Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

میکیاولی خارش کی بیماری اور ہماری قیادت

August 9, 2016 0 1 min read
Corruption
Itching
Itching

تحریر : سلطان حسین
پرانے لطیفوں میں چھپی حکمت دیر سے سمجھ میں آتی ہے۔ آپ نے بھی سنا ہوگا کہ ایک شخص نجومی کے پاس گیا اور پوچھا کہ میری دائیں ہتھیلی میں خارش ہوتی ہے۔ نجومی نے کہا۔ اس کا مطلب ہے تمھیں پیسے ملیں گے۔ اس نے کہا دوسری ہتھیلی میں بھی خارش ہوتی ہے۔ تو نجومی نے کہا۔ آپ کو بہت زیادہ پیسے ملیں گے ۔ بولا پیر کے تلوے میں بھی خارش ہوتی ہے ۔ نجومی نے کہا آپ سفر پر جائیں گے۔(ظاہر ہے اتنے پیسے ہونگے تو سیر سپاٹا تو ہوگا )پھر نجومی سے کہا میرے سر میں بھی خارش ہوتی ہے۔نجومی نے کہا ۔دور ہٹ کے بیٹھو تمھیں تو خارش کی بیماری لگتی ہے۔خارش ایک ایسی میٹھی میٹھی بیماری ہے کہ ایک بار اگر خارش زدہ جگہ کو چھڑ دیا جائے تو پھر رکنے کی خواہش پوری نہیں ہوتی یہ خارش پھر رفتہ رفتہ یہ پورے بدن کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ویسے تو خارش کی بیماری انسان کو کئی کا نہیں چھوڑتی لیکن بعض خارشیں ایسے ہوتی ہیں جس کے بار بار لگنے کی خواہش ہوتی ہے اور یہ خارش اگر اقتدار کی ہو تو پھر یہ تاحیات رہنے کی خواہش ہوتی ہے ۔ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو اسی خارش نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس خارش کے لیے وہ خواب بھی دیکھتے ہیں اور اس کے لیے وہ سب کچھ کر گزرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں حتی کے میکیاولی نقش قدم پر بھی چلتے ہیں اور اس کے بدنام زمانہ افکار پر عمل بھی کرتے ہیں۔

میکیا ولی ویسے تو بہت نیک نام (بدنام)ہیںلیکن انہوں نے حکمرانوں کے لیے ایک ہدایت نامہ بھی لکھ کر چھوڑ رکھا ہے جس پر ہمارے حکمران اور سیاست دان بڑے خلوص دل سے عمل کرتے ہیں اس سے قبل کہ ہم بات کو آگے بڑھاہیں آئیں پہلے یہ جان لیں کہ میکیا ولی تھا کون۔میکیاولی اٹلی کا ایک سیاسی مفکر گذرا ہے،وہ 1449میں اٹلی میں پیداہوئے وہ اٹلی کے شہر فلورنس کا رہنے والا تھا جہاں ایک مدت تک میڈیسی خاندان کی بادشاہت قائم تھی لیکن 1498میں وہاں بادشاہت کا خاتمہ کر دیا گیا اور ایک عوامی جمہوریت کی بنیاد ڈالی گئی میکیاولی اسی دور میں فلورنس کی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہوئے کئی سفارتی خدمات انجام دینے کے بعد ان کے کریئر کا نازک موڑ اس وقت آیا جب 1512 میں میڈیسی خاندان نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ میکیاولی کو باغیوں میں شمار کیا گیا، اسے گرفتار کیا گیالیکن پھر بے گناہی کے ثابت ہوجانے پر رہا کردیا گیا۔

Machiavelli
Machiavelli

اسی دور میں رہائی کے بعد میکیاولی نے دوبارہ وزارت پانے کے لیے بادشاہ کی خوشامد میں اسے مشورے دینے کے لیے یہ کتاب لکھی جس کا ہر دور میں چرچہ ہوتا ہے اپنی کتاب دی پرنس میں اس نے اپنے تجربات کی روشنی میں اٹلی کے استحکام سے متعلق بادشاہِ وقت کو متعددمشورے دئیے ہیں اور یہی وہ مشورے ہیں جس پر ہر حکمران عمل کر رہا ہے میکیاولی کویورپ میں امورِ سیاست و ریاست کا ولی گردانا جاتا ہے جو اب قصہ پارینہ بن چکا ہے ، لیکن اپنی بدنامِ زمانہ کتاب ” دی پرنس ” کی وجہ سے وہ آج بھی زندہ ہے۔میکیاولی نے ریاستوں کو دو قسموں یعنی بادشاہت اور جمہوریہ میں تقسیم کیا تھا۔سیاسیات پر اس کتاب کے26ابواب ہیںاس کتاب میں اس نے سیاست اور حکومت کرنے کے اصول اور طریقے بیان کئے ہیں اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ حکمرانوں کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ وہ جھوٹ ، دھوکہ دہی، اور ظلم کو اپنے اقتدار کے حصول اور اسے قائم رکھنے کے لئے اختیار کر سکتے ہیں،حکمران اپنے سیاسی مفادات اور اقتدار کو طول دینے اور اس کی حفاظت کے لئے ہر طرح کی اخلاقی قدروں کو پس پشت ڈال سکتے ہیں اورمذہب و اخلاق کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اپنی کتاب میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں۔

عوام کو یا تو چمکارلینا چاہیے یا برباد کردینا چاہیے ۔ کیونکہ اگر انہیں صرف معمولی نقصان پہنچا کر چھوڑ دیا گیا تو وہ بدلہ لینے پر آمادہ ہوجائیں گے لہذا اگر نقصان پہنچانا ہی ہے تو کچھ ایسا پہنچانا چاہیے کہ دوبارہ ان کی طرف سے کسی مزاحمت اور بدلے کا خدشہ نہ رہے۔میکیاولی نے پنی کتاب میں بادشاہ کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ لوگوں کا بادشاہ سے ڈرنا اس سے محبت کرنے سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ، تمام ہی انسانوں کے بارے میں یہ عام اصول ہے کہ وہ ناشکرے، جھگڑالو، جھوٹے اور دھوکے باز ہوتے ہیں؛ خطرات سے ڈرنے والے اور فائدوں کے حریص۔ اگر آپ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں گے تو وہ آپ کے ساتھ رہیں گے، جب تک آپ کے ساتھ رہنے میں کوئی خطرہ نہ ہو۔لیکن خطرے کا وقت آتے ہی وہ ساتھ چھوڑ جائیں گے۔

محبت ایک ایسی چیز ہے جسے وہ کبھی بھی اپنے فائدے کے لیے قربان کرسکتے ہیں لیکن ڈر میں چونکہ سزا کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے اس لیے انہیں قابو میں رکھتا ہے”۔ایک دوسری جگہ وہ لکھتے ہیں” بادشاہ کو بے رحم ہونا چاہیے۔لیکن کامیابی یا ناکامی اس بات پر منحصر ہے کہ بے رحمی کا استعمال احسن طریقے سے کیا گیا ہے یا بھونڈے طریقے سے۔۔ ، ایک بادشاہ کو جنگ کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بادشاہوں نے جب جب جنگ کو چھوڑ کر تہذیب و ترقی اور زندگی کے دوسرے پہلووں کے بارے میں سوچا ہے انہوں نے اپنا مقام اور رتبہ کھودیا ہے۔، یہ سوچنا کہ ایک مسلح آدمی ایک غیر مسلح کی اتباع کرے گا غیر دانشمندی کی علامت ہے۔بادشاہ کو میکیاولی کا یہ بھی مشورہ ہے کہ وہ اخلاق و کردار کے جنجال میں نہ پھنسے۔، اچھائیاں وقت کے مطابق بدلتی رہتی ہیںمیکیاولی کہتا ہے کہ، کوئی بھی آدمی جو ہر وقت اچھا بننے کی کوشش کرے گا وہ یقینا برباد ہو جائے گا کیونکہ اسے ان لوگوں کے بیچ رہنا ہے جو اچھے نہیں ہیں۔ اس لیے ایک بادشاہ کو کیسے اچھے نہیں رہنا ہے کا فن سیکھ لینا چاہیے ایک بادشاہ کو عام برائیوں میں ملوث ہوکر بدنام ہوجانے سے گریز کرنا چاہیے۔

Evils
Evils

لیکن اگر کسی برائی میں ملوث ہونا ہی پڑے تو اسے اس کے بارے میں زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسے ایسی کسی بدنامی سے نہیں ڈرنا چاہیے جو ان ریاست کے استحکام کے لیے ضروری برائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ لگے۔ کتنے ہی ایسے بھلے قدم ہیں جو اگر اٹھالیے جائیں تو بربادی مقدر بنے اور کتنی ہی ایسی برائیاں ہیں جنہیں کر گزرنے پر تحفظ اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔ بادشاہ مذہب اور اخلاق کو بطور ہتھیار استعمال کرئے مثال کے طور پر عوام کو کسی دشمن کے خلاف اکسایا جا سکے۔ اس کام کے لیے کم از کم ایسا دکھنا ضروری ہے کہ بادشاہ خود اخلاق کے اعلی مرتبے پر فائز ہے اگر بادشاہ کی خواہش ہے کہ ان کو سخی اور فیاض جانا جائے تو ان کو کوئی ایسا موقع نہیں چھوڑنا چاہیے جسکے ذریعے بادشاہ اپنی عنایات کا اشتہار کرسکیں، ان بادشاہوں نے نمایاں ترین کامیابی حاصل کی ہیں جنہوں نے اپنے وعدوں کی پاسداری پر کم دھیان دیا۔میکاولی کا ”فرمان”ہے کہ ، ایک بادشاہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ درندوں کا کردار کیسے ادا کرے۔ اسے شیر اور لومڑی کی نقل کرنی چاہیے۔آپ کو ایک لومڑی ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کے بچھائے ہوئے جالوں سے ہوشیار رہیں اور ایک شیر تاکہ بھیڑیوں سے مقابلہ کرسکیں۔ جو لوگ ہمیشہ شیر بنے رہنا چاہتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔

ایک عقلمند بادشاہ کو کبھی اپنے وعدے ایفا نہیں کرنے چاہیے ، جب ایسا کرنا اس کے مفادات کے خلاف ہو۔ اگر تمام انسان اچھے ہوتے تو یقینا ایسا کرنا برا تھا لیکن جب تمام ہی انسان برے ہیں تو ہم پر اکیلے اخلاقیات کا بار اٹھانے کی ذمہ داری نہیں ہے… بادشاہ کو سخت جھوٹا، مکار اور منافق ہونا چاہیے ۔ عوام اس قدر سیدھے، اور اپنی فوری ضروریات کی تکمیل میں اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ ایک دغاباز شخص کو ہزاروں ایسے افراد مل جائیں گے جو بیوقوف بننے کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہوں گے بادشاہ کو کسی حال میں بھی یعنی صراحتا غلط ثابت ہوجانے پر بھی اپنے فیصلے تبدیل نہیں کرنے چاہییاگر میکیا ولی کے افکار کا تجزیہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ میکیا ولی اور اس کے مشوروں پر عمل کرنے والے حکمران اور سیاستدان آج بھی زندہ ہے جس یورپ میں بیٹھ کر انہوں نے کتاب لکھی تھی وہ لوگ تو ان کے افکار کو درخواعتنا نہیں سمجھتے لیکن ہم نے اسے سینے سے لگائے رکھا ہے اور اس پر خارش کی طرح اعتقاد رکھتے ہیںہمارے حکمران اور سیاسی قیادت کرسی کے حصول کے لیے آج بھی چودہویں صدی کے ان اصولوں کے دیوانے ہیں اور ان پر عمل کرنے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

Corruption
Corruption

اسی لیے ملک میں کرپشن کا بازار گرم ہے حکمران اور ان کے چہیتے شیر مادر سمجھ کر قومی خزانے کو لوٹ رہے ہیں عوام کو دباکر رکھنے کے لیے جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کر رہے ہیں امن وامان کو بہتر بنانے کی بجائے اسے ابتر بنانے میں اپنا حتی الوسع کوششوں میں لگے ہوئے ہیںیہی وہ بنیادی حقائق ہیں کی وجہ سے پاکستان ترقی کی بجائے روز بروز تنزلی کی طرف جارہا ہے یہ حالات تب ہی درست ہوسکتے ہیں کہ ہم سب اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا محاسبہ کریںاور اپنے اعمال اور کردار کو درست کریںاور اگر ہم نے اپنے کردار پر غور کرکے اسے صراط المستقیم پر نہ ڈالا تو تباہی و بربادی ہمارامقدر ہوگی سقوط ڈھاکہ ہم سب کے سامنے زندہ مثال موجود ہے۔ابھی پانی سر تک پہنچا ضرور ہے سر سے اونچانہیں ہوا اب بھی وقت ہے اگر ہم نے ہوش کے ناخن لیے تو ہم سنبھل سکتے ہیں۔

Sultan Hussain
Sultan Hussain

تحریر : سلطان حسین

Share this:
Tags:
leadership tourism Wisdom بیماری حکمت قیادت
Ali Raza Syed
Previous Post چیئرمین کشمیر کونسل یورپ علی رضا سید نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کی ہے
Next Post مسئلہ کشمیر کا واحد حل رائے شماری ہے، جموں و کشمیر لبریش فرنٹ
Kashmir Issue

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close