Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔کم ذات۔۔۔

November 30, 2015 0 1 min read
Dumpsters in Girl
Dumpsters in Girl
Dumpsters in Girl

تحریر: عفت
اس نے کچرا کنڈی میں پڑے شاپر کو ڈنڈی سے ٹٹولا پھر جھک کر شاپر اٹھا لیا ۔جو تھوڑی دیر پہلے اوپر کی کھڑکی سے کسی نے پھینکا تھا ۔شانو نے اسے اٹھایا اس میں کچھ پرانے کاسمیٹکس ،اور پرفیوم کی خالی بوتل تھی۔شانو کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی اس نے شاپر ٹوٹی لپ اسٹک اور ٹوٹے آیئنے والا فیس پاوڈر اپنے پرانے سے دوپٹے کے پلو میں باندھ لیا ۔شام تک وہ مختلف جگہوں سے کچرا چنتی رہی اور مغرب کے وقت اپنی جھگی میں لوٹی ۔ایک کھلے میدان میں سات آٹھ جھگیاں جہاں خانہ بدوشوں کا ایک خاندان آباد تھا ۔شانو بھی ان میں سے ایک جھگی میں رہتی تھی ۔اس نے آتے ہی کچرے کا تھیلا حقہ پیتے ابا کے سامنے رکھا اور خود اند ر کی طرف بڑھ گئی اس کی اماں ایک کونے میں بیٹھی گیلی لکڑیوں کو پھونکیں مار مار کر سلگانے کی کوشش میں مصروف تھی ۔ماں نے اچٹٹتی سی نظر شانو پہ ڈالی ۔آ گئی تو ۔کچرا دے کے نہیں آئی ؟ نہ اماں یہ کام ابا کو بولا کر او مجید بابا منے گھور گھور کے دیکھے ہے میں نہ جائوں ۔شانو نے تڑ سے جواب دیا۔

اچھا اچھا میں کل خیرے کو کہہ دیووں گا تو روٹی کھا لے اس کا ابا حقہ گڑگڑاتے ہوئے بولا ۔ شانو میدان میں لگے ہینڈ پمپ پہ منہ دھونے چل دی۔لالٹین کی ٹمٹماتی لو جھگی کی تاریکی میں جگنو کی مانند چمک رہی تھی ۔ملگجے بستر پہ کروٹیں بدلتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے دن بھر کے منظر گھومنے لگے۔سگنل پہ رکی گاڑی میں بیٹھی خوب صورت عورت جس کے ساتھ بیٹھا اس کا مرد جو اس سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا ۔راستے سے گذرتی ہوئی بے داغ یونیفارم میں ملبوس بچیاں اور بچے ،بازار میں خرید و فروخت کرتے مرد وعورتیں اور ان کی انگلیاں تھامے ضدیں کرتے اٹھلاتے بچے ۔گلیوں میں سبزی کے ٹھیلے پر کھڑی خواتین جو سبزی کی قیمت پہ لڑتی جھگڑتی تھیں اور کھڑے کھڑے آپس میں گپ شپ بھی کرتیں ،ساس نندوں کے دکھڑے بھی رو لیتں ۔گویا سبزی کا ٹھیلا ایک چوپال تھا جہاں محلے بھر کے مسائل بھی ڈسکس کر لیے جاتے تھے۔

Modern House
Modern House

بڑی بڑی کوٹھیوں والی بیگمات جن گھروں اور جسموں سے خوشبو کی لہریں نکلتی تھیں ،شانو کو یہ سب بہت اچھا لگتا وہ ان جیسی زندگی کی متمنی تھی ۔اس کا بھی دل کرتا اس کا بھی ایک گھر ہوتا ایک گھر والا ہوتا ۔وہ بھی گھر کو سجاتی سنوارتی مگر ان کی قسمت میں ٹہرائو کہاں تھا وہ تو صدیوں کے آوارہ گرد تھے ۔گلیوں میں کچرا چنتے پیدا ہوتے اور اسی طرح جوان ہوتے اور پھر مر جاتے جہاں دل کرتا پڑائو ڈال لیتے جب دل کرتا آگے کی راہ لیتے ۔سارا ملک ان کا تھا اور سارا آسماں ان کی پناہ گاہ تھا ۔صبح نمودار ہو گئی تھی مگر شانو کا دل کام پہ جانے کو زرا نہ کیا وہ کسلمندی سے پڑی رہی ۔کافی دیر ہوگئی تو اس کی ماں نے آکے اسے جھنجھوڑا ۔اری اٹھ دیکھ دن چڑھ آیا ہے آج کام پہ نہیں جائے گی کیا ؟ ماں میرا جی اچھا نہیں سونے دے اس نے چادر منہ تک کھنچی۔

ماں بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل آئی۔ شانو کے ابا آج چھوری نا ہی جاوت ہے تئیں آپی چلا جا ۔فیکا لنگڑاتا ہوا اٹھا اسے کیا ہوا ہے ؟ منے کیا پتہ میں پانی بھرنے جا رہی تئیں آپ ای اپنی لاڈو رانی سے پوچھ لئیو ۔ شانو ماں باپ کی گفتگو سن رہی تھی ۔بے زار ہو کہ اٹھ بیٹھی ۔بھاگاں اس کی سوتیلی ماں تھی اس نے ابا سے سن رکھا تھا کہ اس کی ماں بہت خوبصورت تھی ،بالکل اس جیسی ۔اس کے چچا کو کچھ لوگوں نے قتل کر دیا تھا اس کی ماں تاوان میں آئی تھی ۔اس کے دادا نے اس کے باپ سے اس کی ماں کی شادی کر دی اس کے تو بھاگ کھل گئے مگر خدا کا کرنا شانو ایک سال کی تھی کہ اس کی ماں ایک وبائی بیماری کا شکار ہو کر چل بسی ۔ فیکے نے شانو کی پرورش کے لیے دوسری شادی کر لی۔

بھاگاں کی اپنی تو اولاد نہ ہوئی شانو کو توجہ ضرور مل گئی ۔نہ کبھی بھاگاں نے شانو کو جتایا نہ کبھی شانو نے محسوس ہونے دیا بس زندگی ایک ڈگر پہ چل رہی تھی ۔شانو اٹھارہ سال کی ہو رہی تھی فیکے کو اب اس کی شادی کی فکر ہوئی رواج کے مطابق اس کے قبیلے میں شادی کی عمر کی حد چودہ سے اٹھارہ سال تھی ۔فیکے نے پانچ بھیڑیں اور تین بکریاں اس کو جہیز میں دینے کے لیے رکھ لیں تھیں اور پچاس ہزار شادی کا خرچ بھی موجود تھا ۔اسے اپنے قبیلے کے مکھیا کا انتظار تھا کہ کب وہ شانو کا رشتہ طے کر کے اسے خبر دیتا ہے ۔ان کے قبیلے کا یہ رواج تھا کہ جب کسی کے پاس بیٹی کا جہیز اور خرچ جمع ہو جاتا تب مکھیا کو خبر کر دی جاتی اور وہ لڑکی کا رشتہ طے کر دیتا۔

Wedding
Wedding

ادھر مکھیا کا پیام ملا کہ اس نے شانو کی شادی دو ماہ بعد شکورے سے طے کردی تھی جو دوہاجو تھا اس کی پہلی بیوی اسے چھوڑ چکی تھی ۔اس نے مکھیا کو کچھ دے دلا کر رشتہ اپنے حق میں کروا لیا تھا ۔شانو کو جب خبر ملی تو اسے بہت غصہ آیا ۔اس نے بھاگاں سے شکوہ کیا تو تو اس نے سنی ان سنی کر دی ۔شانو خاموش ہو گئی ۔مکھیا کا فیصلہ پتھر پہ لکیر تھا ۔وہ خیالوں میں گم تھی کہ اسے کسی نے آواز دی ۔اے لڑکی ، اس نے سر اٹھا کر اوپری کھڑکی کی طرف دیکھا ۔ایک آدمی کا چہرہ نظر آیا ۔شانو نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا ۔جانا مت ایک منٹ رکو آدمی نے اسے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔دو منٹ میں وہ شانو کے سامنے تھا ۔کتنا کما لیتی ہو یہ کچرا بیچ کر؟ اس نے شانو سے پوچھا ۔کبھی سو کبھی ڈیڑھ سو شانو نے دبے لہجے میں کہا ۔روز کے پانچ سو کمانا چاہتی ہو؟ آدمی نے نرمی سے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔شانو کی آنکھیں پانچ سو سن کر پھیل گئیں۔

کک کیسے؟؟ شانو نے ہکلاتے ہوئے پوچھا ،آئو میرے ساتھ ۔آدمی نے اسے اشارہ کیا اور یہ تھیلا یہیں چھوڑ دو ۔شانو اس کے ساتھ کوٹھی میں داخل ہوئی ۔ وہ ششدر نظروں سے کوٹھی کی آرائش دیکھ رہی تھی ۔ایک ہال کمرے میں ایک ایزل پہ کینوس لگا ہوا تھا جس پہ کچھ آڑی ترچھی لکیریں تھیں ۔بیٹھو ،میرا نام احمد کمال ہے میں ایک مصور ۔۔ آں میرا مطلب ہے تصویریں بناتا ہوں میں تمھاری تصویر بنانا چاہتا ہوں روز کے پانچ سو دوں گا بولو منظور ؟ شانو کا سر ہل گیا اسے لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے۔ گڈ اوکے ۔یہ کہہ کر اس نے الماری سے ایک خوبصورت بلوچی ڈیزائن والا ڈریس نکالا اور شانو کے پاس رکھ دیا سامنے کمرے میں جائو اور واش روم میں جا کر یہ سوٹ پہن آئو اور ہاتھ منہ بھی دھو لو ۔شانو خوابیدہ انداز میں سوٹ تھامے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔اس نے کمرے میں نظر آنے والا چھوٹا دروازہ کھولا ۔صاف ستھرا بڑا سا باتھ روم خوشبو سے مہک رہا تھا ۔ڈھیر سارے شمپو کلون اور جانے کیا الابلا تھا ۔شانو نے ٹونٹی کھولی ۔پھر جانے جی میں کیا آئی وہ غسل کرنے لگی رگڑ رگڑ کے نہائی ۔کافی دیر بعد جب وہ باہر آئی تو احمد کمال اسے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔

وہ شبنمی گلاب کی مانند کھل گئی تھی ۔اس کے سیاہ لمبے بال اس کی کمر پہ جھول رہے تھے ۔خوب صورت لباس نے اسے اور نکھار دیا تھا ۔احمد کمال نے اسے اسٹول پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اس کے قریب آکر پوز میں بیٹھنے کا طریقہ بتایا ۔شانو کو یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا ۔دھیرے دھیرے احمد کے پوچھنے پہ وہ اپنے بارے میں بتانے لگی ۔اور احمد کمال باتیں کرتا کینوس پہ تصویر بناتا رہا ۔احمد نے درمیان میں کھانے اور چائے کا وقفہ دیا اور پھر شانو کو پوز بنواتا اور تصویر بناتا ۔شام ہو گئی اس نے جیب سے پانچ سو کے نوٹ نکالے اور شانو کے حوالے کئے شانو نے اپنا لباس پہنا اور گھر روانہ ہو گئی ۔آج اس کے قدم زمین پہ نہیں ٹک رہے تھے اسے احمد کمال بہت بھایا تھا ۔پانچ سو اپنی جگہ آپ بنا رہے تھے ۔جا کے دو سو فیکے کے حوالے کر کے وہ جھگی میں جا لیٹی ۔ایک ہفتہ بیت گیا شانو روز احمد کے گھر جاتی اس کے دیے لباس زیب تن کرتی اور وہ اس کی تصویر بناتا ۔شانو اس دوران مسلسل احمد سے باتیں کرتی رہتی وہ اسے پسند کرنے لگی تھی اسے لگتا کہ احمد بھی اسے پسند کرتا ہے۔

Beautful
Beautful

وہ کئی بار اسے سراہت ا اور کہتا دیکھنا شانو تمھاری تصویریں تہلکہ مچا دیں گی تم بہت خوب صورت ہو ۔شانو کو پر لگ جاتے وہ خود کو گھر کی مالکن کے روپ میں دیکھنے لگی ۔احمد نے ایک کمرا اس کے لیے مخصوص کر دیا تھا جہاں اس کے لباس جوتے اور تمام چیزیں جو وہ پہن کو تصویریں بنواتی احمد نے اس تحفتا دے دیں۔

کمرے کو لاک کر کے چابی شانو کو دے دیتا کہ اگر وہ کبھی گھر نہ ہو تو وہ اند ر آسکے گھر میں ایک ملازم تھا بابا کرمو وہ چوکیدار بھی تھا اور احمد کا کھانا بھی بناتا ۔شانو کو کئی دن سے لگ رہا تھا کوئی اس کا پیچھا کرتا ہے مگر پھر وہ اپنا وہم سمجھ کر بھول گئی ۔وہ آج بھی حسب ِ معمول احمد کے پاس آئی تو بابا گھر پہ تھے احمد کسی کام سے گیا تھا بابا نے اسے کہا کہ وہ تھوڑی دیر تک آتے ہیں ان کی بیٹی بیمار ہے اس کی خبر لے آیئں وہ جانا یا رکنا چاھے اس کی مرضی ۔شانو نے کہا وہ رکے گی اور احمد کا انتظار کرے گی۔

بابا چلے گئے ۔کچھ دیر کے بعد کچھ لوگ ڈھاٹے باندھے نمودار ہوئے۔ایک نے نقاب ہٹایا تو شانو نے پہچان لیا وہ شکورا تھا ،ان سب نے سب سامان سمیٹا تجوری توڑ کر رقم نکالی اور چیختی چلاتی شانو کو ساتھ لے کر فرار ہو گئے ۔شام کو احمد لوٹا تو خالی گھر ٹوٹی تجوری اس کا منہ چڑا رہی تھی بابا حیران پریشاں سر پکڑے بیٹھا تھا۔

Huts
Huts

احمد نے بابا کے بتانے پر جھگیوں کی طرف رخ کیا مگر وہاں کوئی نہ تھا خالی چٹیل میدان ۔مگر آثار بتا رہے تھے کہ وہ لوگ کچھ دیر پہلے یہ جگہ چھوڑ کے نکلے ہیں ۔اس کے ہاتھ میں انگوٹھی کا سرخ مخملی ڈبہ دبا ہوا تھا وہ آج شانو سے اس کے رشتے کی بات کرنا چاہتا تھا اور یہ بھی بتانا چاہتا تھا کہ اس کی تصاویر کو مقابلے میں ایوارڈ ملا ہے ۔ہونہہ تھی نا کم ذات اس لیے اوقات دکھا دی ۔اس نے جلی راکھ کو ٹھوکر ماری ۔اور بڑبڑاتے ہوئے چل دیا۔

تحریر: عفت

Share this:
Tags:
eye family perfumes problems آنکھوں خاندان عفت مسائل
Shahbaz Sharif
Previous Post حکومتی پالیسیاں اور صحت
Next Post کراچی: ڈاکٹر عاصم نے اقبالی بیان ریکارڈ کرادیا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close