
تحریر: شاہ بانو میر
ساڑھے نو پونے دس کا ٹائم تھا ہم میاں بیوی کہیں جا رہے تھے وہ راستہ سٹڈ دُوو فرانس (فرانس اسٹیڈئم) کی جانب تھا اچانک راستے میں پولیس کی چاریں سائرن بجاتے ہوئے ہم سے مطالبہ کرتی دکھائی دیں کہ سڑک سے فوری طور پے اپنی کار کو سائیڈ پر کیا جائے ہنگامی حالت کے یہ سائرن ہر سننے والے کو اتنے رش میں کنفیوز کر دیتے کہ کیسے جلدی سے راستہ بنایا جائے بہر کیف راستہ بن گیا اور یکمشت کئی کاریں سائرن بجاتی ہوئی تیزی کے ساتھ ذیلی سڑک جو اسٹیڈیم کی جانب جاتی وہاں سیکنڈز میں نگاہوں سے اوجھل ہو گئیں شائد اس وقت وہاں حادثہ رونما ہو چکا تھا۔
ہم اپنے راستے پر مُڑ گئے لیکن یہ کیا اس سڑک پر بھی سائرن بجاتی شور مچاتی پولیس کاریں اور ان کے عقب میں فائر برگیڈ کی سرخ گاڑی سائرن بجاتی ہوئی سرعت میں گزر گئی یا اللہ خیر لگتا کوئی بڑا حادثہ رونما ہوا ہے ‘ہمارا خیال تھا کہ سڑک پر کاریں کسی بڑے حادثے کا شکار ہوئی ہیں کیونکہ اس کے علاقے کے بالکل ساتھ ہی موٹر وے اے 86 کی سڑک ہے لیکن گھر پہنچ کر علم ہوا کہ ملنظم دہشت گردی کی واردات دہشت گرد کر گئے۔

بہت بڑی کاروائی کی گئی 15 سے 20 شر پسندوں نے کانسرٹ ہال میں لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ہلاکتیں ابھی تک 40 ہے تعداد مزید بڑہنے کا خدشہ ہے اسٹیڈیم میں فرانس اَور جرمنی کا میچ دیکھنے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے ‘ فرانس کے صدر بھی میچ دیکھ رہے تھے۔
امریکہ سمیت تمام یورپ سے سخت تشویش کا اظہار اور سخت مذمت کی جا رہی ہے زخمیوں کو تیزی سی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے ریسکیو کاروائیاں تیزی سے جاری ہیں متعدد افراد زخمی ہیں حملہ آوروں نے نقاب پہن رکھے تھے کانسرٹ ہال کو نشانہ بنایا گیا ا ور اسٹیڈیم کو نشانہ بنایا گیا 100 افراد یر غمال ہیں ان کو کیسے رہائی دلانی ہے ابھی کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی پَولیس کی بڑی نفری حادثے کی جگہہ پر موجود ہے۔

تمام تارکین وطن اس وقت ٹی وی کے سامنے ساکت منجمند بیٹھے ہیں افسوسناک سانحہ پرسکون ماحول میں یہ انتشار اور شرپسندی نجانے کن کی جانب سے کی گئی او اب پھر پکڑ دھکڑ شروع اب پریشان حال روزگار کی تلاش میں آنے جانے والے اسٹیشنوں پر سخت تلاشی کا ہدف بنیں گے ابھی تک تو کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن خُدا نہ کرے کہ یہ واقعہ کسی مسلمان تنظیم کی جانب سے کیا گیا پردیس میں تارکینَ وطن کس حال میں رہتے ہیں بچے جو یہاں پیدا ہوئے انہیں کس قدر مسلمان ہونے کا طعنہ ان واقعات کے بعد تعلیمی درسگاہوں میں سننا پڑتا ہے تارکین وطن جو دھڑ دھڑ یورپ کی سرزمین کا رخ کر رہے تھے نجانے اب ان کیلئے کیا قانون پاس کیاجائے گا؟
تمام مسلمان خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک کسی بھی فرقے سے ہو وہ لمبے عرصے تک تفتیش کے نام پر معلومات ٹی وی پر سنتے اور گرد و نواح میں رہنے والوں کے سامنے چور سے بن جاتے یہ دہشت گردی کا عفریت نجانے کس کروٹ بیٹھے گا اقوام عالم کو اس دہشت گردی کی بنیاد کو ختم کرنا پڑےگا آئے روز ہونے والے یہ حادثات سخت جان کرنے والوں کیلئے تو شائد مسئلہ نہیں لیکن ہم جیسے لاکھوں تارکین وطن کیلئے اور ان کے بچوں کیلئے یقینا بہت بڑا مسئلہ ہے مسلمان جو اصل قرآنی تعلیمات سے بہرہ مند ہیں وہ زندگی میں سادگی امن سکون اور دوسروں کیلئے باعث خیر بنتے ہیں جبکہ ادھورا علم اور ناقص علم ہر شر کو خیر میں تبدیل کر دیتا ہے آیئے ابتدائی رپورٹ میں کچھ نہیں بتایا جا رہا لیکن بطور مسلمان دعا کیجئے کہ اس میں ہمارے بچے یا ہمارے کسی بھائی کا ہاتھ نہ ہو اور نہ ہی کوئی ملوث پایا جائےآمین

تحریر:شاہ بانو میر
