
آگہی کے عذاب سے ڈر کر
اب کے جاگے ہیں خواب سے ڈر کر
ہم نے دل کی کتاب کب کھولی
اس محبت کے باب سے ڈر کر
تو کیا؟ بزدل بنیں پلٹ آئیں
راستوں کے سراب سے ڈر کر
ہم نے نظریں جھکالیں کیا کہتے
ان کے چہرے کی تاب سے ڈر کر
شیخ صاحب نے مے سے کی توبہ
آخرت کے عذاب سے ڈر کر
آنکھ کے سب سوال چپ سادھے
ان کے تیکھے جواب سے ڈر کر
زریں منور
