اپنا ہر اشک شبِ غم میں ستارا کر لیں
آئو اس درد محبت کو گوارا کر لیں
یوں تیرا عکس مجسم ہے میری آنکھوں میں
جیسے صحرا پہ سمندر کا اجارا کر لیں
کیسے ممکن ہے تیرے ہجر کی وحشت کے سِوا
ہم کسی اور کو دھڑکن کا سہارا کر لیں
اس شب و روز کی الجھن سے چھڑا لیں دامن
جِی میں آتا ہے کہ دنیا سے کنارا کر لیں
ٹوٹ جائے گا بھرم دنیا میں دلداری کا
ہم اگر تجھ سے جدا ہونے کا چارا کر لیں
پھوٹنے والے ہیں ظلمت کی فصیلوں سے چِراغ
شہرِ آفات میں کچھ روز گزارا کر لیں
تحریر : ساحل منیر
