Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

فوجی عدالتوں کی مخالفت !

March 26, 2015March 26, 2015 0 1 min read
Military Courts
Military Courts
Military Courts

تحریر: اصغر علی گھرال
پاکستان گزشتہ دس بارہ سال سے تاریخ کی بد ترین دہشت گردی کا شکار ہے۔ نصف لاکھ کے قریب سویلین اور 10 ہزار سے زائد سکیورٹی فورسز کے جوان اور آفیسرز شہید ہو چکے ہیں۔ افواج کے عسکری مراکز۔ پولیس ہیڈ کوارٹر مساجد چرچ امام بارگاہیں۔ مزارات۔ جنازگاہیں ۔ جیلیں۔ بازار ۔ ہوٹل۔ ہسپتال ۔ بچوں اور بچیوں کے تعلیمی ادارے کیا کیا ان کے نشانے پر نہیں ہے۔ ہزاروں بیوہ اور لاکھوں یتیم ہوئے ہیں۔ 16 دسمبر 2014ء کا آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ جس میں 134 معصوم بچوں اور سٹاف سمیت ڈیڑھ سو کے قریب شہید ہوئے ۔ ہماری قوم کی پیٹھ پر روایتی اونٹ کی طرح آخری تنکا ثابت ہوا۔ 18 کروڑ انسان تڑپ اٹھے۔ قوم کے نمائند ے سر جوڑ کر بیٹھے ۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت دہشت گردی کے حوالے سے انتہائی غیر معمولی صورت حال سے نمٹنے کیلئے غیر معمولی اقدامات کے بارے میں غور کرنے پر مجبور ہوئی ۔ چنانچہ اٹھارہ کروڑ عوام کی منتخب پارلیمنٹ نے آئین میں 21ویں ترمیم متفقہ طور پر منظور کر کے فوجی ترمیمی ایکٹ 2015ء کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کی بھی منظور ی دے دی۔ یہ فوجی عدالتیں صرف 2سال کیلئے ہونگی۔ مگر وکلا حضرات نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی ہے۔ اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے ۔ یوں کیس “سب جوڈس “ہے۔ اصل اشوع پر بحث مطلوب نہیں۔ تاہم اس مسئلہ کے عمومی پہلوئوں پر گفتگو کی اجازت چاہتا ہوں۔ عدلیہ کسی بھی ملک کا مقدس ترین ادارہ ہے ۔ قانون کے محافظ طبقے کا پیشہ انتہائی قابل احترام ہے ۔ بر صغیر کی جنگ آزادی میں قائداعظم ۔ علامہ اقبال گاندھی جی اور پنڈت جواہر لال نہرو سے لیکر نیچے تک قانون دان طبقے کارول نمایاں رہا ہے ۔ وکلاء نے ہمیشہ آمریت اور آمرانہ قوانین کے خلاف جنگ لڑی ہے ۔ ججز بحالی تحریک میں وکلا ء برادری نے مالی نقصانات کی پروا نہ کرتے ہوئے بیش بہا قربانیاں دیکر فتح حاصل کی ہے ۔ اور دنیا بھر سے داد وصول کی ہے ۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر کا نام انسانی حقوق کے حوالے سے ساری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے ۔ رول آف لاء انسانی حقوق اور جمہوری قدروں کی پاسداری کے حوالے سے وکلاء ہمیشہ اگلی صف میں رہے ہیں ۔ اس لئے وکلاء کی طرف سے ایک ایسے جمہوری ملک میں (جہاں مارشل لاء نافذ نہیں ہے ۔) فوجی عدالتوں کی مخالفت ناقابل فہم نہیں آخر ان کا جواز کیا ہے ؟

تو میرے نزدیک اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سے قبل سول عدلیہ میں دہشت گردوں کے خلاف جو قانونی کاروائی ہوتی رہی ہے۔ عوام اس سے ہر گز مطمئن نہیں تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شکایت تھی۔ کہ ہم کتنی مشکلات سے دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لاتے ہیں مگر عدالتوں پر دہشت گردوں کا خوف طار ی ہے۔ جج صاحبان ملزموں کو سزا دینے کی بجائے ان سے جان چھڑانے کیلئے کسی سقم یا کسی چھوٹے موٹے عذر کا بہانہ بنا کر انہیں چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس ضمن میں اخبارات میں خبریں شائع ہوتی رہیں کہ کیسے علی الاعلان اعتراف قتل کے باوجود ایک کالعدم تنظیم کے سرغنہ کو باعزت بری کر دیا گیا عدالت کو اسے سزا دینے کا حوصلہ نہیں ہوا اس طرح کی دیگر مثالیں بھی ہیں ۔ اس دور کے اعداد و شمار افسوس نا ک ہیں دہشت گردی کے فروغ کے لئے دو عوامل اہم رہے ہیں۔ ایک ہمارے حکمرانوں کی روایتی بزدلی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر اپریشن کی اجازت دینے کی بجائے خونخوار درندوں کے ساتھ مذکرات کے لئے ترلے کرتے رہے ۔ جبکہ دہشت گرد حکومت پر مزید دبائو ڈالنے کیلئے اپنی ظالمانہ اور بہیمانہ کاروائیاں جاری رکھے رہے ۔ یوں نہایت قیمتی وقت ضائع ہوا ۔ دوسرے عدالتوں سے بری ہونے کے بعد دہشت گردوں کی درندگی میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا اور وہ حلق خدا کو بموں سے اُڑا کر جشن مناتے رہے۔ ساری دنیا میں غیر معمولی حالات میں سنگین جرائم سے نمٹنے کیلئے غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں ۔ امریکہ سے بڑا جمہوری ملک کون سا ہے ؟۔ رول آف لا ء۔ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی پاسداری کے حوالے سے دنیا بھر میں چیمپئن کا درجہ رکھتا ہے۔ 9/11 کو نیو یارک اور واشنگٹن پر حملوں میں 2 ہزار 9 سو 96 امریکی ہلاک ہوئے۔ صدر جار ج بش نے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف سول عدالتوں میں مقدمے نہیں چلائے ۔ بلکہ 13 نومبر 2001ء کو آرمی کمیشن قائم کئے ۔ اور رسوائے زمانہ عقوبت خانہ گوانتا ناموبے کی تشکیل کی ۔ امریکہ میں دنیا کا بہترین عدالتی نظام ہے ۔ ان عدالتوں کو غیر ملکی دہشت گردوں سے کوئی خوف خطرہ بھی نہیں تھا۔ صدر جارج بش نے فوجی عدالتیں قائم کرنے کیلئے کانگرس یا ایوان نمائندگان کو اعتماد میں لینے کا تکلف بھی نہیں کیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ امریکی جمہوری معاشرے میں کسی فرد یا ادارے نے فوجی عدالتوں کی مخالفت نہیں کی ۔ امریکہ میں اس نازک مرحلہ پر کسی وکیل یا وکلاء کی تنظیم نے فوجی عدالتوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا۔ وکلاء حضرات نے اپنے پیشہ ورانہ مفادات کو نظر انداز کر کے قوم کے اجتماعی ضمیر قومی جذبات اور احساسات کا بھرپور ساتھ دیا ۔ امریکہ کی کسی عدالت کو فوجی عدالتوں کے خلاف از خود نوٹس لینے کی توفیق نہیں ہوئی۔

تاآنکہ پانچ سال بعد 2006ء میں سپریم کورٹ میں ایک کیس حمدان بنام رمز فیلڈ میں عدالت نے ضمنا ً یہ ابزرویشن دی کہ فوجی عدالتوں کو آئینی طور پر اختیار سماعت نہیں ہے ۔ تاہم بین الاقوامی آئینی ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ اس دوران پانچ سال میں امریکہ گوانتا ناموبے کی تشکیل اور اسے قائم رکھ کر دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں کے خلاف کاروائی کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس ابزرویشن سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ فوجی عدالتیں بھی ایک عدالتی نظام ہے۔ ملزموں کو صفائی کا پورا موقع دیا جاتا ہے ۔ اگر اس نظام میں مزید بہتری کی گنجائش ہے ۔تو وکلاء تنظیموں کو اسکی نشاندہی کرنا چاہیے۔ سول عدلیہ اور فوجی عدالتوں میں ایک فرق یہ ہے کہ فوجی عدالتیں دہشت گردوں سے خوف زدہ نہیں ہونگی۔ اگر آج فوجی عدالتوں کے سوال پر ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے۔ تو یقین کیجئے 99فیصد لوگ فوجی عدالتوں کے حق میں دونوں ہاتھ کھڑے کر دیں گے۔ اس نظام کے خلاف ایک فیصد سے کم لوگوں میں چار کیٹگری کے لوگ شامل ہونگے۔ 1 ۔دہشت گرد درندے ، 2۔دہشت گردوں کے ہمدرد منافقین ، 3۔عادی جرائم پیشہ لوگ جنہیں ڈر ہے کہ انکے خلاف سنگین مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں جاسکتے ہیں اور 4۔ وکلا حضرات۔ سوال یہ ہے کہ آخر لوگ سول عدلیہ کی بجائے فوجی عدالتوں کو کیوں ترجیح دیتے ہیں ؟تو اس کا ایک مختصر جواب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے 24جنوری کو چکوال ڈسٹرکٹ بار کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے دیا ہے ۔ فرماتے ہیں ۔”انصاف میں تاخیر کے حوالے سے جو انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور انصاف کے طلبگاروں میں جواضطراب پایا جاتا ہے ۔ وہ مبنی بر حقیقت ہے ۔ اور اس حوالے سے عدلیہ اور وکلاء برابر کے ذمہ دار ہیں”۔ عدلیہ کا تقدس اور احترام بجا ۔ مگر جہاں تک عوام کا تعلق ہے انکی تو عدالتوں کے نام سے جان جاتی ہے ۔ عدالتوں کا روایتی طریق کار اتنا طویل ۔ اتنا مہنگا ۔ اتنا ازکار رفتہ اور اتنا ذلالت آمیز ہے کہ عوام اس سے جان چھڑانے کیلئے کسی بھی معقول سپیڈی ۔ موثر اور سستے نظام کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں۔ یقین کریں تمام سنگین فوجداری مقدمات کے مدعی اور مستغیث اپنے مقدما ت سول عدلیہ سے فوجداری عدالتوں میں منتقل کرانے کے لئے ترلے لے رہے ہیں۔ ان سے پوچھیں کیوں ؟۔

Insaf
Insaf

مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے انصاف میں غیر معمولی تاخیر کے حوالے سے ایک کالم لکھا کہ فوجداری مقدما ت 10 -10 سال اور دیوانی 25-25سال لٹکے رہتے ہیں۔ اور انصاف میں اتنی تاخیر بجائے خود نا انصافی بن جاتی ہے ۔ جس دن کالم چھپا میں اتفاق سے مرحوم ایس ۔ ایم مسعود ایڈووکیٹ سپریم کورٹ (سابق وفاقی وزیر قانون )کے چیمبر میںگیا۔ کالم انکی نظر سے گزر چکا تھا۔ کہنے لگے کہ گھرال صاحب ! آپ نے فوجداری مقدمات 10-10سال اور دیوانی 25-25سال تک لٹکے رہنے کا لکھا ہے ۔ یہ جو ساتھ والے کمرے میں سفید بالوں ، چہرے پر جھریوں کے ساتھ قبر میں پائوں لگائے مائی بیٹھی ہے ۔ یہ نابالغ لڑکی تھی۔ کہ اس کا باپ فوت ہوا۔ مکان کے علاوہ والد کی واحد جائیداد بازار میں دوکان تھی۔ جو اس نے بیٹی کو ہبہ کر دی۔ مگر دوکان پر والد کے بھائی نے ناجائز قبضہ کر لیا۔ یہ بے چاری اس وقت سے مقدمے بھگت رہی ہے۔ کئی دفعہ فیصلہ اسکے حق میں ہو گیا۔ مگر پھر اپیل ہو جاتی ہے ۔ یا کیس ریمانڈ ہو جاتا ہے ۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ضابطہ دیوانی کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے کیس کو لمبا کرنا یا فیصلہ نہ ہونے دینا وکلاء حضرات کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ مجھے یقین ہے فیصلہ اسکی زندگی میں نہیں ہو گا ۔ وراثت میں مقدمہ بازی چھوڑ جائیگی ۔ تین تین نسلیں جونہی انتظار کر تی اور مرتی رہتی ہیں۔ سول عدلیہ میں مقدمہ بازی تو ایک لعنت ہے ۔ جسے ختم کرنے کیلئے کوئی بھی معقول میکنزم کیوں نہ اختیار کیا جائے آپ یقین کریں ۔نام نہاء قبضہ گروپوں کے وہ گروہ جو معاوضہ لیکر یا محض خداترسی سے غریب اور ستم رسیدہ لوگوں کو ناجائز قابضین سے بنوک پستول قبضہ چھڑا دیتے ہیں۔ عوام کے نزدیک ان مقدس اداروں سے زیادہ قابل احترام ہیں۔ پھر یہ نظام اتنا مہنگا ہے کہ اس سے غریب عوام انصاف کی توقع کر ہی نہیں سکتے لاکھوں اور کروڑوں کی فیسوں کاسنکرعام آدمی تو ویسے ہی غش کھا کر گر پڑتا ہے ۔ پھر واقف جج صاحبان سے حق میں فیصلہ کرانے کی امید یا یقین دلا کر لاکھوں کروڑوں الگ لئے جاتے ہیں۔ سردار لطیف کھوسہ نے ٹھیک ہی کہا تھاکہ مجھ پر محض 30لاکھ کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ مجھ پر الزام لگانا ہی تھا۔ تو تیس کروڑ کا تو ہوتا ۔ 30-30لاکھ تو میرے بیٹے لیتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ وکیل کی خدمات تو کوئی بھی کرائے پر حاصل کر سکتا ہے ۔جس مجرم نے جتنی بڑی کرپشن اور فراڈ کیا ہو گا۔ اسکے لئے اربوں کے گھپلے کر کے کروڑوں فیس دینا مشکل نہیں ۔ یا جس مجرم نے کم سن بچی کو زیادتی کے بعد شہادت مٹانے کیلئے جان سے مار دیا ہے اور اسے خواب میںبھی پھانسی نظر آتی ہے ۔ خوشی

سے لاکھوں کی بھاری فیس ادا کرے گا۔ یوں ہم اپنی خداداد صلاحیتوں اور محنت شاقہ سے ان کو تختہ دار سے بچا کر ثواب دارین لوٹتے ہیں۔ اور ملک میں انصاف کا بو ل بالا ہوتا ہے۔ اس مرحلہ پر مجھے ایک واقعہ یا د آرہا ہے ۔ جس میں میرے ایک وکیل دوست نے فیس میں بلینک چیک کی پیشکش ٹھکرا کر ملزموں کا کیس لینے سے معذرت کر دی تھی۔ گجرات کاہی واقعہ ہے ۔ دو ڈاکوئوں نے ایک ایسے گھر میں ڈاکہ ڈالا جو دور پار سے انکے رشتہ دار تھے۔ گھر میں ایک خاتون اور اسکا چھوٹا بچہ تھے۔ ڈاکوئوں نے چہرے خوب ڈھانپ رکھے تھے۔ مگر انکی حرکات و سکنات سے انکی شناخت مشکل نہ تھی۔ ڈاکوئوں نے بھی محسوس کر لیاکہ خاتون خانہ اور اسکے بچے نے انکو پہچان لیاہے ۔ اب ڈاکوئوں کیلئے اپنے خلاف شہادت مٹانے کیلئے انہیں ٹھکانے لگانا ضروری ہو گیا۔چنانچہ بی بی کو فائر کر کے ٹھنڈا کر دیا۔ اس اثناء میں بچہ ڈر کر صندوق کے نیچے گھس گیا۔ جہاں سے اسے باہر نکالنا مشکل ہو گیا۔ لکڑی کی ٹھوکروں کی وجہ سے وہ چینختا ضرور مگر باہر نہیں آتا تھا۔ تاآنکہ تلاش کرنے پر سریے کے ایک ٹکڑے نے جس کا ایک سرا نوکدار تھا یہ کام آسان کر دیا۔ (اس سے آگے تفصیل لکھنے کا حوصلہ نہیں ۔میری آنکھوں میں اندھیرا سا چھا گیا ہے ) کیا ان ڈاکوئوں کو اپنا کیس لڑنے کیلئے کوئی اور قابل وکیل دستیاب نہیں ہوا ہو گا۔ جس نے “بلینک چیک “پر کر کے ان کو بچانے کیلئے اپنی تما م تر مہارت اور صلاحیت صرف کی ہو گی۔ موقع پر چشم دید گواہ کے فقدان کا عذر موجود تھا۔ کیوں نہ ان کو پھانسی سے بچا کر اور با عزت بر ی کرا کے بار روم میں دوستوں سے داد وصول کی ہو گی۔ میں ایمانداری سے آج تک فیصلہ نہیں کر سکا۔ کہ ہم وکیل جو ملک میں انصاف پروری کا دعویٰ کرتے ہیں ۔فی الواقعہ معاشرے میں عدل و انصاف کے فروغ کا باعث ہیں۔ یا ظالموں اور مجرموں کو بچانے کا رول ادا کر رہے ہیں یہ نظا م بنیادی اور انقلابی تبدیلیوں کا متقافی ہے ۔ سردست میں تجویز کرونگا کہ جس طرح ملک میں بعض خداترس ڈاکٹر اور ماہر سرجن امیر مریضوں سے تو ٹھیک ٹھاک فیس لیتے ہیں۔ مگر بعض مسکین اور مفلوک الحال مریضوں کا علاج اور اپریشن مفت کر کے ثواب دارین حاصل کرتے ہیں۔ سینئر وکلاء کو بھی یہ کرنا چاہئے۔

بہت سے محترم دوست یقینا خاموشی سے ایسا کرتے ہیں۔ لیکن سینئر اور ٹاپ کے وکلاء کو اس کار خیر میں باقاعدہ حصہ لینا چاہئے۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس ملک میں 10فیصد اپر کلاس دولت میں کھیلتی اور عیش کرتی ہے جبکہ 20فیصد بیچارے محض سفید پوش اور 70فیصد دو قت کی روٹی کے محتاج ہیں ۔ وہاں یہ “نظام عدل ” ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔آخر نامور قانون دانوں کی خدمات کونسا طبقہ افورڈ کر سکتا ہے۔ نہ صرف دنیا کے دولت مند سائنس دانوں نے دولت کمانے والے بزنس ،شو بزنس سپورٹس کے شعبوں میں فلاحی ادارے قائم کئے ہیں۔ مگر ہمارے ایک ایک کیس میں 30-30کروڑ کمانے کا دعویٰ کرنے والوں میں کبھی کسی فلاحی ادارے کی خبر نہیں آئی ۔ اتنی دولت کو کیا کریں گے۔ ممتاز قانون دان میاں محمود علی قصوری مظلوم سیاسی ورکرز کے کیس مفت لڑتے تھے۔ ہمیں مظبوط اور موثر فری لیگل ایڈمراکز قائم کرنا چاہیے ۔اور ملک میں سلیکشن گریڈ کے مہاں ظالم مجرموں کے خلاف استغاثہ کی طرف سے کیس لڑ کر انکو سزا دلوانی چاہیے ۔ اور مفلوک الحال غریبوں جن کے خلاف جھوٹے کیس ہوں۔ ان کو ظلم سے بچانا چاہیے جہاں تک فوجی عدالتوں کا تعلق ہے ۔ فی الواقعہ شدت پسند ی سے نمٹنے کیلئے فوجی عدالتوں کے سوا کوئی آپشن نہ تھا۔ فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد مقدمات کو جلد از جلد فیصلہ کرانا ہے ۔ اور میں وکلاء بھائیوں سے گزارش کرونگا۔ کہ ہمیں انکی مخالفت نہیں کرنا چاہیے۔

Asghar Ali Ghural
Asghar Ali Ghural

تحریر: اصغر علی گھرال
asgharghural@gmail.com
03334115340

Share this:
Tags:
military courts terrorism دہشت گردی فوجی عدالتوں مخالفت
Lahore Sunni Majlis Amal Heads pPress Conference
Previous Post لاہور : سنی مجلس عمل کے سربراہان کی پریس کانفرس
Next Post جی پی آئی کی خبروں کی تصویری جھلکیاں۔

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close