میں اپنی دہرتی سے اپنا رشتہ نبھا رہا ہوں، یہ ماں سے کہنا
کبھی نہ رونا میں سیدھا جنت کو جا رہا ، یہ ماں سے کہنا
سبق جو تم نے دیا تھا مجھ کو محبتوں کا ، صداقتوں کا
عصر نو کو ، وہی صحیفہ سنا رہا ہوں، یہ ماں سے کہنا
ہے جنت میری ، تو ہار ان کی ، گواہ اس پر جہاں ہے سارا
میں بن کے اپنے وطن کے لب پر دعا رہا ہوں ، یہ ماں سے کہنا
یہ ماں سے کہنا کہ تیرا چندا چمک رہا ہے ، دمک رہا ہے
میں آسمان وفا پہ اب جگمگا رہا ہوں ، یہ ماں سے کہنا
یہ امن کے ہیں جو بیل بوٹے ، لہو سے اپنے کھلے ہوئے ہیں
میں اپنی دھرتی پی امن کا اک خدا رہا ہوں ، یہ ماں سے کہنا

شاعر رانا عبدلرب
