Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عصر حاضر میں مساجد کا مطلوبہ کردار ! آخری قسط

July 24, 2018 0 1 min read
Masjid
Masjid
Masjid

تحریر : محمد آصف اقبال

واقعہ یہ ہے کہ آج امریکہ و برطانیہ اور یورپ میں مساجد جدید سنٹر کی شکل اختیار کررہی ہیں۔مسجد میں معاشرتی زندگی کی وہ تمام ضروریات اور تقاضے پورے کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے جن کی فرد اور معاشرہ کو ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عمر خالد ،آغا خان پروگرام سے وابستہ اسلامی فن تعمیر میں شامل Massachusetts Institute of Technology, Cambridgeکے ایک سینئر ریسرچ اسکالربتاتے ہیں کہ امریکہ میں آج تین طرح کی فن تعمیر میں مساجد نمایاں ہیں۔ایک وہ جو روایتی ڈیزائن سے مزین مساجد ہیں،دوسرے وہ جو ان امریکن ڈیزائن اور روایتی ڈیزائن سے کا مرکب ہیں ،تیسرے وہ ہیں جو مکمل طور پر جدید ہیں۔مثلاً Plainfield،Indianaمیں اسلامی سوسائٹی شمالی امریکہ کا ہیڈ کوارٹر۔لیکن ان تینوں ہی طرح کی مساجد میں کلاسس روم کا اہتمام کیا جاتا ہے،وہاں لائبری ہوتی ہے، کانفرنس سینٹرس ہوتے ہیں،کتابوں کی دکانیں، کچنس اور سماجی ہال ہوتے ہیں،یہاں تک کہ رہائشی اپارٹمنٹ کے طور پر بھی ان مساجد کے مخصوص حصوں کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ساتھ ہی مسجد کی تعمیر میں ایک اور اہم بات کا خیال رکھا جاتا ہے اوروہ ہے خواتین کی عبادت کرنے کی جگہ کا ہونا۔امریکہ میں عام طور پر خواتین مسجد کی سرگرمیوں کا لازمی حصہ ہوتی ہیںساتھ ہی مسلم معاشرہ کی تعمیر و ترقی اور اصلاح سے متعلق سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔لہذا آج مساجد ملت کی تعمیر و ترقی اور ارتقاء کا مرکزی نقطہ ہیں۔ڈاکٹر خالد ہی نہیں بلکہ وہ تمام افراد جو امریکہ کے ان اسلامک سینٹرس کا مشاہدہ کرچکے ہیں وہ اس بات کو بیان کرتے ہیںکہ ترقی یافتہ مشرقی و مغربی ممالک میں مساجد کے ساتھ مختلف قسم کی اصلاحی و تعمیری سرگرمیاں ملحق ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں اور خصوصاً غیر مسلموں کے سامنے مسجد ایک مکمل اسلامی سینٹر کے طور پر ابھر کے سامنے آتی ہے۔

جہاں غیر مسلموں او رمسلمانوں کے شبہات اور سوالات کا شافی جواب دینے کاانتظام کیا جاتا ہے،ابتدائی تعلیم کی سہولت فراہم کی جاتی ہیں۔ بچوں اور بڑوں کے لیے باوقارتفریح کے مواقع موجود ہوتے ہیںنیز اضافی مراعات کا انتظام ہوتا ہے۔جیسے:شام کے وقت کا اصلاحی اسکول۔یہ اسکول نئی نسل کے تقاضے پورے کرتا ہے۔یہاں شناخت سے لے کر ثقافت اور تہذیب اور مذہبی روایات کو زندہ رکھنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔وہیں ضعیف لوگوں کے لیے اُن کا مرکز۔جہاں ضعیف اورپرسان حال لوگوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔مسجد میں مکتبہ اور دارالمطالعہ کا نظم بھی ہوتا ہے۔جس میں ہر طرح کا لٹریچر مہیا کیا جاتا ہے۔پڑھنے والوں کے لیے مختلف زبانوں میں کتابیں،رسائل اور اخبارات فراہم کیے جاتے ہیں۔انہیں مساجد میں دیگر بڑے اور چھوٹے پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔جس میں مسلمان مرد،عورتیں،بچے،سب مل جل کر استفادہ کرتے ہیں۔

امریکہ و یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی جن مساجد اوراسلامی سینٹرس کی تصویر کی روشنی میں ،کیا یہ سوال ہم خود ہی سے نہیں کرنا چاہیں گے کہ آخر ہم جبکہ ان مسائل سے دوچار نہیں ہیں جن سے یہ ترقی یافتہ ممالک دوچار ہیں،یعنی اخلاقی پستی کا طوفان جس میں نہ صرف فرد بلکہ خاندان اورمعاشرہ بھی اپنے آپ کو ان غلاظتوں سے محفوظ رکھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں جوچہار جانب پھیلی ہوئی ہیں اور جس میں اُس سوسائٹی کا تقریباً ہر فرد مبتلا ہے۔اس کے باوجود اِن ممالک کے مسلمان آج اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ڈھالنے،اپنی شناخت برقراررکھنے اور اپنے تشخص کی بقا کے لیے کیسے سرگرم عمل ہیں۔اس کے برعکس ہم ہندوستانی و برصغیر کے مسلمان، ان مسائل سے بہت حد تک محفوظ ہیں۔لیکن ہمارے درمیان ایسی مساجد شاذونادرہی ہوں گی جو “اسلامی سینٹرس “کا کردار ادا کرتی ہوں یا ان جیسی سرگرمیاں انجام دیتی ہوں۔ توآخر کار ہمارے یہاں یہ صورتحال کیوں ہے؟اور وہ کون سے اسباب ہیں جن کے سبب ہم نے مسجد کو صرف نماز کی ادائیگی کا مرکز تو بنایا لیکن مطلوبہ کردار ادا کرنے کے تعلق سے ہم فکر مند نظر نہیں آتے اور دقتیں محسوس کرتے ہیں؟

اگر آپ وطن عزیز کی مساجد پر ایک سرسری نگاہ ڈالیںتو اندازہ ہوگا کہ ہماری مساجد عموماً مسلکی اختلافات کی نمایاں پہچان ہیں۔بے شمار مساجد کے باہر جلی حرفوں میں غیر متعلقہ مسلک سے وابستہ مسلمانوں کے لیے ہدایات لکھی ہوتی ہیں، بعض مساجد میں نماز کے علاوہ دیگر کسی قسم کی سرگرمی انجام دینے کی ممانعت ہوتی ہے،یہاں تک کہ درس قرآن کے پروگرام نہیں کرسکتے، تو بعض میں نماز پڑھنے تک کی اجازت نہیں ہوتی۔بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہی مساجد اور ان کے متولین و آئمہ کرام مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کرنے اور منتشر کرنے کاسوچا سمجھا اور منصوبہ بند پروگرام چلا رہے ہیں ۔امت کے لیے یہ صورتحال بدترین ہے۔اس پر ان تمام لوگوں کو ذرا ٹھہر کے غور کرنا چاہیے جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے مسائل حل ہوں،انہیں دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے،ان کی مثال اُس سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہو جائے جسے قرآن حکیم میں بنیان مرصوص کی اصطلاح میںبیان کیا ہے۔سوچیئے اور غور فرمایئے کیا اس واقعہ کی روشنی میں ہماری صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے؟اور جن خواہشات کو پالے ہر دن ہم نئی صبح کے سورج کے منتظر نظر آتے ہیں ،کیا وہ خواہشات اس حقیقی صورتحال کی موجودگی میں پوری ہو سکتی ہیں؟مختصر جواب اگر کچھ ہو سکتا ہے تو یہی کہ ہم نے مساجد کو مسالک اور مدارس کی شناخت سے وابستہ کر دیا ہے۔اس شناخت سے ہمیں باہر نکلنا ہوگا۔مدارس اسلام کی تعلیم دینے والے بنیادی ادارے ہیں۔اور مسالک دین و شرعیت پر مکمل عمل کرنے میں مددفراہم کرتے ہیں۔ان میں سے کوئی بھی ادارہ مقاصد کے حصول میں مسائل کھڑے نہیں کرتا، مسائل کھڑے کرتے ہیں تو وہ ہم ،آپ اور وہ علماء کرام و اکابرین امت ہیں جو خود کو اِن مدارس و مسالک سے وابستہ کرنے کے بعد،سمجھتے ہیں کہ ہمارا مسلک ہی اصل اسلام ہے۔ممکن ہے علماء کرام اور اکابرین اس فکر سے نکلنے میں کچھ وقت لگائیں لیکن ہم آپ سے یہی گزار ش کریں گے کہ خدا کے واسطے آپ اس فتنے میں نہ مبتلا ہوئیے۔اگرآپ اس فتنے سے نکل جائیں گے تو لازماً یہ علماء و اکابرین بھی مجبور ہوجائیں گے۔اور اُسی صورت میں مساجد اپنا موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ساتھ ہی دنیا کے دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی ان مساجد سے بھر پور استفادہ کرپا ئیں گے،انشاء اللہ۔

آپ جانتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں مساجد کا کردار نمایاں اور واضح ہونے کے باوجود آج معاشرے میں انارکی او رافراتفری موجود ہے۔ہر طرح کے جرائم چاہے وہ معاشی ہوں ، معاشرتی، اخلاقی یا جنسی،عام ہورہے ہیں۔ اسلام کے خلاف فضا ہموارکی جارہی ہے،غلط فہمیاں بڑے پیمانہ پر پھیلائی جا رہی ہیں،اسلامی تعلیمات کو غلط طریقہ سے پیش کیا جا رہا ہے،سماج کو منتشر کیا جا رہا ہے،نفرتیں عام ہو رہی ہیں اور منظم طور پر مختلف قووتیں اِن سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں،جن کے ہم اور آپ شکار ہیں۔انسانیت کا خون کھلے عام بہایا جا رہا ہے۔ شدت پسندی اور عدم برداشت کی فضا پروان چڑھ رہی ہے۔ اس کے باوجود کہ ہمارے ہر محلہ ،گلی اور کوچے میں مساجد موجود ہیںلیکن ان سے دعوت و تبلیغ اوراصلاح معاشرہ کا وہ کام نہیں لیا جارہاہے جس کی شدت کے ساتھ ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔منبر و محراب سے اٹھنے والی صدائیں کچھ اور ہی کہہ رہی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسجد ایک پھر اپنا وہ کردار ادا کرے کہ جس کے نتیجہ میں ہر بے عمل شخص باعمل بن جائے اور ہر نمازی شعوری مسلمان میں تبدیل ہو جائے۔شعوری مسلمان سے مراد یہ ہے کہ نہ صرف وہ اسلام پر مکمل طور پر عمل کرنے والا ہو بلکہ اسلام کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے والا بھی بن جائے۔مساجد میں غیر مسلم برادران وطن کو لائیے،انہیں وہاں کی پرسکون اور باوقار فضا کودکھائیے،اسلام سے متعلق جو سوالات ان کے ذہنوں میں اٹھتے ہیں ان کا تسلی بخش جواب فراہم کیجئے۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا جب وہ کھلا ثبوت اپنی آنکھوں سے ان مساجد میں دیکھیں گے،قرآن کو دیکھیں گے،سنیںگے،اورپڑھنے کا مواقع انہیں میسر آئیں گے،جس معاشرت سے آپ اور آپ کا خاندان وابستہ ہے اور جو اسلامی تعلیمات انسان کو انسان بنانے کی تعلیم دیتی ہیں،اس سے واقف ہوں گے،تو خدا کی قسم وہ بھی آپ اور آپ کے دین سے قریب سے قریب تر ہوتے جائیں گے ۔اس تبدیلی میں ہمارے آئمہ کرام اہم ترین کرداراداکرسکتے ہیں۔کاش کہ ہمارے آئمہ اس جانب توجہ فرمائیںاور وہ تبدیلی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں جو مطلوب ہے۔آج کے اس پرفتن دور میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے مساجد کے کردار کوایک بار پھر فعال بنانا ہوگا۔اور اُنہیں خطوط پر عمل پیرا ہونا ہوگاجن کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے ،جنہیں اپنا کر عرب کے بدودنیا کے امام اور رہبر بن گئے تھے! ۔۔۔۔۔(ختم شدہ)

Mohammad Asif Iqbal
Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال

maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
massage Mohammad Asif Iqbal program role USA امریکہ پروگرام کردار مساجد
Votes
Previous Post ​​ووٹ کو بیچنا مت
Next Post انمول یا بے مول
Election 2018

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close