Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شب و روز زند گی (قسط چہارم )

January 25, 2015 0 1 min read
Restaurant
Restaurant
Restaurant

تحریر :۔ انجم صحرائی

کائونٹر پر بیٹھے سیٹھ کا نام ظہیر تھا یہ تین بھائی تھے گلزار سب سے بڑے تھے انہی کے نام پر یہ ریسٹورنٹ تھا منجھلے بھا ئی کا نام زبیر اور تیسرے سب سے چھوٹے ظہیر تھے جنہوں نے میری اپا ئٹمنٹ کی تھی ۔ گلزار ریسٹورنٹ پہ کبھی کبھی آ تے تھے زبیر کے ذمہ خریداری تھی آٹا گوشت دالیں سبزیاں سبھی کچھ پورا کر نے کے وہی ذ مہ دار تھے ۔ ان تینوں کے پاس ایک پرا نی ٹویٹا کار تھی جو زیادہ تر زبیر استعمال کرتے تھے رہے سیٹھ ظہیر تو وہ کا ئونٹر منیجر تھے اور انہوں نے اپنی ہیلپ کے لئے ایک کا ئونٹر کلرک رکھا ہوا تھا جو کا ئونٹر کلرک کم اور اوور آل سپر وائزر بلکہ ہیلپر زیادہ تھا ۔ اور جس ویٹر نے مجھے کھا نا کھلا یا اس کا نام بشیر تھا اور وہ ہیڈ ویٹر تھا ۔ بشیر کشمیری تھا اور کئی بر سوں سے کراچی میں مزدوری کر رہا تھا گلزار ریسٹورنٹ پر وہ سب سے سینئر ملام تھا اسی لئے وہ سبھی مالکان کا با اعتماد بھی تھا اور چہیتا بھی۔

یہ سب با تیں اس نے مجھے کھا نے کے دوران ایک ٹیبل سے دوسری ٹیبل پر آتے جاتے بتائی تھیں اس دوران اس نے مجھ سے بھی سیر حا صل انٹر ویو لے لیا جب میں نے بتا یا کہ میں میٹرک کا امتحان دے کر کرا چی آ یا ہوںیہ سن کر اسے بڑی حیرا نی ہو ئی مجھے محسوس ہوا کہ اسے میرا پڑھا لکھا ہو نا اچھا لگا اس زما نے میں دیہا توں میں مڈل اور میٹرک والوں کو ہی منشی عالم اور فا ضل سمجھا جا تا تھا۔ کھانا بڑا مزیدار تھا خاص طور پر گیس کے تندور پر لگا ئی ہو ئیں بڑی بڑی سر خی ما ئل پھو لی پھو لی رو ٹیاں انتہا ئی گرم اور خستہ تھیں کھا نے کے بعد بشیر نے مجھے کوک بھی پلا ئی میں نے بو تل پیتے ہو ئے پو چھا کہ کیا کھانے کے بعد بو تل بھی سارے ملاز مین کو ملتی ہے کہنے لگا نہیں یہ تو میں نے اپنے کھاتے میں آپ کو پلا ئی ہے اس وقت تم میرے مہمان بھی تو ہو ۔ کھانے کے بعد بشیر نے کہا چلیں اور میں اس کے سا تھ ہو لیا وہ مجھے ریسٹورنٹ کے پچھواڑے میں بنے ایک چھو ٹے سے کمرے میں لے گیا

جہاں دو بچے برتن دھو رہے تھے اس نے ان لڑکوں سے تعارف کراتے ہو ئے کہا صاب پڑھے لکھے ہیں ان سے بر تن دھلوانے نہیں صاف کرانے ہیں میں نے اس کی یہ بات سن کر کہا نہیں بھا ئی میں اپنے حصہ کا پورا کام کروں گا مگر ان بچوں نے مجھے کپڑے کی ایک ٹاکی دے کر کمرے میں پڑے ایک سٹول پر بیٹھنے کو کہا اور مجھے کہا کہ صاب تم بس برتن صاف کرو یہ بھی کام ہے جو ہم کرتے ہیں بچے بہت چھوٹے تھے یہی کو ئی چودہ پندرہ سا لوں کے ہوں گے مگر وہ اپنے کام میں بہت مشاق تھے ان میں سے ایک لڑکا جس کا نام روشن تھا وہ سگرٹ بھی پی رہا تھا میں نے اس سے پو چھا کہ کہاں سے ہو کہنے لگا سا ئیں خیر پور کے ایک گھوٹ سے آیا ہوں میں نے کہا کہ کب سے کام کر رہے ہو اس نے بتا یا کہ وہ سات سال کا تھا جب اس کا ابا اسے کرا چی میں ایک سا ئیں کے پاس چھوڑ گیا تھا

کچھ سال تو اس نے اس سا ئیں کے پاس گذا رے مگر جب اسے تھوڑی سنجھ آ ئی تو اس نے سائیں کا گھر چھوڑ دیا اور ہو ٹلوں میں مزدوری شروع کر دی وہ یہاں پچھلے تین ماہ سے برتن دھو نے کا کام کر رہا ہے ۔ میرے پو چھنے پر روشن نے بتا یا کہ اسے پا نچ روپے روز ملتے ہیں کھا نا اور رہا ئش مفت ہے تم سوتے کہاں ہو میں نے پو چھا ہم ہو ٹل کے اوپر چھت پر سو تے ہیں وہاں ہم نے کھو لیاں بنا ئی ہو ئی ہیں ہم سارے ادھر ہی ہو تے ہیں بشیر بھا ئی ، استاد بادشاہ اور امرتی بنانے والا رحیم بھی وہیں سو تا ہے یہ استاد باد شاہ کون ہے میں نے سوال کیا تو اس نے بتا یا کہ استاد باد شاہ اس ریسٹورنٹ کا با ور چی ہے ۔ آپ اسے نہیں جا نتے میں نے نفی میں سر ہلا یا تو دونوں لڑکے مجھے ایسے دیکھنے لگے جیسے میرے سر پر سینگ اگ آ ئے ہوں۔

سارادن برتن صاف کرتے گذر گیا جب کام ختم ہوا اس وقت رات کے نو بچ چکے تھے جب میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ ریسٹورنٹ کے اندر تو اکا دکا لوگ کھانا کھا رہے تھے مگر با ہر بڑا رش لگا تھا جہاں ایک منخنی سا بوٹے قد کا جوان بڑی مہارت سے سمو سے ، نمک پارے اور امرتیاں بنا رہا تھا اور سیٹھ ظہیر کاو ئنٹر پر براجماں نوٹ چھا پنے میں مصروف تھے میں ایک کو نے میں کھڑاہو کر یہ تما شا دیکھنے لگا ابھی مجھے ٹھہرے تھو ڑی دیر ہی گذ ری تھی کہ سیٹھ کی چنگھا رٹی آواز سنا ئی دی اڑے یہاں ماں کا مجرا ہو رہیا ہے کیا چل کام کر یہ برتن اٹھا میزوں سے ۔ میں نے سر جھٹکا اور میزوں سے برتن سمیٹنا شروع کر دیئے ۔ ریسٹورنٹ بند ہوا تو میں بھی چھت پر چلا گیا سونے کے لئے سبھی کے پاس گدے بھی تھے اور اوڑھنے کے لئے چا دریں بھی مگر میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا نہ کو ئی چادر اور نہ کو ئی سر ہا نہ اس وقت مجھے یاد آیا کہ میرا سامان تو جما عت اسلامی کے دفتر میں پڑا ہے اس بیگ میں میری چادر بھی ہے

سو چا جا تا ہوں لے آ تا ہوں دفتر کو ئی خا صی دور نہیں تھا مگر استاد با د شاہ نے کہا چھوڑو ابھی تمہارا دفتر بند ہو گا کل لے آنا لو یہ کھیس لے لو اور سو جا ئو اسی دوران روشن نے کہیں سے دو گتے کے ڈبے ل نکا لے اور ان ڈبوں کو کھول کر پھیلا یا اور ہنستے ہو ئے بو لا کہ لو جی بستر تیار ہے یہاں آ جا ئو میں گتوں کے اس بستر پر استاد باد شاہ کا کھیس لے کر لیٹا ہی تھا کہ نیند کی دیوی نے اپنی گود میں ایسا دبو چا کہ اس وقت آ نکھ کھلی جب بشیر نے مجھے نماز کے بعد جگا نے کے لئے جھنجھوڑا دن خا صا ہو گیا تھا مگر ابھی ریسٹورنٹ میں صفا ئی ہو رہی تھی اور بہر حال صفا ئی کرنا ہم میں سے کسی کی ذمہ داری نہیں تھی۔

میں نے نیچے جا کر منہ ہا تھ دھویا سبھی لوگ پا پے اور چا ئے سے نا شتہ کر رہے تھے ہمارے ریسٹورنٹ میں نا شتہ نہیں ملتا تھا اور نہ چا ئے بکتی تھی اسی لئے نا شتے کے لئے پا پے سا منے والی بیکری سے اور چا ئے لا ئٹ ہا ئوس کے سا تھ والی گلی میں ایک ٹی شاپ سے لا ئی جا تی تھی ۔ یہ بڑی عجیب بات تھی کہ ریسٹورنٹ کے سبھی ملازم علیحدہ علیحدہ علاقوں سے تعلق رکھتے تھے مگر سبھی نا شتہ اکھٹے کرتے تھے میں نے کبھی ایسا نہیں ہوتے دیکھا کہ کسی ملازم نے یہ کہا ہو کہ یار تم کرو نا شتہ میں تو کر آیا ہوں اور اس اتحادو یکجہتی کا سبب استاد باد شاہ تھا جو سب کا استاد بھی تھا اور اس چھوٹی سی سلطنت کا رحم دل اور منصف باد شاہ بھی ۔

Pakistan
Pakistan

استاد باد شاہ کاآ با ئی تعلق بھارت کے شہر حیدر آباد سے تھا اسی لئے استاد باد شاہ کی شخصیت میں حیدر آ بادی تہذ یب نما یاں نظر آ تی تھی ، لمبا قد ، نوک دار ترا شیدہ مونچھیں ، کڑھا ئی والا سفید کرتا اور سفید پا جا ما منہ میں پان غرض استا د با د شاہ چلتے پھرتے حیدر آ بادی تھے ایک دفعہ انہوں نے مجھے بتا یا کہ ان کے دادا ، با با بھی حیدر آباد کے کسی نظام کے ہاں باور چی تھے اسی نا طے وہ بادشاہ کہلا تے تھے اور استاد تو وہ تھے ہی کہ ان کے بنا ئے ہو ئے کھانے ہی گلزار ریسٹورنٹ کا سر ما یہ تھا ۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد ہجرت میں سبھی خاندان والے یا تو مر گئے تھے یا پھر بچھڑ گئے تھے سو استاد جب پاکستان پہنچے اکیلے تھے عمر بھی کچھ زیادہ نہیں تھی اور نہ ہی اتنے سمجھدار تھے

مال بنا نے کی سو چتے بس ایک کام آ تا تھا کھا نا پکا نا سو اپنے اسی خاندا نی پیشہ سے تعلق جوڑے پوری زند گی گذار دی نہ شادی کی اور نہ گھر بنا یا جو کما یانواب بن کے دوستوں کو کھلا دیا ، اس ریسٹورنٹ میں بھی وہ سبھی کے بڑے تھے ان کے ہو تے ہو ئے کو ئی دکھی ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا اگر کو ئی ان کے آ گے اپنی ضرورت بیان کرتا جب تک اس کی ضرورت پوری نہ ہو جا تی اس وقت تک استاد باد شاہ کی بے چینی دید نی ہو تی ۔ استاد باد شاہ شو قین مزاج بھی تھے مگر صرف با توں کی حد تک ۔ اس کے بھی انہوں نے کچھ اصول و حدود مقرر کئے ہو ئے تھے کہتے تھے

چڑیل بھی دس گھر چھوڑ دیتی ہے ہمیں بھی اپنے آس پڑوس میں رہنے والوں کا لحاظ کر نا چا ہیئے ۔ چند دنوں کے بعد استاد اور بشیر کی شفارش پر کا ئونٹر کلرک کے عہدے پر تر قی ہو گئی اور میں ڈش واشر کی بجا ئے واقعی روشن کا صاب بن گیا ۔ میرے پاس شلوار قمیض کے صرف دو جوڑے تھے ایک پہن لیتا اور ایک شام کو دھو ڈالتا غالبا پا نچواں دن تھا جب مجھے استاد باد شاہ نے پو چھا کیوں صاحب آپ کے پاس کپڑے نہ ہیں کیا ،جو روز یہی کپڑے پہنے آ جا تے ہو ۔ میں نے کہا جی استاد بس یہی دو جوڑے ہیں میرا جواب سن کر استاد نے ڈبیا سے پان کی گلوری نکا لی سلیقے سے منہ میں رکھی اور بولے یار تم نے پہلے
کیوں نہیں بتا یا آج چلیں گے لنچ ٹائم کے بعد ۔ میں نے استاد کی بات کا کو ئی جواب نہ دیا اور ان سنی کر دی سہ پہر کے چار بجے ہوں گے جب استاد دو بارہ میرے سر ہا نے آ کھڑے ہو ئے ، سیٹھ ظہیر کا ئو نٹر پر بیٹھے تھے اور میں ان کے سا تھ کھڑا سیٹھ کو اسسٹ کر رہا تھا استاد سیٹھ سے مخاطب ہو ئے سیٹھ ایک بیس روپے تو دیجیو ، سیٹھ نے بغیر کچھ کہے کا ئو نٹر کی دراز سے بیس روپے نکا لے اور استاد کو دے دئیے۔

پیسے لے کر استاد بو لے سیٹھ میں اور صاب ذرا لا ئٹ ہا ئوس تک ہو آئیں ابھی آ تے ہیں چو نکہ رش ختم ہو چکا تھا شا ئد اسی لئے سیٹھ نے بھی سر ہلا کر اجازت دے دی اور استاد آ ئو کہتے ہو ئے ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئے ۔ لا ئٹ ہا ئوس در اصل ایک سینما کی بلڈنگ تھی جو گلزار ریسٹورنٹ سے قدرے آ گے بلدیہ آفس کے ساتھ واقع تھا اس زما نے میں یہ سینما خا صا آ باد ہوا کرتا تھا آج کا پتہ نہیں ۔ لا ئٹ ہا ئوس سینما کے سا تھ والی گلی میں لنڈے کی دکا نیں ہوا کرتی تھیں استاد با دشاہ اس لنڈے بازار کی ایک دکان پر مجھے لے گئے دوکان دار شائد استاد سے واقف تھا اس نے استاد کو بڑا پرو ٹو کول دیا اور استاد نے وہاں سے میرے لئے دو پینٹ ماوردو شرٹ خریدیں اور ایک اور سڑک کنارے پرانے جوتے بیچنے والے سے دو جو ڑے جو تے خریدے اس خریداری کا کل بل سات روپے بنا۔

با قی تیرہ روپے استاد نے مجھے دے دئیے اور بو لے یہ رکھ لو جب تنخواہ ملے گی تب مجھے یہ بیس روپے دے دینا ۔ میں نے خا صا انکار کیا کہ استاد میں اتے پیسوں کا کیا کروں گا استاد نہیں مانے کہنے لگے رکھ لو سو اوکھ سوکھ ہے بندے کے پاس پیسے ہو نے چا ہییںایک بار یار باد شاہ کو نہ معلوم کیا سو جھی کہنے لگے صاب آج رات کلب چلیں گے ۔ اب میرے ذہن میں تو کلب ایسا تھا جو میں نے کچھ رسالوں اور کہا نیوں میں پڑھا تھا یا پھر فلموں میں دیکھے تھے میں نے کہا استاد ہم وہاں کیسے جا سکتے ہیں وہ مسکرایا اور کہنے لگا آج رات چھٹی کے بعد چلیں گے رات کوجب ریسٹورنٹ بند ہو گیا یقریبا سبھی لوگ کلب جا نے کے لئے تیار تھے دو ٹیکسیوں میں سوار ہم سارے شیر شاہ روڈ پہنچ گئے وہاں اس زمانے میں ٹرکوں کے اڈے ہوا کرتے تھے

میں نے کہا استاد یہاں کلب کہاں ۔ وہ میری بات کا جواب دیئے بغیر ٹیکسی سے اترا اور ایک چار دیوار کی طرف بڑھنے لگا ۔ اس چار دیوار پر سیاہ رنگ کے ایک ٹین کا دروازہ لگا ہوا تھا اندر سے تیز آواز میں میوزک ک بجنے کی آ واز آ رہی تھی استاد نے دروازہ کھولا اور ہم سب اندر داخل ہو گئے اس چا ر دیواری کے بڑی سے میدان میں بیسیوں ہما چوں پر پٹھان ڈرائیور بیٹھے اور لیٹے نسوار کھا رہے تھے فضا میں سگرٹ اور چرس کی بد بو پھیلی ہو ئی تھی میں نے بڑی حیران سی نظروں سے استاد کو دیکھا اس نے ایک قہقہہ مارا اور بولا صاب یہ ہم غریبوں کا کلب ہے غریبو ں کے کلب ایسے ہی ہو تے ہیں

صاب ۔ میں چپ رہا ہم سبھی لوگ ایک خالی ہما چے پر بیٹھ گئے تحوڑی ہی دیر میں ایک سا نولے سے رنگ کے ہیجڑے نے ” ویل دی قمیض میری پا ٹ گئی اے ” گا نے پر ہمارے سا منے آکر بڑے سے بے ڈھنگے انداز میں تھر کنا شروع کر دیا میں نے دیکھا اس بڑے سے میدان میں بہت سارے ہیجڑے ڈانس کر رہے تھے مجھے وہ ما حول بڑا آسیب زدہ لگا جگہ جگہ نسوار کے تھوک کی اڑتی پچکا ریاں اور سگرٹ ،چرس کی بد بو میرے حواس معطل کئے جا رہی تھی تھوڑی ہی دیر میں چا ئے آ گئی چا ئے پینے کو دل نہیں چاہ رہا تھا جی متلا نے لگا تھا مگر میں نے طبیعت پر جبر کر کے چا ئے کا گھونٹ بھرا ہی تھا کہ مجھے ایک زور سے ا بکا ئی آئی اور میں نے سب کھا یا پیا الٹ دیا ۔ میری یہ حالت دیکھ کر سبھی لو گوں کی انجوائیمنٹ کر کری ہو گئی اور ہم سب بڑے بد مزہ ہو کر کلب سے با ہر نکل آئے میں ۔ ۔ ۔ ۔۔ با قی آئیندہ

Anjum Sehrai
Anjum Sehrai

تحریر :۔ انجم صحرائی

Share this:
Tags:
boys labor meat restaurant روشن ریسٹورنٹ گوشت لڑکوں مزدوری
Pakistani Politics
Previous Post یہ کیسا اندازِ سیاست ہے؟؟
Next Post شاہ عبداللہ کی وفات پرامت مسلمہ مغموم
Shah Abdullah bin Abdul Aziz

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close