Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

من میں تو تن میں میں تو

February 26, 2016February 27, 2016 0 1 min read
Jail Cell Bars
Prison
Prison

تحریر : عفت
وہ جیل کے یخ بستہ فرش پہ اکڑوں بیٹھا گھٹنوں میں سر دئیے سسک رہا تھا ۔سود و زیاں کے حساب میں ساری رات کٹ گئی تھی اور اس حساب کتاب کے بعد اس نے خود کو گھاٹے میں پایا تھا گویا زندگی کے اس سفر میں اس نے خود اپنے لیے ہر قدم پہ ہر سودا گھا ٹے اور نقصان کا کیا تھا اور یہ احساس زیاں حقیقت کا ادراک ہوتے ہی رات سے اس کی آنکھوں سے سیل ِرواں کی طرح بہہ رہا تھا ۔خود کو ضمیر کی عدالت میں کھڑا کر تے ہی اس کا سارا غرور اور مان سب زمیں بوس ہو گیا تھا ۔دور کہیں فجر کی اذان کی آواز آرہی تھی ،حی الصلوة ،حی ا لفلاح اس نے شاید برسوں بعد اذان کی آواز غور سے سنی اور موذن کا بلاوا اس کے دل کے تاروں کو جھنجوڑنے لگا۔اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اور وہ بے اختیار گھٹنوں کے بل ہو کر سجدے میں گر گیا ہچکیوں میں روتا ہوا وہ ایک ہی لفظ دہرا رہا تھا اے اللہ مجھے معاف کر دے مجھے معاف کر دے۔

موذن بلاوا دے چکا تھا ۔وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے وہ کہیں سے بھی تو آریان خان نہیں لگ رہا تھا جسے خود پہ مان اور اپنی طاقت پہ ناز تھا۔ اذان کے اختتام تک اس کی کایا پلٹ چکی تھی اس نے رو رو کر اپنے رب سے معافی مانگی تھی رات بھر کی بے چینی اور اضطراب کو گویا قرار آگیا تھا اور یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اللہ اس کے دل کے بدل جانے پہ خوش تھا ۔رب ِ عظیم نے اس کے دل ودماغ پہ لگے تالے کھول دئیے تھے بلاشبہ وہ معاف کیا جا چکا تھا ۔اس نے سپاہی کو آواز دی کہ وہ اسے وضو کے لیے پا نی فراہم کرے ۔سپاہی نے تمسخرانہ انداز سے اسے دیکھا اور ایک میلے سے پرانے لوٹے میں پانی بھر کے پکڑا دیا ۔اس نے نہایت خضوع و خشوع سے وضو کیا اچانک اسے یاد آیا اس کا جسم بھی تو نجس ہے وہ کیسے نماز ادا کر سکتا ہے۔

اس احساس نے پھر اس کی آنکھوں میں آنسو بھر دئیے مگر احساسِ کریمی نے آنسو پونچھ ڈالے وہ نماز کی نیت کر کے کھڑا ہو گیا ،اللہ اکبر کہہ کے اس نے آیات کی تلاوت شروع کی تو کہیں کہیں اٹکنے لگا اور رک رک کر یاد کرنے لگا اس طرح نماز کی ادائیگی کے بعد اس نے اللہ کے حضور دامن پھیلا دیا اے میرے مالک تو میرے ماضی حال سے واقف ہے بہت گناہ کار اور سیاہ کار ہوں مگر تو بہت رحمان ہے اور ستر مائوں سے ذیادہ محبت رکھنے والا ہے مجھے بخش دے مجھے نہ دعا کا سلیقہ ہے نہ عاجزی کا بس اتنا پتہ ہے کہ تیری رحمت وسیع ہے معاف کر دے مجھے ،اس کی ہچکیاں بندھ گئیں ،سلام پھیر کے وہ خالی الذہنی حالت میں بیٹھا رہا۔

Prison Food
Prison Food

تھوڑی دیر میں جیل میں چہل پہل شروع ہو گئی برتن کھڑکنے اور ناشتہ کی آواز کے ساتھ ایک سپاہی نے سلاخیں بجائیں اس کے ہاتھ میں ایک میلا سا کپ جس میں کالی سیاہ چائے تھی ساتھ دو سوکھے ہوئے پاپے تھے ۔آریان اٹھا اوردونوں چیزیں تھام لیں ۔عام حالات میں وہ کبھی ایسے ناشتے کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا مگر اب اس کی جزیات بدل چکی تھیں شکر الحمداللہ کہتے ہوئے اس نے وہ پاپے چائے میں ڈبو کر کھائے پاپوں کی باسی پن کی مہک سے اس بمشکل اپنی ابکائی کو قابو کیا اور بدذائقہ چائے حلق میں انڈیل کر کپ ایک طرف رکھ دیا ساری رات کی گریہ زاری سے اس کی آنکھیں جل رہیں تھیں خالی پیٹ میں کچھ گیا تو نیند نے آ دبو چا ۔وہ اونگھنے لگا اور پھر گٹھڑی کی مانند زمیں پہ لیٹ گیا۔

مجھے جا نے دو خدارا ایسا مت کرو وہ سفید یونیفارم میں ملبوس اس کے سامنے ہاتھ جوڑے گڑگڑا رہی تھی اس کا ڈھلکا آنچل زمین کو چھو رہاتھا ۔کیا بگاڑا ہے میں نے تمھارا؟میں تو تمھیں جانتی تک نہیں رحم کرو مجھ پہ میرے بابا مر جائیں گے پلیز جانے دو مجھے ۔وہ رو رو کے ہلکان ہو رہی تھی ۔مگر آریان کو اسکی منتیں اور رونا اچھا لگ رہا تھا پہلے تو کسی نے اس طرح اس کے آگے ہاتھ نہ جوڑے تھے ۔اس لڑکی کو اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ آج ہی اغوا کیا تھا وہ بہت نازک اور خوبصورت تھی ۔آریان اور اس کے دوست کسی کی گاڑی چھین کر ایڈوانچر اور جیت کے نشے میں مست رش ڈرائیونگ کرتے کالج روڈ سے گذرے تو وہ سڑک پار کر رہی تھی۔

آریان نے بر وقت بریک لگائی مگر وہ گاڑی سے ٹکرا کہ زمین بوس ہوگئی تھی،آریان جلدی سے گاڑی سے اترا اور اسے سہارا دے کے کھڑا کیا اسے چوٹ تو نہیں آئی تھی مگر آریان کا دل اس میں اٹک گیا اس کے دوست بھی گاڑی سے باہر آگئے لڑکی حواس باختہ تھی آریان نے اس کا بازو تھام کر اس کو گاڑی میں بٹھا دیا تب اس کے اوسان خطا ہوگئے اس نے چیخنے کی کوشش کی مگر اس کی چیخ آریان کے ہاتھ کی سختی میں دب گئی جو اس کے منہ پہ تھا ۔اپنے دوستوں کو اتارتے ہوئے وہ اسے اپنے فلیٹ میں لے آیا تیسری منزل تک آنے کے لئے اس نے بیرونی راستہ اختیار کیا دروازہ کھول کہ اسے بیڈ پہ دھکیل دیا ۔اب وہ اس پہ اپنی طاقت کا طرہ جما رہا تھا لڑکی کی آہ وبکا بے سود گئی اب وہ خاموش چت پڑی اپنی ویران آنکھوں سے چھت کو گھور رہی تھی آریان نے اس کو دیکھا اس کی خاموشی سے خوف زدہ ہو گیا لڑکی کی مزاحمت گوہر عصمت لٹنے کے ساتھ ہی دم توڑ چکی تھی۔ اے کیا ہو تمھیں۔

Water
Water

پانی دوں آریان نے لڑکی کا بازو ہلایا لڑکی کے ساکت وجود میں حرکت پیدا ہوئی وہ اٹھ گئی اور کھڑی ہو کے قہر بار نظروں سے اسے دیکھا ،خدا غارت کرے تمھیں تم نے مجھے برباد کر دیا میں اپنا حساب خدا پہ چھوڑتی ہوں ۔یہ کہہ کہ وہ تیزی سے کھلی کھڑکی کی طرف لپکی ،اس سے پہلے کہ آریان کچھ سمجھ پاتا اس نے نیچے چھلانگ لگا دی دھپ کی آواز کے ساتھ نیچے شور سنائی دیا ،آریان کھڑکی کی سمت بھاگا نیچے گرائونڈ فلور پہ اس کا وجود بکھرا پڑا تھا ،اس کا سفید لباس اس کے خون سے سرخ ہو رہا تھا وہ مر چکی تھی ۔لوگ اس کے گرد جمع تھے سب نے اوپر کھڑکی سے جھانکتے آریان کو دیکھا اور شور مچا دیا بھاگو پکڑو قاتل جانے نہ پائے پولیس بلائو جب تک آریان پہ حقیقت کا ادراک ہوتا پولیس پہنچ چکی تھی اور اب وہ جیل میں تھا اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا تھا ۔مگر لڑکی کی آنکھیں اور بے بسی اس کے ذہن میں نقش ہوگئی تھی پولیس نے اس خاموشی کا فائدہ اٹھا کر اور کھوہ کھاتے والے چند کیس بھی اس پہ ڈال کر اپنا قومی فریضہ انجام دیا تھا ۔اسے اپنی زندگی کا ایک ایک پل یاد آرہا تھا۔

فرقان حمیدی کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جو منہ میں سونے کا چمچ لے کرپیدا ہوتے ہیں ۔حمیدی انٹرپرائزز کا ایک نام تھا اور آریان اکلوتا وارث ۔مہہ جبین فِگر کانشس ہونے کی وجہ سے کوئی اور بچہ اس دنیا میں لانے کے حق میں نہ تھیں ،یوں آریان کی پرورش ایک گورنسس نے کی ۔ماں باپ کے پاس اتنا وقت کہاں تھا کہ اسے دیتے ۔پہلے تو وہ بہت تنہائی محسوس کرتا پھر اسکول میں دوستوں کے ساتھ بہل گیا اور اس کے دوست ہی اس کا سب کچھ تھے وہ ان پہ بے دریغ پیسہ لٹاتا ۔سکول سے کالج پہنچنے تک وہ تھرل اور انجوئے منٹ کے نام پہ چھوٹے موٹے کئی جرم کر چکے تھے ۔چند سال قبل مہہ جبین ایک حادثے میں انتقال کر گئی تھی ،فرقان اکثر باہر ممالک رہتے جہاں وہ اپنا بزنس سیٹ کر رہے تھے ان کا ارادہ چند ماہ بعد انگلینڈ شفٹ ہونے کا تھا ۔آریان سے ان کی سرسری ملاقات ہوتی تھی جس میں وہ بہت مودب ہو کر سب ٹھیک کی رپورٹ دیتا جانے کب دوستوں کے تھرل سے لطف اندوز ہوتے ہوتے وہ خاردار راہوں پہ چل نکلا اوراب جب احساس ہوا تو وقت گویا اس کے ہاتھ سے پھسل گیا تھا۔

پچھتر سالہ امام دین ابھی ابھی اپنے جگر گوشے کو اپنے ہاتھ سے منوں مٹی کے سپرد کر کے آیا تھا بیٹی کیا مال متاع ہی لٹ گئی اور جس طرح لٹی اس نے اسے مار دیا تھا ۔مجبور باپ کے کندھے غریبی کے بوجھ سے جھکے ہی تھے کہ اس الم سے بھی گذرنا پڑا۔اور ابھی اس نے چوکھٹ بھی پار بھی نہ کی تھی کہ میڈیا والے اس کے گرد جمع ہوگئے سوالات کی بوچھاڑ ،کیا فاطمہ کی اس امیر زادے سے پہلے سے شناسائی تھی؟ وہ اس کے ساتھ اس کے فلیٹ میں کیوں تھی ؟کیا وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے ؟امام دین کا کلیجہ ان سوالات سے چھلنی ہو رہا تھا یا اللہ کیسا اندھیر ہے تیری نگری میں وہ کانوں پہ ہاتھ رکھ کے چلا اٹھا میری بے قصور بیٹی ،وہ دہاڑیں مار مار کر رو دیا اس کی داڑھی آنسوئوں سے تر ہو چکی تھی ۔میڈیا والے کوئی جواب نہ پا کر کھسکنے لگے شاید کسی اسٹوری کوتوقع پوری نہ ہوئی جسے وہ مرچ مسالہ لگا کر اپنی کوریج بڑھاتے۔

Jail Cell Bars
Jail Cell Bars

جیل کے باہر امام دین سلاخیں تھامے بکھرے بکھرے اس خوبرو نوجوان کودیکھا جو اس کی بیٹی کا قاتل تھا مجرم تھا جو رو رو کے اپنا جرم قبول کر کے سزا مانگ رہا تھا ۔انسپکٹر کے کمرے میں اس کا امیر باپ سر جھکائے بیٹھا تھا ۔اس کے چہرے کی تھکن گواہ تھی کہ اس کا سرمایہ حیات لٹنے کو تیار ہے ۔بیٹے نے باپ کی ہر سفارش کو مستردد کر دیا تھا اور اپنے جرم کی سزا بھگتنا چاہتا تھا ۔اس کا کہنا تھا وہ فاطمہ کا قاتل ہے اس نے اسے مارا ہے وہ بار بار سزائے موت کا مستحق ہے فرقان حمیدی نے امام دین کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے ،امام دین جھکے کاندھوں سے باہر چلا آیا۔

عصر کی اذان ہو رہی تھی وہ مسجد میں داخل ہوا نمازی صفیں درست کر رہے تھے۔ غائب دماغی سے اس نے نماز ادا کی اس کے ذہن میں جھکڑ چل رہے تھے کبھی بیٹی کا دکھ اور کبھی وہ بلکتا نوجواں سامنے آجاتا جو اپنے کیے کی سزا بھگتنے کے لیے تیار تھا اس کو احساسِ جرم ہی مار رہا تھا ۔دعا کے لیے ہاتھ بلند کرتے اسے محلے کی مسجد کے مولانا صاحب کے خطبے میں کہے جملے یاد آگئے ،اللہ رحمان ہے معاف کرنا بدلے سے بہتر ہے ۔اور صفت ِ رحمانی ہے ۔اس کی آنکھوںسے آنسو جاری ہو گئے اس کے دل نے ایک فیصلہ کیا اور وہ مطمئن ہو گیا۔

فرقان حمیدی کی خوشی کی انتہا نہ تھی وہ امام دین کا شکر گذار تھا اور ساتھ ہی وہ رب کا بڑا مشکور تھا ۔آریان حیرت سے گنگ تھا ۔امام دین نے اسے معاف کر دیا اور وہ رہا ہو چکا تھا ۔امام دین نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا بیٹا جب خدا تمھیں ہدایت دینا چاہتا ہے تو میں بھلا کون ہوتا ہوں جائو بیٹا اپنی نئی زندگی جیو، اللہ کی مرضی کی زندگی اور ثابت قدم رہنا ،یہ کہہ کروہ اپنی بستی کی طرف چل پڑا۔چند دنوں کے بعد دونوں باپ بیٹا اسلام آباد ائرپورٹ پہ انگلینڈ جانے والی پرواز کے منتظر تھے۔

Dr Fouzia Iffat
Dr Fouzia Iffat

تحریر : عفت

Jail Cell Bars
Jail Cell Bars
Share this:
The Education Issue
Previous Post حکومتی منصوبہ بندی اور ہماری تعلیم
Next Post رشتوں کا خون
Mother Kill

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close