Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مارخور

July 7, 2020 0 1 min read
ISI
ISI
ISI

تحریر: سفیر حسین کاظمی

قارئن! کہتے ہیں جہاں قلب و ذہن ،مسلمہ نظریات کا رشتہ موجود ہو ۔وہاں رشتے کی نسبت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ۔اس ضمن میں بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔بہرحال یہاں میرا مقصود ”مارخور ”کیساتھ آزاد حکومت کے کسی ادارے کی جانب سے روا رکھے گئے سلوک کا تذکرہ ہے ۔اس لئے محدود و مختصر تمہید کیساتھ آگے بڑھتے ہیں۔چونکہ ”مارخور”کو انٹرسروسز انٹلی جنس کے پیشہ وارانہ کردار سے نسبت دی گئی ہے ۔اور یہی آئی ایس آئی کا نشان بھی ہے۔اس اعتبار سے مارخور کی نسبت کوئی مذاق نہیں ہوسکتی ۔بلکہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔لیکن گذشتہ سال جب ریاستی دارالحکومت میں اچانک مارخور کا مجسمہ سال چھتردومیل کے چوک میں نصب کردیا گیا ۔باوجود اسکے کہ مذکورہ چوک بمطابق حکومتی نوٹیفکشن ”ختم نبوت چوک”قرارپاچکا تھا۔اس لئے مارخور کو وہاں نصب کرنے کی کسی قسم کی جوازیت نہیں بنتی تھی۔اور یہ ایک طرح سے ہر دو نسبت سے مذاق تھا۔”ختم نبوت چوک”میں مجسمہ نصب کرنے کی انتہائی حماقت پر ردعمل بھی آیا ۔جوکہ متوقع بھی تھا۔۔۔۔دو تین ہفتے سوشل میڈیا میں لے دے ہوئی ۔اور پھر چیف سیکرٹری کے احکامات پر مجسمہ وہاں سے ہٹادیا گیا ۔اور بات ختم ۔۔۔۔البتہ اس سارے قضیئے میں” مارخور ”کی خوب خوب تذلیل ہوئی ۔ مارخور کی اپنی دُنیا ہے اور وہ عملی کام پر یقین رکھتا ہے نہ کہ چکنی چپڑی باتوں ،دعوئوں اور اداکاری پر۔

۔۔۔جونہی مجسمہ ہٹا ۔کسی نے مڑ کر یہ تکلف گورا نہ کیا کہ معلوم کرے ۔آخر اس مجسمہ کو بنوانے میں کیسی ذہنیت کا عمل دخل ہے؟اگر ذہنیت اچھی تھی تو پھر ”ختم نبوت چوک ”میں کس نے نصب کروایا ؟؟اور جب حماقت آشکار ہوئی تو محض مجمسہ ہٹانے پر اکتفا کیوں کرلیا گیا ۔حالانکہ مناسب یہی تھا کہ ”وہ ذمہ داران پکڑے جاتے ۔جنہوں نے اپنے عمل کی حماقت سے ایک قومی ادارے سے منسوب ”مارخور”کیساتھ یہ حشرکیا۔چونکہ دفاع وطن میں انٹرسروسز انٹلی جنس کا کردار وطن دشمنوں کو شکار کرنے کیلئے”اُنھیں بلوں ”سینکالنے اور شکار کرنے میں ”مارخور” جیسا ہے ۔اورپھرنشان بھی یہی مارخور ہے ۔اب”فرسٹ ڈیفنس لائن ”پر ہمہ جہتی جنگ لڑنے والے مارخوروں کیساتھ ایسا سلوک سوال تو پیدا کرتا ہے ۔۔۔ اس امر میں کوئی شک بھی نہیں کہ وطن عزیز پاکستان کی ”فرسٹ ڈیفنس لائن” کی مضبوطی ہی ”دفاع وطن” کی ضمانت ہے ۔اور دفاع وطن کے سلسلے میںبنیادی و کلیدی کردارانٹلی جنس کا ہوتا ہے۔ دُنیا میں کسی بھی نوعیت کی جنگوں میں جس ملک کی انٹلی جنس جتنی موثر و وسعت کی حامل ہوگی۔

جنگوں کی جہت کا تعین اور اہداف کی تکمیل اتنی ہی ممکن بنے گی۔چونکہ پاکستان کی انٹلی جنس کا پروفیشنل رول دُنیا کا مانا ہوا ہے۔اس لئے کہیں حمایت و کہیں مخالفت میں لے دے کا سلسلہ بھی چلتا ہی رہتا ہے۔۔چونکہ یہاں تو آزادکشمیرکے دارالحکومت مظفرآبادمیں ” مارخور”کیساتھ مذاق کا ایک سالہ سلسلہ ہی موضوع ہے۔اس لئے تحریرکو سمیٹتے ہیں۔

پہلی بات:وہ ”کاریگر”پردے سے باہر کیوں نہ لایا گیا۔جس کی کاریگری سے ختم نبوت چوک میں ” مارخور کا مجسمہ” نصب ہوا۔۔۔۔کہیں یہ اُنکی کاریگری تو نہیں تھی جنہیں ختم نبوت سے چڑ ہے۔؟؟؟جس طرح کی صورتحال ہے ۔مظفرآباد میں ہی نہیں وطن عزیز اور ریاست میں ہر اہم مقام پر ”مارخور”کا مجسمہ نصب ہونا چاہیے ۔تاکہ وطن دشمنوں کو یاد دلاتا رہے کہ اُنھیں ریڈ لائن کراس نہیں کرنی ۔کہ مارخور کو انڈر اسٹیمیٹ نہیں کرنا ۔۔۔۔

دوسری بات: یہ مجسمہ کسی دوسرے مقام پرکیوںنصب نہ ہوا؟؟ شہرمیں کسی دوسرے چوک چوراہے کا انتخاب کرنے میں کیا رکاوٹ آگئی دوسری بات:؟؟یہاں سوال صرف اور صرف ”قومی جذبوں”غیرت و حمیت کا ہے ۔جو کہ چوک چوراہے میں نیلام کردی گئی ۔مگر احساس تک نہیں کیا گیا۔ اور اب ”مارخورکا مجسمہ”اسمبلی سیکرٹریٹ ایریا میں یہ لوکل گورنمنٹ کی بلڈنگ کے باہری حصے میں کارپارکنگ میںاپنے ساتھ ہونیوالے توہین و تذلیل پرمبنی سلوک کی داستان لئے موجودہے ۔یقینی طور پر جنہوں نے دیکھنا چاہیے وہ بھی دیکھ چکے ہونگے ۔اور جنہیں ” مارخور ”کے نام سے ہی تنگی ہوتی ہے وہ بھی دیکھ کر خوش ہورہے ہونگے ۔۔۔۔اورمجسمہ اس بلڈنگ میں آنے جانیوالوں کی نظروں میں ہی نہیں ہے۔ باہرسڑک سے گزرنے والے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں سے گزرنے والیسوچتے ہونگے کہ جہاں”فرسٹ ڈیفنس لائن والے” مارخور” کا یہ حال ہے ۔وہاں،کیا انسانیت ،کیا نظریات ،کیا حُب الوطنی ۔۔۔

تیسری بات:یہ کون سے ”کاریگر ” ہیں جو ریاست کے وسائل و تقدیرپر حاوی رہتے ہوئے ”مارخور”کے مجسمہ کو حرام خوری کاذریعہ بنانے سے بھی نہیں چُوکے ۔ مجسمہ بنوانے ،لانے اور نصب کرنے کے نام پر اچھی خاصی رقم کن جیبوں میں گئی ؟؟ اسوقت مارخور کا مجسمہ جہاں پارکنگ ایریا پڑاہے ۔دراصل یہ ہمارے دعوئوں کے برعکس قومی سوچ و جذبوں کے فقدان کا اعلان بھی ہے ۔جو ہمارے روزانہ کی بنیاد پر جاری بیانات کی مکمل نفی نہ سہی مگر بیانات کی صحت کو مشکوک ضرور بناتا ہے ۔اوریہ فرسٹ ڈیفنس لائن کیساتھ بدترین مذاق سے کم بھی نہیں۔مظفرآباد میں ”ماخور”کے مجسمہ، کی حالت زار ایک چونکا دینے والا پیغام بھی ہے ۔جسے مارخور صفات والے ہی سمجھ سکتے ہیں نہ کہ ”حرام خور”۔۔ ۔ ۔ ۔اب یہ مجسمہ ریاستی انتظامیہ کی اہلیت پر سوال تو نہیں ؟یامحض شرارت کیوجہ سے ایک اہم ادارے کی توہین کا سبب بناہے؟؟؟ ۔۔۔ ۔۔ سنجیدہ اور غیرجانبدار قومی حلقے کہتے ہیں کہ ”بااختیار ریاستی اتھارٹی” ّمارخورکی عزت و وقار کا احساس کرتے ہوئے اب بھی یہ مجسمہ شہرمیں ہی کسی بھی بڑے چوک چوراہے پر نصب کروادے ؟؟اور یہ تحقیقات بھی کی جانی چاہیے کہ مارخور کامجسمہ تختہ مشق کیوں بنا۔ اور آج جب وہ توٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا۔یعنی ایک سینگ نصب ٹوٹ چکا۔جوکہ مارخور کی شان بھی ہوتا ہے ۔جگ ہنسائی کیلئے سامنے رکھدیا گیا ہے ۔اس سے بہتر تھاکہ جہاں کباڑ خانے میں رکھا گیا تھا وہیں رہتا ۔تب کم ازکم شہریوں کی نظروں سے دور تھا۔اب اسے عمارت کے داخلی دروازے سے اندر پارکنگ ایریا میں رکھ کر نمائش کروائی جارہی ہے؟؟؟کیااسکی قومی ادارے سے منسوبیت کا مذاق اُڑانا مقصود ہے۔۔اب یہ مجسمہ”ہماری قومی سوچ و فکر”اور ذمہ داران کی بے نیازیوں اورترجیحات کا بھانڈا بھی پھوڑ رہا ہے۔ مظفرآبادمیں ”مارخور” کی بار بار تذلیل کا ازالہ کریگا۔اصلی و نسلی لوگ جہاں بھی ہوں وہ کسی بھی نادانستہ غلطی اور دانستہ کوتاہی کے احساس سے محروم نہیں ہوتے ۔اور اصلاح بھی کرلیتے ہیں۔۔۔ اور اگر ازالہ نہیں کرسکتے توکم ازکم مذکورہ مقام سے” مجسمہ” غائب کروادیا جائے ۔

قارئن ! ہمارا طرز طرز سیاست و حکومت کچھ ایسی روایات کا مجموعہ بنا ہوا ہے ۔کہ کوئی چاہے جتنی بھی کوشش کرے ۔ان سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا ۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں بہت کچھ گنوانا پڑا ہے ۔ہمارا اندازسوچ ،فکر عمل گروہی ،لسانی علاقائی ،مسلکی اور بھی کئی حوالوں سے تو ہے ۔مگر اُس سوچ و نظریہ سے ہمارا تعلق محض ”زبانی کلامی ”جمع خرچ کی حد تک ہے ۔جس سوچ و نظریہ کی مسلمہ حیثیت نے ہمیں ایک قوم کی شکل دی تھی ۔اس ساری کیفیت میں اگر کہیں مثبت سوچ و فکر اورعمل کی عملی نظیرملتی ہے تو وہ ہے ”دفاع وطن”پر مامور مسلح افواج کی اُٹھان اور پیشہ وارانہ کردار ،جوکہ خالصتاََ مسلمہ نظریات کیساتھ منسلک ہے۔ایمان تقویٰ جہاد فی سبیل اللہ کے نصب العین اور افواج کے ہر ہر محاذ کیلئے تیاریوں، قربانیوں کے مرحلے کو قرآن اور سنت کے سانچے میں ڈھالتے ہوئے ”دفاع وطن ”کیا جاتا ہے ۔اور کہیں نسلی ،علاقائی ،مسلکی سوچ کی گنجائش نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مسلح افواج کا پیشہ وارانہ کردار ہمیشہ مثالی رہتا ہے۔ ہمارا قومی مزاج کچھ گنوانے کا نہیں ۔بلکہ ہتھیانے کا ہے کہ کہیں سے کچھ بھی ہتھیانے کا موقع میسر آیا نہیں کہ ہم تیار بیٹھے ہوتے ہیں ۔مروجہ طرز سیاست میں گنوانے سے زیادہ ہتھیانے کو ترجیح حاصل ہے ۔یہی انتخابی سیاست کہلاتی ہے ۔

چونکہ ہمارے ہاں سیاست کے تمام اسرار و رموز ” ”عوامی رائے”ہتھیانے کے طریقوں تک محدود ہیں ۔اس لئے ”’انتخابی سیاست ”کی نحوست نے ہمارے معاشرے کوابن الوقتی کی سوچ و ترجیح کی طرف دھکیل رکھا ہے ۔جس طرف سے سوچ کو تقویت ملے ۔ سیاسی ترجیحات آسانی سے یقینی بن سکیں ۔بے پیندے کے لوٹے کی مانند ،اُسی جانب لڑھکنا اتنا عام ہوچکا ہے ۔کہ کسی کو حیرت نہیں ہوتی ۔ظاہر ہے جب ”ریاست رہنمائوں کے بجائے سیاسی شعبدہ بازوں”کے ہاتھوں موم کی بتی مانند بن جائیں ۔تو پھرمفاد پرستی کے رحجانات کو ”نظریات”کا لیبل دیکر بتوں کی پوجا کی اور کروائی جاتی ہے ۔ہمارا معاشرہ ”انتخابی سیاست کی نحوست”نے اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ سوپورمیں ایک بزرگ شہری بھارتی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے ۔اور ہمراہ کم سن نواسہ اپنے نانا کی چھاتی پر چڑھا ہوا بیٹھا دیکھا جاتا ہے ۔لیکن کیا مجال کہ شعبدہ بازوں کے اندرخوف خدا پیدا ہوا ہے ۔اُنھیں کشمیری قوم سے طویل مکاری کا احساس ہواہو۔البتہ کورونا وائرس کی وباء سے پیدا صورتحال میں بھی سیاست زوروں پر ہے ۔آئندہ سال انتخابات کے دنگل میں اُترنے اور ووٹ ہتھیانے کیلئے لنگوٹ کسے جارہے ہیں۔گنوانے اور ہتھیانے کی اس کشمکش میں ”قومی سوچ و نظریات”کو شدید دھچکا لگ رہا ہے ۔ریاست پاکستان کی بات کی جائے تو وہاں اور یہاں ایک جیسی صورتحال ہے ۔کہ ”انتخابی سیاست”کا منبع وہیں ہے ۔جہاں کوئی کل بھی زندہ تھا ،آج بھی زندہ ہے ۔بس ضمیر مرگئے ہیں۔انتخابی سیاست کی کھوکھ سے نجم لینے والے طرز حکومت نے ادارہ جاتی سطع پر نحوست پھیلائی ۔سیاسسی مداخلت ،سفارش و ترجیحات نے اُوپر سے لیکر نیچے تک وائرس کی شکل اختیار کرلی ۔ایسا وائرس ،کہ جس نے اجتماعیت ،قوم اور نظریات کو نگلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ۔جس طرح کمال مہارت سے قومی وسائل کو شیرمادر سمجھ کر ہڑپ کرنے کیلئے کوئی بھی انداز اختیار کرلیا جاتا ہے ۔اس طرح اہم قومی معاملات پر دماغ نہیں چلتے ۔اگر چلتے بھی ہیں تو اتنی بدنیتی اور بغض آشکار ہوجاتا ہے ۔کہ حقیقت سمجھنے میں کوئی مشکل باقی نہیں رہتی ۔

آخری بات: انسان سے غلطیاں سرزدہوسکتی ہیں ۔اُمور کی انجم دہی میں کمی کوتاہی ،غفلت کا عنصر بھی غالب آسکتا ہے ۔خاص کر ایسے عالم میں جبکہ مسلمہ نظریات کی جگہ شخصیت پرستی ،پوجا پاٹ سیاست کا اہم جزو بن جائے۔سنجیدہ حلقوں کے جذبات ،قوم کی اجتماعیت و تشخص کے عکاس ہوتے ہیں ۔اور بعض باتیں سمجھنے سے تعلق رکھتی ہیں ۔اُمید کیجاتی ہے ۔اب مارخور کو مثالی انداز میں کسی اہم مقام پر نصب کیا جائیگا۔کہ قومی حلقے ”مارخور”کیساتھ اس کھیل تماشے سے ناخوش ہیں۔

Safeer Hussain Kazmi
Safeer Hussain Kazmi

تحریر: سفیر حسین کاظمی

Share this:
Tags:
government Markhor national institutions Social Media Wars جنگوں حکومت سوشل میڈیا قومی ادارے مارخور
PIA
Previous Post پی آئی اے نے اندرون ملک کرایوں میں مزید کمی کر دی
Next Post سیلانی ویلفیئر اور حنید لاکھانی کی جانب سے غریبوں میں راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری
Food Distribution

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close