Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

طبعی عملے پر تشدد کا بڑھتا ہوا رحجان

December 27, 2016 0 1 min read
Violence on Medical Staff
Violence on Medical Staff
Violence on Medical Staff

تحریر : ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور
قارئین ! ائے دنوں ہسپتالوں میں بڑھتے لڑائی جھگڑے اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں کھبی مریض کے لواحقین کا ڈاکٹر یا ہسپتال کے دوسرے عملہ سے لڑائی تو کبھی ڈاکٹر اور نرسز کی لڑائی عام دیکھنے کو ملتی ہیں۔لیکن موضوع کے لحاظ سے سب سے پہلے ہم طبعی سہولتوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں خاص کر دیہات میں رہنے والے لوگوں کے لئے طبعی سلولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔سب سے پہلی چیز کہ جتنے بھی ہسپتال دیہی علاقوں میں ہیں وہ کافی دور ہیں کیونکہ چھوٹے چھوٹے دیہات میں رہنے والوں کے لئے ہسپتال تک رسائی بہت مشکل ہوتی ہے خاص کر پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ بد قسمتی سے اکیسویں صدی ہونے کے باوجود آج بھی دیہات کے لوگوں کو ٹرانسپورٹ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر کوئی مریض ہسپتال تک لانا ہو تو ان کے لئے مزید دشواری کا باعث بن جاتا ہے ایک تو یہ مسئلہ ہے کہ دیہی ہسپتال لوگوں کی رہائش گاہوں سے فاصلے پر ہیں۔دوسرا ستم ان پر یہ ہے کہ ان ہسپتالوں میں عملہ اکثر غیر حاضر یا کم تعداد میں آتا ہے ۔اس کی وجہ سے بھی مقامی لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ایک تو وہ ذاتی ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو کرائے پر پرائیوایٹ گاڑی سے ہسپتال لے کر آتے ہیں اور آگے سے اگر عملہ غیر حاضر ہو تو ان کے لئے یہ مزید کوفت کا باعث بن جاتا ہے کیونکہ وہاں پر زیادہ تر لوگ نہایت غریب ہیں اور وہ روزانہ کرائے کی گاڑی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔اس کے عالوہ بعض اوقات عملہ تو موجود ہوتا ہے لیکن ادویات ناپید ہوتی ہیں اور مریض کے لواحقین کو دور دراز کے میڈیکل سٹوروں سے لانے کو کہا جاتا ہے جو ان کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ حکومت اس طرف خاص طور پر توجہ دے اور ہسپتالوں میں عملہ اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

آج کل جعلی ادویات کے سکینڈل بھی منظر عام پر ہیں اور آئے دن اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں اس کی روک تھام کے لئے بھی حکومت کو سخت رویہ اپنانا ہو گا تاکہ سرکاری ہسپتاں کا کوئی بھی فرد اس دھندے میں ملوث نہ ہو سکے اور مریض کو خالصتاً بہتر ادویات مل سکیں ۔جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کا سختی سے محاصرہ کیا جانا چاہیئے۔کیونکہ جعلی ادویات کے استعمال سے بھی مریض کی جان کو خطرہ لاھق ہو جاتا ہے ۔مریضوں کو طبعی سہولتوں کے ساتھ ساتھ جعلی ادویات سے ہر ممکن طور پر محفوظ بنایا جائے۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دیہات میں کوئی بھی ڈاکٹر جانے کو تیار نہیں ہوتا ۔دیہات میں اکثریت ان پڑھ لوگوں کی ہے جس کی وجہ سے عطائی ڈاکٹروں کو کلینک بنانے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے مریضوں کی جانوں کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ہماری حکومت اس مسئلے پر کام کر رہی ہے اور اس کے اچھے نتائج بھی آنا شروع ہو گئے ہیں لیکن محکمہ صحت میں ابھی بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔حکومت وقت کو ان پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور ان کے لئے بھی سخت قانین بنائے جائیں تاکہ کوئی بھی محکمہ صحت کا ملازم کسی عطائی ڈاکٹر کا ساتھ نہ دے سکے۔حکومت وقت کا فرض ہے کہ دور دراز کے دیہاتوں میں بھی چھوٹے چھوٹے ہسپتال یا کلینک کھولے جائیں خاص کر وہاں کی خواتین کے لئے اسی علاقے کی کسی پڑھی لکھی خاتون کو خواتین کے مسائل پر مبنی کورس کروانے چاہیں تاکہ وہ فوری طور پر مریض کو کم از کم فرسٹ ایڈ دے سکے۔اس طرح مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

اب ہم شہروں کی جانب آتے ہیں یہاں ہسپتال تو بہت ہیں لیکن ان میں تاریخ لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔چھوٹے چھوٹے ٹیسٹوں کے لئے بھی مریض کو دو دو ماہ کی تاریخ دے دی جاتی ہے جس کی وجہ سے مریض کی حالت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے دن بدن بگڑتی جاتی ہے ۔ہسپتالوں میں لوگوں کا اتنا رش ہے کہ ہر ایک کو وقت دینا ڈاکٹر کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ڈاکٹروں کی کمی بھی ہے۔روزانہ ہزاروں مریض ان سرکاری ہسپتالوں میں آتے ہیں لیکن یہاں سے بھی وہ مایوس ہی لوٹ جاتے ہیں کیونکہ ان ہسپتالوں میں بھی رش کی وجہ سے ان کی بہتر دیکھ بھال نہیں ہو سکتی ۔ایک بستر پر دو دو مریض لیٹے ہوتے ہیں۔بعض ہسپتالوں میں تو مریضوں کو فرش پر لیٹنا پڑتا ہے ۔اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے اور زیادہ تعداد میں مریض لائے جارہے ہوں تو بھی ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں کو فوری بستر مہیا کرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے ۔حکومت وقت کا فرض ہے کہ لوگوں کو ان کے صحت سے متعلق بنیادی حقوق کا پورا پورا خیال رکھے۔تاکہ ہر شہری عزت کے ساتھ اپنا علاج کروا سکے۔حکومت کو سڑکوں کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی تعداد پر بھی توجہ دینی چاہیئے۔

Useless Machine in Hospital
Useless Machine in Hospital

اس کے علاوہ آئے دن اخبار میں ہم پڑھتے رہتے ہیں کہ فلاں ہسپتال کی مشین ناکارہ ہو گئی ہے اور فلاں ہسپتال میں یہ مشین نہیں ہے تو اس کے لئے بھی حکومت کو ایک ایسی کمیٹی تشکیل دینی چاہیئے جو ان تمام معاملات کا بغور جائزہ لے اور ان مشینوں کو وقت پر درست کروایا جائے تاکہ غریب لوگ ان سے بھر پور استفادہ اٹھا سکیں۔حکومت وقت ان مشینوں کا ہر ماہ معائنہ کروائے اور ان کی مکمل دیکھ بھال کے لئے علیحدہ سے ایک ٹیم تشکیل دے اور ایم ایس اس بات کا ذمہ دار ہو کہ وہ خراب مشین کی بروقت اطلاع دے اور اسے بروقت مرمت کروانے کا بھی ذمہ دارہو۔تاکہ عام لوگ ان مہنگے ٹیسٹوں سے جان چھڑا سکیں کیونکہ اگر مشینیں زیادہ عرصہ تک خراب رہے گی تو یہ غریب لوگ باہر سے مہنگے ٹیسٹ کروانے پرمجبور ہو جائیں گے۔جو کہ ان کی دسترس سے باہر ہے۔اگر حکومت ان مشینوں پر اتنا پیسہ لگاتی ہے تو ان کی دیکھ بھال کے لئے بھی کوئی انتظام کرے تاکہ خلق خدا کو بھی سکون مل سکے۔

اب ہم ذرا ایک نظر تیماداروں کی طرف بھی ڈالتے ہیں کہ آئے دن ہسپتالوں میں جھگڑے کیوں ہوتے ہیں؟ایک بات میں نے بھی دیکھی ہے کہ ایک مریض کے ساتھ دس سے بارہ مریض ہسپتال آ جاتے ہیں جو یقیناً وہاں کے عملے کے لئے باعث زحمت بن جاتے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ مریض کے ساتھ اتنے لوگوں کو نہیں جانا چاہئیے۔جب مریض ہسپتال میں داخل ہو جائے تو بعد میں ایک ایک یا دو دو کر کے اس کی تیماداری کیے لئے جا سکتے ہیں۔اس سے مریض کو بھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ہسپتال میں موجود عملہ کے لئے بھی آسانی رہے گی۔لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے کہ چھوٹا عملہ مریضوں کے لواحقین سے پیسے لے کر ان کو وہاں ٹھہرا دیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے اکثر ہسپتالوں میں باہر رش رہتا ہے اور لوگ وہیں زمین پر لیٹے رہتے ہیں اور جب تک ان کا مریض صحت مند نہ ہو جائے وہ وہاں سے گھر جانے کو تیار نہیں ہوتے۔ایم ایس کو اس پر سختی سے عمل درآمد کروانا چاہیئے اور عملے کا جو بھی بندہ اس میں ملوث ہو اس کو سخت سزا دینی چاہئیے۔مریض کے ساتھ آئے ہوئے لوگ اکثر عملے کے ساتھ الجھتے رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ دوسرا رخ یہ ہے کہ ہسپتال کے عملہ میں بھی کچھ بد تمیز لوگ ہوتے ہیں جن کا رویہ تیماداروں کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہاں لڑائی جھگڑا دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ مریضوں کے ساتھ آنے والے لواحقین کی تعداد پر کنٹرول کیا جائے اور ہسپتال کے عملے کو مریضوں اور تیماداروں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کے لئے تربیت دی جائے۔تا کہ ہسپتالوں کا ماحول خوشگوار رہے دوسرا مسئلہ ادویات کی کمی ہے گو کہ اب حکومت وقت اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان ہسپتالوں میں ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے ابھی بھی کچھ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں محکمہ صحت یا سرکاری ہسپتالوں کا عملہ ادویات کو فروخت کرنے میں ملوث پایا گیا ہے ۔اس کے لئے حکومت کوسخت سزائیں مقر ر کرنی ہوں گی تاکہ کوئی بھی ملازم ایسی حرکت دوبارہ نہ کر سکے۔کیونکہ ان ہسپتالوں میں زیادہ تر غریب مریض ہی آتے ہیں جو کم آمدنی کی وجہ سے ادویات نہیں خرید سکتے اس لیے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہسپتال میں آنے والے ہر مریض کو ادویات وہیں پر میسر ہوں۔تاکہ علاج معالجے کا اضافی بوجھ ان پر نہ پڑے۔ادویات کی کمی بھی جھگڑے کا سبب بنتی ہے۔

Patient Operation
Patient Operation

دوسرا ہسپتالوں میں یہ بھی دیکھا کیا گیا ہے کہ نئے ڈاکٹر مریضوں پر مختلف تجربات کرتے رہتے ہیں ۔جن کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے مریضوں کو بعض اوقات نقصان بھی اٹھانا پڑ جاتا ہے۔بعض اوقات ناتجربہ کار ڈاکٹر مریض کے مرض کی صحیح تشخیص نہیں کر پاتے اور اس کا علاج کوئی اور بیماری سمجھ کر کرتے رہتے ہیں لیکن اصل سبب جوں کا توں ہی رہتا ہے اور دن بدن مریض کا مرض بڑھتا رہتا ہے اور آخر کار مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ناتجربہ کار ڈاکٹروں اپنے کسی ماہر ڈاکٹر کی زیر نگرانی ہی مریض کو دیکھیں جب تک کہ وہ تجربہ حاصل نہ کر لیں۔ عملے یا ڈاکٹرز کے ساتھ لڑائی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے بعض مریضوں کی جان چلی جاتی ہے تو پھر اس کے ساتھ آئے ہوئے تیمادار عملے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔اس لئے ایمر جنسی میں تجربہ کار ڈاکٹروں کو ہی تعینات کیا جائے۔تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہ مریض کا اپنے ہی علاقے کے عطائی سع علاج کرواتے رہتے ہیں اور وہیں سے اس کی دوا بھی لیتے رہتے ہیں ۔لیکن پھر اچانک مریض کی حالت غیر ہونے پر وہ ہسپتال کا رخ کرتے ہیں تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔اب اگر وہ مریض ہسپتال میں دم توڑ جائے تو سارا ملبہ ہسپتال کے عملے پر ڈال دیا جاتا ہے اور یوں ان بے چارے عملے پر بے جا تشدد کیا جاتا ہے۔تواس کے لئے ہمیں عام لوگوں کو شعور دلانے کی ضرورت ہے اس کے لئے میڈیا بہتر کام کر سکتا ہے۔ جب بھی خدانخواستہ آپ کے گھر میں کوئی بھی بیمار ہوتا ہے تو اسے فوراً ہسپتال پہنچائیں تاکہ بر وقت تشخیص کر کے اس کا علاج کیا جائے اور اس کی جان بچائی جا سکے۔پاکستان میں دنیا کے بہت اچھے اچھے ڈاکٹر موجود ہیں۔اور وہ اپنے اپنے شعبے کے ماہر بھی ہیں۔ڈاکٹر کے ساتھ آپ لوگوں کو الجھنا نہیں چاہئے کیونکہ کوئی بھی ڈاکٹر مریض کی جان نہیں لیتا بلکہ اس کی جان بچانے کی اپنی آخری کوشش کرتا رہتا ہے۔اس لئے آپ بھی ڈاکٹر کی عزت کریں اور اس پر یقین رکھیں کہ وہ آپ کے مریض کے لئے اچھا ہی کرے گا۔

اس طرح داکٹر حضرات کو بھی سوچنا چاہیئے کہ جس بیماری کا ان کو علم نہیں اس کا علاج نہ کریں بلکہ اس کو کسی دوسرے ماہر ڈاکٹر کے پاس روانہ کر دیں۔اس میں کو شرمندگی والی بات نہیں ہے۔بلکہ ایسا کر کے آپ کسی کی جان بچا سکتے ہیں۔ ہسپتالوں میں لڑائی کی ایک وجہ پرچی سسٹم بھی ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ لمبی لمبی قطاریں ہوتی ہیں اور جب تک اس کی باری آتی ہے ڈاکٹر صاحب کا بھی وقت ختم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو کوفت اٹھانی پڑتی ہے ۔جس مریض نے روزانہ آنا ہو اس کے لئے وہی پرچی کافی ہے ناکہ وہ دوبارہ سے قطار میں کھڑا ہو اور پھر نئی پرچی لے ۔یہاں بھی اکثر جھگڑے دیکھے جاتے ہیں۔اس پرچی سسٹم کو بھی آسان بنانے کی ضرورت ہے۔یہاں میں ایک اور پرچی سسٹم کی بات کروں گا کہ اکثر سرکاری ہسپتالوں میں مریض اپنے کسی سرکاری افسر یا ایم پی اے حضرات کی پرچی لے کر آتے ہیں کہ ان کے مریض کو پہلے وقت دیا جائے اور سب سے پہلے چیک کیا جائے یہ بھی لڑائی کا ایک اہم مئوجب ہے۔کوئی بھی ہو اس کو اپنی باری پر ہی چیک کیا جائے کیونکہ وہاں سب مریض ہی آتے ہیں۔کسی ایک مریض کو دوسرے مریض پر فوقیت نہیں ہونی چاہیئے۔اس چیز کو بھی سرکاری ہسپتالوں میں روکنے کی ضرورت ہے۔

میںنے اوپر ذکر کیا تھا کہ بعض علاقے شہروں کے بڑے ہسپتالوں سے کافی دور ہیں تو ایسے مریضوں کو جو کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ہسپتال تک لانے میں کافی وقت لگ جاتا ہے جس سے مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے اور وہ جان بحق ہو جاتا ہے ۔اب ایسی حالت میں عملے کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔لیکن ایسے موقعوں پر بھی مریض کے لواحقین کا عملے سے جھگڑا دیکھا گیا ہے۔اس کی ایک وجہ ملک میں بے روز گاری،دہشت گردی،مہنگائی بھی ایک سبب ہیں کیونکہ جب لوگوں کے پاس روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پیسہ نہیں ہوگا تو ان کے مسائل تو بڑھیں گے ہی لیکن ان کو ذہنی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔شاید اسی لئے لوگ چڑچڑاپن کا شکار ہو گئے ہیں۔اور آئے دن سڑکوں اور ہسپتالوں میں لڑائی جھگڑے روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں ۔اب ہر بندے کو تو ذہنی پریشانی سے بچنے کا سبق نہیں دیا جا سکتا لیکن اس کو ہمارے علماء کرام اور میڈیا بڑی کامیابی سے پورا کر سکتے ہیں ۔علماء کرام مساجد میں لوگوں کو مشکلات سے نکلنے کے لئے قران اور دین کی باتیں بتائیں تاکہ لوگ اس پر عمل کر کے سکون حاصل کریں۔آج ہم میں تشدد اسی لئے بڑھ رہا ہے کہ ہم دین سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔میڈیا کو نفسیات سے متعلق پروگرام پیش کرنے چاہیں اس طرح اخبارات میں بھی ایسے مضامین شامل کئے جائیں جن میں ذہنی پریشانی میں مبتلا لوگوں کے لئے مفید مشورے دیئے گئے ہوں۔

Broken Hospital Bed
Broken Hospital Bed

اگر کسی بھی وجہ سے مریض کی جان چلی جائے تو تیماداروں کو عملے اور اس ہسپتال یا کلینک میں توڑ پھوڑ نہیں کرنی چاہیئے۔بعض اوقات مریض کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہوتی ہے کہ اس کی جان بچانا نا ممکن ہو جاتا ہے ۔اس کے ساتھ ڈاکٹر حضرات ،نرسز اور دوسرے عملے کو تیمارداروں کے ساتھ اچھا سکوک کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔لواحقین کا بھی فرض ہے کہ ہسپتال کے عملے سے تعاون کریں تاکہ آپ کے مریض کا بہتر علاج کیا جا سکے ۔پہلے کی نسبت آج کل ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے لئے بہتر سہولتیں موجود ہیں۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب ہسپتالوں میں بھی یونین بن گئی ہیں اور آئے دن ڈاکٹروں اور نرسز کی ہڑتالیں ہوتی رہتی ہیں اس سے بھی مریضوں کی دیکھ بھال پر برا اثر پڑتا ہے ۔حکومت وقت کو بھی چایئے کہ ان کی جائز مطالبات کو مانے تاکہ ہسپتالوں میں ان کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور آئے دن جو لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں ان کو بھی ختم کیا جا سکے۔یہاں ہسپتال کے عملے کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ مریضوں اور ان کے ساتھ آئے ہوئے تیماداروں کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھیں۔مریض کی بیماری کی وجہ سے ساتھ تیماردار بھی بہت پریشان ہوتے ہیں۔

Population
Population

ملک میں بڑھتی آبادی بھی ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے ۔دیہاتوں سے لوگوں کا شہروں کی طرف نقل مکانی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔جس کی وجہ سے شہر کے ہسپتالوں میں رش بڑھتا جا رہا ہے۔اگر حکومت شہر کے ہسپتالوں میں رش کم کرنا چاہتی ہے تو اس کو دیہات کی سطح پر بھی اچھے ہسپتال اور کلینک تعمیر کرنے ہوں گے اگر لوگوں کو ان کی رہائش گاہوں کے قریب طبعی سہولتیں میسر ہوں گی تو پھر وہ شہر کا رخ نہیں کریں گے ۔اس کے علاہ دیہاتوں میں بھی روز گار کے مواقع پیدا کئے جائیں تاکہ شہر کی طرف لوگوں کے ہجوم کو کم کیا جا سکے۔

تحریر : ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور

Share this:
Tags:
hospitals Medical personnel problems transport violence تشدد ٹرانسپورٹ دشواری دیہات رحجان عملے لڑائی ہسپتالوں
Badin Accedent
Previous Post بدین کراچی روڈ پر مورجھر کے قریب ٹائر راڈ ٹوٹنے کے باعث بس الٹ کر کھائی میں جاگری
Next Post ایس ایم سی المنائی کی سالانہ ونٹر میٹنگ آج منعقد ہو گی
Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close