
تحریر: محمد شعیب تنولی
داعش کی پیدائش سے عشروں پہلے انسانوں کے سر کاٹ کر اُن کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو بنانے کا دھندا فرانسیسیوں نے شروع کیا تھا۔ یہ کام کسی وقتی انتقامی جذبے کے تحت نہیں بلکہ ایک سرکاری پالیسی کے تحت کیا جاتا رہا ہے۔ جس کا واحد مقصد اپنے غصب شدہ حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے والوں میں خوف اور دہشت پیدا کرنا تھا۔

فرانس والے بدترین مظالم ڈھانے کی عکس بندی کرتے اور پھر محکوم خطوں میں اُس کی نمائش کی جاتی تھی۔ اسی طرح فرانس والے خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر ایجاد کرنے کے موجد بھی ہیں۔

پھر اس درندگی کی تصاویر اور ویڈیو بنا کر اُن کی سرکاری سطع پر نمائش بھی کی جاتی رہی ہے۔ یہ کوئی صدیوں پرانی نہیں ہے، یہ عمل 1960 کے عشرے تک جاری رہا ہے۔ صدیوں تک دوسروں کو دہشت زدہ کرنے کی خاطر ظلم اور بربریت کا بازار گرم کرنے والے فرانس کو پہلی مرتبہ خود دہشت سے واسطہ پڑا ہے۔
اس ایک واقعے نے ہی فرانس ہی نہیں بلکہ تمام مغرب اور اُس کے فکری غلاموں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ یہ معصوم فرشتے بن کر آتشی اور انسانیت کا درس دینے لگ گئے ہیں۔ لیکن ہم انکی انسانیت دوستی سے باخوبی واقف ہیں۔

جب آپ جمہوریت نافذ کرنے کابل بغداد اور دمشق پہ چڑھائی کرسکتے ہیں تو وہ شریعت نافذ کرنے پیرس اور لندن کا رخ بھی کرسکتے ہیں
.جب آپ کو اپنی مرضی کے میدان جنگ منتخب کرنے کا حق ہے تو انہیں بھی حق ہے کہ اوسلو،اسلو،پیرس یا لندن کو بیس کیمپ بنا لیں!اور ہم کتنے اچھے ہیں۔
جنہوں نے ہمارے شہر لاکھوں افراد کو قتل کر کے تباہ کردیئے( کابل، قندھار، بغداد، بصرہ، بن غازی ).ان کے شہروں میں چند سو لوگوں کے قتل پر سوگوار ہیں،۔
ان کے غم میں شریک ہیں.ہم کتنے اچھے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں ‘ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے’.۔
تحریر: محمد شعیب تنولی
