Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

13 جولائی………. شہدائے کشمیر

July 9, 2015July 9, 2015 0 1 min read
Martyrs Kashmir
Kashmir
Kashmir

تحریر: پروفیسر حافظ محمد سعید
امیر جماعة الدعوة پاکستان
اسلام کی تاریخ قربانیوں اور شہادتوں کے ایمان افروز واقعات اور معرکوں سے بھری پڑی ہے۔ مسلمانوں نے ہر دور میں اسلام کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کیں اور معرکہ ہائے عدیم المثال برپا کئے ہیں۔ ان میں سے ہر معرکہ ایمان افرو زاور خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن سرزمین کشمیر پر کشمیری مسلمانوں نے اعلائے کلمة اللہ کے لیے ایک ایسا معرکہ برپا کیا جو جرات و بہادری اور جانثاری کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ یہ آج سے 84 سال پہلے کی بات ہے تب سرزمین جموں کشمیر پر ڈوگر ہ حکمران قابض تھے۔ قابض و غاصب حکمرانوں کی اپنی رعایا سے نفرت عام فہم بات ہے لیکن جو نفرت ڈوگرہ حکمرانوں کو کشمیری مسلمانوں سے تھی اس کی مثال تاریخ میںشاذ ہی ملے گی۔ وجہ یہ تھی کہ ڈوگرے مذہباً ہند و تھے اور حد درجہ نسلی و مذہبی تعصب کا شکار بھی تھے۔ انہوں نیجہاں معاشی اعتبار سے مسلمانوں کو پسماندہ رکھا وہاں مسلمانوں کا رشتہ اسلام سے بھی توڑنے کی بھر پور کوششیں کیں۔ اس ضمن میںسب سے بھیا نک کردار ڈوگرہ راج کے بانی گلاب سنگھ کا ہے۔ گلاب سنگھ نے 1806 ء میں اپنی عملی زندگی کا آغاز بھمبر کے مسلمان راجہ سلطان خان کے ہاں 2 روپے ماہوارپر کیا۔

راجہ سلطان نے گلاب سنگھ کو اعزاز واکرام سے نوازا مگرجب 16 مارچ 1846 ء کو گلاب سنگھ انگریزوں کے ساتھ ساز باز کرکے ریاست جموں کشمیر کے سیاہ وسفید کامالک بنا تو یہ مسلمانوں کے لئے نہایت ہی ظالم اور سفاک شخص ثابت ہوا ۔ اس نے سب سے پہلے اپنے محسن راجہ سلطان خان کو دھوکے سے جموں بلا کر شہید کروایا دیا۔ زندہ مسلمانوں کی کھا ل اتارنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ کھا ل اتارنے کا عمل سر کی بجائے پائوں سے شروع کیا جاتااور مہاراجہ اپنے کم سن ولیعہد رنبیر سنگھ کے ساتھ اس وحشیانہ عمل کا خود مشاہدہ کرتا ۔انسانی جانوں کی بے وقعتی کے ساتھ ساتھ ڈوگرہ دورمیں مسلمانوں پر بے انتہا معاشی پابندیاں و سختیاں بھی تھیں۔ ندی نالوں میں بہنے والے قدرتی پانی کے علاوہ ۔۔۔۔۔ہوا۔۔۔۔۔سمیت ہر چیزپر ٹیکس تھا۔اگر کوئی مسلمان گھرمیں تازہ ہواکے لئے کھڑکی رکھناچاہتا تواس پر ٹیکس ،گھرمیں ایک سے زائد چولہا بنانے پرٹیکس، حد یہ ہے کہ مسلمان بچوں کے ختنہ کروانے پر بھی ٹیکس تھا۔ معاشی پابندیوں کے علاوہ مذہبی پابندیاں بھی تھیں۔ کہیں اذان پر پابندی تو کہیں مساجد پر تالہ بندی تھی۔ معاشی پابندیاں تو کسی حد تک قابل برداشت ہو سکتی تھیں لیکن جب مذہبی پابندیاں حد سے بڑھنے لگیں تو مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا چلا گیا۔ 29 اپریل 1931 ء کو مسلمان نماز عید کے لئے میونسپل کمیٹی باغ جموں میں جمع تھے۔

مفتی محمد اسحاق حضرت موسٰی علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ دفعتا ًموقع پر موجود ڈوگرہ آئی جی رام چند کے حکم پر ایک پولیس انسپکٹر کھیم چند عید گاہ میں داخل ہوا اور نہایت ہی درشت لہجے میں مفتی محمد اسحق کو مخاطب کر کے کہنے لگا ” آپ جرم بغاوت اور قانون شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں لہذا خطبہ بند کیجیے۔” آئی جی کا خیال تھا کہ امام صاحب فرعون کی آڑ میں مہاراجہ ہری سنگھ کو آڑے ہا تھو ں لے رہے ہیں۔بات یہ ہے کہ جب بھی عصائے حضرت موسی علیہ السلام کا ذکر ہو تو وقت کا ہرفرعون اپنی ذات اور اقتدار کو خطرے میں محسوس کرتا ہے۔بہر کیف خطبہ عید کی بندش معمولی واقعہ نہ تھا کہ جسے نظرانداز کردیا جاتا۔ جموں شہر۔۔۔۔ ڈوگر ہ حکمرانوں کا پایہ تخت اور سیاسی ومذہبی طاقت کا مرکز تھا۔۔۔۔۔۔اس کے باوجود جموں کے مسلمان چوہدری غلام عباس کی قیادت میں خطبہ عید بند ش کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے یہاں تک کہ احتجاج کی لہریں پوری ریاست میں پھیل گئیں ۔دوسرا واقعہ 4جون 1931 ء کواس وقت پیش آیا جب جموں پولیس لائینز میں ایک ہندو کانسٹیبل لبھو رام نے قرآن مجید کی توہین کی۔ توہینِ قرآن کے واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ یکے بعد دیگرے رونماہونے والے ان دو واقعات نے احتجاج کوشعلہ جوالہ بنا دیا ،مسلمانوں کی روحو ں کو تڑپا ،دلوں کو گرما ،ان کی غیرت ایمانی اور حمیت اسلامی کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔اس دوران ایک اور واقعہ پیش آیاجو جموں کشمیر میں دو قومی نظریہ کی صداقت وطاقت کی بنیاد اور اہل کشمیر کی منزل کے تعین کا سبب بنا۔

Muslim Rally
Muslim Rally

ہوا یہ کہ خطبہ عید کی بندش اور اور توہین قرآن جیسے سنگین واقعات پرڈوگرہ حکومت نے مسلمانوں کی تسلی وتشفی کرنے کی بجائے الٹا جارحانہ اور توہین آمیزرویہ اختیار کیا جس سے مسلمانوں کا مزید مضطرب ومشتعل ہونا فطری امر تھا چنانچہ اس سلسلے میں 25 جون 1931 ء کوسری نگر میں بعداز نماز جمعہ ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جس میں تقریباً 50،60 ہزار مسلمان جمع تھے۔میر واعظ مولانا محمد یوسف اورشیخ عبداللہ تقریر کر چکے تھے کہ ان کے بعد ایک اجنبی نوجوان نے قرآن و حدیث کی روشنی میں تقریر شروع کی ۔ اس کی گرجدار آواز نے جلد ہی مجمع کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔ اس نے اسلام کی روشنی میںبتایا کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مسلمانوں کے لئے کیا حکم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجنبی نوجوان کا کہنا تھا ” مسلمانو۔۔۔۔!یاد رکھو یاداشتوںاور قرارداوں سے ظلم کے بادل نہیں چھٹتے۔ ظلم کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔” ۔ ایک ر و ایت کے مطابق اس نوجوان کا تعلق صوبہ خیبر کے پی ( پاکستان ) سے تھا اس کا نام عبدالقدیر خان اور وہ ایک سیاح کے ساتھ بطور گائیڈ ریاست میں آیا ہوا تھا۔عبدالقدیر کی پر جوش تقریر نے مجمع میں آگ لگا دی۔حکومتی اہلکاروں نے عبدالقدیر کو فورا ہی حراست میں لے کر اور بغاوت کا مقدمہ درج کر کے پابند سلاسل کردیا۔عبدالقدیر نے غیر ریاستی باشندہ ہونے کے باوجودریاستی مسلمانوں کے لئے آواز اٹھائی تھی اس لئے کشمیری مسلمانوں کی اس کے ساتھ محبت وہمدردی فطری بات تھی۔ عبدالقدیر کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو ہزاروں لوگ کاروائی سننے کے لئے جمع ہو گئے۔

جس پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ آئندہ مقدمے کی سماعت جیل میں ہو گی۔یہ 13جولائی کا ۔۔۔۔ دن تھا لوگ اپنے دینی بھائی عبدالقدیر کے مقدمہ کی سماعت کے لئے جیل کے سامنے پر امن طریقے سے جمع تھے کہ اتنے میں نماز ظہر کا وقت ہو گیا۔ایک نوجوان اذان کہنے کے لئے دیوار پر چڑھا ابھی اس نے۔۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔۔ ۔ کہا ہی تھا کہ ایک فوجی جوان نے تاک کر موذن کا نشانہ باندھا اور کئی گولیاں اس کے سینے میں اتار دیں۔وہ نوجوان موقعہ پرہی شہید ہو گیا۔روایت اور معمول یہ کہ جب مجمع پر سید ھی فائرنگ ہو تولوگ خوف زدہ ہو کر اور جانیں بچانے کے لئے بھاگ اٹھتے ہیںلیکن یہ معاملہ اللہ کی واحدنیت اور کبریائی کا تھالہذا ایسے موقعہ پر مسلمان کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ بر سرِ مقتل جان دے دیتا ہے مگر سر جھکا نہیں سکتا۔۔۔۔۔ چنانچہ جب ایک نوجوان شہید ہوا تو جذبہ ایمانی سے سرشار دوسرا نوجوان آگے بڑھا،دیوار پہ چڑھااور اذان اس جگہ سے کہنا شروع کی جہاں پہلے نوجوان نے چھوڑی تھی۔اس نے ابھی اذان کا ایک جملہ بھی مکمل نہ کیا تھا کہ اسے بھی ڈوگرا فوجیوں نے خون میں نہلا دیا ۔پھر تو ایک کے بعددوسرامسلمان آگے بڑھتا رہا،اذان کا اگلا کلمہ دھراتا رہااور سینے پر گولیاں کھا کر جام شہادت نوش کرتا رہا۔واضح رہے کہ اذان کے کل 15 کلمات ہیں جبکہ تکمیلِ اذان کرتے کرتے 21 مسلمان شہید ہوئے ۔اس کا مطلب یہ تھا کہ اذان کہنے والے ابھی ایک کلمہ بھی مکمل نہ کرپاتے تھے کہ سنسناتی گولیاں ان کے سینوں میں پیوست ہوجاتی تھیں۔

شہید ہونے والوں میں 19 سال کے نوجوان سے لے کر 60 سال کے بزرگ شامل تھیاور گولیوں کے نشانات صرف ان کے سینوںپر ہی سجے تھے ۔یہ ایک ایسا ایمان افروز اور ولولہ انگیز منظر تھاکہ تاریخ جس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔اس لیے کہ ایک طرف نہتے مسلمان اور دوسری طرف مسلح ہندو فوجی تھے جن کی انگلیاں بندوقوں کی لبلبی پرہر دم شعلے اگلنے کے لئے تیار اور مسلمانوں کا خون بہانے کے لئے بے قرار تھیں۔ہندو فوجیوں کی پوری کوشش تھی کہ مسلمان اذان مکمل نہ کر پائیں۔بعدکی تحقیقات کے مطابق ہندو فوجیوں نے 180سے زائد رائونڈ فائر کئے تھے اس کے باوجود وہ تکمیلِ اذان کی راہ میں مزاحم نہ ہوسکے ۔ آج اس واقعہ کو 84 سال ہوچلے ہیںمورخین آج بھی ڈ وگر ہ فوج کے اس وحشیانہ ظلم کے بارے میں لکھ رہے اور۔۔۔۔۔۔۔ اس کی مختلف توجیحات کر رہے ہیںکہ محض اذان کی خاطر اتنا ظلم کیوں کیا گیا۔۔۔۔؟اصل اورسچی بات یہ ہے کہ اذان۔۔۔۔ محض چند کلمات ہی نہیں بلکہ یہ اللہ تعالی کے نظام ، حاکمیت ،کبریائی وبڑائی کا اظہار واقرار اور نظامِ کفر کا انکارہے۔یہ اسلام وکفر اور توحید و شرک کی کشمکش ،چراغ مصطفوی وشرارِ بوللہبی کی جنگ ہے جو ازل سے ابد تک جاری ہے۔ اسی راہ میں محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو بھی ۔۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔۔ کی موجودگی میںاپنے نظام ٹوٹتے اور بکھرتے نظر آرہے تھے۔یہی حال ڈوگرہ حکمرانوں کا تھا۔سو انہوں نے بھی پوری قوت اور طاقت سے ۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔۔ کی صدا کوکچل دینا چاہا۔۔۔لیکن یہ تو اللہ کا نور ہے جسے پھونکوں سے بجھانا ممکن نہیں۔

Martyrs Kashmir
Martyrs Kashmir

امر واقعہ یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کی برکت سے ہی اہل کشمیر کو ظالم ڈوگرہ حکمرانوں سے نجات ملی، ریاست جموں کشمیر کا 84471 مربع میل خطہ آزاد ہوا اہل کشمیر نے اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کیا۔۔۔اور اب مقبوضہ جموں کشمیر بھی اسی کلمہ طیبہ کی برکت سے آزاد ہو گا ۔اسی کلمہ نے ایک اجنبی نوجوان عبدالقدیر کو اپنے مظلوم مسلمان بھایئوں کی مدد پر آمادہ کیا تھا اور ہم بھی ان شاء اللہ اس کلمے کو گواہ بنا کر اپنے بھائیوں کی مدد جاری رکھنے کاعہد کرتے ہیں۔ 13 جولا ئی کے دن اہل کشمیر کا اپنے سینوں پر گولیاں کھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قوم بزدل نہیں بلکہ،جر ی وبہادر ، شجاع ودلیراور اسلام کی والہ وشیدا ہے ۔ 13 جولائی کے دن میں یہ پیغام بھی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کی اساس اور بنیاد۔۔۔۔اسلام ہے۔یہ تحریک۔۔۔۔۔ا سلام کی بنیاد پر شروع ہوئی، سری نگر کی جامع مسجد میں پلی بڑھی اور قرآن کے سایہ میں جوان ہوئی۔ آج بھی کشمیری قوم کا پسندیدہ و مقبول نعرہ ”آزادی کے تین نشان اللہ محمد اور قرآن” ہے۔گویا اہل کشمیر اپنا مقدر اسلام سے وابستہ کرچکے ہیں۔ جو اقوام اورافراد اپنا تعلق اللہ سے جوڑ لیں۔۔۔۔۔ تو فرشتے ان کی مدد کے لئے آسمانوں سے اترتے اورفتح و کامیابی کی بشارت صرف انہی کیلئے ہے۔

تحریر: پروفیسر حافظ محمد سعید
برائے رابطہ:
ارشاد احمد:03311488538

Share this:
Tags:
muslims Rulers حکمرانوں مسلمانوں واقعات
Shahid Ullah Shahid
Previous Post ٹی ٹی پی کا سابق ترجمان شاہد اللہ شاہد افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاک
Next Post ذہنی بانجھ پن قرآن پاک دوا
Quraan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close