
ممبئی (ڈاکٹر راغب دیشمکھ) جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے دینی مدراس کے تعلق سے بی جے ایم پی ساکشی مہاراج کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ، بچکانہ اور باہمی فرقوں کے درمیان نفرت، دوری پھیلانے اور سماج کو تقسیم کرانے والا قرار دیا ہے۔
انھوں نے بی جے پی کی اعلی قیادت کی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ آدتیہ ناتھ یوگی اور ساکشی جیسے افرادکی اشتعال انگیز بیانات اور سرگرمیوں پرقدغن لگائے اور پارلیمنٹ کے ممبر ہونے کے ناطے ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی سخت ہدایت دے۔مولانامدنی نے کہاکہ ساکشی مہاراج جیسے لوگ دینی مدارس اور ان کے فضلاء و علماء کے کرادار اور تاریخ سے قطعی طور پر ناواقف ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر میں علماء اور مدارس کا اہم کردار ہے وہاں انسانیت امن و آشتی اور جہالت کو دور کرکے روشنی پھیلانے کا کام ہوتا ہے نہ کہ دہشت گردی کی تعلیم۔ مولانا مدنی نے مزید کہاکہ وزیرداخلہ اورنائب وزیر اعظم کی حیثیت سے لال کرشن اڈوانی پارلیمنٹ میں کہہ چکے ہیں کہ مدارس سے کوئی دہشت گرد گرفتار نہیں ہوا ہے۔
انھوں نے مزید کہاکہ ٢٦ جنوری اور ١٥ اگست کی تقریبات میں مدارس پوری طرح شامل ہوتے ہیں۔ساکشی کایہ بیان قطعی بے بنیاد ہے کہ مدراس قومی تقریبات میں حصہ نہیں لیتے ہیں اور قومی جھنڈا نہیں پھہراتے ہیں ۔مولانا مدنی نے کہاکہ ساکشی مہاراج جیسے لوگوں کومدارس پرغلط نظر ڈالنے اور بے بنیاد الزام لگانے کے بجائے گھر کی اصلاح پر زیادہ توجہ دینی چاہیے کہ آرایس ایس، وشوہندوپریشد، بجرنگ دل اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں کے دفاتر اوراداروں میں کہاں کہاں قومی جھنڈا پھہرایا جاتا ہے اور ملک کی آزادی اور آئین ہندکے نفاذ کی یاد میں منعقد جشن میں پوری طرح شرکت کی جاتی ہے۔
مولانا مدنی نے اس بات کو بھی بے بنیاد اور ساکشی مہاراج کی بے خبری قرار دیا ہے کہ تمام مدرسوں کو سرکاری امداد دی جاتی ہے۔انھوں نے دعوت دی کہ ساکشی مہاراج جیسے حضرات شیخ الہند مولانا محمود حسن، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ ،مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن اور مولانا محمد میاں اور سحبان الہند مولانااحمدسعید دہلویوغیرہم کے حالات زندگی اورخدمات و کارنامے کا مطالعہ کریں اورمدارس کے سلسلے میں صحیح واقفیت حاصل کریں۔
مولانا حسین احمد مدنیدینی مدارس کے ہی فرزند تھے جنھوں نے فرقہ پرستی اور دو قومی نظریہ کی مخالفت اور متحدہ قومیت کانظریہ پیش کرکے فرقہ وارانہ اتحاد کاسامان کیا تھا۔انھوں نے تمام امن پسند ہندستانیوں سے خصوصا دینی اداروں اور مدارس کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ دانش مندی اور حوصلے کے ساتھ فرقہ پرستوں کی سرگرمیوں کا مقابلہ کریں۔وہ ان شاء اللہ اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
وہ بہتر آئیڈیل کی عد م موجودگی کی وجہ سے انتشار اور گھبراہٹ میں مبتلا ہیں اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے غلط سلط، فرضی باتوں کو بنیاد بنا کر مختلف فرقوں میں نفرت اور دوری پیدا کرنے کا کام کر رہے ہیں۔
