
تحریر : قائد ِاہلسنت پیر سید آصف علی گیلانی
” مخدوم سید علی عباس نے مذہبی و ادبی تحقیق کے نئے افق دریافت کیے اور انہیں انسانی جذبوں کے ساتھ اپنے عہد کے معاشرتی، تہذیبی، سماجی، ثقافتی، تمدنی و سیاسی رویوں اور رجحانات کا عکاس بنا دیا جوآپ کے گہرے سماجی و تہذیبی شعور کا آئینہ ہے۔
آپ کے رشحات میں جذبوں اور تمنائوں کی دنیا آباد ہے جہاںتڑپ ، کرب اور نشاطِ ترنم کے ساتھ عشق ِرسالت مآب کی معراج نظر آتی ہے۔
آپ کی فکرایک خوشنماقوس ہے جس میں ادب ، تاریخ ، فلسفہ ،عقیدة، الٰہیات ، لسانیات و مابعد ِطبیعات کے خوشنما رنگ سحر طاری کر دیتے ہیں۔
آپ کے افکار طلسماتی کشش کے حامل ہیں جن کا تاثر کسی سطح پہ زائل نہیں ہوتا ۔سوز وگداز اور فطری تڑپ رکھنے والے اشعار ظاہری وباطنی نشیب وفراز پیدا کرتے ہیں۔ سیدعلی عباس اسلامی تہذیب وثقافت کے نمائندہ ، خانوادئہ نبوت کے چشم وچراغ ہیں۔
وہ خاندان جس نے ہمیشہ انسانیت اورانسانی اقدار کو اپنے نظریات کی اساس بناتے ہوئے بھائی چارے ، رواداری ،محبت اور امن کے پیغام کو پھیلایا اور لوگوں کو ایک دوسرے کا احترام سکھلاتے عالمی امن کی بنیاد رکھی۔
آپ جہاں ایک بلند پایہ ادیب و شاعر اور ماہر لسانیات ہیں وہیں ایک باوقار خطیب ،پرجوش مبلغ ،عالمی امن کے داعی ، ترقی پسند آفاقی سوچ کے ساتھ عمیق مشاہدے کے حامل ہیں جوآپ کی مذہبی تحقیق اور تقریر وتحریر میں جھلکتا ہے۔
آپ کی فکر کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں۔ آپ کا فکروفلسفہ زندہ و جاوید ہے جس نے عہد ِحاضر پہ مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ آپ کے حساس اور محتاط قلم کے رشحات ایک عجب تاثیر رکھتے ہیں جو پڑھنے ،سننے والوں پر نہ ختم ہونے والے اثرات چھوڑتے ہیں۔
آپ کی ادبی معرکہ آرائی کے کئی حسین وجمیل مرقع جات معاصرین پہ گہرے نقوش چھوڑ گئے ہیں۔آپ کی دوربین نگاہیں ،تحقیق و تنقید پر مضبوط گرفت ، وسعت ِعلم ،شخصیت فہمی اور قلمی معجز نمائی دیکھ کر انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔
آپ کے شاہکار کلام نے علمی وفکری خوشبوئوں کے بند دریچے کھول کر لاف زنی کرنے والے شعرا ،خطبا ،علما اور قلم کاروں کو نئی راہ دکھلائی ہے جو در ِبتول اور دہلیز رسول ۖ پہ سجدہ ریزنظر آتی ہے۔”
خاک ِمردہ از دم ِتو زندہ وپائندہ گشت چہرئہ اسلامیاں ازجوہرت تابندہ گشت
تحریر : قائد ِاہلسنت پیر سید آصف علی گیلانی سجادہ نشین دربار ِعالیہ حجرہ شاہ مقیم
