Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دُھول چہرے پر تھی

December 15, 2015December 15, 2015 0 1 min read
Mirror
Mirror
Mirror

تحریر: میر شاہد حسین
آپ میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو آئینہ نہ دیکھتا ہو۔ کوئی اسے روز دیکھتا ہے اور کوئی اسے بار بار دیکھتا ہے۔ ہم اس میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟ یہی کہ ہم کیسے لگ رہے ہیں!…یہ ہمیں ایسا ہی دکھاتا ہے جیسا ہم نظر آتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو خود نہیں دیکھ سکتے اسی لیے آئینہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لیکن یہ آئینہ ہمیں صرف ہماری شکل کے خدو خال ہی دکھا سکتا ہے۔ آپ کی شخصیت میں چھپے خدوخال کو یہ نہیں دکھا سکتا۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہمیں اپنی شکل و صورت کو ٹھیک کرنے کی فکر تو لگی رہتی ہے مگر اپنی شخصیت کو نکھارنے کی فکر ہمیں نہیں ہوتی یا ہوتی بھی ہے تو اس کے لیے ہم کچھ نہیں کرتے۔ کوئی ہماری شخصیت میں چھپے منفی پہلوؤں کو آئینہ دکھائے تو ہم برا مان جاتے ہیں۔ہم اپنے آپ کو ہیرویا ہیروئن ہی سمجھتے ہیںاوردوسروں کو ہم ولن سمجھتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی شخصیت کو آئینہ میں نہیں دیکھتے۔ آئیے آج ہم اپنی شخصیت کو بھی آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کریں ، اس سے قبل کہ کوئی ہمیں آئینہ دکھائے اور ہم برا مان جائیں۔

آپ میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کا دل محبت سے خالی ہو۔ انسان اس دنیا میں آتے ہی جس جذبہ سے مانوس ہوتا ہے وہ جذبہ محبت کا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ جذبہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ملتا ہے جس کے باعث شخصیتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ والدین کا پیار بچوں کے لیے بالکل فطری ہے لیکن کسی بھی وجہ سے کچھ بچے اس پیارسے محروم رہ جاتے ہیںیا انہیں ویسا نہیں مل پاتا جیساہر بچے کو ملنا چاہیے۔ نتیجہ بڑے ہو کر وہ بچہ دنیا سے پیار چھینتا ہے یا پیار کرنا نہیں جانتا۔ آپ نیچے دیئے گئے آئینہ میں اپنی شکل تلاش کریں۔

میں اپنی اولاد سے بہت محبت کرتا ہوں ۔ لیکن میرے پاس وقت نہیں ہے ان کے لیے۔ میں انہیں پیار سے نہیں چومتا کیونکہ مجھے یہ بات معیوب محسوس ہوتی ہے یا مشکل محسوس ہوتی ہے۔ البتہ ان کی غلط حرکتوں یا شرارتوں پر انہیں مارنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ بچوں کو ڈانٹنا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ وہ خراب ہوجاتے ہیں۔ میرے نزدیک نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔ ان کی شخصیت ہم آئینہ میں دیکھتے ہیں۔ایک بدوی نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے ۔ آپ ۖ نے اپنے نواسوں حضرت حسن و حسین کو گود میں لے رکھا تھا اور انہیں چوم رہے تھے۔ یہ دیکھ کر بدوی کو حیرت ہوئی اور وہ کہنے لگا کہ میرے تو کئی بچے ہیں لیکن میں تو انہیں نہیں چومتا۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارے دل سے اﷲ نے محبت کا جذبہ نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ آپۖ نے کبھی بچوں کو نہیں ڈانٹا بلکہ پیار محبت سے بچوں کو شفقت سے سمجھایا۔

Mother Child and  Father
Mother Child and Father

آپ کے ساتھ اگر آپ کے ماں یا باپ نے پیار محبت میں کمی رکھی ہے تو آپ اپنی اولاد کو یہ دیں ورنہ وہ بھی آپ کو بڑھاپے میں وقت نہیں دیں گے۔ آج میں آپ کو خبردار کر رہا ہوں۔یہ مکافاتِ عمل کہیں تو رُکے گا اور اسے آپ نے ہی روکنا ہے۔ مشہور ادیب وکالم نگار جاوید چوھدری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں شہر میں کوئی دکان نہیں کھلی تھی، گلیوں میں کوئی ذی روح نہیں تھا، بس ہم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے دانتوں پر دانت جمائے چلتے جا رہے تھے، چلتے جا رہے تھے یہاں تک کہ ریلوے سٹیشن آگیا، ہم پلیٹ فارم پر آگئے، جہاں زندگی کے کچھ آثار تھے، ہم سب سے پہلے چائے کے کھوکھے پر گئے اور ہاتھی کا پتا پوچھا، جواب میں چائے والے نے قہقہہ لگا کر ہمیں آگے بھیج دیاـ

ہم پان سگریٹ کی ریڑھی پر گئے اور ہاتھی طلب کیا اس نے قہقہہ لگایا اور ہاتھ سے ٹکٹ گھر کی طرف اشارہ کر دیا … ہم بکنگ کلرک کے پاس گئے ،اس نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا تو میرے بیٹے نے ہاتھی کا مطالبہ کر دیا، یہاں بھی نتیجہ تانبائی کی دکان سے مختلف نہ نکلاـ یہاں پہنچ کر علی زچ ہو گیا، اس نے منہ بسورتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھینچ کر ریلوے سٹیشن سے باہر لے آیا، ہم عین چوراہے میں کھڑے ہو گئے، میں نے شفقت سے اس کے سرد ہوتے ہوئے گالوں پر ہاتھ پھیرا اور پھر ہوا میں بوسہ دے کر پوچھا : ” بیٹا اب بتاؤ کہاں جائیں ؟” علی نے اوپر میری طرف دیکھا اور پھر روہانسا ہو کر بولا: ”ابو میرا خیال ہے ہاتھی دکانوں پر نہیں ملتےـ” میں نے نیچے جھک کر اس کا مفلر درست کیا اور پھر اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا: ” ہاں یار میرا بھی ایسا ہی خیال ہے اگر تم کہو تو کل چڑیا گھر والوں سے پوچھ لیتے ہیں، اگر کہیں سے ہاتھی ملتا ہوگا تو جا کر خرید لیں گے کیوں؟ ”

”ہاں یہ ٹھیک ہےـ” علی نے پر جوش لہجے میں کہااور ہم دونوں واپس گھر کی طرف چل پڑے – میری بیوی اور میرے والد گھر کے باہر ہمارا انتظار کر رہے تھے، علی نے میرا ہاتھ چھڑایا اور بھاگ کر میرے والد کی ٹانگوں سے لپٹ گیاـ میرے والد نیچے جھکے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولے: ”کیوں پھر ہو آئے بازار سے ؟” علی نے سر اوپر اٹھایا اور چلا کر بولا:”دادا ابو، دادا ابو، ہاتھی دکانوں پر نہیں ملتے، اگر ملتے ہوتے تو میرے ابو مجھے ضرور خرید کر دیتےـ” ننھے علی کے یہ الفاظ میرے والد پر بم کی طرح گرے ، ان کے منہ سے چیخ نکل گئی اور میں اپنے آنسو چھپاتا ہوا اندر چلا گیاـ دانشور نے روک کر آنکھوں پر رومال رکھ لیا – جب خاموشی کا وقفہ ناقابل برداشت ہو گیا تو ہم میں سے ایک نے آنسوؤں کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا:”یار آپ کے والد کے منہ سے چیخ کیوں نکلی تھی؟” دانشور نے دبیز شیشوں والا چشمہ گود سے اٹھایا اور اسے اپنی ناک پر جما کر بولا:”اس لئے کہ بچپن میں جب ایک بار میں نے ہاتھی خریدنے کی ضد کی تھی تو میرے والد نے تھپڑ مار مار کر میرے گال سرخ کر دے تھےـ”

ہم تینوں خاموش تھے، ہم تینوں اپنے اپنے بچپن کے ہاتھی تلاش کر رہے تھے، ہم تینوں اپنے اپنے گال سہلا رہے تھے، ہم تینوں اپنے اپنے بچوں کو یاد کر رہے تھےـ
ایک 85 سالہ عمر رسیدہ باپ اپنے 45 سالہ بیٹے کے ساتھ گھر کے ھال نماکمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک کوّے نے کھڑکی کے قریب آ کر شور مچایا۔باپ کو نجانے کیا سوجھی، اْٹھ کر بیٹے کے پاس آیا اور اْس سے پوچھا، بیٹے یہ کیا چیز ہے؟بیٹے نے جواب دیا؛ یہ کوّا ہے۔ یہ سْن کر باپ اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا۔کچھ دیر کے بعد وہ پھر اُٹھ کر اپنے بیٹے کے پاس کر آیا اور دوبارہ اُس سے پوچھا، بیٹے؛ یہ کیا ہے؟بیٹے نے حیرت کے ساتھ باپ کی طرف دیکھا ور پھر اپنا جواب دُہرایا: یہ کوّا ہے۔

Father And Son Talk
Father And Son Talk

کچھ دیر کے بعد باپ پھر اُٹھ کر آیا اور تیسری بار پوچھا: بیٹے یہ کیا ہے؟ بیٹے نے اپنی آواز کو اُونچا کرتے ہوئے کہا؛ ابا جی یہ کوّا ہے، یہ کوّا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد باپ پھر اُٹھ کر آیا ور چوتھی بار بیٹے سے مخاطب ہو کر پوچھا؛ بیٹے یہ کیا ہے؟اس بار بیٹے کا صبر جواب دے چکا تھا، نہایت ہی اُکتاہٹ اور ناگواری سے اپنی آواز کو مزید بْلند کرتے ہوئے باپ سے کہا؛ کیا بات ہے، آج آپکو سْنائی نہیں دے رہا کیا؟ ایک ہی سوال کو بار بار دْہرائے جا رہے ہو۔ میں کتنی بار بتا چکا ہوں کہ یہ کوّا ہے، یہ کوّا ہے۔ کیا میں کسی مشکل زبان میں آپکو یہ سب کچھ بتا رہا ہوں جو اتنا سادہ سا جواب بھی نہ تو آپ کو سنائی دے رہا ہے اور نہ ہی سمجھ آرہا ہے!اس مرتبہ باپ یہ سب کچھ سننے کے بعد اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس باہر آیا تو ہاتھ میں کچھ بوسیدہ سے کاغذ تھے۔ کاغذوں سے لگ رہا تھا کہ کبھی کسی ڈائری کا حصہ رہے ہونگے۔ کاغذ بیٹے کو دیتے ہوئے بولا، بیٹے دیکھو ان کاغذوں پر کیا لکھا ہے؟

بیٹے نے پڑھنا شروع کیا، لکھا تھا؛ آج میرے بیٹے کی عمر تین سال ہو گئی ہے۔ اسے کھیلتے کودتے اور بھاگتے دوڑتے دیکھ دیکھ کر دِل خوشی سے پاگل ہوا جا رہا ہے۔ اچانک ہی اُسکی نظر باغیچے میں کائیں کائیں کرتے ایک کوّے پر پڑی ہے تو بھاگتا ہوا میرے پاس آیا ہے اور پوچھتا ہے؛ یہ کیا ہے۔ میں نے اسے بتایا ہے کہ یہ کوّا ہے مگر اُسکی تسلی نہیں ہورہی یا شاید میرے منہ سے سن کر اُسے اچھا لگ رہا ہے۔ ہر تھوڑی دیر کے بعد آ کر پھر پوچھتا ہے یہ کیا ہے اور میں ہر بار اُسے کہتا ہوں یہ کوّا ہے۔ اس نے مجھ سے یہ سوال 32 بار پوچھا ہے اور میں نے بھی اْسے 32 بار ہی جواب دیا ہے۔ اُسکی معصومیت سے میرا دِل اتنا خوش ہو رہا ہے کہ کئی بار تو میں جواب دینے کے ساتھ ساتھ اُسے گلے سے لگا کر پیار بھی کر چکا ہوں۔ خود ہی پوچھ پوچھ کر تھکا ہے تو آکر میرے پاس بیٹھا ہے اور میں اُسے دیکھ دیکھ کر فدا اورقربان ہو رہا ہوں۔

ایک اور واقعہ اس سے ملتا جلتا بھی دیکھ لیں۔ باپ اپنے کاروبار کی وجہ سے بے حد مصروف تھا اور اس کے پاس وقت نہ تھا کہ وہ اپنے بچے کو دے سکے یااس کے پاس بیٹھ کر باتیں کر سکے۔ لیکن اس نے ہر وہ چیز اس کو لے کر دی جس کی اس نے خواہش کی۔ ایک دن بیٹے نے ناجانے کیا سوچا اور باپ کے پاس گیا۔ باپ اپنے کاروبار کی فائلیں کھول کر بیٹھا ہوا تھا۔ ” اباجان ایک بات پوچھنی تھی؟”بیٹے نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ اس کا باپ جواب کی جگہ ڈانٹ نہ دے۔

Files
Files

” میں بہت مصروف ہوں لیکن جلدی پوچھو کیا بات ہے؟” باپ نے فائلوں سے نظر اٹھا کر ایک نظر بیٹے کو دیکھ کر کہا۔ اباجان آپ اتنے مصروف رہتے ہیں۔ یقینا آپ کا ہر لمحہ بہت قیمتی ہوگا۔ میں جاننا چاہ رہا تھا کہ آپ اگر کاروبار کے سلسلے میں کسی کو ایک گھنٹہ دیں تو اس کی کتنی قیمت لیں گے؟ ” سوال چونکہ عجیب اور غیر متوقع تھا اس لیے باپ نے کچھ دیر فائلوں سے نظر اٹھا کر پہلے سوچا اور پھر فخر سے کہا۔ ” ہاں میرا وقت واقعی بہت قیمتی ہے۔ میں اگر ایک گھنٹہ کسی کو دوں تو کم از کم ایک ہزار روپیہ لوں گا۔ ” ”تو اباجان یہ ایک پانچ سو روپیہ کا نوٹ ہے جو آپ نے مجھے دیا تھا۔یہ آپ لے لیں اور مجھے اپنا آدھا گھنٹہ دے دیں!!”

یقینا ایسا سوال آپ کے بچے نے آپ سے نہیں کیا ہوگا۔ ورنہ آپ یقینا بیدار ہوجاتے۔ لیکن سوچیں کہیں وہ آپ سے بات کرنا بھی پسند کرتا ہے یا نہیں اور اگر کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے تو تب تو معاملہ ہاتھ میں ہے لیکن اگر وہ آپ سے دور رہتا ہے یا آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ۔ آپ کے گھر آنے پر وہ آپ سے دور رہتا ہے تو پھر ابھی سے فکر کریں اور اس سے بیٹھ کر باتیں کریں۔روزانہ کوئی وقت مقرر کرکے اس کی دلچسپی کے موضوع پر گفتگو کریں۔ امید ہے ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ آپ باپ ہیں اور وہ آپ ہی کا بیٹا۔ محبت موجود ہے لیکن محبت کو راستہ آپ نے دینا ہے۔ عموماً بچوں کو وقت دینے یا پیار محبت میں مائیں کوتاہی نہیں برتیں لیکن ایسی مائیں بھی ہوتی ہیں جو بچوں کی طرف دھیان نہیں دیتیں۔ وہ کیا کر رہا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ باپ کی محبت میں کمی بچے کی شخصیت کو بگھاڑتی ہے لیکن ماں کی محبت میں کمی بچے کو مجرم اور نفسیاتی مریض بناتی ہے۔

Ghalib
Ghalib

آپ نے یہ واقعہ تو سنا ہوگا کہ ایک شخص نے اپنے باپ کی بیماری سے تنگ آکر اسے ایک دن اٹھایا اور لے کر دریا کے کنارے پہنچ گیا۔ جب وہ اسے پھینکنے لگا تو باپ نے کہا۔ بیٹے مجھے تھوڑا آگے کر کے پھینکو۔ بیٹے نے وجہ پوچھی تو باپ بولا کہ اس جگہ میں نے اپنے باپ کو پھینکا تھا۔ ایک ماں چار بچوں کو پالتی ہے لیکن چار بچے مل کر بھی ایک ماں کو نہیں پال سکتے۔یہ سلسلہ اسی وقت رُکے گا جب آپ آئینہ دیکھیں گے۔ آئیے اپنے کل کی فکر چھوڑیں اور اپنے آج کو بہتر کریں۔ہمارا آج ہی ہمارا کل ہے۔ اگر آج ہم نے بہتر کرلیا تو ہمارا کل خود بخود بہتر ہوجائے گا۔ اسی امید و دعا کے ساتھ کہ آئینہ دیکھتے رہیں گے اور برا نہیں مانیں گے۔

عمر بھر ہم یونہی غلطی کرتے رہے غالب
دُھول چہرے پر تھی، ہم آئینہ صاف کرتے رہے

تحریر: میر شاہد حسین

Share this:
Tags:
mirror personality shape unfortunately آئینہ بدقسمتی شخصیت شکل
Soldiers Court Martial
Previous Post امریکی فوج کے بھگوڑے برگڈال کا کورٹ مارشل ہو گا
Next Post کرس گیل اگلے سال ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لئے پر عزم
Chris Gayle

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close