Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اور مکہ فتح ہوگیا

June 27, 2015 0 1 min read
Fatah e Makkah
Fatah e Makkah
Fatah e Makkah

تحریر: محمد علی رانا
وہ جانتا تھا کہ رحم و مروت اور مہرو محبت میں آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم کا کوئی ثانی نہیںاور دوسری وجہ مسلمان باشندوں کے درمیان مدینہ تنہا ہی چلے آنے کی یہ بھی تھی کہ جزیرة العرب میں اکیلا چلا آنا ایک طرح کی مدد مانگنا بھی تصور کیا جاتا تھا اور یوں اُس شخص کی نہ صرف جان و مال محفوظ رہتے بلکہ عرب پناہ مانگنے والے کی حفاظت کیلئے اپنی جان تک کی بازی لگا دیتے خواہ وہ شخص اُس قبیلے کا خونی دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ ابو سفیان مدینہ پہنچ کر اپنی بیٹی حضرت اُمِ حبیبہ جو کہ پیغمبرِ کائنات امام الانبیاء محمد صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی زوجہ بھی تھیں کے گھر میں داخل ہوا تو بیٹی اُمِ حبیبہ نے فرش سمیٹ لیا اور فرمایا کہ ”اِس پاک فرش (بیٹھنے والی چادر ) پر رسول اللہ صلی اللہ علی وآلہ وسلم تشریف فرماتے ہیں اور تم مشر ق ہو تم جیسا بت پرست اِس پاکیزہ فرش پر بیٹھنے کے لائق نہیں۔

ابو سفیان کی مکہ سے سفر کر کے مدینہ آنے کی اہم وجہ یہی تھی کہ اُس نے اپنے قبیلہ قریش سمیت صلح حدیبہ کے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی ۔صلح حدیبیہ کی شرائط میں سے ایک اہم شرط یہ بھی تھی کہ ”ایک فریق جب کِسی قبیلے یا قبائل سے لڑ رہا ہو تو دوسرا فریق اس کے دشمن کی حمایت نہیں کرے گا اور بے طرف رہے گا ” لیکن قبیلہ قریش کے اشراف نے نہ صرف اپنے اتحادی قبیلے بنو بکر کو ہتھیار اور سپاہی فراہم کیے بلکہ انہیں مسلمانوں کے اتحادی قبیلے خزاعی پر حملے کی ترغیب دی اور بھر پور پشت پناہی بھی کی جو کہ صلح حدیبیہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی ۔ خیبر فتح ہوتے ہی جزیرة العرب کے وسعی خطے میں مسلمانوںکی واضح برتری قائم ہوگئی تو اشرافِ مکہ کے رونگٹے کھڑے ہوئے اور انہیں اپنی غلطی کا اس شدت سے احساس ہونے لگا اور وحشت و اضطراب کی ایسی سنسنی خیز کیفیت طاری ہوگئی کہ سوتے جاگتے میں مسلمانوں کے اپنی جانب بڑھتے لشکر نظر آنے لگے لہذا ابو سفیان مشرقین کی نمائندگی کرتا ہوا باہمی اختلاف حل کرنے کی کوشش میں تنہا ہی مدنے پہچا۔

ابوسفیان حضو ر پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم کو ڈھونڈتا ہوا مسجد پہنچا تو آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم کو وہاں موجود پایا ۔آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم اپنے جانی دشمن کے ساتھ نا صرف خوش اخلاقی سے پیش آئے بلکہ اسے اپنے پاس بیٹھا کر انتہائی شفقت سے مسکراتے ہوئے اُس کے آنے کا سبب دریافت کیا۔ (یاد رہے کہ ابھی تک ابو سفیان نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ) ابو سفیان بولا ”میں یہ کہنے آیا ہوں کہ ہم اہلِ مکہ نے صلح حدیبیہ کی شرائط کے مطابق قبیلہ بنو بکر اورخزاعی کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے دوران ذرا بھی مداخلت نہیں کی اور نہ ہی قبیلہ بنو بکر کا ساتھ دیا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ خبر یہی گردش کر رہی ہے کہ ہم نے اپنے اتحادی قبیلے کی مدد کی ہے اور اگر آپ بھی یہی سمجھتے ہیں تو ہم (اہلِ مکہ ) مسلمانوں کے اتحادی قبیلے خزاعی کا سارا نقصان پورا کرنے کی حامی بھرتے ہیں۔

Muhammad PBUH
Muhammad PBUH

قربان جائیے پیارے آقا صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی شانِ اقدس پر آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا اور ابو سفیان سے گویا ہوئے ”اگر تم سچے ہو تو پریشان کیوں ہوتے ہو ” ابو سفیان نے جب حضور صلی اللہ علی وآلہ وسلم کا یہ خوبصورت معنی خیز جواب سنا تو اپنا اندرونی اضطراب چھپانے کی خاطر فوراً وہاں سے روانہ ہوگیا لیکن وہ یہ جانتا تھا کہ ہم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اب مسلمانوں کے پاس اہلِ مکہ پر حملہ کرنے کا جواز موجود ہے اور یوں مسلمانوں پر صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد نہیں ہو سکتا ۔ابو سفیان واپس مکہ پہنچا اور اپنی تشویش کا اظہار اہلیانِ مکہ سے کیا۔

اس دوران حجاز کی سرزمین پر جگہ جگہ فتح کے جھنڈے لہرانے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے مکہ فتح کرنے کا ارادہ کیا اور اِس بات کو ایک راز رکھا اور مدینہ کا رابطہ بھی باہر کی دنیا سے منقطع کر دیاگیا۔مدینے کی حدود میں باہر کا کوئی باشندہ داخل نہیں ہوسکتا تھا اور نہ ہی مدینہ کا کوئی باسی شہر کی حدود سے باہر جاسکتا تھااس پابندی کے بعد مسلمانوں کی تیاریاں زورو شور سے شروع ہوگئیں ۔حضورپاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم کو اس بات کا خدشہ تھا کہ لوگوں کی شہر سے اندر باہر آمدورفت کے باعث اگر لشکرِ اسلام کی تیاریوں کی خبر باہرنکل گئی تو مشرقین جو شاطر ترین اور دوغلی پالیسی چلنے کے ماہر ہیں وہ یقینا اریب قریب کے قبیلوں کو مسلمانوں کے خلاف منفی انداز میں بھڑکاکر اپنا اتحادی بنالیں گے اسی وجہ سے مدینہ کا رابطہ بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کاٹنا پڑا ۔اِسی دوران مسلمان قبائل کو بھی پیغام بھیج دیا گیا کہ وہ بھی جنگ کیلئے امادہ رہیں لیکن کِسی کو یہ علم نہیں تھا کہ جنگ کرنی کہاں اور کِس سے ہے ؟

حضور اکرم صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی عظیم لیڈرانہ قیادت اور جنگی جوہر کے مسلمان جنگِ بدر میں ہی معترف ہو گئے تھے جب آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ایسی جنگی صف آرائی (فالاثر)سے روشناس کروایا جو ہزار سال قبل اسکندر مقدونی کے زمانے میں اپنائی گئی تھی ۔اسلامی تذکرہ نویس لکھتے ہیں حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم حربی فنون سے باخوبی آگاہ تھے لیکن ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے جنگی تربیت کہاں حاسل کی ۔لشکر اسلام کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے اہلِ مدینہ میں مختلف افواہیں اڑنے لگیں اور کچھ لوگ سمجھنے لگے کہ شاید پیغمبرِ کائنات صلی اللہ علی وآلہ وسلم جنگِ موتہ میں ہونے والے مسلمانوں کے نقصان کی تلافی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

War
War

مسلمانوں کا دس ہزار کا ایمان افروز لشکر حضورکریم صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی قیادت میں (کچھ اسلامی تذکرہ نویسوں کے مطابق ) یکم رمضان کو مدینہ سے مکہ کی جانب روانہ ہوا۔ سفر کے دوران مسلمان باقائدگی سے روزے رکھتے اور صحرا میں اپنا سفر جاری رکھتے لیکن مسلمانوں کا لشکر جب غدیر یا قدیر نامی مقام پر پہنچا تووحی کی صورت اللہ پاک کا حکم نازل ہو گیااور حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا اللہ نے یہ حکم نازل کیا ہے کہ مسلمانوں کو سفر کے دوران روزے رکھنا معاف ہیں۔ مسلمان جب مکہ سے قریب صرف ایک منزل کی دوری تک پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق لشکرِ السلام نے وہی پڑائو ڈالا یہاں تک کے رات کی تاریکی چھا گئی پھر آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم کے حکم پر مسلمانوں کا لشکر پھیل گیا اور سب نے آگ جلا کر شمعیں روشن کر لیں ۔ مکہ سے منزل بھر کی دوری پر ہر جانب آگ ہی آگ جلتی دیکھی تو اہلِ مکہ کے ہوش اُڑ گئے کہ اِس قدر بڑے لشکر نے شہرِ مکہ کا محاصرہ کر لیا ہے۔

پھر عمِ رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم حضرت عباس اپنی نگرانی میں ابو سفیان کو حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم کے پاس لائے کیونکہ حضرت عباس اسلام قبول کرنے سے قبل ابو سفیان کے اچھے دوست بھی رہ چکے تھے (کچھ مورخین لکھتے ہیں کہ حضرت عباس فتح مکہ کے دوران ہی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے ) ہوا کچھ یوں تھا کہ حضرت عباس نے کچھ فاصلے پر مشعل بردار لشکر کے بارے دھیمی آواز میں دو افراد کو چھپ کر گفتگو کرتے سناآپ قریب گئے تو دیکھا اُن میں سے ایک ابو سفیان ہے تو آپ نے ابو سفیان کو سمجھایا کہ اسلام کی دعوت قبول کر لے کہ آج فیصلے کا دن آگیا ہے اور تو امیرِ مکہ میں شامل ہوتا ہے سب سے پہلے تیری ہی گردن اڑے گی یہ سن کر ابو سفیان نے اسلام قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ۔ پھر حضرت عباس ابو سفیان کو اپنی ضمانت پر بحفاظت حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم تک لے آئے۔ راستے میں حضرت عمر نے ابوسفیان کو دیکھا تو تیش میں آگئے اور اُنہیں قتل کرنے کا ارادہ کرلیا لیکن پھر حضرت عباس کے سمجھانے پر حضور کریم صلی اللہ علی وآلہ وسلم کا حکم آنے تک باز رہنے کا ارادہ کرلیا ۔

صبح حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے ابوسفیان سے ملاقات کی ۔آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے بھی اہلِ مکہ کے سامنے ابو سفیان کا وقار اور عزت کو قائم رکھا اور فرمایا ”جو شخص بھی آج ابو سفیان کے گھر پناہ لے لے اُسے بھی امان حاصل ہے اور اِس کے مال کو بھی کوئی خطرہ نہیں پھر حضور صلی اللہ علی وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہی اسلامی لشکر ابو سفیان کے سامنے سے سلامی دیتے ہوئے گزرا ۔اسلامی لشکر حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی قیادت میں شان و شوکت کے ساتھ ١٠رمضان المبار ک ٨ہجری کو مکہ میں داخل ہوا اور بنا کِسی خون و خرابے کے مکہ فتح کر لیا ۔فتح مکہ کے دوران کچھ لوگ تیزی سے خانہ کعبہ کی حدود کی جانب دوڑے ،کچھ نے ابو سفیان کے گھر کا رخ کیا ، کچھ نے اپنے گھروں کی کھڑکیاں دروازے بند کر لیے اوریوں سب کو امان حاصل ہوگیا ۔
حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے اس دوران لشکرِ اسلام کو چار مختلف دستوں میں بانٹا تھا ۔ایک دستے کی قیادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرما رہے تھے ، دوسرے کی قیادت کی ذمہ داری زبیر بن عوام کے سپرد تھی ، تیسرے دستے کی سربراہی سعد بن عبادہ انصاری کر رہے تھے

اور چوتھا دستہ جو کہ حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں تھا اُسے جنوب کی جانب سے مکہ میں داخل ہوتے وقت قریش کے کچھ لوگوں اور قبیلہ احابش کا سامنا کرنا پڑا اور تلواریں نیام سے نکل آئیں۔آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے اپنے چاروں سرداروں کو تاکید کی تھی کہ” جب وہ شہر میں داخل ہوں تو اپنی تلواریں نیام سے نہ نکالیں اور نہ ہی کِسی پر حملہ کریں مگر یہ کہ ان پر حملہ کیا جائے” اور قریش اور قبیلہ احابش کے لوگوں نے حضرت خالد بن ولید کے دستے کی سپاہ پر حملے میں پہل کی اور جانی نقصان اُٹھایا باقی تمام اسلامی دستے کِسی بھی مزاحمت کے بنا مکہ میں داخل ہو گئے ۔
اس وقت مکہ کے تمام بڑے بڑے سردار تھر تھر کانپ رہے تھے کیونکہ انہوں نے حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم اور صحابہ پر جو جو ظلم ڈھائے تھے وہ ہر گز معافی کے قابل نہیں تھے اور سب جانتے تھے کہ ابھی چند ہی لمحوں میں ان کی گردنیں تن سے جدا کر دی جائیں گیں ۔ کفارِ مکہ نے اونٹ کی خون آلود اوجڑی کا غلاف حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم کے سر مبارک پر چڑھایا ، ان پر پتھر برسائے

Namaz
Namaz

نماز کی حالت میں شدید جان لیوا حملے کیے ،اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علی وآلہ وسلم کے خلاف ہجو کہے اور طرح طرح کی تکلیفیں آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم کو پہنچائیں مگر باوجود اس کے حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے کئی سرخت دشمنوں کے مقابلے میں انتہائی نرمی اور فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کو معاف فرمادیایہاں تک کے ہندہ جگر خور جس نے آپ کے چچا اور نامی گرامی سردار حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر چبایا تھا اُسے بھی معاف کر دیا ۔فتح مکہ پر آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی جانب سے جو عفو درگزر کا نمونہ دیکھنے کو ملا اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ پھر آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ اکرام کے ہمراہ خانہ کعبہ کا طواف کیا اور اور خطبہ ارشاد فرمایا ۔خطبے سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ میں رکھے سب سے بڑے بت کو اپنے ہاتھوں سے گرا کر پاش پاش کر دیا اور پھر اپنے داماد اور جلیل القدر صحابی حضرت علی سے فرمایا کہ تمام بتوں اور تصویروں کو خانہ کعبہ سے نکال باہر کرو اور توڑ دو ۔حضرت بلال نے آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کرآذان دی۔

حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ جو کعبہ کے رکھوالے اور حفاطت پر معمور تھے (وہ بھی بعد میں ایمان لے آئے ) کو بدستور خانہ کعبہ کا والی کلید بردار مقرر کردیا اور یہ عہدہ اُن کی اولاد میں منتقل ہوتا رہا اور آج بھی جو لوگ خانہ کعبہ کے متوالی اور کلید بردار ہیں وہ دراصل حضرت عثمان بن طلحہ کی اولاد میں سے ہی ہیں ۔ خانہ کعبہ کے خزانے سے حاصل ہونے والا سارا سونا آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ کے تصرف میں ہی رہنے دیا ۔فتح مکہ کے بعد حضور پاک صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے تقریباً پندرہ دن مکہ میں قیام کیا اور اس وقت تک تقریباً تمام اہلِ مکہ دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے پھر آپ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے مدینہ واپسی کا ارادہ فرمایا۔ اہلِ مدینہ جو اس احساس میں مبتلا ہوگئے تھے کہ آپ ۖ شاید پھر کبھی ان کے شہر کا رخ نہیں کریں’ جب آپ ۖ کو مدینہ جاتے دیکھا تو ان کے چہرے خوشی کے مارے دمک اُٹھے اور سب انصار مسکرانے لگے۔

Muhammad Ali Rana
Muhammad Ali Rana

تحریر : محمد علی رانا
muhammadalirana26@gmail.com
0300-3535195

Share this:
Tags:
fantasy Love Mecca Mohammad Ali Rana Muslim victory تصور فتح محبت محمد علی رانا مسلمان مکہ
ICC
Previous Post آئی سی سی کے اجلاس میں ایک روزہ کرکٹ کیلئے نئے قوانین کی منظوری
Next Post ایم کیو ایم کیخلاف بی بی سی رپورٹ کے کردار برطانیہ میں ہیں ان سے مدد مانگی ہے

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close