Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قسط نمبر 2 میں ملالہ ہوں سے ملال اور سوال

April 15, 2018 0 1 min read
Malala Yousafzai
Malala Yousafzai
Malala Yousafzai

تحریر : نسیم الحق زاہدی
جیسا کہ اپنے پچھلے کالم میں جنرل ضیا الحق شہید کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چند باتیں غازی جہاد افغانستان اور جنرل ضیا الحق شہیدکے پرسنل اٹیچی فاروق حارث العباسی کی زبانی پیش کروں گا لہذا ایک ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ میں نے تقریباًساڑھے پانچ سال کا عرصہ جنرل ضیاالحق کے ساتھ گذارا انہیں نہایت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔جنرل صاحب پاکستان کے وجود میں آنے سے قبل میرے والد گرامی صوفی محمد انور کے گہرے دوست تھے۔ میرے والد بھی برٹش آرمی میں کیپٹن تھے اور ضیا الحق بھی اس وقت لیفٹینٹ تھے ۔میرے والد نے ایک واقع مجھے بتایا کہ جمعة المبارک کا دن تھا لیفٹینٹ ضیا الحق جمعہ کی نماز پڑھ کر اسی لباس میں اپنی یونٹ آگئے جس پر ان کا کمانڈر آفیسر جو انگریز کرنل تھا ۔برہم ہوا کہ تم سویلین لباس میں یونٹ کیوں آئے ۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اس بات پر تمہارا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے ؟ضیا الحق اس وقت سفید شلوار اور کالی شیر وانی پہننے ہوئے تھے ۔ضیا الحق نے نہایت اعتماد اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کرنل کو جواب دیا ”بے شک میرا کورٹ مارشل کردیں مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ،کیا آپ نہیں جانتے یہ میرے قائد کا لباس ہے؟”انگریز کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور پھر دھیمے الفاظ میں کہا کہ اچھا ٹھیک ہے جائیںاور اپنا لباس تبدیل کرکے آئیں ۔(یہ 1945کا واقعہ ہے)والد صاحب بتایا کرتے تھے انکی زندگی انتہائی اسلامی طرز کی زندگی تھی اور انکی عادات واطوار کو دیکھ کر کہا جاتا تھا کہ وہ واقعی سراپا مسلمان اور عاشق رسولۖ تھے۔

ایک مرتبہ جب وہ کیپٹن تھے (تب پاکستان وجود میں آچکا تھا )ایک کورس پر گئے جہاں انہیں پہلے سے موجود ایک میجر کے کمرے میں جگہ ملی یعنی ہر آنے والے نئے افسر کو پہلے سے موجود افسران کے ساتھ اٹیچ کردیا گیااب کمرے میں ایک کونے میں میجر صاحب کا بیڈتھا اور دوسرے کونے میں کیپٹن ضیا الحق کا بیڈ جبکہ درمیان میں ایک ٹیبل تھی جس پر ضرورت کی چند اشیاء موجود تھیں رات گذری اگلی صبح تمام افسران میس میں ناشتے کی میز پر موجود تھے تو اس میجر صاحب نے ازراہ مذاق سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور جولی موڈ میں کہنا شروع کیا”یار میرے ساتھ ایک مولوی اٹیچ کر دیا گیا ہے ۔رات دوبجے اٹھ بیٹھتا ہے اور لائٹ آن کرکے دے سجدے پہ سجدہ ،سجدے پہ سجدہ شروع کردیتا ہے اور پھر قرآن پاک کی لمبی تلاوت ،لگتا ہے یہ کسی مذہبی مدرسے میں کوئی خاص کورس کرنے آیا ہے یار یہی تو ہمارے آرام کا کچھ وقت ہوتا ہے تمام افسران میجر صاحب کی بات اور انداز گفتگو پر ہنسنے لگے مگر کیپٹن ضیاالحق خاموشی کے ساتھ اپنا ناشتہ کرنے میں مصروف رہے ۔ناشتے کے بعد حسب معمول لیکچر کے لئے چلے گئے ۔اب اگلی صبح ناشتے کی میز پر وہی میجر صاحب افسران کے ساتھ کس طرح مخاطب ہیں انکی زبانی سنیے ”ڈئیر برادرز !میں اپنی کل کی بات پر آپ سب سے اور بالخصوص کیپٹن صاحب سے بہت شرمندہ اور معذرت خواہ ہوں ۔مجھے افسوس ہے کہ بنا کچھ دیکھے سمجھے میں نے ایسی بات کہی ۔رات دوسوابجے اچانک میری آنکھ کھلی ۔میں نے دیکھا کہ میز پر ایک چھوٹا ٹیبل لیمپ پڑا ہے جس کی مدہم روشنی میں کیپٹن صاحب تہجد کی نماز ادا کررہے ہیں نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے اسی مدھم روشنی میں قرآن پاک کی تلاوت کی اور پھر لیمپ بجھا کر لیٹ گئے۔

میرے ضمیر نے مجھے سخت ملامت کی کہ ایک ایسے نوجوان نیک شخص کا میں نے مذاق اڑایا جوحقیقی معنوں میں اللہ کا عبادت گذار بندہ ہے۔میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کیپٹن صاحب نے اس وقت میری کسی بات کا جواب کیوں نہ دیا اور نہ ہی برامنایا بلکہ انہوں نے ایسا راستہ اختیار کیا جو سنت کے عین مطابق تھا ۔وہ لیکچر سے فارغ ہوکر بازار گئے وہاں سے ٹیبل لیمپ خریدا اور پھر اس لیمپ کی ہلکی روشنی میں اپنی عبادت جاری رکھی یہ سوچ کر کہ میرا میزبان بھی ڈسڑب نہ ہو اور میری عبادت میں بھی کوئی رکاوٹ نہ آئے ۔میجر صاحب نے یہ واقعہ اس وقت لکھا جب ضیا الحق چیف آف آرمی سٹاف اور ملک کے صدر بن چکے تھے۔

اس واقعہ کے آخر میں لکھتے ہیں ”یہ اس وقت کا کیپٹن اور آج کا صدر پاکستان جنرل ضیا الحق”مارچ 1983میں مجھے جنرل صاحب نے اپنے ساتھ بطور پرسنل اٹیچی اٹیچ کرلیا ۔کچھ ایسے اہم اور حساس امور تھے جن کا تذکرہ بیان کرنا مناسب نہیں ۔میں انکی شہادت یعنی 1988تک انکے ساتھ رہا ۔میں نے ان جیسا متحمل ،بردبار ،دور اندیش جرات مند ،پالیسی ساز ،محب وطن پکا اور سچا مسلمان اور انتہا درجے کا عاشق رسولۖانسانی زندگی میں نہیں دیکھا ۔وہ ایک شخصیت نہیں بلکہ کئی شخصیات کا مجموعہ تھے ۔ایک بہترین جرنیل بھی تھے اعلیٰ پائے کے سیاستدان بھی تھے بہترین منظم بھی تھے ،خارجہ پالیسی پر انہیں عبور حاصل تھاایک مرتبہ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان جب خارجہ امور کے سلسلہ میں امریکا روانہ ہونے والے تھے تو جنرل ضیا الحق نے انہیں اپنے پاس بلایا اور سمجھاتے ہوئے کہا کہ ”اگر امریکی آپ سے ایٹمی پروگرام کے بارے میںسوال کریں تو انہیں کوئی جواب مت دینا ورنہ وہ آپ کو گھیر لیں گے ،آپ ان سے مختصراًکہیں کہ اس معاملہ میں میں کچھ نہیں جانتا آپ جنرل صاحب سے بات کریں ”یہ جنرل ضیا الحق کا ہی کارنامہ تھا کہ انہی نے ایٹم بم بنانے میں دن رات ایک کردیا۔ہمارے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر اے کیو خان سے زیادہ اس بات کو اور کون جان سکتا ہے۔ایک معروف واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جنرل صاحب ایک مرتبہ جب مکہ تشریف لے گئے تو ان کے ہمراہ میاں صلاح الدین (چیف ایڈیٹر ہفت روزہ تکبیر )ضیا شاہد ،مجیب الرحمن شامی ،الطاف حسن اور ایسے نامور صحافی واخبارات مالکان بھی ہمراہ تھے عصر کی نماز کا وقت قریب تھا ہزاروں کی تعداد میں لوگ جماعت ہونے کے انتظار میں بیٹھے تھے جنرل ضیا الحق کو مقام ابراہیم پر جگہ ملی تو وہ وہیں بیٹھ گئے سر پر انہوں نے چھوٹا ساتولیہ رکھا ہوا تھا ۔جب نماز کھڑی ہونے لگی تو امام کعبہ کو کسی نے بتایا کہ جنرل ضیا الحق بھی تشریف لائے ہوئے ہیں ۔امام کعبہ نے پوچھا کہ کہاں ہیں ؟اس شخص نے بتایا کہ مقام ابراہیم کے قریب بیٹھے ہیں۔

امام کعبہ اپنی جگہ سے اٹھے اور سید ھا جنرل ضیا کے پاس پہنچ گئے ۔کندھے پر ہاتھ رکھا تو جنرل صاحب نے سر اٹھا کر دیکھا تو امام کعبہ تھے جنرل صاحب انکے احترام میں فوراًکھڑے ہوگئے اور گلے ملے ۔امام کعبہ نے جنرل ضیا کا ہاتھ پکڑے رکھا اور اپنے ساتھ لے چلنے لگے اور پھر اپنی جگہ پرامامت کے لیے انہیں کھڑا کردیا اور کہا کہ آج نماز آپ پڑھائیں گے ۔جنرل ضیاالحق کے چہرے پر ایک خوف طاری ہوگیا اور گھبرا کر کہا کہ امام کعبہ تو آپ ہیں ۔میں بھلا کیسے نماز پڑھا سکتا ہوں ؟امام کعبہ نے کہا کہ میں کعبہ کا امام ہوں ۔پورے عالم اسلام کے امام آپ ہیں اس لیے آج نماز آپ ہی پڑھائیں گے اس طرح جنرل ضیاالحق نے نماز عصر پڑھائی اور امام کعبہ نے آپ کی امامت میں نماز ادا کی ۔میاں صلاح الدین نے لکھا کہ اس وقت جنرل ضیا الحق کی حالت یہ تھی کہ رو روکر آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں اور پورے جسم پر کپکپی طاری تھی ۔جنرل ضیا الحق شہید اکثر قرآن وسنت کی باتیں کرتے اور انحضرتۖ کا ذکر کرتے کرتے آبدیدہ ہوجاتے ۔انکے ایسے ایسے واقعات ہیں کہ جن پر عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اپنی ذات میں ایک درویش اور ولی اللہ تھے ۔انکی درویشی اور ولایت کا ایک واقعہ آپ کو سناتا چلوں ۔ایک شام ہم آرمی ہائوس راولپنڈی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مغرب کی اذان کا وقت ہوگیا سامنے اونچائی پر تین جوان مستعد کھڑے تھے جن کے ہاتھوں میں بِگل تھے ۔ڈیوٹی تبدیل ہونے سے قبل وہ جوان وقفے وقفے سے تین بار بِگل بجاتے ۔تیسرے بِگل پر جن جوانوں نے وہاں ڈیوٹی سرانجام دینا ہوتی وہ ڈبل کرکے جائے اور بِگل سنبھال کر اپنی ڈیوٹی پر پہنچ جائے۔

اس دن نہ جانے کیا ہوا کہ جب دوسرا بِگل بجایا گیا تو جنرل صاحب نے پاس کھڑے ایک ملازم سے کہا کہ بِگل بجانے کی کیا ضرورت ہے یونہی اپنی ڈیوٹی تبدیل کرلیا کریں اس نے جاکر ان تینوں کو جنرل صاحب کا حکم سنایا ۔انہوں نے کہا کہ اگر کرنل صاحب ہمیں کہہ دیں تو پھر ہم بگل نہیں بجائیں گے اس ملازم نے آکر ان تینوں کا جواب جنرل صاحب کو بتایا جنرل ضیاالحق مسکرائے اور خاموش ہوگئے اسی اثناء میں تیسرا بِگل بجانے کا وقت آگیا ۔اب وہ بِگل بجائیں مگر بِگل بج نہیں رہا تھا ۔وہ بار بار بِگل بجارہے تھے مگر بگل نہیں بج رہا تھا یہ نظارہ ہم سب دیکھ رہے تھے ۔جنرل صاحب نے اسی ملازم کو کہاکہ جائو اور ان سے پوچھوکہ بگل کیوں نہیں بجا رہے ؟وہ گیا اورپھر واپس آکر بتایا کہ تینوں بگل نیچے سے پھٹ گئے ہیں یعنی انکے ٹانگے اکھڑ گئے ہیں جن سے ہوا نکل جاتی اس لیے بگل نہیں بج رہے۔

جنرل صاحب نہایت لاپرواہی کے ساتھ اٹھے اور یہ بات کہہ کر مغرب کی نماز کے لیے روانہ ہوگئے کہ ”میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا اذان کاوقت ہے بِگل بجانے کی کیا ضرورت ہے اگر جنرل ضیا صحب کے ایسے واقعات بیان کرنے شروع کردوں تو آپ کے قلموں کی سیاہی ختم ہوجائے گی مگر انکی ایمان افروززندگی کے واقعات ختم نہ ہوگئے ۔کرنل صدیقی جنرل ضیا الحق کے ساتھ 26سال رہے وہ بتاتے ہیں کہ میں نے ان 26سالوں میں انکی تہجد کی نماز قضاء ہوتے نہیں دیکھی ۔جو لوگ جنرل ضیا الحق شہید کے متعلق بے ہودہ زبان استعمال کرتے ہیں بد ترین گستاخی کے مرتکب ہورہے ہیں اس لیے کہ جنرل ضیا الحق شہید اس ہستی کا نام ہے جنہیں رسول مقبولۖ کی زیات نصیب ہوئی یہ واقعہ بھی ہفت روزہ تکبیر کے چیف ایڈیٹر میاں صلاح الدین مرحوم نے ستمبر 1988کے شمارے میں بیان کرچکے ہیں ۔یہ ہیں وہ جنرل ضیا الحق شہید جن کے متعلق ملالہ نے اپنی کتاب میں بے ہودہ الفاظ استعمال کیے ہیں انشاء اللہ ملالہ یوسف زئی کی کتاب کے ایک ایک مضمون کا جواب دیں گے (جاری ہے)

 Naseem Ul Haq Zahidi
Naseem Ul Haq Zahidi

تحریر : نسیم الحق زاہدی

Share this:
Tags:
life Malala meeting Naseem-ul-Haq-Zahidi pakistan Question پاکستان زندگی سوال ملاقات ملالہ
General Qamar Javed Bajwa
Previous Post دشمن جانتے ہیں کہ وہ ہمیں شکست نہیں دے سکتے، سربراہ پاک فوج
Next Post اک واری فیر
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close