Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حضرت جلال الدین رومی

January 31, 2019 0 1 min read
Hazrat Maulana Jalaluddin Rumi
Hazrat Maulana Jalaluddin Rumi
Hazrat Maulana Jalaluddin Rumi

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

نسلِ انسانی کے جدِ امجد حضرت آدم کے قدموں نے جس دن سے کرہ ارضی کو چھوا اُسی دن سے حضرت انسان کی لازوال کہانی کا آغاز ہو گیا۔ اگر آپ انسان کے ماضی حال فطرت مزاج مقدر نصیب کا مطالعہ کریں تو انسان پر چھائے ہو ئے تہہ در تہہ اسرار کھلتے چلے جاتے ہیں خالق ِ کائنات اور انسان کا تعلق ‘ انسان کی بے بسی خدا کی عنایات پر نظر دوڑائیں تو چشم کشا حقائق کے پرت کھلتے چلے جاتے ہیں ‘ خدا ئے بے نیاز کی بے نیازی اور کرم رحمت کے رنگ متوازی چلتے نظر آتے ہیں حق تعالیٰ کی بے نیازی اِس قدر کہ چند پیغمبروں کے علاو ہ جلیل القدر پیغمبروں کی قبروں کے نشان تو در کنار اُن کے ناموں تک کا آج کسی کو پتہ تک نہیں جو بھی وادی فنا میں اُترا اُس پر گمنامی کا دبیز پر دہ پڑتا چلا گیا ایک لاکھ چوبیس ہزار جلیل القدر عظیم’ اعلیٰ وارفع شان والے خدا کے پیغام رساں اپنے اپنے وقت پر پردہ جہاں پر اُبھرے پھر جامِ فنا پی کر مٹی کی چادر اوڑھ کر سو گئے۔

آج کے دور کے انسان کو اُن کی قبریں تو دور کی بات ہے ناموں تک کا نہیں پتہ ‘ انسانی تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت چاند کی طرح روشن ہو تی چلی جاتی ہے کہ خالق ِ کائنات بعض اوقات کسی عام انسان کی زندگی میںکو ئی لمحہ واقعہ حادثہ ایسا رونما کر تا ہے کہ اُس انسان کو شہرت کے آسمان پر چاند کی طرح لازوال چمک شہرت عطا کر تا ہے یا کسی انسان کی کو ئی ادا عبادت قربانی محبت خدمت خالق ِ کائنات کو اِس طرح بھاتی ہے کہ اُس انسان کو گمنامی کی وادی سے نکال کر شہرت کے آسمان پر بٹھا دیتا ہے ‘ یہ شہرت عارضی اور مستقل ہو تی ہے بعض لوگوں کو عارضی مہینوں سالوں کی شہرت عطا کر تا ہے بعض کو صدیوں کی شہرت عطا کرتا ہے کسی کو ایک گائوں کی حد تک شہرت کسی کو شہر ضلع صوبے ‘ ملک براعظم اور پھر کسی کو پو ری دنیا کے لیے روز قیامت تک لازوال شہرت عطا کر دیتا ہے ورنہ ہر دور میں کروڑوں انسان کیڑے مکوڑوں کی طرح اِس جہان رنگ و بو میں آئے مٹی کا حصہ بنتے چلے گئے بعض اوقات رب ذوالجلال اپنی کسی خاص صفت کا اظہار کر نا چاہے تو بھی کسی انسان کے بھاگ جاگ جاتے ہیں جس کے ذریعے رب کعبہ اپنی کسی صفت کا اظہار کر تا ہے۔

زمانے کی بدلتی ہو ئی ضرورتوں اور تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہو ئے کسی غیر معمولی انسان کو عقل و شعور فہم و ادراک کا نور عطا کر کے نسل انسانی کی مدد اور رہنمائی کر تا ہے ‘ خوش قسمت ہو تا ہے وہ انسان جس پر خالق ِ کائنات کی نظر پڑ جائے جس کا انتخاب رب کعبہ کر تا ہے پھر وہ انسان روز محشر تک کے لیے لا زوال شہرت کا وارث ٹہرتا ہے ‘ زمانے صدیاں گردشِ ماہ و سال ایسے انسان کی شہرت کو کم کرنے کی بجائے اور نکھارتی چلی جاتی ہے۔

بے نیاز رب تعالیٰ نے اِسی طرح اپنی خاص صفت کا اظہار کرنا چاہا تو روم قونیہ شہر کے ایک عالم دین پر اللہ تعالیٰ کی نظر پڑی جو اگر عالم دین رہتا تو آج گمنامی کے غار میں غرق ہو چکا ہو تا لیکن خدا نے اُسے عقل و شعور گداز ہجر کی نعمت علم کا نور ایسا عطا کیا کہ اُس جیسا پھر صدیاں گزرنے کے بعد بھی کو ئی دوسرا نہ آیا اور نہ ہی آئے گا ‘ ایسا عالم دین جب وہ تقریر کا آغاز کر تا تو ہزاروں کا مجمع پتھر کے بتوں کی طرح ساکت ہو جاتا ‘ درو دیوار اُس عالم دین کے جوشِ خطابت سے لرزتے ‘ لوگوں کی سانسیں رک جاتیں ‘ لوگ سینکڑوں میل کا سفر کر کے اُس کے وعظ سے لطف اندوز ہو نے آتے ‘ یہ عالم دین شہرت کے آسمان پر ستارہ بن کر چمک رہا تھاآپ کی خطابت کے سامنے چراغ دھندلے ہو تے چلے گئے کسی بھی انسان کو جب لازوال شہرت ملتی ہے تو حاسدین کا گروپ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

عالم دین کی شہر ت کو داغ دار کر نے کے لیے سازش تیار کی گئی ‘ جب عالم دین عظیم الشان مجمع کے سامنے تقریر کے لیے کھڑا ہوا تو اچانک ایک شخص اٹھا اور بولا محترم آپ اپنے پسندیدہ مو ضوع پر تو خوب بو لتے ہیں مزا تو تب ہے جب آپ ہمارے بتائے ہوئے مو ضوع پر اظہار خیال کریں ‘ عالم دین دلنواز تبسم سے بو لے جناب آپ آج جس موضو ع پر کہیں گے میںاُس پر آج تقریر کروں گا تو وہ شخص بولا جناب آج آپ سورة والضحی کی تفسیر بیان کریں مخالفین اپنا تیر چھوڑ چلے تھے کہ آج ہم نے مشکل ترین مو ضوع چنا ہے جس پر مولانا صاحب تقریر نہیں کر پائیں گے اِس طرح مولانا صاحب لوگوں میں تماشا بن کررہ جائیں گے لیکن مولانا صاحب نے آسمان کی طرف دیکھا ‘ محبوب خدا ۖ پر درود شریف بھیجا اور بولے جناب آج ہم قرآن مجید کی اِس سورة کے پہلے لفظ ” وائو” پر بات کر تے ہیں آج اِسی لفظ کی تشریح ہو گی کہ اللہ تعالی نے اِس سورة میں لفظ وائو کو کیوں استعمال کیا ہے پھر اپنے وقت کے ذہین ترین عالم دین کے منہ سے علم کا آبشار ابل پڑا ‘ جوش خطابت ‘ علم و عرفان فہم آگہی بصیرت کے دریا بہہ رہے تھے۔

متلا شیان علم اپنے خالی دامن بھر رہے تھے ‘ ہجوم پر سناٹا طار ی تھا ‘ عالم دین کا پر مغز خطاب جاری تھا مسلسل چھ گھنٹے لفظ ”واو ”پر واعظ جاری تھا تو وہی شخص اٹھا جس نے اعتراض کیا تھا آگے بڑھ کر مولانا کے قدموں پر اپنا سر رکھ دیا اور معافی مانگی وہ بار بار ایک ہی لفظ بو ل رہا تھا بے شک آج پو رے روم میںآپ کا ثانی کو ئی نہیں ہے ‘ میں حسد کا شکا ر ہو گیا تھا اے نیک دل عالم دین مجھے معاف کر دے ‘ مولانا نے اُس شخص کو اٹھا کر گلے سے لگا یا اور مجمع کی طرف اشار ہ کیا کہ میں نے تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو معاف کیا پھر مولانا کے مقابلے پر کوئی نہ تھا پو رے ملک میں آپ کے علم و فہم کے چرچے تھے آپ کے وعظ میں ہزاروں لوگ شامل ہو کر اپنی علمی پیاس بجھاتے ‘ آپ چلتے تو سینکڑوں لوگ آپ کے ہمراہ چلتے ‘ وعظ اور علم کے سمندر پینے کے بعد بھی مولانا اکثر کہا کر تے دنیا جہاں کی کتابیں اور علم سمیٹنے کے باوجود میری باطنی پیاس آج بھی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

میری بے قراری کو قرار کب آئے گا میری پیاس کون بجھائے گاپھر حق تعالی نے عالم دین کی زندگی میںوہ واقعہ وارد کیا جس نے عالم دین کی زندگی بدل دی اور اُسے قیامت تک کے لیے شہرت کے آسمان پر امر کر دیا ‘ مولانا کے پاس دنیا جہاں کی نادر نایاب کتب کا ذخیرہ تھا ایک دن اپنے کتب خانے میں شاگردوں کو وعظ دے رہے تھے کہ اچانک ایک اجنبی شخص پھٹے پرانے کپڑوں چہرے بالوں میں مٹی پڑی ہو ئی آیا اور آکر شاگردوں کے درمیان سے گزرتا ہوا مولانا کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔

مولانا کا وعظ جاری تھا اجنبی کو مولانا کے وعظ سے بلکل بھی دلچسپی نہ تھی وہ بار بار قیمتی کتابوں کو دیکھ رہا تھا آخر اجنبی بولا مولانا یہ کیا ہے اُس کا اشارہ کتابوں کی طرف تھا مولانا کو اجنبی کا سوال برا لگا اُسے کہا بھی میں وعظ میں مصروف ہو ں ‘ فارغ ہو کر تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں پھر اجنبی خاموشی سے مولانا کو دیکھتا رہا جب درس ختم ہوا تو مولانا بولے اے اجنبی آپ کون ہیں یہاں کیا کر نے آئے ہیں تو اجنبی پھر کتابوں کی طرف اشارہ کر کے بو لا یہ کیا ہے تو مولانا بو لے تمہا ری نظر شاید کمزور ہے یہ قیمتی نایاب کتب ہیں لیکن تم اِن کے بارے میں کیا جان سکتے ہو۔

اجنبی مولانا کی بات سن کر اٹھا اور بولا اچھا یہ وہ ہیں جن کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا ابھی الفاظ ختم ہو ئے تھے کہ کتب خانے میں آگ بھڑک اٹھی اور قیمتی کتابیں دھڑا دھڑ جلنے لگیں ‘ مولانا دم بخود یہ منظر دیکھ رہے تھے اجنبی کی طرف دیکھااور بولے یہ کیا ہے تو اجنبی بو لا یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے ‘ مولانا کے منہ سے آہ نکلی ہا ئے میری نادر نایاب کتابیں تمہاری وجہ سے جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئیں تو اجنبی اٹھا جاتے جاتے بولا اگر میری وجہ سے تمہاری کتابیں جل گئیں ہیںتو میں تمہاری کتابیں واپس کر تا ہو پھر لوگوں نے عجیب منظر دیکھا آگ بجھ گئی مولانا نے بڑھ کر دیکھا ساری کتابیں اصلی حالت میں تھیں ایک ورق بھی نہیں جلا تھا مولانا پکار اُٹھے یہ کیا ہے تو اجنبی بو لا یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے۔

بعض تذکرہ نگاروں کے یہ واقعہ اِس طرح بیان کیا ہے مولانا ایک دن حو ض کنارے درس دے رہے تھے ایک اجنبی آیا اور بولا کتا بوں کی طرف اشارہ کر کے پو چھا یہ کیا ہیں تو مولانا بو لے تم نہیں جانتے یہ کیا ہیں تم تو جاہل ہو ‘ اجنبی نے بڑھ کر ساری کتابیں حوض میں پھینک دیں ‘ مولانا بھڑک اٹھے’ اے جاہل شخص تم نے میری نایاب کتابیں تباہ کر ڈالیں یہ قیمتی نسخے دنیا میں صرف میرے پاس تھے تو اجنبی نے حوض میں ہاتھ ڈال کر ساری کتابیں نکال کر رکھ دیں جو ساری خشک تھیں ‘ ایک ورق بھی گیلا نہ ہوا تھا مولانا حیرت میں گم بولے یہ کیا کتابیں گیلی کیوں نہیں ہوئیں یہ کونسا علم ہے تو اجنبی بولا یہ وہ ہے جسے تم نہیں جانتے ‘ اتنا کہہ کر اجنبی وہاں سے چل دیا مولانا اُس اجنبی کے پیچھے دوڑے کہ جو علم تم جانتے ہو میں اُس کی تلاش میں تھا مجھے غلامی میں قبول کر لو اجنبی کا نام حضرت شمس تبریز تھا اور مولانا تاریخ انسانی کے عظیم اہل معرفت حضرت جلال الدین رومی تھے۔

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti
Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share this:
Tags:
Guidance History knowledge message Religion World worship پیغام تاریخ دنیا دین رہنمائی عبادت علم
Jamia Azhar
Previous Post دعوت اور حق
Next Post امریکا میں شدید سردی کے کئی ریکارڈ ٹوٹ گئے
America Cold Weather

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close