے۔ جو نامطلوب تھا اسے مقصود بنا دیا ہے اور جو مطلوب تھا اسے آزادی کی راہ میں کہیں کھو دیا ہے۔

ہمیں نہ محبت سے نفرت ہے نہ جوانی میں دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کے ہم دشمن ہیں۔ نہ انسانی جذبوں سے ہم ناواقف ہیں نہ شباب کے رنگوں کو پہچاننے سے اندھے۔ ہم مغربی تہذیب کے دشمن ہیں نہ مغربی اقدار و تہوار کے۔ نہ جوانی کے سیلاب پر بندھ باندھنے کے خواہاں ہیں نہ جدیدیت کی موج کو قدامت کے کوزے میں بند کرنے کے خواہش مند۔ صرف قوم کے فرزندوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے پروردگار نے ان کے لیے اس دنیا میں ایک ہی ویلنٹائن ڈے مقرر کیا ہے۔ وہ ان کی شادی کا دن ہے۔

Love
Love

رہی ان کی محبت تو اس کا اظہار ہر روز ہونا چاہئے تو پھر صرف 14 فروری کا دن ہی کیوں؟
اور اگر ویلنٹائن ڈے اظہار محبت کا وہ دن ہے جس روز آپ جسے پیار کر تے ہیں اس کی جانب اپنے احساس کا اظہار کرتے ہیں تو پھر یہ دن ان تمام افراد کیلئے ہونا چاہئے جن سے آپ کو پیار ہے۔ یہ افراد آپ کے والدین، بھائی، بہنیں، دوست یا رشتہ دار ہو سکتے ہیں کیونکہ محبت صرف ایک شخص کیلئے نہیں ہوتی ہے۔ اگر ویلنٹائن ڈے پیارکے اظہار کا دن ہے تو اِس میں اِن تمام لوگوں کو کیوں نہ شامل کریں جن سے آپ محبت کرتے ہیں؟

تحریر: عمران چنگیزی

Share this:
Tags:
Day Love Popular Remember منایا وینس یاد
Aqeel Khan
Previous Post ویلنٹائن محبت یا بے حیائی کا دن
Next Post تلہ گنگ کی خبریں 13/2/2014

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close