Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مولانا آزاد کی صحافتی خدمات

November 8, 2015November 9, 2015 0 1 min read
Maulana Azad
Maulana Azad
Maulana Azad

تحریر: ڈاکٹر سید احمد قادری
مولانا ابوالکلام آزاد ( ١٨٨٨ء ۔١٩٥٨ئ) کے مشہور اور مقبول ہفتہ وار اردو اخبار ” الہلال ” سے مولانا آزاد نے جس طرح اپنے صحافتی شعور و آگہی سے ملک کی سیاسی ، سماجی، تہذیبی ، مذہبی ،معاشرتی ،لسانی، ادبی، اور صحافتی معیار اور وقار قائم کیا ہے، وہ اب تاریخ کا سنہری باب ہے۔ خاص طور پر مولانا آزاد نے صحافتی تقاضوںاور ذمّہ داریوںکوپورا کرتے ہوئے جس خوش اسلوبی ، سنجیدگی، صبر و تحمل، برد باری اور متانت سے اردو صحافت کو جو آفاقیت بخشی اوراعٰلی معیار قائم کیا ہے، انھیں کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اسلوب کی سحر انگیزی اور معروضیت پسندی نے ملک کی اردو صحافت کے لئے آج بھی مشعل راہ ہے۔ مولانا آزاد کی ان تما م خوبیوں کا اعتراف ان کے معاصرین ، زعمأ و اکابرین نیز صحافیوں ، ادیبوں اور سیاسئین نے بھی خلوص دل سے کیا ہے۔

ان اعتراف میں مولانا آزاد کی صحافتی بصیرتوں کے ساتھ ساتھ ان کی مذہبی افکار و اظہار ، علم و ادب ،شعر و سخن اور سیا ست و معاشرت کے لئے فرض کفایہ کی ادائیگی کے لئے ممنونیت کا اظہار ہے ۔ معروف مصری ادیب طہٰ حسین نے مولانا کی صحافت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”ان کی صحافت خود اپنی صحافت تھی، جسے خود انھوں نے ایجاد کیا تھا اور ان کے ساتھ ختم ہو گئی ”۔ ‘الہال’ نے جس طرح صحافتی دنیا میں انقلاب لایا تھا ، اس کے معترف نیاز فتح پوری بھی تھے اور انھوں نے بھی لکھا تھا ‘ مولانا آزاد نے ‘الہال’جاری کیا اور اس شان کے ساتھ کہ صحافت کا تمام اگلا پچھلا تصور ہمارے ذہن سے محو ہو گیا اور ہم سوچنے لگے کہ کیا یہ آواز ہماری ہی دنیا کے کسی انسان کی ہے ۔ کیا یہ زبان ہمارے ہی ابنائے جنس میں سے کسی فرد کی زبان ہے’۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا آزاد کو اپنے طالب علمی کے دور میں ہی اس امرکا اندازہ ہو گیا تھا کہصحافت ترسیل وابلاغ کا مؤثراور طاقتور ذریعہ ہے، اورواقعات و حالات حاضرہ کی معلومات بہم پہنچانے کااتنا بہتر وسیلہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے سماجی پیشوا، سیاسی رہنما اور مشاہیرادب نے نہ صرف اس کی بھرپور طاقت کے سامنے سرتسلیم خم کیا بلکہ اپنے افکار واظہار کی تشہیر کے لیے صحافت سے منسلک رہے ، تواریخ شاہد ہے کہ صحافت نے کتنے ہی ملکوں کے تختے پلٹ دیے، بڑے بڑے انقلابات کوجنم دیا، اورظالم حکمرانوں کے دانت کھٹّے کردیے۔ عالمی پیمانہ پر ایسے کئی مقام آئے، جب صحافت کی بے پناہ طاقت، اس کی عوامی مقبولیت اوراس کی تنقید سے خوف زدہ ہوکر اس پرپابندیاں عاید کی گئیں۔ صحافت نے جیسے جیسے ترقی کی ، ویسے ویسے اس کی مقبولیت، اہمیت اورافادیت بڑھتی گئی اورلوگوںکومتوجہ کرانے میں کامیاب ہوتی گئی اورایک وقت ایسا آیا، جب لوگ صبح آنکھ کھلتے ہی اخبارتلاش کرنے لگے۔ اس طرح صحافت انسانی زندگی کا ایک حصہ بن گئی۔ اپنے عہد کے عظیم ڈکٹیٹر نیپولین بونا پاٹ نے بھی صحافت کی طاقت کے سامنے سرنگوں ہوتے ہوئے کہا تھا کہ :
” I fear three newspapers more than a hundred thousand bayonets”

Napoleon
Napoleon

”یعنی”لاکھوں سنگینوں سے زیادہ میں تین اخبار سے خوف زدہ رہتا ہوں”۔نیپولین بوناپاٹ کا یہ خوف یقینی طورپر صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس نے ضرور اس بات کومحسوس کیا ہوگا کہ دشمن کی صفوں میںانتشاربرپا کرنے میں توپ اورتفنگ، لائو لشکر، تیر، تلوار کے ساتھ ساتھ ہاتھیوں، گھوڑوں اورفوجیوں کی بے پناہ طاقت، صحافت (اخبار) کے سامنے کند ہے۔ جو کام صحافت سے لیا جاسکتا ہے،وہ توپ اوربندوقوںسے بھی نہیں لیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے عظیم مفکر، دانشور، سربراہ، مصلح، سیاستداں اوررہنما اس کی اہمیت کے معترف اورقائل رہے ہیں۔ اس کی سیکڑوںمثالیں عالمی طورپر ہمیں دیکھنے کوملتی ہیں۔

اپنے ملک کے کئی مشاہیر کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میںہم جھانکیں توپاتے ہیں کہ اپنے ملک سے کہیںزیادہ دوسرے ملکوں میںایسی ہزاروںمثالیں موجودہیں۔ ان میںچند نام جوفی الحال میرے ذہن میں آرہے ہیں، وہ ہیںسررچرڈ اسٹیل(Sir Richard Steel)، جوزف ایڈیسن(Joseph Addison)، جوناتھن سوئفٹ(Jonathan Swift)، بابائے صحافت ڈینیل.ڈی فو(Daniel Defoe)وغیرہ ان لوگوںنے صحافت سے جڑکر نہ صرف اپنے گہرے مطالعہ ومشاہدہ اورفکروفلسفہ سے صحافت کا مقام بلند کیا، بلکہ صحافت کواپنے خیالات وافکار کاذریعہ ٔ اظہاربناکر اپنی شخصیت اوراپنی فکرسے دنیا کے سامنے اپنی ایک منفرد پہچان بنانے میںکامیاب رہے اورجب انہیں یہ کامیابی مل گئی توپھروہ عملی میدان میں اترے اوربڑے بڑے معرکے سر کیے۔

یہی وجہ تھی کہ وہ محض گیارہ سال کی عمر میں ہی صحافت کے مشکل اور دشوار گزار سفر پر نکل پڑے اور اس سفر میں خاردار دار راستوں سے گزرتے ہوئے ، نت نئے تجربات حاصل کرتے ہوئے ملک و قوم کی تصویر و تقدیر کو بدلنے کے لئے غیر ملکی تسلط ، جبر و ظلم ، استحصال و استبداد کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے منافرت ، تعصب ، تنگ نظری کی نہ صرف بیج کنی کی بلکہ اپنے ملک کو انگریزوں کی غلامی کی ز نجیروں سے آزاد کراکر امام الہند بن گئے۔ مولانا آزاد نے صحافت کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کا نچوڑ مئی١٩٠٢ء میں ‘فن اخبار نویسی’ کے عنوان سے سر عبد ا لقادر کے مشہور زمانہ رسالہ ‘مخزن’ میں طویل مضمون از طرف، از مولوی ابو الکلام محی ا لدین آزاد دہلوی،مقیم کلکتہ، شائع کرایا تھا ۔ جس میں انھوں نے مختلف ذیلی عنوانات کے تحت نہ صرف فن صحافت بلکہ فکر صحافت پر تفصیلی اور تحقیقی مضمون سپرد قلم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ….” اخبار دراصل زندہ ہادی ہے۔جو ہر قسم کی باتوں میں ہدایت کرتا ہے۔

بری باتوں سے تنفر دلاتا ہے اور عمدہ باتوں کی جانب مائل کرتا ہے، کیوں کہ انسان کی طبیعت میں اِک ایسی زبردست قوت گمراہ کنندہ موجود ہے ،جس کا کام انسان کو چاہ ضلالت میں ڈالنا ہے۔ اس کی اعلٰی کوششوں سے انسان سیدھے سعادت اور نیک بختی کے راستے کو ثھوڑ کر شقاوت کی تنگ و تاریک اور خوفناک و پیچ دار گھاٹیوں میں آنکھ بند کئے پڑ جاتا ہے اور اس بد بختی کے مقام پر خوش قسمتی کے راستے کو تلاش کرتا ہے اور جب تک کہ کوئی خضر صفت رہبر ہاتھ پکڑ کے منزِل مقصود تک نہ پہنچائے وہ یونہی پریشان و سرگردان رہتا ہے۔ اس لئے ہر قوم اور فرد کو ایک رہبر اور ہادی کی سخت ضرورت ہے اور بے اس کے کوئی بھی صراط المستقیم پر نہیں چل سکتا۔

Journalism
Journalism

پس حالتِ موجودہ کے اعتبار سے اخبار سے بڑھ کر قوم کا کوئی ہادی اور رہبر نہیں ہے جو اسے سیدھی راہ چلانے میں مددگار اور ترقی کا بدل و جان خواستگار ہو۔” اس پورے تناظر میں دیکھا جائے تو مولانا آزاد نے صحافت کو اپنا کر الہلا ل اور البلاغ کے ذریعہ ملک کے خواص وعام تک اپنی آواز پہنچا کر نہ صرف اپنی منفرد پہچان بنائی ، بلکہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بھی بنائی ، اور صحافت کے راستے سیاست کے میدان میں داخل ہوکر اپنے اغراض و مقاصد میں کامیاب ہوئے۔

انگریزوں کے ظلم و ستم بڑھتے جا رہے تھے ، استبداد و استحصال نے ہندوستانیوں کو بے دست و پا کردیا تھا ، مولانا آزاد نے یہ بھی دیکھا کہ اس وقت کے گورنر لارڈ کرزن نے بنگال پر خاص توجہ دے رہے تھے اور سیاسی سورش کو دن بدن بڑھا رہے تھے ۔ انگریزوں نے اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے ہندوستانیوں کے درمیان Divide and rule کی پالیسی بناکر ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ تفرقہ پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ، جس سے برسہا برس کا اتحاد و اتفاق ، جو ملک کے ہندو ،مسلمان کے مابین تھا ، وہ انگریزوں کی منظّم اور منصوبہ بند سازش سے اس کا شیرازہ بکھرنے لگا ہے۔ ایسے میں مولانا آزاد نے اپنا فرض سمجھا کہ صحافت کو اپنا کر مسلمانوں اور ہندؤں کے درمیان بڑھ رہی خلیج کو دور کیا جائے ،اور مسلمانوںکو ان کے مذہب کے حوالے سے حب الوطنی کے جزبے سے سرشار کیا جائے۔ اس کے لئے انھوں نے اپنی بے پناہ علمی،ادبی، لسانی،سیاسی ، سماجی اور مذہبی صلاحیتوں کو بروے کار لانے کا فیصلہ کیا۔

میں یہ بات واضح کر دوں کہ مولانا آزاد نے اچانک صحافت کی دنیا میں قدم نہیں رکھا ، بلکہ اپنے اس فیصلہ سے قبل وہ ‘نیرنگ خیال ‘ (ماہنامہ شعری جریدہ)،’المصباح'(ہفتہ وار)، ‘خدنگ نظر’شعری رسالہ،لکھنؤ)، ‘احسن ا لاخبار'(ہفتہ وار ، کلکتہ)، ‘لسان الصدق'(ہفتہ وار)،’الندوہ'(لکھنؤ)،’دو روزہ اخبار’ وکیل’ (امرتسر) وغیرہ جیسے اخبار و رسائل سے وابستہ رہ کر اور دیگر جرائد میں فکر انگیز مضامین لکھ کر نہ صرف صحافتی تجربات حاصل کر لیا تھا ، بلکہ پورے ملک میں تحیّر اور تحریک پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ایک انفرادی شان اور پہچان بنا لی تھی۔ گرچہ اس وقت ان کی عمر طفل مکتب جیسی ہی تھی، لیکن ان کے مضامین اور صحافتی تبصروں کے معیار اور سحر انگیزی دیکھ کر حالی اور شبلی بھی متیّحر تھے کہ اس کم عمری میں یہ صلاحیتیں ؟

اسی دوران مولانا آزاد نے بیرون ممالک کا بھی سفر بھی کیا اور عراق، مصر، اور ترکی وغیرہ کے انقلابیوں سے ان کے گہرے روابط ہوئے اور ان کی انقلابی سرگرمیوں کو بہت قریب سے دیکھا اور ان کے اخبارات و رسائل سے وہ بے حد متاثر ہوئیاور اپنے ملک واپسی کے بعد انھوں نے مسلمانوں میں دلوں سے پیدا ہونے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اتحا د و اتفاق کے لئے رائے عامّہ کو ضروری قرار دیااور یہ فیصلہ کیا کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے ایک اخبار کا اجرأ بہت ضروری ہے ۔ چنانچہ ١٣ جولائی ١٩١٢ء کو سید سلیمان ندوی، عبداللہ عمادی، اور عبدا لسلام ندوی کے تعاون سے ” الہال ” کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ اس پہلے شمارہ میں مولاناآزاد نے جس دانشورانہ انداز بیان سے اپنی قوم کو حیات، عروج، اور عزّت بخشنے کی دعوت دی ہے، وہ تازیانہ تھا ۔ الہلال کے پہلے شمارہ میں مولانا آزاد لکھتے ہیں…….

Difficulties
Difficulties

” آہ کاش مجھے وہ صور قیامت ملتا، جس کو میں لے کر پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر چڑھ جاتا۔ اسی ایک صدا ئے رعد عصائے غفلت شکن سے سرکشتگان خواب ذلت و رسوائی کو بیدار کرتا اور چیخ چیخ کر پکار تا کہ اٹھو کیونکہ تمہارا خدا تمہیں موت کی جگہ حیات، زوال کی جگہ عروج اور ذلت کی جگہ عزت بخشنا چاہتا ہے”مولانا آزاد نے الہال سے صحافت کی باضابطہ ابتدأ کی اور صحافت کو عبادت سے تعبیر کرتے ہوئے،اسے مشن بنایا اور اپنے اس مشن کے لئے انھوں نے اپنے اخبار کے تحریری معیار کے ساتھ ساتھ اخبار کے صوری حسن پر بھی خصوصی توجہ دینا ضروری سمجھا ۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اپنے اخبار اخبار الہلال کے لئے ترکی سے ٹائپ اور دوسری پریس سے متعلق اشیاء منگائی تھیں اور اس میں انھیں کافی دشواریاں ہوئی تھیں ، جن کا تفصیل سے ذکر پہلے شمارہ میں کیا ہے۔ مولانا آزاد نے صحافت کو اپنے ضمیر اور ایمان کی طرح قدر دانی کرنے کی تلقین کی ہے۔ ”الہال ” کے تیسرے شمارہ ٢٧ جولائی ١٩١٢ء کو مولانا آزاد اس وقت کے ایک صاحب ثروت نے الہال کے پہلے شمارہ کے حسن و معیار اور تحریر کی سحر انگیزی سے متاثر ہو کر ایک بڑی رقم ارسال کی اور ہر ماہ اتنی ہی بڑی رقم کی اعانت کا وعدہ کیا تو اس اعانت کو نہ صرف انھوں نے واپس کر دیا بلکہ الہال کے تیسرے شمارہ میں اس امر کا اظہار کیا کہ……

” ہم اس بازار میں سودائے نفع کے لئے نہیں ، بلکہ تلاش زیاں و نقصاں میں آئے ہیں،صلہ و تحسین کے نہیں ، بلکہ نفرت و دشنام کے طلب گار ہیں ۔ عیش کے پھول نہیں، بلکہ خلش و اضطراب کے کانٹے ڈھونڈھتے ہیں ، دنیا کے زروسیم کو قربان کرنے کے لئے نہیں ، بلکہ خود اپنے تئیں قربان کرنے آئے ہیں ۔ایسوں کی اعانت فرمائیاں کیا نفع پہنچا سکیں گی؟ پھر یہ بھی نہیں معلوم کہ آپ کا یہ عطیہ کس مقصد سے ہے؟ آپ مجھ کو خریدنا چاہتے ہیں تو یہ رقم تو گرانقدر ہے۔ میں تو اپنی قیمت میں گھانس کی ایک ٹوکری کو بھی گراں سمجھتا ہوں ۔ شاید چاندی اور سونے میں پلے ہوئے رؤسا کو خریدنے کے لئے اتنا روپیہ مطلوب ہو ورنہ ہم ایسے خاک درویشوں کی ایک پوری جماعت اتنے میں مل جائے، لیکن ہاں اگر اس سے میری (رائے) اور میرا (ضمیر)خریدنا ہو تو بادب واجب عرض ہے کہ ان خزف ریز سے طلائی کی تو کیا حقیقت ہے، (کوہ نور)اور (تخت طاؤس)کی دولت بھی جمع کر لیجئے جب بھی وہ مع آپ کی پوری ریاست کے اس کی قیمت کے آگے ہیچ ہیں ، یقین کیجیے کہ اس کو تو سوائے شہنشاہ حقیقی کے اور کوئی نہیں خرید سکتا اور وہ ایک بار خرید چکا ۔

ہمارے عقیدے میں تو جو اخبار اپنی قیمت کے سر کی انسان یا جماعت سے کوئی اور رقم لینا جائز رکھتا ہے، وہ اخبار نہیں بلکہ اس فن کے لئے ایک دھبہ اور سرتاسرعارہے،ہم اخبار نویسی کی سطح کو بہت بلندی پر دیکھتے ہیں اور (امربالمعروف ونہی عن المنکر)کا فرض الہی ادا کرنے والی جماعت سمجھتے ہیں….پس اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہونا چاہیے، اور چاندی اور سونے کا تو سایہ بھی اس کے لئے سم قاتل ہے، جو اخبار نویس رئیسوں کی فیاضیوں اور امیروں کے عطیوں کو قومی اعانت ،قومی عطیہ اور اسی طرح کے فرضی ناموں سے قبول کر لیتے ہیں ، وہ بہ نسبت اس کے کہ اپنے ضمیر اور نور ایمان کو بیچیں ۔””الہلال ” کئی نا موافق حالات اورمالی مشکلات کے باوجود اپنے صوری اور معنوی ، حسن و معیار سے عوام الناس میں مقبول ہو رہا تھا ۔ جس سے مولانا آزاد کا یقینا حوصلہ بڑھ رہا تھا ، جس کا اعتراف انھوں نے ٢٥دسمبر ١٩١٣ء کے ‘الہال ‘ کے شمارہ میں اس طرح کیا ہے…….

” اس چھہ مہینے کے قلیل زمانے میں جو حیرت انگیز اور محیرالعقول مقبولیت الہلال نے پیدا کی ہے ، وہ ہر لحاظ سے اردو پریس کی تاریخ میں ایک مستثنٰی واقعہ ہے۔ شاید ہی آج تک کوئی چھپی ہوئی چیز اس کثرت اور شغف کے ساتھ پڑھی گئی ہے، جس قدر گزشتہ چھہ ماہ کے عرصے میں الہلال کے اوراق پڑھے گئے ہیں۔” الہلال کی شہرت اورمقبولیت روز افزوں بڑھتی جا رہی تھی۔ ملک کے اخبارات و رسائل مثلاََ ، ہمدرد، زمیندار، مدینہ، کامریڈ،مسلم گزٹ وغیرہ کے علاوہ بیرون ممالک کیااخبارات و رسائل جیسے الموید، الجریدہ، الزہرہ،اتحاد و ترقی، البرہان،المنار، الہلال قاہرہ، چہرہ نما ، شہبال، تصویر افکاراور السلام وغیرہ میں مثبت اور حوصلہ افزأ تبصرے شائع ہو رہے تھے اور اس کی تعداد اشاعت پچیس ہزار سے بھی تجاوز کر گئی تھی، جو اس زمانے میں بڑی بات تھی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ متعصب اور انگریزوں کے پٹھو ؤں نے کی نگاہوں میں یہ اخبار کانٹے کی طرح کھٹکنے لگا ، اور انگریزی روزنامہ ‘پائینیئر’ نے حکومت کو آگاہ کیا کہ یہ اخبار اس کے خلاف کس طرح زہر افشانی کر رہا ہے۔

Objection
Objection

نتیجہ میں حکومت نے الہلال کے دو مضامین ، فوجی اخبار، اور سقوط انٹ ورپ کو قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے ١٨ ستمبر ٣ ١٩١ء کو پریس ایکٹ کے تحت دو ہزار کی ضمانت طلب کی گئی ،جسے ٢٧ ستمبر ١٩١٣ء تک جمع کرنے کی تاکید تھی۔ حکومت وقت کے اس رویہ کے خلاف ملک کے دور دراز علاقوں میں پھیلے الہلال کے پرستاروں اور مدّاحوں کو بے حد تکلیف پہنچی اور اس خیال سے کہ اس ضمانت کا کہیں الہلال کی اشاعت پر کوئی منفی اثرات نہ پڑے۔ قارئین اور مخلصین نے بڑی تعداد میں منی آرڈر دفتر الہلال کو روانہ کرنا شروع کر دیا ، پہلے دن تو مولانا نے ان سبھی منی آرڈروں کو شکریہ کے ساتھ واپس کر دیا ، لیکن منی آرڈروں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا ، تب مولانا کو ان سبھی کے احساسات و جزبات کی قدر گردانی کرتے ہوئے بحالت مجبوری قبول کرنا پڑی۔ اس پس منظر میں مولانا آزاد الہلال کے ١ اکتوبر ١٩١٣ء کے شمارہ میں تحریر کرتے ہیں ” ضمانت دی جا چکی ہے۔

ادارہ الہلال سر دست کسی طرح کا بار اپنے قوم پر ڈالنا نہیں چاہتا ، تاہم خلوص نیت اور جوش اسلامی نے جس انفاق فی سبیل اللہ کی راہ کھول دی اور اس قدر شدید مخالفت و اعراض کے احباب کرام ہیں جو اپنے لطف و کرم سے باز نہیں آتے تو پھر مجھے کیا حق ہے کہ اس شئے کو واپس کر دوں ، جو اپنے حق پرستی اور صداقت کے نام پر سچّے دلوں اور پر خلوص ہاتھوں نے پیش کی ہے” یہ وہ وقت تھا جب ‘الہلال ‘ کے ساتھے ساتھ پورے ملک سے کئی اردو اخبارو رسائل نہ صرف حق و انصاف کا پیغام دے رہے تھے اور انگریزوں کے ظلم و ستم اور استحصال و استبداد کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے ،اور برطانوی حکومت کے لئے ایک چیلنج بنے ہوئے تھے ، خاص طور پر مولانا محمد علی کا ‘ہمدرد'(١٩١٢ئ)، مولانا ظفر علی خان کا ‘زمیندار’ (١٩٠٩ئ)، مولوی مجید حسن کا ‘مدینہ'(١٩١٢ئ) اور ‘کامریڈ’ ‘مسلم گزٹ’ وغیرہ جیسے اخبارات و رسائل اس عہد میں اردو صحافت کا اعلیٰ معیار قائم کر رہے تھے

بلکہ اردو صحافت کے لئے راستے بھی ہموار کر رہے تھے اور ثابت قدمی سے یہ بھی بتا رہے تھے کہ صحافت سے کس طرح ظالموں اور شدّادوں کے تیغ برہنہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ یہی وجوہات تھیں کہ ان تمام اخبارات کے حق کی آواز کو دبانے کے لئے حکومت برطانیہ نے ١٩١٠ء میں پریس ایکٹ بنایااور نفاذکے وقت یہ بتایا گیا کہ یہ ایکٹ صرف تین برسوں کے لئے ہے ۔ لہکن ایسا نہیں ہوا اور اظہار رائے ہر طرح طرح کے نہ صرف پہرے بٹھائے گئے بلکہ پابندی ہی لگا دی گئی ۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ اس ایکٹ نے ملک بہت سارے اخبارات کی کمر توڑ دی ۔ ایک اطلاع کے مطابق اس قانون کے تحت ٩٩١پریس اور اخبارات پر سخت کاروائی کی گئی ۔ ان میں ٢٨٦ کو سخت تنبیہ کی گئی اور ٧٠٥ کے معاملے میں بڑی بڑی ضمانتیں لی گئیں ۔ ٹھیک اسی زمانے میں Defence of India Regulation نافذ کر کے سیاسی ، عوامی اور تحریک آزادی کو کچلنے کی پوری کوشش کی گئی۔ پریس ایکٹ کے نام پر جیسے جیسے حکومت کی سختی سامنے آنے لگی ، ویسے ویسے اس کے خلاف احتجاج بھی ہونے لگا ۔ مولانا آزاد نے اس انگریزوں کی اس سازش کو سمجھ لیا ، اس ضمن میں مولانا آزاد نے بڑے جزباتی انداز میں اپنے اخبار کے ١ اکتوبر١٩١٣ء کے شمارہ میں لکھا کہ…..

” زمیندار اور الہلال کا اب تزکرہ لا حا صل ہے ۔ مرض عالمگیر اور سیلاب ہر طرف رواں ہے۔ مجھے اپنے معملات کی کچھ فکر نہیں ، میں نے روز اوّل ہی سے اعلان کر دیا تھا کہ اگر میرے کاموںمیں صداقت ہوگی تو ہر حال میں نا قابل تسخیر ہے اور اگر نیتوں میں کھوٹ ہوگا تو باطل اپنی تباہی کا بیج خود اپنے اندر رکھتا ہے، اس کے لئے پریس ایکٹ کی ضرورت نہیں ۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ اس مطلق العنانہ استبداد کی تیغ سے اب کسی ہستی کو امان نہیں ، ۔ جو حالت نظر آرہے ہیں ،ان کی پیشن گوئی مستقبل کے متعلق موجودہ حالت سے بھی زیادہ مخدوش ہے۔ جب روزانہ (حبل ا لمتین) کلکتہ کو بھی پریس ایکٹ سے پناہ نہ ملی، جس نے موجودہ اسلامی جوش و حرکت میں حصّہ لینے کا کوئی جرم نہیں کیا ، محض واقعات و اخبار کی اس کے ذریعہ شہر میں اشاعت ہو جاتی ہے کہ اوروں کو شکوہ و شکایت کا کیا موقع؟ ”

Freedom
Freedom

دو ہزار کے بعد حکومت نے پریس ایکٹ کے تحت ایک بار پھر دس ہزار کی مزید ضمانت طلب کی، اور اسے بھی ضبط کر لیا گیا ، در اصل الہلال سے حکومت خوف زدہ ہو گئی ، اور اسے یہ شدّت سے احساس ہو گیا کہ اس اخبار کے ذریعہ آزادیٔ ہند کی کوششیں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ دس ہزار کی ضمانت کی ضبطی کے بعد اس اخبار کو جاری رکھنے کے سلسلے میں سوچنا پڑا۔ اس دوران ١٩١٤ء میں عالی جنگ شروع ہو گئی، حالات بڑی تیزی سے بدل رہے تھے۔ ١٨دسمبر ١٩١٤ء کو الہلال کا آخری شمارہ منظر عام پر آیا۔ اس کے بند ہو جانے کے کچھ ہی عرصے بعد یعنی ١٨نومبر ١٩١٥ء سے ہفتہ وار ‘البلاغ’ جاری کیا۔ اس اخبار سے مولانا آزاد نے براہ راست تحریک آزادی کے پیغامات کو دور رکھا اورقران کی روشنی میں مسلمانان ہند کو محبت، اخوت ، اور یکجہتی کی دعوت دی۔

لیکن حکومت کی نگاہ میں مولانا آزاد کی ہر تحریک اور تحریر قابل گرفت تھی،اور حکومت کو یہ احساس بڑی شدّت سے ہو چکا تھا کہ مولانا آزاد کی ان تحریر اور تحریک پر پابندی لگانا ضروری ہے، اور صرف پریس ایکٹ کے تحت کاروائی کر کہ ان کی سرگرمیوں کو نہیں روکا جا سکتا ہے۔ حالانکہ مولانا آزاد نے بہ حالت مجبور ی پانچ ماہ بعد ہی یعنی ١٢نومبر ١٩١٥ء سے ایبلاغ جیسے خوبصورت ، معیاری اور تاریخ ساز اخبار کو بند ہو کر دیا ، لیکن اسکے باوجود حکومت خاموش نہیں بیٹھی اور اس نے Defence of india regulation کے تحت انھیں نہ صرف تمام صحافتی سرگرمیوں سے روکنے کی کوشش کی بلکہ انھیں کلکتہ سے جلا وطنی کا ٣ مارچ ١٩١٦ء کو حکم صادرکر دیا اورچونکہ پنجاب، دہلی، اتر پردیش، اور بمبئی کے صو بائی حکومتوں نے پہلے ہی ان کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی ،اس لئے انھیں رانچی( بہار) میں پناہ لینا پڑی۔ یہاں بھی انھیں چین و سکون سے نہیں رہنے دیا گیا اور ٨جولائی ١٩١٦ء سے مولانا کی جلا وطنی کو نظر بندی میں بدل دیا گیا۔

‘الہلال’ کی صحافت نے آخر کا ر انھیں ایسی سزا دلائی ، جس سے ان حوصلے، جرأت مندی، بے باکی میں کمی نہیں آئی ، بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوا۔ اور بعد میں جب مولانا آزاد سیاسی تحریک میں عملی طور پر شامل ہوئے، تب وہ ساری صحافتی جرأت مندی، حوصلے اور بے باکی کام آئی۔ گرچہ ١ جنوری ١٩٢٠ء کو نظر بندی کے بعد انھوں نے ‘الہلال’ اور ‘البلاغ ‘ کو دوبارہ جاری کرنے کی کوششیں کیں ، لیکن اس وقت تک ان کی سیاسی مصروفیات کافی بڑھ گئی تھیں ، نتیجہ میں وہ صحافت کی بجائے سیاست کے سفر پر آزادیٔ ہند کے لئے نکل گئے اور بے حد کامیاب ہوئے۔ مولانا آزاد کی صحافت نے جس طرح پورے ملک پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں، ان سے بڑی بڑی شخصیات متاثر ہوئی تھیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی مشہور کتاب ‘Discovery of India’ میں لکھا تھا کہ….” مولانا ابو اکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار ”الہلال” سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا ۔ یہ ایک ایسا انداز ِ خطاب تھا ، جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے ۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے ۔ سر سید ، محسن ا لملک ، نزیر احمد، اورحالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا ۔ ‘الہلال’ مسلمانوں کے کسی بھی مکتبِ خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا ، بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور ہم وطنوں کو دے رہا تھا ”

مولانا آزاد نے صرف چوبیس ، پچیس سال کی عمر میں صحافت کا جو بلند اور اعلٰی معیار قائم کیا تھا، اور جس طرح کے لب و لہجہ اور اسلوب سے روشناس کرایا تھا ، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ معیار ، لب و لہجہ اور اسلوب اپنے ساتھ لیتے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آزاد اگر سیاست کی دنیا میں داخل نہیں ہوتے، تو بھی وہ صحافت کے مرد آہن کے طور پر ہمیشہ یاد کئے جاتے۔ اردو کی صحافت مولانا آزاد کی صلاحیتوں کی ہمیشہ مقروض رہے گی۔

Dr Syed Ahmad Qaudri
Dr Syed Ahmad Qaudri

تحریر: ڈاکٹر سیّد احمد قادری
٧ نیو کریم گنج، گیا (انڈیا)
موبائل نمبر:09934839110

Share this:
Tags:
journalistic literary social ادبی صحافتی فراموش مشہور معاشرتی
Khurshid Shah
Previous Post عمران خان کو مشورہ ہے کہ اب کچھ عرصہ آرام کریں، خورشید شاہ
Next Post فیصل آباد: سعید اجمل کو اکیڈمی کیلئے دی گئی اراضی ضبط
Saeed Ajmal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close