
اپنی سولی کو اٹھاتے رہو کچھ دیر ابھی
رسم الفت کی نبھاتے رہو کچھ دیر ابھی
غم کا احساس جگانے کے لئے آج کی شب
جام پہ جام پلاتے رہو کچھ دیر ابھی
اس محبت کی صداقت پہ کرے کون یقیں
کوئی افسانہ سناتے رہو کچھ دیر ابھی
ہم کو اس درد و اذیت سے سکوں ملتا ہے
زخم پہ زخم لگاتے رہو کچھ دیر ابھی
ظلمتِ شب میں ستاروں کا گماں ہوتا ہے
اشک پلکوں پہ سجاتے رہو کچھ دیر ابھی
جانے کب وقت سلاڈالے ہمیشہ کے لئے
جاگتے اور جگاتے رہو کچھ دیر ابھی
زلزلے روز کا معمول ہوئے جاتے ہیں
جسم کا بوجھ اٹھاتے رہو کچھ دیر ابھی
ہم بھی ساحل سے رہائی کی دعا مانگتے ہیں
ڈوبنے والو بلاتے رہو کچھ دیر ابھی
ساحل منیر
