Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تذکرہِ حسن و حسین: بطور اصلاح

November 9, 2013 0 1 min read
Imam Hussain
Imam Hussain
Imam Hussain

شہادت امام حسین ایک تاریخ ساز واقعہ ہے جس کو نہ صرف اسلامی تاریخ میں بلکہ دنیا کی تاریخ میں بھی اہم مقام حاصل رہا ہے۔ یہ شہادت کیوں پیش کی گئی؟ اس کے اسباب کیا تھے؟کیا امام تخت و تاج کے لیے اپنے کسی ذاتی استحاق کا دعویٰ رکھتے تھے۔ تاریخ کے بغور مطالعے سے جو چیز ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور پھر اس کی تخت نشینی سے دراصل جس خرابی کی ابتدا ہو رہی تھی وہ اسلامی ریاست کے دستور، اس کے مزاج اور اس کے مقصد کی تبدیلی تھی۔

گرچہ اس کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے تھے لیکن ایک صاحب بصیرت انسان کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ اسلامی ریاست کس کروٹ تبدیل ہو رہی ہے۔ اس کا راستہ بدل رہا ہے اور جس راہ پر وہ مڑ رہی ہے وہ آخر کار اسے کہاں لے جائے گی۔ یہی رُخ کی تبدیلی تھی جسے امام نے دیکھا اور صحیح رخ پر ایک بار پھر لانے کی اپنی ساری سعی و جہد کر ڈالی، یہاں تک کہ جامِ شہادت پیش کر دی۔ اسلامی ریاست کی اولین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ صرف زبان سے بلکہ اپنے عملی رویہ سے بھی اس عقیدہ اور یقین کا ثبوت پیش کیا جاتا ہے کہ ملک اللہ کا ہے،باشندے اللہ کی رعیت ہیں۔

حکومت اس رعیت کے معاملے میں اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ حکومت اس رعیت کی مالک نہیں اور رعیت اس کی غلا م نہیں۔لیکن یزید کی ولی عہدی سے جس انسانی بادشاہی کا مسلمانوں میں آغاز ہوا اس میں اللہ کی بادشاہی کا تصور صرف زبانی تھا۔ عملاً اس نے وہی نظریہ اختیار کیا جو ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہ کا رہا ہے۔ یعنی ملک بادشاہ کا، رعیت کی جان، مال آبرو ہرچیز کا مالک بادشاہ ہے۔ اللہ کا نظام اگر عائد ہوگا تو عوام پر، بادشاہ اس سے مستثنیٰ ہے۔

اسلامی ریاست کی سنگ بنیاد یہ تھی کہ حکومت لوگوں کی آزادانہ مرضی سے قائم ہو۔ کوئی شخص اپنی کوشش سے اقدار حاصل نہ کرے۔ بلکہ لوگ اپنے مشورے سے بہتر آدمی کو چن کر اقتدار اس کے سپرد کر دیں۔ بیعت حاصل ہونے میں آدمی کی اپنی کوئی کوشش یا سازش کا دخل نہ ہو۔ لوگ بیعت کرنے یا نہ کرنے میں آزاد ہوں۔ جب تک کسی آدمی کو بیعت حاصل نہ ہو وہ اقتدار میں نہ آئے اور جب سارے لوگوں کا اعتبار اس سے اٹھ جائے تو اقتدار سے چمٹا نہ رہے۔

Muslims
Muslims

خلفائے راشدین میں سے ہر ایک اسی قاعدے سے برسر اقتدار آیا۔ لیکن یزید کی ولی عہدی نے اس قاعدے کو الٹ دیا۔ اس سے خاندانوں کی موروثی بادشاہتوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد سے آج تک پھر مسلمانوں کی انتخابی خلافت کی طرف پلٹنا نصیب نہ ہو سکا۔ اب حکمران طاقت سے بر سر اقتدار آنے لگے، طاقت اور اقتدار سے بیعت حاصل کی جانے لگی۔

اسی جبری بیعت کو کالعدم قرار دیے جانے پر خلیفہ منصور کے زمانے میں امام مالک کی پیٹھ پر کوڑے برسائے گئے اور ان کے ہاتھ شانوں سے اکھاڑوا دیئے گئے۔ یہ ہے وہ ملوکیت اور خلافت کا فرق جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں بہت سے اہم نکتوں میں سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خلافت میں حکومت مشورے سے کی جائے اور مشورہ ان لوگوں سے لیا جائے جن کے علم، تقویٰ اور اصابت رائے پر لوگوں کو اعتماد ہو، لیکن شاہی دور کا آغاز ہوتے ہی شورائی دور کا اختتام ہو گیا اور بادشاہ اپنی مرضی سے فیصلے کرنے لگے۔

تاریخ کی اہمیت:
کسی تاریخی واقعہ کی حقیقت اور اس کی اساس ہمیں تاریخ ہی سے حاصل ہوتی ہے ۔لہذا تاریخ کے بارے میں جستجو صرف فلسفیانہ اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اس کی بڑی زبردست عملی اہمیت ہے۔ اس لیے کہ انسان کی ساری سعی و جہد کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے کیوں کا جواب حاصل کر لے بلکہ وہ یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ کون سا طریقہ اور راستہ ایسا ہے جو اس کو زوال سے بچا سکے اور عروج کی طرف لے جائے۔ یعنی انسان کی ساری تگ و دو کا مقصد صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ کل کیا تھا، کیوں تھا اور کیسے اس مقام تک پہنچا بلکہ کسی چیز کا تجسس انسان کے اندر اس لیے بھی پیدا ہوتا کہ وہ کل کے گزرے ہوئے لمحات میں ان کمیوں اور غلطیوں کو علیحدہ کردے۔

جو اس کو ناکامی کی طرف لے جانے والی تھیں اور ان کی جگہیں ان چیزوں کو متبادل بنا دے جو اس کو آج کامیابی سے ہمکنار کرنے کا ذریعہ بننے ولی ہیں۔جس تہذیب اور قوم نے کسی زمانے عروج کی منزلیں طے کی تھیں وہ پچھلی چند صدیوں میں زوال کا شکار ہو گئی۔ تمام سلطنتیں چھین لی گئیں یا یہ کہیں کہ اس کے حکمراں اس لائق نہیں رہے کہ ان سلطنتوں کے نظام کو چلا سکیں، ایسے میں اللہ نے اپنی دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے دوسروں کو اٹھا کھڑا کیا۔

گو کہ وہ اسلامی، اخلاقی، روحانی بنیادوں پر کمزور صحیح لیکن ان میں یہ طاقت ٹھہری کہ دنیا کے نظام کو چلا سکیں اور برقرار رکھ سکیں۔آج مسلمانوں کے پاس لاکھوں کروڑوں ڈالر ہیں، بے شمار انسانی وسائل ہیں، دنیا کے بہترین خطے ہیں، پھر یہ لوگ دنیا کی اہم شاہراروں اور گزر گاہوں پر واقع ہیں، اس سب کے باوجود! پوری دنیا میں بے وزن ہیں۔یہ بات قابل غور ہی نہیں توجہ طلب بھی۔تاریخ کی یہ داستان ہمارے لیے صرف علمی گفتگو اور فلسفیانہ کاوش کی حیثیت نہیں رکھتی۔

karbala
karbala

بلکہ یہ دل چسپی ہمیں اس لیے بھی ہونا چاہیے کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آیا ہمارے مسیحا جو مشرق سے لے کر مغرب تک پھیلے ہوئے ہیں اور جو ہماری قوموں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان کے ہاتھوں کیا یہ امت مسلمہ اور یہ دنیاء انسانیت عروج کی منزل طے کر سکے گی۔کیا وہ ٹیکنا لوجی اور سائنس جس کو ہم لاکھوں کروڑوں ڈالر دے کر حاصل کر رہے ہیں۔

اس سے ہماری قومیں ترقی کی منزل طے کرلیں گی؟ کیا معاشی ترقی کے ان پنج سالہ منصوبوں کے ذریعہ انسانیت کو اطمینان و سکون حاصل ہو سکے گا؟ان سارے نسخوں اور مسائل کے حل کی فل واقع حقیقت کیا ہے؟چنانچہ اس سوال کی اہمیت صرف علمی اور فلسفیانہ ہی نہیں، بلکہ عملی بھی ہے۔کیونکہ اس سے ہمارا نہ صرف ماضی یا حال بلکہ مستقبل بھی وابستہ ہے۔

قرآن کا نقطہ نظر:
قوموں کا عروج و زوال نہ مادی قوتوں پر منحصر ہے، نہ سائنس و ٹکنالوجی کا اس میں عمل دخل ہے اور نہ علمی ترقیوں پر ہی اس کا انحصار ہے۔بلکہ یہ خالصتاً اخلاقی اور معنوی اقدار کے اوپر منحصر ہے۔ یہ انسان کے اخلاقی کسب و اعمال کا نتیجہ ہے جس کے نتیجہ میں قومیں عروج و زوال کی طرف جاتی ہیں۔قرآن ِ حکیم میں جو قوموں کے عروج و زوال کا تذکرہ ہے وہ ایک فرد واحد کی زندگی سے بالکل مختلف ہے۔ فرد اس بات پر مجبور ہے کہ وہ موت کی طرف جائے اور اس میں اخلاقی زندگی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

اگر کوئی صالح ہو گا تو اس کو بھی موت آئے گی اور کوئی فاسق تو اس کو بھی موت۔لیکن قوموں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ قومیں لازماً موت سے ہمکنار نہیں ہوتیں۔ ان کی موت اس لیے واقع ہوتی ہے کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کرتی ہیں، حالانکہ کہ فرد کی موت کا تعلق اس کے اپنے نفس پر ظلم کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی فطری موت مرتا ہے۔ کسی قوم کا مِٹ جانا یا اس کی موت واقع ہونا، ناگزیر عمل نہیں ہے جو اسے لازماً پیش آئے۔جس طرح کوئی فرد اپنی ذاتی زندگی میں اچھا بننا چاہے تو وہ بن سکتا ہے اور برا بننا چاہے تو برا بن سکتا ہے۔

اسی طرح قومیں بھی آزاد ہیںکہ وہ اچھائی کی روش پر چلنا چاہیں تو چل سکتی ہیں، ترقی کی راہیں طے کر سکتی ہیں، اخلاقی اور معنوی اقدار حاصل کر سکتی ہیں،اور اگر برائی کی طرف جانا چاہیں، اپنے اوپر ظلم کریں، دنیا کے اندر ظلم و فساد کا دروازہ کھولیں، تو وہ تباہی کی طرف جا سکتی ہیں۔ اور یہ عمل ایسا بھی نہیں ہے کہ پلٹایا نہ جا سکے۔ آدمی جوان ہونے کے بعد بچہ نہیں بن سکتا ،اور بوڑھا ہونے کے بعد جوان نہیں، لیکن قومیں زوال پذیر ہونے کے بعد ایک بار پھر سر بلند ہو سکتی ہیں۔

karbala
karbala

اگر یہ بات صحیح نہ ہوتی تو انبیاء کرام کا اس قدر طویل سلسلہ نہ ہوتا۔وہ گمراہ لوگوں کو ہدایت کی تبلیغ نہ کرتے، اندھیروں سے اجالے کی طرف لوٹانا اور معصیت کے کاموں سے چھٹکارا دلانا ان کا مقصد نہ ہوتااور بگڑی ہوئی قوموں کے سامنے اپنا پیغام لے کر نہ کھڑے ہوتے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ نسخہ ایسا ہے جس سے کوئی قوم خواہ کتنی ہی نیچے گر چکی ہو، اگر وہ چاہے تو دوبارہ عروج کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔ انھوں نے قوموں سے یہ وعدہ کیا اور خوشخبری بھی دی کہ اگر تم نے اپنی اصلاح کر لی یا تم اس کے لیے تیار ہو گئے، تو تم خواہ کتنے ہی نچلے درجہ میں کیوں نہ چلے گئے ھو۔

تم ہی کامیاب ہوگے اور سر خروئی تمہارے قدم چومے گی۔خود نبی کریمۖ نے عرب کو یہ پیغام سنایا کہ اگر تم نے میری دعوت قبول کر لی تو تم عرب اور عجم دونوں کے مالک بن جائو گے۔اور دیکھنے میں آیا کہ سائنس و ٹیکنالوجی سے عاری لوگ دنیا کے امام بن گئے۔قرآن نے اس بات کو مختلف پیرایہ ٔ بیان کیا ہے۔ کہا کہ: فَہَل یُہلَکُ الَّا ا لقَوم ُ الفٰسِقُونَ (الا حقاف ٤٦:٣٥) “اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟”۔وَتِلکَ القُرٰی اَھلَکنٰھُم لَمَّا ظَلَمُوا (الکھف ١٨:٥٩) “یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں، انھوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا۔

اور کہا کہ : ظَھَرَ الفَسَادُ فِی البَرّ وَ البَحرِ بِمَا کَسَبَت اَیدِی النَّاسِ (الروم ٣٠:٤١) “خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے۔ معلوم ہوا یہ فساد کی لوگوں کی بد اعمالیوںکی وجہ سے برپا ہوا اور اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہ تھی۔ قوم ِ عاد کا تذکرہ اس طرح کیا گیا: عاد کو دیکھو، جب انھوں نے یہ نعرہ بلند کیا کہ مَن اَشَد قُوَّةً مِناَّ “ہم سے طاقت ور کون ہے؟” اور وہ اس غرور کے اندر آگئے تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔قوم ِ عاد پر خدا کی پھٹکار پڑنے اور ان کو دور پھینکنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ کہاکہ : “یہ ہیں عاد ، اپنے رب کی آیات سے انھوں نے انکار کیا۔

اس کے رسولوں کی بات نہ مانی، اور ہر جبار دشمنِ حق کی پیروی کرتے رہے”(ھود ١١:٥٩)۔لہذا یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جس قوم کو بھی زوال و تباہی سے سابقہ پیش آیا، وہ بس اس لیے کہ اس نے اللہ کے احکامات سے بغاوت کی، ظلم و نا انصافی کو فروغ دیا اور اس طریقہ کی پیروی کی جو بدکردار لوگوں کا رہا ہے۔کہا کہ: “اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال دیتا ہے۔ وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر ان شروع کر دیا۔

تب اللہ نے اس کے باشندوں کو ان کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں”(النحل ١٦:١١٢)۔غور فرمائیے کہ ایک ایسی قوم جس کے لیے ہر طرف سے دروازے کھلے ہوئے تھے، معاشی ترقی کی بے انتہا عروج پر تھی، مزید یہ کہ اطمینان اور امن و امان قائم تھا یعنی لاء اینڈ آڈر کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی تھی، ملک کا نظام مستحکم تھا۔لیکن ان کی کفران نعمت کی غلطی نے ان کو ہلاک کر دیا۔

کفرانِ نعمت اس طرح ہی نہیں ہوا کرتا کہ لوگ اللہ کا زبان سے شکر ادا نہ کریں بلکہ کفرانِ نعمت یہ ہے کہ اللہ نے جو بے انتہا وسائل فراہم کیے ہیں ان کو اللہ کی مرضی کے خلاف استعمال میں لاکر اُس ربِ اعلیٰ کی زمین پر اس کے احکامات کی خلاف ورزی کی جائے۔ بس یہی وجہ بنی کہ اس بستی کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان پر مصیبتیں ٹوٹ پڑیں، امن کی جگہ خوف طاری ہو گیا اور بھوک اور پیاس میں وہ مبتلا کر دیے گئے۔غور فرمائیں آج امت مسلمہ کی صورتحال کیا ہے؟

Quran Pak
Quran Pak

قبولیتِ عبادات :
قرآن حکیم کہتا ہے”اور انھیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھیک سنا دو۔جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا :میں تجھے مارڈالوں گا۔اس نے جواب دیا:اللہ تو متقیوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے”(المائدہ:٢٨)۔یہ ہے وہ معیار جس پر پورے اترنے والوں کی قربانی قبول کی جائے گی۔

جس میں ایک بات یہ کہ وہ متقی ہو ںاور دوسری یہ کہ وہ قربانی دینے میں مخلص ہوں،اور یہ اخلاص ہر نہج پر ضروری ہے ۔ سب سے پہلے ہم اللہ کے لیے مخلص ہوں، اپنے نبیۖ کے لیے مخلص ہوں، اپنے دین کے لیے مخلص ہوں، اپنی امت کے لیے مخلص ہوں اور ان سب سے پہلے اپنی ذات کے لیے مخلص ہوں۔ ذات کے لیے مخلص، یعنی ہم اس بات پر یقین رکھنے والے ہوں کہ ہماری ذات کے ذریعہ انجام دیا جانے والا ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے لیے ہی انجام دیا جائے گا اور ہر کام سے رکنا اس بنا پر ہوگا کہ اللہ ہم کو رکنے کا حکم دیتا ہے۔

اس تصورکے ساتھ انجام دی جانے والی ہر قربانی انشااللہ قبول ہوگی اور وہ ہمیں دنیا و آخرت میں مقبولیت کی منزلیں طے کروائے گی۔کہا کہ “اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں”(البقرہ:٢٦٩)۔مزیدکہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو:”عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے”(البقرہ:٢٨٥)۔پہلی خوبی: وہ عقل رکھتے ہیں، نہ صرف عقل رکھتے ہیں بلکہ عقل کا استعمال ان ہدایات کی روشنی میں کرتے ہیں۔

جو ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئیں ہیں۔ دوسری خوبی : جب ان کے پاس نصیحت آجاتی ہے تو وہ اس کو قبول کرنے سے گریز نہیں کرتے ،تذبذب میں مبتلا نہیں ہوتے،کاہلی اور تساہلی سے بچتے ہیں،یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی قربانیاں قبول کی جاتی ہیں۔ اور تیسری خوبی یہ کہ ان لوگوں کو یقینِ کامل ہے کہ آخر کار اس زندگی کا اختتام ہونا ہے، آخرت کا دن آنا ہے، جزا اور سزا ملنی ہے، اور یہی وجہ ہے جس کے سبب وہ اللہ رب العالمین سے بخششیں طلب کرتے ہیں۔پھر کہا کہ “اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہو سکتا ہے۔

جس نے حکم خدا کو قبول کیااور وہ نیکوکار بھی ہے۔اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسو(مسلمان)تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا” (المائدہ:١٢٥)۔یہ وہ کسوٹی ہے جس پر ہر فرد اپنی ذات اور اپنی عبادات کامکمل جائزہ لے سکتا ہے ۔اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر پرکھ کر یہ بات بھی معلوم کی جا سکتی ہے کہ آیا ہماری عبادات قبول ہونے کے لائق ہیں یا نہیں!کہا کہ “زمین و آسمان کی ہر چیز کا اسے علم ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، سب اس کو معلوم ہے ، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے”(البقرہ:٣٣)۔

Muslims
Muslims

تذکرہ بطور اصلاح :
جس طرح ایک انسان کی رواں دواں زندگی کے لیے ضروری ہے کہ اس کو بھرپور غذا ملتی رہے ٹھیک اس ہی طرح ایک مسلمان کے دین، اس کی فکر، اس کی نظراور اس کے اعمال کو صحیح رخ پر قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان ایمانی غذائوں کا استعمال کرتا رہے جو اس کو وقتاً فوقتاًتقویت پہنچانے والی ہیں۔ یہ ایمانی غذا اُس صورت ہی میں حاصل ہو سکتی ہے جبکہ وہ اس کا شعوری طور پر اہتمام کرے۔

اس کے لیے جہاں دن میں پانچ مرتبہ اللہ رب العزت کے سامنے حاضری ایک ذریعہ ہے تو وہیں اللہ کا ذکر اور اُس کی عبادات کو ہر لمحہ بجا لانا بھی معاون و ممدو ثابت ہوتا ہے۔ یہ اہتمام بندہ مومن خوشی اور غم کے ہر موقع پر کرتا ہے۔ یہی وہ عظیم مقصد ہے جس کی جانب یہ واقعۂ شہادت امام حسین ہماری رہنمائی فرما رہا ہے۔

یہ وہ موقع ہے جب کہ تذکرہ امام حسن و حسین کے ساتھ ایک عظیم مقصد کے لیے عزم مسمّم کا عہد کیا جاتاہے۔قربانی کے اعلیٰ ترین نمونہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اپنی جان اور مال اور صلاحیتوں کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ عہد صرف زبانی حد تک ہی نہیں ہوتابلکہ اس کے اثرات انسان کے ظاہر و باطن پر محسوس کیے جاتے ہیں۔نتیجہ میں اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف مسلمانوں کو قوت حاصل ہوتی ہے جو ان کے اندر خدا پرستی کی توانائی داخل کرتی ہے تاکہ وہ برابر چست ، فعال اور ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے صراط مستقیم پر قائم ہو جائیں۔

جس طرح یہ حقیقت ہے کہ کائنات اور اس کی ہر شے مستقل حرکت پذیر ہے اُس میں ٹھہرائو نہیں ،اورٹھہرائو آ جائے تو یہ دنیا تباہ ہو سکتی ہے ٹھیک اسی طرح بندہ مومن کاہر عمل اس کے ایمان کومتحرک رکھنے کا ذریعہ بننا چاہیے ۔بر خلاف اس کے فکر و عمل منجمد ہو جانے سے نہ صرف فرد بلکہ پوری قوم و ملت ہلاکت و بربادی سے دوچار ہوتی ہے۔اور یہی وہ تحریک ہے جو ہمیں امام حسن اور امام حسین کی زندگی سے ملتی ہے۔

Political Conditions
Political Conditions

آپ کے سامنے سیاسی حالات نے آنکھیں دکھائیں، وطنی مفاد آڑے آئے،وقت اور ماحول نے ساتھ دینے سے انکار کیا، مصلحتوں نے دامن پکڑا، مشکلات نے راستہ روکا، ہلاکتوں کا طوفان نمودار ہوا۔ لیکن آپ نے اپنی آواز میں پستی نہ آنے دی۔ آپ نے خلافت و ملوکیت کے درمیان دیوار کھینچ دی اور ثابت کر دیا کہ عقیدہ کی پختگی اور صبر و استقامت سے ہی ایک مسلمان کی کی زندگی دنیا و آخرت میں کامیابی و سرخ روئی حاصل کرسکتی ہے۔اور آج بھی یہ زندہ مثالیں مصرو فلسطین، شام وعراق اور افغانستان و دنیا کے مختلف مقامات پر اسلامی نظام کے قیام میں سعی جہد کرنے والے مسلمان اپنے کردار سے پیش کر رہے ہیں۔

آئیے ہم عہد کریں اور اس عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں کہ اللہ کی خوشنودی کی خاطر ہم بھی اپنی زندگی کے شب و روز میں قربانیاں دیں گے۔ اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر قائم کرنے والوں میں شمار ہوں گے،بلکتی و سسکتی دنیا کو امن و امان کا پیغام دیں گے، چہار جانب محبت و اخوت کا ماحول پروان چڑھائیں گے اور ہم جو کام بھی کریں گے بے مقصد و لایعنی نہیں کریں گے۔ امام حسن و حسین کا تذکرہ بھی بطور تذکرہ نہیں بلکہ تذکرہ بطور اصلاح کریں گے۔ کیونکہ ہم ان عظیم شخصیات میں شامل ہونا چاہتے ہیں جو اپنی ذات پر ہر لمحہ نظر رکھتے ہوئے انجام دینے والے ہر عمل کا احتساب،اللہ کے سامنے احساسِ جوابدہی کے ساتھ کرتے ہیں!
تحریر: محمد آصف اقبال

 

 

Share this:
Tags:
government imam hussain Islamic history martyrdom اسلامی تاریخ امام حسین حکومت شہادت
Previous Post مجلس وحدت مسلمین اور سنی اتحاد کونسل کا دہشتگردی کے خلاف الائنس آف پیٹریاٹ بنانے کا اعلان
Next Post اقبال کے نظریات میں انتہا پسندی اور تعصب کی کوئی گنجائش نہیں ہے، روحیل اکبر

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close